اٹلی میں کورونا کا عذاب قیامت کے آثار، عنصر ملک

Italy Corona Virus

نبی مکرم محمد مصطفی ۖ کا فرمان ہے کہ جب کسی علاقے میں کوئی موذی وبا پھیلے

ansar malik
Ansar Malik

تو آپ جہاں ہیں وہیں رک جائیں۔اٹلی نے بہت دیر ہونے سے پہلے ہی دنیا کو اپنا عمل ظاہر کرنے کے لئے کہا ہے:اٹلی کا ایک خط، سب کے لئے بہت اہم اور بہرصورت قابل تقلید ہے۔ لکھنے والے کا کہنا ہے کہہم اٹلی میلان میں رہتے ہیں ان مشکل دنوں میں آپ کو یہ بتانے جارہا ہوں کہ “یہاں میلان میں زندگی کیسی ہے” اور میرے خیال میں آپ کو ان غلطیوں اور ان کے نتائج سے سبق سیکھنا چاہئے جو کوتاہیاںہم یہاں رہتے ہوئے کرچکے ہیں۔ ہم ساری قوم فی الحال قرنطینہ میں ہیں۔ ہم سڑکوں پر نہیں نکلتے ، پولیس مستقل گشت کررہی ہے اور گھر سے باہر نکلنے والے افراد کو فوری گرفتار کرتی ہے۔یہاں سب کچھ بند ہے ہر جانب ہو کا عالم،گہری خاموشی ہے! کاروبار، شاپنگ مالز، اسٹورز، سکولز،ساری سڑکیں سنسان اور ویران ہیں. ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کا خاتمہ ہوگیا ہے۔اٹلی، زندگی کے حسین لمحات گزارنے کا ملک ہے جو کورونا وائرس کی وجہ سے، ایک لمحے سے دوسرے لمحے میں اس طرح بدل گیا جیسے یہ جنگ سے تباہ شدہ ایک تاریک ملک ہو۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں زندہ رہوں گا! یہاں لوگ الجھن کا شکار، غمزدہ، بے چین اور بے بس ہیں، اور اکثر اس حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ یہ تباہ کن اور خوفناک حالات ان پر کیسے مسلط ہوئے اور کب ختم ہونگے۔ہم نے یہاں سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ شروع شروع میں لوگوں نے اس وبا کو بہت معمولی سمجھا اور غیر سنجیدگی سے لیا اور اپنی زندگی معمول کے مطابق جیتے رہے کسی کو کچھ پرواہ نہ تھی۔معمول کے مطابق کام، تفریح اور چھٹیوں کی طرح مزے لیتے رہے اور سڑکوں پر بھیڑ کی صورت میں گھومتے دوستوں اور ضیافتوں کے ساتھ عام اجتماعات میں کثیر تعداد میں ملتے جلتے رہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہم سب غلط تھے اور اسی طرح اگرآپ بھی آج یہی غلطی کررہے ہیں تو اس کا انجام بہت ہی خوفناک ہے!

میں آپ سے التجا کرتا ہوں، ہوشیار ہوجائو، یہ نہ ہی کوئی مذاق ہے اور نہ ہی کوئی لطیفہ سنا نے والی بات ہے۔ اپنے پیاروں، اپنے والدین،بچوں،خاندان اور اپنے چاہنے والوں کی حفاظت کریں، یہ بیماری ان کے لئے خطرناک ہے۔یہاں اٹلی میں روزانہ 200 کے قریب لوگ مرتے ہیں یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔، اس لئے نہیں کہ میلان میں دوائی اچھی نہیں ہے۔یہاں دنیا کی بہترین ادویات میسر ہیں اب صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ ہر مریض کے علاج کیلئے جگہ ہی نہیں ہے۔اب یہ ڈاکٹروں کا انتخاب ہے کہ اس نے کس کا علاج کرنا ہے اور کس کو چھوڑ دینا ہے کیونکہ مریض بڑھتے جا رہے ہیں۔غور سے سنیں کورونا وائرس کے پھیلنے کا سلسلہ آغاز میں صرف ان شہریوں کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا، جنہوں نے نئی خطرناک صورتحال کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے، اپنی زندگی کو ہمیشہ کی طرح جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور بیماری کو پھیلانے کا سبب بنتے گئے۔

براہ کرم ، غلطیوں سے سبق حاصل کریں، اٹلی ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کا خاتمہ اللہ تعالی نہ کرے۔ ایک بڑے سانحے سے ہوسکتا ہے۔اب آپ لوگ اچھی طرح سے سن لیں۔۔بھیڑ والی جگہوں پر نہ جائیں۔کوشش کریں کہ ہوٹلوں، ریسٹورنٹ میں کھانا نہ کھائیں۔اس خطرناک صورتحال میں زیادہ دیر گھروں میں رہیں! وزارت صحت کی ہدایات پر عمل کریں اسے جٹھلائیں مت۔ ہر شخص سے ایک میٹر کے فاصلے پر بات کریں، اسکے قریب نہ آئیں، ہاتھ ملانے اور گلے لگنے سے گریز کریں.نہایت سنجیدگی کے ساتھ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور ذرا سی شکایت بھی ہو تومکمل علاج حاصل کریں ۔ غلطی کرنے کی بجائے لازم ہے کہ دوسروں کی غلطیوں سے سیکھیں۔ہمارا تمام قارئین کو مشورہ ہے کہ آپ اپنے مدافعتی نظام کو فروغ دینے کے لئے وٹامن سی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں.شعبہ صحت سے وابستہ پیشہ ور افراد کی وبا کو پھیلنے سے روکنے میں بھرپور مدد کریں اٹلی اسوقت پورا ملک ساری دنیا سے الگ تھلگ ہے ، یعنی 6 کروڑ افراداپنے اپنے مقام پر قیدی بن گئے ہیں کوئی گھر سے باہر نہیں جا سکتا ہے۔ اگر اٹلی کے عوام نے ابتدا سے ہی وزارت صحت کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کرلیا ہوتا تو اس کی روک تھام ہوسکتی تھی اور ایسے جان لیوا حالات سے بچ سکتے تھے جن کا سامنا آج اٹلی کو ہے کہ اس نے کورونا وائرس کے باعث ہونے والی اموات میں چین کو پیچھے چھور دیا ہے ۔

صرف ایک دن میں چھ سو سے سے زائد اموات ہوئی ہیں گذشتہ روز۔کفن دفن کا کوئی انتظام نہیں ہے فوج کے ٹرک لاشوں کو لے جا کر م تہہ خاک چھپا دیتے ہیں کیا آپ نے کبھی ایسا تصور کیا ہوگا کہ دنیا کہ ترقی یافتہ ملک میں ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اٹلی کے ساتھ اب تو سپین کو بھی شدید خوفناک حلات کا سامنا ہے وہاں بھی لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر شخص جو باشعور ہے اسے اپنا اور اپنے پیاروں کی قیمتی زندگیوں کا خیال رکھنا چاہئے اور جیسا کہ اسلام کہتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ کیا اقوام متحدہ کی کوئی اجتماعی ذمہ داری نہیں ۔یہ سب لوگ جو دنیا کے نظام پر قبضہ کیے بیٹھے تھے لیکن اب سب کو اپنی اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔یہ سبق حاصل کیوں نہیں کرتے۔اب سب مل کر اپنے گناہوں اور کمزور قوموں پر ظلم کرنے،جنگیں مسلط کرنے اور بالخصوص مسلمان ملکوں کو مشق ستم بنانے پر معافی کیوں نہیں مانگتے۔ اپنے گناہون اور جرائم کا اعتراف کیوں نہیں کرتے۔ دنیا بھر کے توحید پرست لوگوں پر لازم ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کریں اس سے رجوع کریں معافی مانگیں تاکہ اقوام عالم پر مسلط ہونے والے اس شدید ترین عذاب سے نجات مل سکے۔

Leave a Reply

*