معیشت کی بہتری اور کورونا سے چھٹکارہ اولین ترجیع قرار دی جائے ، نعیم صدیقی

Economics Pakistan
Naeem Siddiqi
Naeem Siddiqi

دنیا بھر میں پھیلنے والا کورونا وائرس اب پاکستان میں بھی 500 سے زیادہ افراد کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔حکومت اور اپوزیشن نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کر لیا ہے اور عوام بھی حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاہم معیشت کے بارے میں ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا نہات ضروری ہے۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ وہ امداد کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع کریں گے۔ حکومت کی جانب سے معیشت کی بہتری اور کورونا سے چھٹکارہ اولین ترجیح قرار دی جائے تاکہ ہم سب مل کر اس وبا کا مقابلہ کر سکیں۔مشکل ترین معاشی حالات اور مہنگائی کو دیکھتے ہوئے سٹیٹ بینک نے بھی شرح سود ساڑھے 12 فیصد کرنے کا اعلان کردیا۔جو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں حالیہ سست روی، قیمتوں کی توقعات میں کمی، عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں کمی اور کورونا وائرس کے باعث بیرونی اور ملکی طلب میں سست رفتار سے مہنگائی میں بہتری کا عکاس ہے لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا میں کہیں بھی اس قدر زیادہ شرح سود نہیں ہے جو ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی اور کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا اعلان بہت خوش آئند اور درپیش خراب معاشی حالات میں بہتری کا باعث ہو گا تاہم بہت ضروری ہے کہ سود کی شرح میں مزید کمی کی جائے تا کہ کاروبار زندگی میں بہت زیادہ مشکلات حائل نہ ہوں۔ تجارت سے وابستہ طبقہ پہلے مسائل سے دوچار حکومت کی جانب سے مثبت اقدامات کا منتظر ہے تاکہ معیشت بہتر ہو سکے۔ ۔حکومت نے امراض کی تشخیص کرنے والے اورذاتی تحفظ کے آلات کی درآمد کو 3 ماہ کے لیے تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز سے مستثنی قرار دے دیا ہے جو کہ مستحسن فیصلہ ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے میں سہولت ہوگی۔ نئے صنعتی پلانٹ اور مشینری کے لیے 10 سال تک 7 فیصد کی مقررہ شرح پر بینک کے قرضوں کے لیے ری فنانسنگ کی جارہی ہے۔ کورونا وائرس کے باعث متوقع معاشی سست روی سے نمٹنے کے لیے ضروری سرمایہ سٹیٹ بنک فراہم کرے گا۔خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ برس شرح سود 13 اعشاریہ 25 فیصد مقرر کی تھی اور مہنگائی کی شرح میں استحکام آنے کے بعد اس کو مزید بڑھنے سے روک دیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد بھی مہنگائی میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی جس کہ وجہ مرکزی بینک نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی کم ہونے والی قیمت کو قرار دیا تھا۔صنعتی یونٹس کے لیے 7 فیصد شرح سود پر قرض کی سہولت اچھی بات ہے لیکن اس میں مزید کمی کی ضرورت ہے۔اسٹیٹ بینک نے زری پالیسی کے ساتھ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے عارضی معاشی ری فنانس سہولت اور شریعہ کمپلائنٹ کے تحت اقدامات پر مبنی پالیسی بھی جاری کردی ہے۔جس کے مطابق اسٹیٹ بینک نئے صنعتی یونٹس قائم کرنے کے لیے بینکوں کو 10 سال کے لیے 7 فیصد ریٹ پر ری فنانس کی سہولت دے گا۔اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ 100 ارب روپے کی اسکیم ہے اور زیادہ سے زیادہ قرض 5 ارب روپے تک دیا جائے گا۔اس سہولت سے سوائے توانائی کے شعبے کے دیگر تمام پیداواری صنعتوں کے لیے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جبکہ توانائی کے شعبے کے لیے اسی طرح کی اسکیم پہلے ہی موجود ہے۔واضع رہے کہ یہ سہولت ایک سال کے لیے دستیاب ہوگی جس کے لیے مارچ 2021 تک ختم ہونے والے لیٹر آف کریڈٹ ایل سی کھولنے کی ضرورت ہوگی۔مرکزی بینک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے عارضی معاشی ری فنانس سہولت برائے کووڈ-19 اور شریعہ کمپلائنٹ کے تحت اس وبا سے نمٹنے والے ہسپتالوں اور میڈیکل سینڑز سے تعاون کے لیے پالیسی بھی جاری کی ہے۔اس اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک، تمام بینکوں کو مالی تعاون کے لیے ری فنانس سہولت دے گا جو کورونا وائرس کی تشخیص، روکنے اور علاج کے لیے مشینری کی خریداری میں سہولت کے تحت 5 برس کے لیے 3 فیصد ریٹ کے ساتھ قرض دیا جائے گا۔ سٹیٹ بینک یہ سہولت بینکوں کو صفر فیصد کی بنیاد پر فراہم کرے گا اس سہولت سے وہی ہسپتال اور میڈیکل سینٹر مستفید ہوسکتے ہیں جو وفاق یا صوبائی محکمہ صحت میں رجسٹرڈ اور کورونا وائرس کے کنٹرول میں مصروف ہیںاس پالیسی اسکیم کیلئے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیںجس میں سے کسی بھی ہسپتال یا میڈیکل سینڑ کو 20 کروڑ روپے تک قرض کی سہولت دی جائے گی۔ اس اسکیم سے وائرس کے پھیلائو اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے میں مدد ملے گی اور یہ اسکیم ستمبر 2020 تک دستیاب ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے مشکل کی اس گھڑی میں ہر شخص ایمانداری اور خدمت کے سچے جذبوں کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے انشاء اللہ حالات میں بہتری آئے گی ہم کورونا وائرس پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کو بھی مستحکم بنانے میں کامیاب ہوں گے۔

Leave a Reply

*