یوم پاکستان کے جذبے کورونا وائرس کی نذرنہیں ہوں گے، نعیم صدیقی

ملک بھر میں آج یوم پاکستان سادگی سے منایا جارہا ہے۔ کچھ روز پہلے کورونا وائرس کے پیشِ نظر 23 مارچ کی پہچان سمجھی جانے والی مسلح افواج کی مشترکہ فوجی پریڈ بھی ملتوی کردی گئی تھی حالانکہ اس حوالے سے تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں اور تیاریوں کے سلسلے میں اسلام آباد میں شکر پڑیاں کے قریب پاک فضائیہ کا ایک طیارہ ایف سولہ حادثے کا شکار بھی ہوا تھا جس کا پائلٹ شہید ہو گیا تھا۔یہ پریڈ ہرسال بڑے شاندار اور باوقار انداز میں منعقد کی جاتی ہے۔یاد رہے کہ آج سے 80 سال قبل 23 مارچ 1940 کے دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی تھی جس کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی تھی۔یہ قرارداد 24 مارچ 1940 کو منظور کی گئی تھی۔ قراردادِ لاہور کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ برِصغیر میں بسنے والے مسلمانوں نے لاہور اقبال پارک جس کا پرانانام منٹو پارک تھا،کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے 1940 کے سالانہ اجلاس میں اپنے لیے ایک الگ خطے کے مطالبے کی قرارداد منظور کی تھی۔ قراردادِ لاہور جو بعد ازاں قراردادِ پاکستان کے نام سے موسوم ہوئی پاکستان کے قیام کی بنیاد قرار دی جاتی ہے۔گذشتہ برس اس یوم پاکستان کی اس پریڈ میں ملائشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت تھی تاہم اس سال ہم دیکھتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ہر قسم کے عوامی اجتماع بالخصوص یومِ پاکستان کی پہچان سمجھی جانے والی فوجی پریڈ بھی ملتوی کردی گئی ہے۔ جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کا خطرہ کس حد تک اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اس حوالے سے ایک اعلی سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا جس کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے ملک میں کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈر بند کرنے اور 23 مارچ کو یوم پاکستان کی تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی اور عسکری قیادت نے بھی شرکت کی تھی اور یہ فیصلہ مشترکہ طور پر کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں افغانستان اور ایران کے ساتھ پاکستان کا مغربی بارڈر  بھی 14روز کے لیے بند کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنا ہے۔بیرون ملک پاکستانی اور سفارتخانوں اور سفارتی مشن کو بھی ہدایات جا ری کر دی گئی ہیں کہ وہ کس تئیس مارچ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تقریبات کا انعقاد نہ کریں، جبکہ بڑے عوامی اجتماعات سے بھی مکمل طور پراجتناب کیا جائے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے بروقت اور درست فیصلہ کیا کہ قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ آتھارٹی این ڈی ایم اے کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مرکزی کردار دیا جائے، جبکہ انتظامیہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی اس حوالے سے روابط قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بنیادی طور پر اس ادارے کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ کسی بھی ناگہانی آفت کے موقع پر ہر اول دستے کا کردار ادا کرے ۔قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بھی پانچ اپریل تک بند رہیں گے اس لیے کسی بھی سطح پر یوم پاکستان کی تقریبات کا کوئی باقاعدہ اہتمام نہیں ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکا جا سکے اور پاکستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سماجی رابطوں میں فاصلہ رکھنے کی جانب مائل کیا جائے کیونکہ اس وائرس کے پھیلائو کی بنیادی وجہ احتیاط نہ کرنا اور معمولات زندگی کو کسی مناسب احتیاط کے بغیر جاری رکھنا ہے۔اٹلی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدا میں بے احتیاطی اور عدم توجہ کی وجہ سے اور کچھ سنجیدی رویہ نہ اپنانے کے باعث آج اٹلی ساری دنیا میں جانی نقصانات کے حوالے سے سب سے آگے ہے جہاں چین سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں اور اب وہاں کسی کو گھر سے نکلنے کی قطعا اجازت نہیں ہے لیکن انھوں نے بہت دیر کر دی تھی جس کے باعث وہاں کم و بیش چار ہزار پانچ سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ دنیا بھر کو متاثر کرنے والی عالمی وبا پاکستان میں بھی پھیلتی جارہی ہے۔ سب سے زیادہ پاکستان کا سب سے بڑا شہرکراچی متاثر ہو رہا ہے۔پاکستان میں تصدیو شدہ کیسوں کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے جن میں چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ سندھ میں کورونا وائرس کا شکار مریضوں کی مجموعی تعداد , 352 پنجاب ,225بلوچستان 108، خیبر پختونخواہ 31، گلگت بلتستان 71، اسلام آباد 15 اور کشمیر میں صرف ایک کیس سامنے آیا ہے ان تمام متاثرہ افراد میں سے اب تک چھ لوگ صحت یاب اور باقی زیر علاج ہیں۔اگرچہ پاکستان کی موجودہ صورتحال ایمرجنسی کا تقاضا کرتی ہے ساری دنیا میں کورونا وائرس کا خوف پھیلا ہوا ہے انسانی جانیں خطرات سے دوچار ہیں۔من حیث القوم ہمیں بھی اس مشکل وقت کا مقابلہ زندہ جذبوں کے ساتھ کرنا ہے۔ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی محنت اور عظمت کے ساتھ ہماری زندگی کا مقصد ہونا چاہئے۔قوموں کی زندگی میں مشکل ترین اور مصائب کے لمحات آتے ہیں لیکن زندہ قومیںمقابلہ کرتی ہیں۔آج کے دن ہم نے یہ عہد کرنا ہے کہ ہم سب مل کر اس وائرس کا مقابلہ کریں گے۔پاکستان کو کورونا وائرس سے پاک کرنے اور انسانی زندگیوں کو بچانے کیلئے اسلام کے زریں اصولوں کی روشنی میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں گے امید ہے کہ مشکل کے ان لمحات میں حکومت بھی عوام کو تبہا نہیں چھوڑے گی اور لوگوں کو جو بھی جان لیوا مسائل درپیش آرہے ہیں ان کے ازالے کیلئے قومی وسائل کا رخ عوام کی جانب کیا جائے گا۔

Leave a Reply

*