زراعت کا شعبہ توجہ کا منتظر، کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟ نعیم صدیقی

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشنکی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 31 جنوری تک ملک میں کپاس کی پیداوار 34.35 فیصد کم ہوکر 55 لاکھ 71 ہزار گانٹھوں تک رہ گئی ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائندوں نے 29 لاکھ گانٹھ کی کمی اور اس سنگین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ناقص پیداواری صلاحیت سے برآمدات پر مبنی ٹیکسٹائل کے شعبہ اثر انداز ہوسکتا ہے جس کی ملک کی مجموعی برآمدات میں 55 سے 60 فیصد شراکت ہے۔کپاس کے ماہر اور کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے کہا کہ یہ 30 سالوں میں سب سے کم کپاس کی پیداوار ہے جو ٹیکسٹائل کے شعبے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے لیے بھی خطرناک ہے۔حکومت کو اس جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینا ہوگی کیونکہ ٹیکسٹائل پاکستان کا وہ واحد شعبہ ہے جس کی بدولت پاکستان کو سب سے زیادہ زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے۔
کپاس کی پیداوار میں پنجاب اور سندھ دونوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔جنوری کے آخر تک پنجاب میں کپاس کی پیداوار گزشتہ سال کی اسی مدت میں پیدا ہونے والی 50 لاکھ 14 ہزار گانٹھوں کے مقابلہ میں 34 ہزار 36 لاکھ گانٹھوں تک رہی۔سندھ میں پیداوار 38.5 فیصد تک کم ہوکر گزشتہ سال کی اسی مدت میں 34 لاکھ 72 ہزار گانٹھوں کے مقابلے میں 21 لاکھ 34 ہزار گانٹھوں تک رہ گئی ہے۔
اگرچہ رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات 7.8 فیصد اضافے سے 7 ارب 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا تاہم صنعت کو رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں 32 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی روئی درآمد کرنی پڑی تھی۔نسیم عثمان نے کہا کہ گذشتہ اسلام آباد میں اسٹیک ہولڈرز کی ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا تاکہ کپاس کی پیداوار میں تیزی سے کمی اور مسائل کے حل کی وجوہات کا پتہ لگایا جاسکے۔کاشتکاروں کو بیج کی دشواری کا سامنا ہے جبکہ کاشت کا رقبہ بھی کم ہوا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حال ہی میں بتایا ہے کہ فصل کے لیے وقف شدہ رقبہ 22 لاکھ ہیکٹر میں ریکارڈ کیا گیا ہے جو مالی سال 1982 کے بعد سب سے کم ہے۔اسٹیٹ بینک نے یہ بھی اعلان کیا کہ روئی کی فصل خاص طور پر گنے کی دیگر بڑی فصلوں کے مقابلہ میں مسابقت کھو چکی ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے زونل سربراہ آصف انعام کا کہنا ہے کہ کپاس کی قلت نے پیداواری لاگت میں اضافہ کیا ہے کیونکہ ٹیکسٹائل ملوں کو مہنگا کپاس درآمد کرنا پڑتا ہے۔اپٹما کے نمائندے نے کہا کہ درآمد کی گئی روئی مقامی کپاس کے مقابلے میں 15 فیصد مہنگی ہے تاہم اس اضافی لاگت کو ایڈجسٹ کرنے اور برآمدات میں اضافے کی کوشش کی جا رہی ہے دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کہاں تک کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
اگر ہم ماضی میں کپاس کی پیداوار کو دیکھیں توپاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مالی سال دو ہزار گیارہ بارہ میں کپاس کی برآمدات پندرہ لاکھ گانٹھوں تک جاپہنچی ہے۔ کپاس کی اس ریکارڈ پیداوار سے پاکستان کو بیالیس کروڑ ڈالر سے زائد کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہواہے۔ مالی سال دو ہزار گیارہ اور بارہ، پاکستان کی کاٹن انڈسٹری کیلئے بہت اچھا رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اس وقت مالی سال میں پاکستان کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کو بیالیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کی ریکارڈ آمدنی ہوئی ہوئی۔البتہاس سے پچھلے سال میں پاکستان نے چین اور بھارت سے زیادہ تر کپاس کی گانٹھیں درآمد کی تھیں جس کی وجہ سے کپاس کی قیمتوں میں بھی ڈیڑھ سو روپے فی من کا اضافہ ہواتھا اور نئی قیمت چھ ہزار دو سو پچاس روپے فی من ہو گئی تھی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ستر فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔کپاس کی پیداوار اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات میں پاکستان کا ہمیشہ نمایا ں مقام رہا ہے لیکن موجودہ صورتحال بہت حیران کن دکھائی دیتی ہے۔ملک بھر میں محکمہ زراعت کے دفاتر قائم ہیں۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ کسانوں کو محکمہ کی جانب سے نئی نئی ترغیبات دی جاتی تھیں جن کی بدولت پیداوار میں اضافہ ہوتا تھا اور کاشتکار زیادہ سے زیادہ رقبہ کاشت کرتے تھے لیکن اب قابل کاشت زمین ہونے کے باوجود کاشتکاری کاحجم کم ہوتا جا رہا ہے۔ایسی صورتحال میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کپاس کی پیداوار پر خصوصی توجہ دینا ہو گی اور کسانوں کو ہر ممکن حد تک مراعات دینا ہوں گی کیونکہ کپاس پاکستان کی وہ واحد پیداوار ہے جس کا معیار اعلی اور اس کی عالمی سطح پرمانگ ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔کپاس کی پیداوار میں کمی کے اسباب میں یہ بھی شامل ہے کہ کھاد،بیج،تیل اور دیگر لوازمات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے اور کاشتکار کو اس کی محنت اور فصل کا معاوضہ و منافع بھی زیادہ نہیں ملتا۔دریائوں میں پانی کا بہائو کم۔نہریں خشک اور کبھی بارشوں کی شدت جیسے مسائل بھی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔پاکستان میں نہ صرف کپاس کی پیداوار کو بڑھانے کی ضرورت ہے بلکہ شعبہ زراعت سے متعلقہ ہر قسم کی پیداوار میں اضافے کیلئے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

деньги на карту займсрочный займ от частного лицапервый займ без процентов на карту

پاکستان کی برآمدات میں اضافہ معیشت کی بہتری کی عکاسی کرتا ہے،نعیم صدیقی

اگر پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کے حوالے سے دیکھا جائے تو نہایت حوصلہ افزا صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان کی برآمدات ماہ جنوری میں مسلسل پانچویں ماہ بڑھ کر دو ارب گیارہ کروڑ ڈالر ہوگئی ہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے ایک ارب 98 کروڑ ڈالر سے آٹھ فیصد تک زیادہ ہے۔برآمدات میں یہ اضافہ اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ ملکی معیشت اس وقت بہتری کی جانب گامزن ہے۔
مذکورہ اعداد و شمار وزارت تجارت کی جانب سے جاری کیے گئے۔اس حوالے سے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں ترقی برقرار ہے اور 8 برسوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ مسلسل چار ماہ یہ دو ارب ڈالر سے زائد رہی۔ وزارت تجارت کے جاری کردہ عبوری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے جنوری 21-2020 کے دوران برآمدات میں 5.5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 14 ارب 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے انہیں مہینوں میں 13 ارب 50 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھی۔مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ مالی سال 2021 کے 7 مہینوں کے لیے ہماری مجموعی برآمدات اضافے کے رجحان کو ظاہر کر رہی ہے۔مجموعی برآمدات میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹیکسٹائل اور کپڑوں کے شعبے سمیت انجینئرنگ مصنوعات، جرحی آلات اور ویلیو ایڈڈ چمڑے کی مصنوعات سے آنے والی رقم کی ڈبل ڈجٹ میں ترقی ہے۔مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات، علاقے کی برآمدی صورتحال اور بڑی مارکیٹوں کے سکڑنے کے باوجود پاکستانی برآمد کنندگان نے اس کارنامے کو انجام دیا۔انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان اپنی پوری صلاحیت سے مصنوعات کی برآمدات کریں اور اگر کوئی مشکل پیش آئے تو وزارت تجارت کو آگاہ کریں۔واضح رہے کہ نئے مالی سال کے آغاز سے برآمدات میں مثبت رجحاں دیکھا گیا ہے تاہم اگست میں اس میں 19 فیصد کی کمی ہوئی تھی لیکن ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں یہ دوبارہ مثبت رجحان میں آگئی  تھی۔ ٹیکسٹائل اور نان ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز میں کمی کے علاوہ نقد سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے جو کہ خوش آئند اقدام ہے۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ کے مطابق کووڈ 19 کے پھیلائو نے ملک سے کنٹینرز کے بہائو پر گہرا اثر ڈالا تھا جو گزشتہ سال اپریل میں تقریبا 12 ہزار کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا تاہم اس کے بعد سے ملک سے کنٹینر شپ منٹ میں بتدریج بہتری دیکھی گئی ہے۔ میک ان پاکستان کے انیشی ایٹو کے تحت ایف بی آر کے ذریعے کم از کم آٹھ شعبوں کے لیے ڈیوٹی ڈرا بیک ریٹس میں اضافہ کیا گیا ہے، اس پورے عمل کے دوران  کم و بیش چار ہزار 34 دعوے نمٹادیے گئے ہیں اور سات ہزار 800 برآمد کنندگان کوحکومت کے اس قدم سے فائندہ پہنچا ہے۔
مالی سال 2020 میں برآمدات گزشتہ سال کے 22 ارب 97 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 6.83 فیصد یا ایک ارب 57 کروڑ ڈالر کم ہوکر 21 ارب 40 کروڑ ڈالر رہی۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بین الاقوامی خریداروں سے برآمدی آرڈرز خاص طور پر ٹیکسٹائل اور کپڑوں کے شعبوں میں گذشتہ برس مئی سے واضح بہتری دیکھی گئی ہے امید کی جاتی ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں طلب میں مزید اضافہ ہو گا اور ہمارے ملک کی ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات کی برآمدات کی بدلوت ملک کی معیشت مسلسل بہتری کی جانب گامزن رہے گی۔

займ в великом новгородемфо электронный займзайм в надыме займ онлайн на карту маэстро срочнозайм денег в северодвинскезайм по паспорту без снилса кредит плюс займлайм займ отзывызайм на киви без привязки карты взять займ на киви без паспортазайм на дебетовую картузайм 50000 с плохой ки взять частный займ без предоплатзайм по паспорту без отказалучший займ онлайн займ с минимальным процентомзайм 100000 на 2 годазайм 100 000 без отказа займ без паспорта на кивизайм вконтактебыстрый займ новосибирск займ на банковскую карту с плохой кредитной историейзайм на лицевой счетгде взять займ на карту

ٹیکس وصولی میں بہتری کے آثار ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، نعیم صدیقی

دنیا بھر کی طرح کورونا وائرس کی دوسری لہر نے پاکستان کی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں لیکن یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ہمارے ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کی کارکردگی اس مشکل صورتحال میں بھی بہتر دکھائی دیتی ہے۔صنعت و تجارت میں بھی حوصلہ افزا حالات ہیں۔حکومت کی مثبت پالیسیوں کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں مزید بہتری آئے گی۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو ایف بی آرکی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ جولائی سے جنوری کے دوران وصولیاں25 کھرب 70 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ عبوری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں مالی سال کے ان 7 ماہ میں وصولیاں 25 کھرب 50 ارب روپے کے ہدف سے 20 ارب روپے تک زیادہ رہیں۔سالانہ بنیاد پر ریونیو کلیکشن 6.4 فیصد تک بڑھی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 24 کھرب 16 ارب روپے تھی۔واضح رہے کہ مالی سال 21-2020 کے لیے بجٹ تیار کرتے ہوئے حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کو مالی سال 20 کے 39 کھرب 89 ارب روپے کے مقابلے میں 49 کھرب 63 ارب روپے تک بڑھنے کی یقین دہانی کرائی تھی جو 24.4 فیصد کے اضافے کا تخمینہ تھا۔
چیئرمین ایف بی آر جاوید غنی کا کہنا تھا کہ ریونیو کی کارکردگی میں بہتری کووڈ 19 کی دوسری لہر کے درپیش چیلنج کے باجود بڑھتی معاشی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ جیسے معاشی بحالی میں تیزی آئے گی ریونیو کی کارکردگی بھی مزید بہتر ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ ماہانہ بنیادوں پر جنوری میں خالص وصولی 340 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 364 ارب روپے رہی جو ہدف سے 7 فیصد یا 24 ارب روپے تک زیادہ ہے، مزید یہ کہ سالانہ بنیادوں پر اگر دیکھیں تو ٹیکس وصولی گزشتہ سال کے اسی مہینے کے 294 ارب روپے کے مقابلے 24 فیصد زیادہ رہا، جو سالانہ بنیادوں پر پہلی دوہندسوںکی ماہانہ ترقی ہے۔
مندرجہ بالااعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ری فنڈز کی رقم 129 ارب روپے رہی جو گزشتہ سال کے 69 ارب روپے کے مقابلے 87 فیصد کا اضافہ ہے، جو برآمدی صنعت کے لیے لکویڈیٹی کے مسائل سے بچنے کے لیے ایف بی آر کے فاسٹ ٹریک ری فنڈز کے حل کی عکاسی کرتا ہے۔وہیں ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کی کوششوں کے ابتدائی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس طرح کی کوششیں سود مند ثابت ہورہی ہیں کیونکہ 30 جنوری تک انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد گزشتہ سال کے 23 لاکھ 10 ہزار کے مقابلے میں 9 فیصد بڑھ کر 25 لاکھ 20 ہزار رہی، اس کے علاوہ ریٹرنز کے ساتھ ٹیکس ڈپوزٹ 48 ارب 30 کروڑ روپے رہا جو گزشتہ سال صرف 29 ارب 60 کروڑ روپے تھا اور یہ اس میں 63 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔اس کے علاوہ ایف بی آر نے تقریبا 14 لاکھ ٹیکس دہندگان کونوٹس جاری کیے ہیں جنہوں نے اپنی قانونی ذمہ داریوں کی تعمیل میں ریٹرن فائل کرنا تھا یا صفر ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے یا اپنے اثاثوں کی غلط معلومات دی تھی۔اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ مشق ایک حوصلہ افزا رد عمل ظاہر کرتی ہے تاہم دوسری طرف متعدد اقدامات متعارف کروانے کے باوجود انکم ٹیکس کی وصولی توقعات سے کافی کم رہی ہے اور اب امید کی جا رہی ہے کہ رفتہ رفتہ اس میں بہتری آئے گی۔
جولائی سے جنوری کے دوران انکم ٹیکس کی وصولی ایک ہزار 20 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 955 ارب روپے رہی جو 65 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔تاہم اگر گزشتہ سال کے اسی عرصے سے موازنہ کیا جائے تو انکم ٹیکس وصولی 5 فیصد ترقی ظاہر کرتی ہے کیونکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ وصولی 917 ارب روپے تھی۔علاوہ ازیں مالی سال 21 کے پہلے 7 ماہ میں سیلز ٹیکس کلیکشن گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 10 کھرب 27 ارب روپے سے 16 فیصد بڑھ کر 11 کھرب 93 ارب روپے رہی تاہم ہدف کا تخمینہ 10 کھرب روپے تھا۔یہ ترقی ایندھن کی قیمتوں کے بڑھنے، درآمدات میں اضافے اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے نتائج کی صورت میں سامنے آئی۔دوسری جانب فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کلیکشنز گزشتہ سال کے 144 ارب روپے کے مقابلے میں 3 فیصد بڑھ کر 149 ارب روپے ہوگئی تاہم جولائی سے جنوری کے دوران ایف ای ڈی کا ہدف 171 ارب روپے تھا جو 22 ارب روپے کی کمی سے حاصل نہ ہوسکا۔اس کے علاوہ جولائی سے جنوری کے دوران کسٹمز کلیکشن 399 ارب روپے رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 381 ارب روپے تھا تاہم زیر جائزہ مہینوں میں کسٹمز کا ہدف 341 ارب روپے تھا جو حاصل کرلیا گیا۔مزید یہ کہ جنوری میں کسٹمز ڈیوٹی نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد سے زائد ترقی دیکھی اور یہ بھی تخمینہ لگائے گئے ہدف سے زیادہ رہی۔محکمہ کسٹمز نے ریونیو کلیکشن میں اضافے کی وجہ سے جنوری میں زیر التوا کسٹمز چھوٹ کی ادائیگی بھی کی گئی ہے۔ان اعداد و شمار کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور آئندہ چند سالوں میں وطن عزیز کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہو گی۔

кто брал займ под материнский капиталзайм под мат капиталзайм под материнский капитал краснодар онлайн займ е заеммоментальный займ онлайн на киви кошелеконлайн займ на длительный срок лайм-займзайм или заемзайм онлайн без отказа как получить займ онлайн без отказазайм 50 тысяч рублей на картупервый займ без процентов отзывы заявка на займ деньги будутзайм пенсионерам на карту маэстрозайм до пенсии оформить займ на картуполучить первый займ без процентовзайм от частного лица быстрый займ на электронный кошелекзайм денег в волгоградезайм 8000 на карту мониста займзайм от частного лица под расписку спбзайм без звонков на карту займ под залог птс тольяттзайм в белгородебыстрый займ калуга займ под залог птс челябинскзайм на киви кошелек без паспортазайм под расписку новосибирск займ без банкаоформить займ с плохой кредитной историейвзять срочный займ

گاڑیاں تیار کرنے والی چینی کمپنیوں کیلئے پاکستان کی اہمیت زیادہ کیوں ؟ نعیم صدیقی

تجارتی حلقوں کیلئے یہ بات بڑی دلچسپ اور توجہ طلب ہے کہ پاکستان اورچین کی کمپنیوں کے اشتراک سے تیار ہونے والی پہلی کامپیکٹ سیڈان گاڑی آلسوین کی کامیابی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ چھ ماہ کی پروڈکشن محض پانچ دن کے اندر فروخت ہوگئی۔اس کامیابی پر سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس سے چینی گاڑیوں کے لیے پاکستان میں برآمدی مرکز کا دروازہ کھل گیا ہے۔پاکستان کی ماسٹر موٹرز اور چین کی چین گن کے اشتراک سے متعارف کرائی گئی اس گاڑی کے 15 ہزار یونٹ 5 دن میں فروخت ہوئے ہیں جو کہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
آلسوین کار کو کراچی میں اسمبل کیا جارہا ہے جس کے لیے 13 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز لاگت سے 2017 پلانٹ کومیں تعمیر کیا گیا تھا، اس میں 70 فیصد حصہ پاکستانی جبکہ 30 فیصدحصہ چینی کمپنی کا ہے۔
شنگھائی سے تعلق رکھنے والی کمپنی ایس اے آئی سی موٹر، جو برطانوی کار برانڈ ایم جی کی ملکیت رکھتی ہے، نے جنوری 2021 میں کراچی میں 10 کروڑ ڈالرز کی لاگت سے ایک پلانٹ کی تعمیر کراچی میں شروع کی ہے، جہاں توقع ہے کہ چھوٹے انجنوں والی 3 گاڑیوں یا ایس یو ویز کی پروڈکشن اگلے سال سے شروع ہوجائے گی۔
کے اے ہین ٹینگ موٹر کی جانب سے بھی 5 کروڑ ڈالرز کی لاگت کا اسمبل پلانٹ پاکستان میں تعمیر کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ اس سال سے وہاں 15 ہزار ایس یو ویز اور مسافر گاڑیوں کی پروڈکشن شروع ہوسکتی ہے۔الحاج فا بھی پاکستانی و چینی کمپنیوں کا مشترکہ پراجیکٹ ہے جس کی بنیاد 2012 میں رکھی گئی اور گزشتہ سال سے پروڈکشن کا عمل تیز کرتے ہوئے 20 ہزار ہیچ بیک گاڑیاں تیار کی گئیں۔
جب ماسٹر گروپ نے چین گن کے ساتھ 2016 میں گاڑیوں کی مشترکہ تیاری کا منصوبہ پیش کیا تھا، تو اس کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک کے ذریعے دیگر ایشیائی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنا تھا، جہاں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین کی جانب سے سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔سی پیک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔
سی پیک کے پہلے 5 سال کے دوران چین کی سرکاری ملکیت میں موجود کمپنیوں نے پاکستان میں 5320 میگا واٹس بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹ تعمیر کیے، 1544 کلو میٹر طویل موٹرویز کی تعمیر کی۔ اسی طرح دیگر منصوبوں پر ابھی کام جاری ہے جن کے تحت مزید 2844 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی جبکہ پاکستان کے شمال۔ جنوب نیٹ ورک کے لیے 1456 کلومیٹر طویل موٹر وے پر کام کیا جارہا ہے۔سڑکوں کا کام مکمل ہونے پر چین کی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں ٹرانزٹ کی منتقلی کا وقت کم ہوجائے گا، یعنی وہ سڑک کے راستے یا گودار سے اپنی گاڑیاں پاکستان پہنچا سکیں گی۔
ماسٹر گروپ کے سی ای او ڈینیئل ملک کا کہنا ہے کہ ہم چین گن کے ساتھ پاکستان میں مشترکہ منصوبہ سی پیک 2.0 کے تحت لے کر آئے تھے۔اس سے مراد سی پیک کا دوسرا 5 سالہ مرحلہ ہے، جس میں پاکستان کی جانب سے خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کی جائے گی تاکہ چینی کمپنیوں کو توجہ حاصل کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ چین میں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑیاں تیار کی جاتی ہیں، تو چین گن رائٹ ہینڈ گاڑیوں کی تیاری کے مرکز کے لیے جگہ دیکھ رہی تھی اور ہم نے پاکستان کا نام تجویز کیا۔ اس طرح بتدریج چین کی گاڑیوں کو دیگر رائٹ ہینڈ ڈرائیو مارکیٹس جیسے بنگلہ دیش یا سری لنکا کو برآمدکیا جا سکتا ہے۔
چین کی بڑی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں ماضی میں اپنے ملک کی طلب پوری کرنے تک محدود تھیں اور حال ہی میں انہوں نے ترقی پذیر ممالک پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا، جب انہوں نے دریافت کیا کہ جاپانی اور جنوبی کورین کمپنیوں نے ترقی پذیر ممالک کی مارکیٹوں پر غلبہ حاصل کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح چینی کمپنیوں نے کنزیومر الیکٹرونکس میں کام کیا، اسی طرح اب گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیاں بھی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس گاڑیاں پرکشش قیمتوں میں فروخت کرکے صارفین کو اپنی جانب کھینچنا چاہتی ہیں۔اس پالیسی کا ایک نتیجہ آلسوین کے 3 میں سے ایک ورژن کو متعارف کرانے کے بعد کامیابی کی شکل میں نظر آتا ہے۔اس سے قبل پاکستان میں صارفین کے پاس مقامی طور پر اسمبل جاپانی گاڑیوں کی محدود رینج سے ہٹ کر آپشن نہیں تھا، جو دیگر ممالک کے مقابلے میں پرانے ورژن کی تھیں۔پاکستان میں 1990 کی دہائی کے بعد ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی کو اجارہ داری حاصل ہے مگر 2018 سے 2020 کے دوران ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 50 فیصد کمی آنے کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں لگ بھگ ایک تہائی اضافہ ہوا۔ہیچ بیک اور سیڈان گاڑیوں کی قیمتوں میں فرق اتنا بڑھ گیا کہ بیشتر متوسط خاندان بھی انہیں خریدنے کے قابل نہیں رہے۔
اس موقع پر ایم سی ایم نے ایسے صارفین کو مدنظر رکھ کر کام شروع کیا اور ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ آلسوین کے ذریعے پاکستانیوں کو سیڈان گاڑی تک رسائی دی جائے گی کیونکہ اس وقت انٹری لیول سیڈان کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں جو عام فرد خرید نہیں سکتا۔ نہ صرف ایسی سیڈان کو متعارف کرایا جائے جو ہیچ بیک صارفین خرید سکتے ہوں بلکہ ایسے فیچرز بھی فراہم کیے جائیں جو اس سے قبل پاکستان میں کسی سیڈان گاڑی میں نہیں تھے یا ایسی گاڑیوں میں تھے، جن کی قیمت آلسوین سے 35 فیصد سے زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تویہ پہلا ماڈل ہے جس میں ایسا انجن دیا گیا ہے جس کے لیے یورو 5 اسٹینڈرڈ فیول استعمال ہوتا ہے، جس کو اس سال پاکستان میں حکومت کی جانب سے متعارف کرانے کا کہا گیا ہے۔پاکستان میں کام کرنے والی دیگر کمپنیوں نے ابھی تک اپنی گاڑیوں میں یورو 2 اسٹینڈرڈ انجن کو تبدیل نہیں کیا۔ ایک انٹری لیول گاڑی میں ایسے تمام فیچرز نے صارفین کو بڑی تیزی سے متوجہ کیا ہے۔چین میں کمپنیوں نے گزشتہ سال ایک کروڑ 92 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں فروخت کیں جو 2017 کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہے۔ پاکستان میں دیکھا جائے تو رواں مالی سال کے دوران 2 لاکھ گاڑیاں فروخت ہونے کا امکان ہے جبکہ یہ تعداد 2017-2018 میں 2 لاکھ 17 ہزار تھی۔تاہم چینی گاڑیوں کی پاکستان میں فروخت کی شرح انڈونیشیا سے زیادہ ہے، جہاں 2019 میں 8 لاکھ سے زیادہ گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ان دونوں ممالک میں رائٹ ہینڈ گاڑیوں کو فروخت کیا جاتا ہے اور آبادی 20 کروڑ سے زیادہ ہے۔پاکستانی حکومت کی جانب سے گاڑیوں کے حوالے سے نئی پالیسی کے فریم ورک کی منظوری دسمبر 2020 میں دی گئی تھی، جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں میں سرمایہ کاری پر مراعات دی جائیں گی، جو چینی کمپنیوں کے لیے اہم موقع ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی جانب سے پہلے ہی چینی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا جاچکا ہے اور ان پر عملدرآمد نئی پالیسی کے تحت ٹیکس مراعات کو حتمی شکل دیتے ہی شروع ہوجائے گا۔پالیسی کو حتمی شکل دیئے جانے پر ماسٹر گروپ کی جانب سے کراچی پلانٹ میں پروڈکشن گنجائش کو توسیع دی جائے گی، جہاں 2.5 میگا واٹ سولر پاور پلانٹ بھی زیر تعمیر ہے، تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کی تعمیر کی جاسکے۔

деньги в займ срочнозайм денег у частных лицзайм у частного лица под расписку взять займ онлайн на карту сбербанказайм в калининградезайм вебмани с формальным аттестатом быстрый займ на киви кошелекзайм вкарманелайм займ телефон займ в тольяттизайм в иркутскеденьга займ красноярск solva займзайм у петровичаакция займ без процентов онлайн займ без отказа с плохой кредитной историейонлайн займ с плохой историейзайм ростов займ по смс срочноонлайн займ на годзайм на год краткосрочный или долгосрочный платиза займмикроклад займманимен займ займ на карту сбербанк онлайнвэббанкир займвзять займ на карту без отказов займ 100%первый займ без %онлайн займ на карту мир деньги займ на карту онлайнзайм срочно на карту с плохой кредитной историейзайм у петровича на карту быстрый займ воронежэкспресс займ на банковскую картузайм через контакт без отказа займ от частного лица иркутскзайм на карту maestroбыстрый займ по паспорту

تعمیراتی شعبے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی میں توسیع حکومت کا خوش آئند اقدام ہے، نعیم صدیقی

وفاقی حکومت نے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس 2021 جاری کردیا جس کے تحت تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی کی مدت میں چھ ماہ یعنی جون 2021 تک توسیع کردی گئی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جاری انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس 2021 میں کہا گیا ہے کہ تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع دے دی گئی ہے اور ٹیکس ایمنسٹی کی مدت جون 2021 تک بڑھادی گئی ہے۔
آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ پیکج میں آنے والے منصوبوں کی تکمیل کی مدت میں بھی ایک سال کی توسیع کردی گئی ہے اور ان کی تکمیل کی مدت بڑھا کر 31 دسمبر 2021 کردی گئی ہے۔
صدارتی آرڈیننس کے مطابق ان منصوبوں میں جائیداد خریدنے والوں سے 31 مارچ 2023 تک ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے۔واضح رہے کہ 31 دسمبر 2020 کو وزیر اعظم عمران خان نے تعمیرات کے شعبے کے لیے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں تعمیرات کی صنعت کو نئے سال کی خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ فکس ٹیکس کی مدت میں 31 دسمبر 2021 تک توسیع کردی ہے اور اب آپ کے پاس ایک سال اضافی آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے آمدن کے ذرائع بتانے کے حوالے سے استثنی کی مدت میں بھی 30 جون 2021 تک توسیع کردی ہے جبکہ جن منصوبوں کو 30 ستمبر 2023 تک مکمل ہونا تھا اس میں بھی ایک سال کی توسیع کردی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ خریدار کو جائیداد خریدتے وقت جو اپنی آمدن کے بارے میں بتانا ہوتا تھا، ہم نے اس کو بھی استثنی دیتے ہوئے 31 مارچ 2023 تک توسیع دے دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے تعمیرات کی صنعت کے لیے پیکج کا اعلان کیا تو کورونا کی وجہ سے وہ اس سے صحیح سے مستفید نہیں ہو سکے لہذا انہوں نے اس میں توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔
واضع رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے تعمیرات کے شعبے کے لیے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ چھوٹے گھروں پر سبسڈی دی جائے گی اور اگلے پانچ سال تک بینک 5 اور 10 مرلے کے گھر پر 5 اور 7 فیصد سے زیادہ شرح سود وصول نہیں کرے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم نے تعمیرات کے شعبے میں جو مراعات دی تھیں تو اس کے تحت 186 ارب کے منصوبے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پورٹل پر رجسٹر ہو چکے ہیں جبکہ ڈرافٹ کی شکل میں 116 ارب کے منصوبے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اس کے علاوہ 136 ارب کے منصوبوں کی منظوری کا عمل زیر غور ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں پنجاب سے جو معاشی سرگرمی جنم لے گی وہ تقریبا 1500 ارب کی سرگرمی ہو گی جس سے پنجاب میں ڈھائی لاکھ نوکریاں بھی پیدا ہوں گی۔
عمران خان نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے کم مالیت کے گھروں کے سلسلے میں ہمیں سب سے بڑی کامیابی یہ حاصل ہوئی کہ ‘فور کلوژر لا’ منظور ہوا ہے، یہ بدقسمتی سے بہت دیر سے منظور ہوا جس کی وجہ سے ہمیں دیر ہوئی لیکن اب منظور ہو کر عدالت سے پاس ہو چکا ہے اور اس کی بدولت پاکستان میں پہلی مرتبہ کم مالیت کے گھروں میں بھی بینک فنانس کررہے ہیں۔
بینکوں کی جانب سے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے وعدہ کیا گیا ہے کہ دسمبر 2021 تک 378 ارب روپے تعمیرات کی سرگرمی کے لیے الگ رکھا ہوا ہے۔ حکومت نے کم لاگت کے گھر میں شرح سود پر جو سبسڈی دی ہے اس کے تحت اگلے پانچ سال تک 5 مرلے کے گھر پر شرح سود 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی جبکہ 10 مرلے کے گھر پر 7 فیصد سے زیادہ شرح سود نہیں ہو گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے کہ کم لاگت کے گھروں کو 30 ارب کی سبسڈی د ی جا رہی ہے، یعنی پہلے جو ایک لاکھ گھر بنیں گے، ان میں سے فی گھر تین لاکھ روپے کی گرانٹ دی جائے گی تاکہ ان کی لاگت کم آئے اور وہ لوگ جو پیسہ وہ کرائے کے مکان پر دیتے ہیں اب وہی رقم نو تعمیر گھر کیلئے چلا جائے گا۔ ا حکومت نے یہ بھی اچھا فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائی تین لاکھ گھروں پر فی گھر کے حساب سے تین لاکھ روپے کی سبسڈی مل دی جائے گی۔

payday loan займ в тюменизайм без отказа на 6 месяцевзайм онлан займ под залог птс челябинскзайм на киви кошелек без паспортазайм под расписку новосибирск получить займ без отказаvivus займ личный кабинетзайм под материнский капитал пермь займ на карту екапустазайм за 5 минзайм в биробиджане мой займполучить займ на карту911 займ займ под залог птс новокузнецкзайм онлайн пенсионерамзайм под залог недвижимости ангарск займ безработным с плохой кредитной историей без отказасмс финанс займ онлайнзайм 500000 займ от частного лица без предоплаты и авансовонлайн займ без процентовзайм под расписку займ на зарплатную картузайм 50000 онлайнзайм онлайн на карту maestro займ онлайн от 18 летзайм онлайн на карту без отказовзайм 100 процентов одобрения онлайн займ на 3 месяцабыстрый займ на qiwiмикро займ на карту новосибирск срочный займ под залог квартирынужен займ срочнобыстрый займ по паспорту онлайн мини займ на яндекс кошелекмиг займ онлайнмини займ онлайн

اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ وزیراعظم کے نظریے کے خلاف ہے، نعیم صدیقی

امریلی اسٹیلز لمیٹڈ کی طرف سے ایک پیغام  میں کہا گیا کہ 19 دسمبر 2020 سے ایکس ٹریم ریبارز کی ملک بھر میں فروخت کی بکنگ بند کی جارہی ہے جس کے بعد  پاکستان میں سٹیل بارز کے ساتھ ساتھ تعمیرات سے متعلقہ دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضاافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ان میں سیمنٹ بھی شامل ہے۔۔ملک بھر کے معروف بلڈرز اور تنظیموں کی جانب سے کی جانب سے سیمنٹ اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافے کو وزیر اعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم (این ایچ پی ایس) کے خواب اور قومی معیشت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔  تعمیراتی اداروں سے وابستہ اہم شخصیات کی جانب سے وفاقی حکومت سے اپیل کی  کہ وہ ان ’بدعنوان عناصر‘ کے خلاف سخت کارروائی کریں جو قومی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 سٹیل بار کی قیمت 7000 روپے اضافے کے بعد ایک لاکھ 39 ہزار 500 سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ دسمبر 2020 کے آخری ہفتے کے بعد یہ دوسرا اسٹیل بار کی قیمتوں میں اتنا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ عالمی سطح پر لوہے اور اسٹیل کے اسکریپ کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو عالمی مارکیٹ میں انتہائی قلت اور خام مال کی قیمت میں اضافہ بتاتے ہوئے اسٹیل بار کے متعدد مینوفیکچرز نے بلڈرز کو نئے بڑھے ہوئے نرخوں کا حوالہ دیا ہے۔امریلی اسٹیلز لمیٹڈ نے اپنے ڈی فارمڈ اور ایکسٹریم بارز کی بکنگ کے نرخ ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن بتائی ہے۔
آغا اسٹیل انڈسٹریز نے اپنی 10 ملی میٹر اور 12-32 ملی میٹر بارز کی قیمتوں میں تبدیلی کرکے ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن کردی۔نوینا اسٹیل ملز نے اپنے 10 ملی میٹر بارز کی قیمتیں بڑھا کر ایک لاکھ 40 ہزار 500 اور 12-32 ملی میٹر کے ڈی فارمڈ گریڈ-60 کے بارز کے لیے ایک لاکھ 39 ہزار 500 روپے کردیا۔
فیضان اسٹیل نے 12-32 ملی میٹر بارز کی قیمت ایک لاکھ 40 ہزار 500 روپے اور 10 ملی میٹر بارز کے لیے ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے تک بڑھا دی۔ بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین حسن بخشی نے الزام لگایا ہے کہ اسٹیل بار بنانے والے وزیر اعظم عمران خان کے کم لاگت والے مکانات کے نظریہ کو برباد کرنے کے لیے مافیا کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ہمیں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کچھ لوگ وزیراعظم کے کم لاگت والے چھوٹے مکانات کے نظریے کو ناکام بنا رہے ہیں۔کیونکہ اگر قیمتوں میں اس طرح اضافہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں غریب عوام کیلئے کم لاگت گھر کی تعمیر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گی۔ قیمتوں میں اضافے سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو ں گے۔ ایک بائی رائز منصوبے پر تعمیراتی لاگت میں نومبر 2020 سے لے کر اب تک اسٹیل بار کی قیمتوں میں 30 ہزار روپے فی ٹن اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 سے 9 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ہائی رائز منصوبے کی کل تعمیراتی لاگت میں اسٹیل بارز کا 40 سے 45 فیصد حصہ ہوتا ہے۔رہائشی منصوبوں میں تعمیراتی لاگت میں بھی 4 سے 6 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے کیونکہ اسٹیل بارز کا حصہ مجموعی اخراجات میں 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہوتا ہے جو کہ مہنگا ہونے کی وجہ سے کم لاگت گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلئے مشکلات پیدا کرے گا۔
پاکستان کے اعدادوشمار بیورو پی بی ایس کے ڈیٹا کے مطابق مالی سال 2021 کے جولائی تا دسمبر کے دوران لوہے اور اسٹیل اسکریپ یعنی اسٹیل بارز بنانے کے لیے خام مال کی درآمد 26 لاکھ 80 ہزار ٹن رہی جبکہ اس میں 94 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے جس کی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں میں 20 لاکھ 60 لاکھ ٹن درآمد کی گئی تھی۔اوسطا فی ٹن لاگت مالی سال 2020 میں 391 ڈالر فی ٹن کے مقابلے میں مالی سال 2021 میں اسی مدت کے دوران قیمت کم ہوکر 354 ڈالر فی ٹن ہوگئی جبکہ اسٹیل بارز بنانے والوں نے اسکریپ کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کا دعوی کیا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان سرکاری محکموں اور نجی شعبے کے ساتھ رہائش، تعمیر و ترقی سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔دسمبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی اجلاس میں وزیر اعظم نے اسٹیل بارز کی بڑھتی قیمتوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسٹیل بار کی بڑھتی قیمتوں پر غور کرنے اور ایک قابل عمل حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔وزیر اعظم خان نے وزیر برائے صنعت حماد اظہر، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جاوید غنی، چیئرمین نیا پاکستان ہائوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی کو اسٹیل بارز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پیش کرنے کا کام سونپا تھا لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ کمیٹی سٹیل بارز کی قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے میں تاحال ناکام دکھائی دیتی ہے امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں گے اور قیمتوں میں کمی لانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔

быстрые займы онлайн доступный займзайм легкийзайм на карту по паспорту онлайн займ на карточку онлайнзайм на карту 30000оформить онлайн займ на карту займ под квартирузайм по номеру телефоназайм без предоплат и комиссий займ экспресс официальный сайтзайм 60000быстрый займ в петропавловске камчатском платиза займ личный кабинетзайм на киви без паспортагрин займ займ костромавзять займ на большую суммузайм на киви счет онлайн займ кредитзайм онлайн без отказа и провероквзять займ онлайн с просрочками микс займбобер займмонисто займ как получить займ на яндекс кошелеквзять займ в тюменизайм денег барнаул займ в великом новгородемфо электронный займзайм в надыме быстрый займ в люберцахзайм для студентовзайм на карту без поручителей мфо займсрочно взять займ с плохой кредитной историейзайм срочно без отказа на карту деньги в займ красноярскэкспресс деньги займподать заявку на займ

پاکستان کا مقامی قرض 241 کھرب دس ارب روپے ہوگیا، نعیم صدیقی

جب سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے اس وقت سے اب تک بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان پر حکومت کرنے والے تمام حکمرانوں نے ملک کی ترقی اور عوام کی بہتری کے ساتھ ساتھ معیشت کے استحکام کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار کیا ہے لیکن جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل اپنے انتکابی جلسوں میں بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعوے کیے تھے کہ ہم عالمی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیں گے تو اقتصادی ماہرین کے لیے آج کے وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان اس وقت بہت ہی حیرت انگیزتھا لیکن جب ان کی حکومت آئی تو ہم نے دیکھا کہ  عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کا سلسلہ وہی پرانا چل نکلا ہے۔قرض کے بغیر کسی بھی ترقی پذیر اور غریب ملک کیلئے ملکی امور چلانا نہایت ہی اس لیےمشکل کام  ہے اس لیے تیسری دنیا کے ہر ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کی طرف جانا پڑتا ہے یہان تک کہ درجنون ترقی یافتہ ممالک بھی قرج لینے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہوتا کہ قرض کی رقم جن مقاصد کیلئے لی جا رہی ہے کیا وہ مقاصد پورے ہو رہے ہیں یا نہیں۔
پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کا مقامی قرض رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں 829 ارب روپے اضافے کے بعد 241 کھرب 10 ارب روپے ہوگیا تاہم رجحان یہ ظاہر کرتا ہے کہ مالی سال 2021 میں قرض لینے کی رفتار گزشتہ 12 ماہ کے مقابلے کافی سست تھی۔
اسٹیٹ بینک آ ف پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوتاہے کہ نومبر 2019 میں مقامی قرض 214 کھرب 10 ارب روپے تھا جو نومبر 2020 میں 241 کھرب 10 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے جوکہ 27 کھرب روپے کا اضافی قرض ظاہر کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2020 میں نومبر 2019 کے بعد سے حکومت کے مقامی قرضوں اور واجبات میں مجموعی طور پر 27 کھرب 50 ارب روپے کا اضافہ ہواہے۔مقامی قرضوں میں زیادہ تر، 50 فیصد سے زائد، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈ (پی آئی بیز) کے ذریعے متحرک کیا گیا تھا۔حکومت نے نومبر 2020 تک پی آئی بی کے ذریعے 140 کھرب 33 ارب روپے حاصل کیے جو گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب 27 ارب روپے کا اضافہ تھا۔ مالی سال 2020 میں گردشی قرضہ 30 فیصد بڑھ کر 21 کھرب 50 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔
تاہم اس میں 5 مہینوں میں 11 کھرب 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2021 کے دوران قرض حاصل کرنے میں جارحانہ انداز اپنایا، رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران پی آئی بی کا زیادہ تر قرض حاصل کیا گیا تھا۔جون 2020 میں پی آئی بی 128 کھرب 66 ارب روپے پر تھی جس میں رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 17 کھرب 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔خیال رہے کہ طویل المدتی پی آئی بیز کو نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ بانڈ زیادہ منافع دیتے ہیں جبکہ حکومت اپنے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض لینے کے لیے بینکوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔
مزید یہ کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کے بعد حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیتی، وہ یا تو قلیل المدتی خزانے کے بلوں یا طویل المدتی پی آئی بیز کے ذریعے قرض لیتی ہے۔علاوہ ازیں کورونا وائرس کی وجہ سے نجی شعبے کی جانب سے بینکوں سے قرض لینا سست رہا جس کی وجہ سے بینکوں کو سرکاری پیپیرز میں زیادہ سے زیادہ لیکویڈیٹی ڈالنا پڑی۔تاہم مالی سال 2021 کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے تازہ ترین شمارے میں بھی شامل تھے، سے ظاہر ہوا ہے کہ مقامی قرضے کے تناسب کے طور پر مجموعی بیرونی قرض ستمبر 2020 میں نمایاں طور پر کم ہوکر جون 2020 کے 45.5 فیصد کے مقابلے میں 41.4 فیصد رہ گیاہے۔
آج کی صورتحال دیکھ کر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کی پاکستانی معیشت کے حوالے سے جو توقعات تھیں درحقیقت وہ اتنی درست نہیں تھیں، انہیں حکومت سنبھالنے کے بعد معلوم ہوا کہ حالات ان کی توقعات سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔

займ на карту hairy girl онлайн займ всем без отказагде взять займ без отказа отзывызайм без официального трудоустройства быстрый займ денег москваоформить займ екапустазайм на карту онлайн по паспорту оформить онлайн займзайм под залог техникизайм на карту онлайн круглосуточно займ онлайн с 18 лет на кививзять займ без комиссииденьги будут займ на карту частный займ при личной встречеденьги в займзайм через систему контакт небольшой займстуденческий займзайм под залог птс уссурийск онлайн заявка на займзайм монезазайм экспресс на карту быстрый займ на карту новосибирскзайм без отказа рфзайм онлайн на карту только по паспорту займ на карту с 19 летзайм в белореченскезайм на карту по фотографии паспорта займ в удомлезайм сыктывкармфо даем займ частный займ в москве срочнозайм денег без паспортахочу взять займ займ на карточку срочнокак взять быстрый займденьги на карту онлайн займ

آٹھ لاکھ ٹن سے زائدچینی ٹیکس فری درآمد کی جائے گی ،حکومت نے فیصلہ کر لیا،نعیم صدیقی

پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر چینی کی قلت اور قیمت کے مسائل پر قابو پانے کیلئے چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا گیاہے۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد چینی کے اچانک بحران اور قیمتوں پر قابو رکھناہے۔ کچھ عرصہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوام کیلئے بے شمار مشکلات پیدا کی ہیں۔حکومت کی جانب سے چینی مافیا کے خلاف انکوائری بھی کی گئی لیکن جہاں تک قیمتوں کا تعلق ہے تو ان مین ابھی تک استحکام نہیں آسکا ہے۔گنے کے کرشنگ سیزن کے دوران بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت نے قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے بغیر کسی ٹیکس اور ڈیوٹی کے تقریبا 8 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی کی درآمد کی فوری طور پر اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس میں سرکاری شعبے کے توسط سے 5 لاکھ ٹن ری فائنڈ چینی کی ٹیکس اور ڈیوٹی فری درآمد شامل ہے جبکہ اس کے علاوہ مقامی شوگر ملز کو مزید 3 لاکھ 50 ہزار ٹن خام شوگر درآمد کرنے کی پیش کش کی گئی ہے۔چینی کی درآمد کا یہ فیصلہ اصولی طور پر وزیر اعظم عمران خان کے دفترمیں مہنگائی کی صورتحال اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیے گئے حالیہ اجلاس کے دوران کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس، جو تجارت اور صنعتوں جیسی متعلقہ وزارتوں کا ایک فورم ہے، نے بعد میں چینی کی درآمد کے لیے سفارشات مرتب کیں کیوں کہ قیمتوں میں کمی کے چند ہفتوں کے اندر اندر ہی اس میں واپس اضافہ ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے اور حکومت کی عوامی مسائل پر گرفت کمزور دکھائی دیتی ہے۔
یہ بات بھی قابل ذ کر ہے کہ کچھ روز پہلے وزیر اعظم عمران خان نے 12 دسمبر کو متعلقہ سرکاری ایجنسیوں کو عوامی طور پر مبارکباد دی تھی جن کی مربوط کوششوں سے چینی کی قیمتوں کو 100 سے کم کر کے 80 روپے فی کلو تک پہنچانے میں مدد ملی تھی۔تاہم اگلے چند ہفتوں میں قیمتیں دوبارہ 90 روپے سے تجاوز کرگئیں اور لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی چینی کی قیمت 100 روپے فی کلو کی سطح پر دیکھی گئی بلکہ اب تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں میں چینی کی قیمتیں یکساں نہیں ہیں اور نہ ہی ایک جیسی اچھی کوالٹی کی چینی عام دستیاب ہے۔ ملک بھر میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ اس سال ستمبر کے آخر تک پاکستان میں چینی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔دوسری جانب سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ حکومت قیمتوں میں استحکام کے لیے مارکیٹ میں لگ بھگ 8 لاکھ 50 ہزار ٹن اضافی چینی کو یقینی بنائے گی لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ قیمتوں پر حکومت کا کنٹرول بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ چینی کی قلت پر قابو پانے اور اس کا ذخیرہ کرنے کیلئے درآمد کی جانے والی اس چینی میں سے تقریبا 5 لاکھ ٹن ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے اور باقی 3 لاکھ 50 ہزار ٹن نجی شعبے یعنی شوگر ملز کے ذریعہ درآمد کی جائے گی۔
خیال رہے کہ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حالیہ ہفتوں میں مختلف صوبائی حکومتوں کی جانب سے منظور شدہ گنے کی قیمت کو یقینی بنانے میں ناکامی پر گنے کے کمشنرز کی نا اہلی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت اور مارکیٹ کے نرخ میں اضافہ ہوا تھا۔گزشتہ دو برسوں کے دوران چینی کی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو اگست/ستمبر 2018 میں یہ 60 روپے سے بڑھ کر اگست / ستمبر 2020 میں 115 روپے ہوئی جبکہ گزشتہ مہینے کی ابتدا میں اس میں تھوڑی بہت کمی آئی تھی لیکن اب دوبارہ قیمتوں میں اجافہ دیکھا جا رہا ہے حلانکہ مارکیٹ میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے لیکن قیمتوں پر کنٹرول اور استحکام نظر نہیں آتا اس جانب حکومت کو خاص طور پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینا ہو گی کیونکہ چینی زندگی کی بنیادی اور لازمی ضروریات میں سے ایک ہے۔

срочный займ payday loan займ под залог птс спбоформить онлайн займ на карту без отказазайм на карту хабаровск оформить заявку на займзайм 50 тысячзайм 100 000 рублей частный займ под расписку москвазайм vivusзайм у частного лица онлайн смс финанс займ на картувзять займ кивизайм в самаре займ с 18 летвкармане займоблигационный займ займ на карту с открытой просрочкойзайм без трудоустройствазайм под залог недвижимости кемерово микроклад займ личный кабинетзайм под материнский капитал в сбербанкелови займ личный кабинет займ онлайн у петровичавзять в займзайм эксресс микро займ честное словоонлайн займ переводом контактзайм на киви 100 рублей заявка на займ деньги будутзайм пенсионерам на карту маэстрозайм до пенсии займ на карту без регистрациисрочный займ на яндекс деньгиденьги в займ москва займ под залог птс челябинскзайм на киви кошелек без паспортазайм под расписку новосибирск

پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے،موڈیز کا اعتراف ،نعیم صدیقی

اگرچہ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے پاکستان میں عام زندگی اور تجارت کو ایک مرتبہ پھر شدید متاثر کیا ہے لیکن حکومت کے بروقت،فوری اور مثبت اقدامات کی بدولت پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔کاروبار اور روزگار کی صورتحال بہت اچھی تو نہیں لیکن دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن کہیں زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے۔موڈیز کی انویسٹر سروس کی جانب سے کہا گیاہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت میں 1.5 فیصد اضافہ ہوگا اور اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ حکومت کے تعاون کی  بدولت پاکستانی بینک مستحکم ہیں تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے بینکاری کے شعبے کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ موڈیز کی جانب سے پاکستانی بینکاری کے شعبے کے بارے میں ایک آئوٹ لک میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی سرگرمیاں کورونا وائرس کے پھیلائو سے قبل کی سطح سے نیچے رہیں گی جبکہ مالی سال 2021 میں معیشت کو 1.5 فیصد معمولی نمو کی طرف لوٹنا چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تورواں مالی سال کے لیے عالمی بینک کی جانب سے 0.5 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا بتایا گیا تھا لیکن اس کے مقابلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جی ڈی پی کے لیے 1.5-2.5 فیصد نمو کی پیش گوئی کو دیکھا جائے تو یہ اس سے مطابقت رکھتا ہے۔موڈیز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی بینکاری نظام بہت مستحکم ہے اور اس میں طویل المدتی قرضوں میں اضافے کی صلاحیت مضبوط ہے۔مستحکم نقطہ نظر بینکوں کی ٹھوس فنڈنگ اور لیکوئڈیٹی کی عکاسی کرتا ہے حالانکہ ایک مشکل صورتحال مگر بہتر بنانے والا عمل پسند ماحول اثاثوں کے معیار اور منافع پراثرات مرتب کرے گا۔ تاہم ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا بینکاری نظام ملک اور قوم کیلئے اس لحاط سے بہتر ہے کہ اس کی بدولت کاروبار سے لے کر عام لوگوں تک سب کو جدید دور کے مطابق مالی لین دین کی سہولیات اور تجارت کرنے کے مواقع میسر ہیں۔
موڈیز کے سینئر نائب صدر نے کہا کہ ‘مشکل ماحول کے باوجود جاری اصلاحات اور پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کا قرضوں کا پروفائل مستحکم ہے جو بینکوں کے لیے مثبت ہے’۔ایجنسی کو توقع ہے کہ سست معاشی بحالی سے قرض کے معیار پر اثر پڑے گا، نان پرفارمنگ لون کے آنے والے مہینوں میں، ستمبر 2020 میں مجموعی قرضوں کی 9.9 فیصد کی سطح سے اضافے کی توقع کی جا رہی ہے اور سرکاری ادائیگیوں اور سبسڈیز پر انحصار کرنے والی کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی تاہم قرض کی ادائیگی میں تعطل اور حکومت کی امداد کے دوسرے اقدامات میں کچھ خطرات پیدا کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔دریں اثنا بینکوں کا منافع، جو 2020 کے دوران بڑھ چکا ہے، کم مارجن، کی وجہ سے دبا ئومیں آئے گا۔ پھر بھی مالی سال 2021 میں پاکستان کی معیشت کو 1.5 فیصد کی معمولی نمو کی طرف لوٹنا چاہیے جبکہ حکومت اور مرکزی بینک کے ردعمل اور اصلاحات سے کورونا وائرس کے اثرات کو جزوی طور پر کم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈپازٹ پر مبنی فنڈز اور اچھے لیکوئڈیٹی بفرز بھی طاقت بنے ہوئے ہیں جب کہ بحران میں حکومت کی مدد کا امکان زیادہ ہے چاہے اس کی صلاحیت معاشی چیلنجز کی وجہ سے محدود ہو۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے بنگلہ دیش کی معاشی نمو کے تخمینے کو پرانے اندازے 8 فیصد سے کم کر کے 6.8 فیصد کردیا ہے جبکہ افغانستان کی شرح نمو بھی جون کے تخمینے 4 فیصد سے کم کر کے ڈیڑھ فیصد کردی ہے۔ مالی سال 2021 کے لیے پاکستان کی شرح نمو دو فیصد اس بات پر منحصر کہ 2020 کے اختتام تک کووِڈ 19 کا اثر کس قدر کم ہو گیا تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے معاشی حالات کو دوبارہ غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی صورتحال معمول پر نہیں آ رہی ہے اور یورپ میں وائرس کی دوسری لہر مزید خطرناک بنتی جا رہی ہے۔ایسے حالات میں معاشی اشاریے بہتر ہونا ممکن نہیں ہے۔معیشت میں بہتری آئی ایم ایف کی ایکسٹینٹڈ فنڈ فیسیلیٹی پروگرام کے تحت معاشی ناہمواری کو متوازن رکھنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی منحصر ہے۔پاکستان میں سپلائی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو زراعت سے مجموعی ملکی پیدوار میں نمو کے بڑھنے کی توقع ہے، مالی سال 2021 میں زراعت کے علاوہ صنعتی نمو بھی بہتر ہونے کی امید ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زراعت اور صنعت کی نمو میں بہتری کے ساتھ مجموعی طور پر مقامی طلب میں متوقع اضافہ اور سروسز مالی سال 2021 کی نمو میں کردار ادا کریں گی۔اس کے علاوہ مالی سال 2021 میں مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد تک  ہونے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے جو متوقع معاشی بحالی سے اندازہ کی گئی پرانی پیش گوئی سے کم ہے۔ اس کے علاوہ رواں مالی سال میں مالی خسارہ بھی کم ہو کر جی ڈی پی کے 7 فیصد کے برابر ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس پیش گوئی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کووڈ 19 کا خطرہ کم ہونے اور وبا سے پہلے کی جو معاشی صورتحال تھی اس کی جانب تیزی کے ساتھ معاشی بحالی پر منحصر ہے لیکن ابھی بھی صورتحال غیر یقینی ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلے سے زیادہ خطرناک دکھائی دیتی ہے اس کے باوجود پاکستان میں کاروبار زندگی بہترین حکمت عملی کے ساتھ جاری ہے جس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بنیادی ایس او پیز کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں اس کا فائدہ یہ ہے کہ عوام کی اکثریت بالکل بیکار ہو کر نہیں رہ گئی بلکہ لوگوں کا روزگار چل رہا ہے۔صرف تعلیمی اداروں کی بندش ہے لیکن امید ہے کہ تعلیمی سلسلہ بھی بہت جلد فعال ہو جائے گا۔ مالی سال 2021 میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ بھی جی ڈی پی کے 2.4 فیصد پر برقرار رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پاکستان کی معیشت کس حد تک بہتری کی جانب اپنا سفر جاری رکھتی ہے اور عوام کیلئے زندگی اور روزگار کے سلسلے معمول کے مطابق جاری رکھنا کتنا آسان ثابت ہوتا ہے۔امید ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود حکومت معیشت کی بہتری اورعوام کی بھلائی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

онлайн займ займ срочно без отказов и проверок онлайн займ на киви без паспортакак взять займ в вебманикиви займ без процентов займ на банковскую карту без отказавзять займ в спбзайм онлайн по всей россии 1 займ без процентовзайм исправление кредитной историибеспроцентный займ между юридическим и физическим лицом займ на киви кошелек с 18 летзайм до 200 000гудмани займ займ онлайн на банковский счетзайм на карту без проверокзайм онлайн на карту без отказа где взять займ 100 процентовзайм на 6 месяцев на картузайм на электронные кошельки займ с 18 летвкармане займоблигационный займ займ в удомлезайм сыктывкармфо даем займ займ в благовещенскезайм 6000 рублейзайм 150 000 займ ставропольфинансовый займзайм вива оформить займ срочнозайм под залог недвижимости волгоградзайм долгосрочный займ на карту сбербанка срочно без отказавзять займ онлайн на киви кошелекденежный займ онлайн

درہ خنجراب کی بندش سے گلگت بلتستان کے تاجروں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو گیا،نعیم صدیقی

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ  پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات اور تعاون صرف سی پیک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ دونوں دوست ممالک کے درمیان تعاون سی پیک سے بڑھ کر دفاع اور دیگر شعبوں میں بھی آگے بڑھتا رہے گا۔ پاکستان اور چین مل کر دیگر شعبوں کے علاوہ امن و استحکام کے لیے بھی مربوط کوششیں کر رہے ہیں۔

 اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ درہ خنجراب کے راستے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سفر معطل ہونے کے بعد دونوں ممالک میں سرحدی تجارت سے وابستہ سیکڑوں افراد کو معاشی مشکلات  اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔ گلگت بلتستان کی تاجر برادری کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس بارے میں چین کی جانب سے تجارت کی اس بندش کو دور کرنے کیلئے  مستقل طور پرکوئی مناسب، پائیدار اور فوری حل تلاش کیا جائے گا تاکہ تجارت اور آمد ورفت کا سلسلہ آئندہ کسی رکاوٹ کے بغیر چلتا رہے  کیونکہ کورونا وائرس کے بعد دنیا بھر کی طرح پاکستان کی تاجر برادری کو بھی کاروبار میں بے شمار مشکلات کا سامنا ہے۔ تجارتی اداروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ سیزن سے تجارتی سرگرمیوں کے ہموار تسلسل کو یقینی بناتے ہوئے اپنے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار لازمی طور پروضع کریں۔ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں سرحد بند ہونے کے بعد سے پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک سے متعلق جانے والے سامان کو رو کے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کو 8 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا ہے جو کہ نہایت افسوسناک اور قومی نقصان کی بات ہے اس کے علاوہ تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو بھی بے پناہ مالی نقصانات اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
چین کے ساتھ معاہدے کے تحت درہ خنجراب کے درمیان موجود پاکستان چین سرحد اپریل سے نومبر تک کھلی رہتی ہے۔ایک مقامی تاجر شعبان علی نے ڈان کو بتایا کہ اس نے اخروٹ اور بادام سمیت 50 لاکھ روپے مالیت کا سامان چین کی مارکیٹوں سے 2019 میں خریدا تھا تاہم وہ انہیں پاکستان نہیں بھیج سکا کیونکہ نومبر 2019 میں خنجراب پاس کو کورونا وائرس کے پھیلا ئوکے بعد بند کردیا گیاتھا جس کی وجہ سے انھیں بے پناہ مالی نقسان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ سرحد کی بندش کے باعث پاکستانی تاجروں کا چین کے مختلف گوداموں میں سامان سے بھرے ہوئیکنٹینرز کو واپس اتارنا پڑاجو کہ بہت ہی مشکل صورتحال تھی اور ابھی تک معاشی سرگرمیوں میں ابتری دکھائی دیتی ہے۔ ‘چونکہ یہ سرحد گزشتہ سال بند رہی ہے اور پاکستانی روپے کے مقابلے میں چینی کرنسی کی قیمت میں اضافے اور مارکیٹ میں نئی اور تازہ مصنوعات کی آمد کی وجہ سے پہلے سے خریدے گئے سامان کی قیمتیں بھی ہماری مقامی منڈیوں میں گر گئی ہیں’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ اب چین میں سستے نرخوں پر مصنوعات فروخت کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے یہ ایسیحالات و واقعات ہیں جن کی وجہ سے تجارت پیشہ لوگوں کو مالی نقسانات کے علاوہ دیگر متعدد قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس وقت ضروری ہے کہ حکومت ایسے مثبت اقدام اٹھائے جن کی بدولت معاشی سرگرمیوں کا سلسلہ نہ صرف بحال ہو بلکہ ہر ممکن حد تک معاشی سرگرمیوں کو جاری رہنا چاہئے۔
ایک اور تاجر حسین علی نے بتایا کہ سرحد بند ہونے سے انہیں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور جب تک یہ سرحد نہیں کھلے گی ان کینقصان میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ان کا کاروبار شدید متاثر ہوگا۔ ہنزہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر محبوب ربانی کا کہنا ہے کہ سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد بشمول تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور ہوٹل مالکان کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے تقریبا 30 فیصد افراد سرحدی تجارت پر منحصر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال زیورات، معدنیات، خشک میوہ جات اور چیری جیسے مقامی مصنوعات کی چین کو برآمد میں بھی کمی کا سامنا جس کی وجہ سے ہماری تاجر برادری کو نقسانات کا سامنا ہے اور بے شمار لوگوں کے لیے روزگار کے ذرائع بھی سکڑ گئے ہیں۔نگرچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر محمد ایوب وزیری کا کہنا تھاکہ ہر سال کم و بیش تین ہزارکنٹینر تجارتی سامان لیکر چین جاتے اور چین سے آتے تھے جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر تجارت ہوتی تھی لیکن سرحد کی بندش اور ان کنٹینرز کی معطلی کی وجہ سے گلگت بلتستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔تاجر براری اور معاشی سرگرمیون کو اس سورتھال نے بہت زیادہ مالی مشکلات اور پریشانیوں سے دوچارکیا ہے۔اس کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ چین کی مارکیٹوں میں اشیاء کی جو قیمتیں تھیں وہ بہت زیادہ نہ تھیں بلکہ انتہائی مناسب اور سستے نرخوں پر دستیاب تھیں لیکن اب موجودہ حالات کی وجہ سے ہماری مقامی مارکیٹوں میں ان ی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات واضع طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

https://credit-n.ru/offer/kreditnye-karty-bank-moskvyi.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-denga-leads.html срочный займ быстрые займы на карту займ костромавзять займ на большую суммузайм на киви счет займ онлайн через систему контакт круглосуточносмс деньги займзайм в краснодаре оформить займ на карту онлайнчастный займ екатеринбургчастный займ казань займ онлайн на карту или счетзайм визавзять займ на киви кошелек с плохой кредитной историей займ на яндекс деньги без отказазайм плюсзайм экспресс отзывы займ без привязки картызайм брянскзайм экспресс павловский посад займ на банковский счетчастный займ под расписку у нотариусасмарт займ срочный займ онлайн с плохой ки по всей россии круглосуточнобыстроденьги взять займзайм-деньги займ система контактзайм онлайн на киви без проверокзайм на карту 150000 займ наличными по паспортувзять займ спбзайм в интернете на карту займ экспресс в москвебыстрый займ денег на картузайм по паспорту на киви