کورونا وائرس کے پاکستانی معیشت پر اثرات اور اس کے نتائج

نعیم صدیقی

Naeem Siddiqi

ملکی معیشت پر کورونا وائرس کے منفی اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی اور ڈالر کی قیمت میں تین روپے اضافے نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ملک میں ڈالر کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ ہوا جب کہ ملکی اسٹاک مارکیٹ میں ساڑھے گیارہ سو پوائنٹ کے لگ بھگ کمی واقع ہوئی جس سے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ اور روپے کی قیمت گرنے کی بنیادی وجہ کورونا وائرس سے عالمی سطح پر پیدا ہونے والے اقتصادی بحران اور تیل کی قیمتوں میں خطرناک حد تک کمی ہے اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں اقتصادی صورتحال مزید متاثر ہوگی۔
فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں حالیہ کمی کی لہر کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کا خوف ہے، اس وائرس کی وجہ سے چین، شمالی کوریا، اٹلی اور ایران سمیت دیگر ممالک بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس کے خوف سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔
ملکی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے خوف زدہ ہوکر ان سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالنا شروع کر دیا ہے اور اپنے اسٹاک فروخت کرنا شروع کردیئے ہیں جس کے نتیجے میں روپے پر دباوبڑھا ہے، سرمایہ کاروں نے اسٹاک فروخت کرکے ڈالر لیے ہیں جس کی وجہ سے ڈالر کی طلب بڑھ گئی ہے۔
حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے بھی اچھے اقدامات کیے ہیں اس کے علاوہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے جہاں اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات ہیں وہیں ملکی معیشت پر اس کے مثبت اثرات بھی ہیں اس سے ملک کے درآمدی بل میں کمی واقع ہوگی اور ملک کے کرنٹ اکانٹ خسارے میں مزید کمی واقع ہوگی اور کرنٹ اکانٹ خسارہ سرپلس بھی ہوسکتا ہے، حکومت اور حکومتی ٹیم کو انتہائی موثر کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ مزید کرائسز سے بچا جاسکے۔
پاکستان میں اسٹاک مارکیٹ الٹا ردعمل ظاہر کررہی ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اس کے ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور اس اچھی خبر پر ملکی اسٹاک مارکیٹ کو مثبت ردعمل دینا چاہیے تھا لیکن ہمارے ہاں اس کے برعکس ہوا، اسٹاک مارکیٹ 2200 پوائنٹس نیچے گئی اور پہلے ہاف کے بعد مارکیٹ کریش ہوگئی نتیجے میں ساڑھے گیارہ ہزار پوائنٹس کے لگ بھگ کمی پر مارکیٹ 37 ہزار کے لگ بھگ پوائنٹس پر بند ہوئی۔
ڈالر کو مہنگا ہونا نہیں چاہیے تھا کیونکہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے جہاں ملک کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم ہوگا وہیں درآمدی بل بھی کم ہوگا اور ملک کا کرنٹ اکاونٹ اس سے سرپلس بھی ہوسکتا ہے اسی طرح پاکستان کے لیے درآمدی اشیا بھی سستی ہوں گی جس سے مہنگائی کی شرح میں بھی کمی واقع ہوگی۔
معیشت کو بڑے پیمانے پر برے اثرات اور نقصان سے بچانے اور انسانی زندگیوں کے تحفظ کے لئے اس کے پھیلائو کو روکنا بہت ضروری ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں شدید مندی کا شکار ہیں۔ 2008 کے عالمی معاشی بحران کے بعد سے یہ سٹاک مارکیٹس کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ پہلے ہی مندی کا شکار ہے۔ پچھلے 2 ماہ میں پاکستانی سٹاک مارکیٹ 43000 کے انڈکس سے 34000 پوائنٹس تک گری ہے۔ اب تک کئی سو ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت، ٹریول، تجارت، پرچون اور ہول سیل کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کئی اشیا کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایئرلائنز، ہوٹل اور کروز شپ ٹورز بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مختلف ممالک اس وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے اپنی سرحدیں بند کر رہے ہیں۔ پوری دنیا کے مختلف ممالک میں تعلیمی ادارے، کاروباری ادارے، ثقافتی سرگرمیاں، کھیلوں کے مقابلے اور نمائشیں منسوخ کی جا رہی ہیں۔ سفری پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ان سب اقدامات کے نتیجے میں معیشتوں پر دبائو بڑھ رہا ہے۔
اس وقت بہت سے ماہرین عالمی معیشت میں نئے بحران اور گراوٹ کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ اگر اس وائرس پر جلد قابو نہ پایا گیا تو اس کے عالمی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ چین نے اس وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے جواحتیاطی اقدامات اٹھائے تھے اس کے نتیجے میں ایپل (Apple) مائیکروسافٹ، Nike اور دیگر بڑی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق چین میں گاڑیوں کی خریدوفروخت میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔ فضائی مسافروں کی تعداد 85 فیصد کم ہوئی ہے۔ OECD کے مطابق عالمی معیشت کی شرح ترقی 2.9 فیصد سے کم ہو کر 2.4 فیصد ہونے کا امکان ہے اور اگر حالات زیادہ خراب ہوئے تو یہ شرح ترقی 1.5 فیصد تک گر سکتی ہے۔ چین کی شرح ترقی بھی کم ہوئی ہے۔ 2003 میں پھیلنے والے سارس وائرس نے عالمی معیشت کو جی ڈی پی کے 4.8 فیصد کے قریب نقصان پہنچایا تھا۔ مگر 2003 میں چین عالمی معیشت کا محض 4 فیصد تھی جو کہ اب 16.3 فیصد ہے۔ سارس نے چین کی جی ڈی پی کو 0.5 فیصد سے ایک فیصد تک پہنچایا تھا۔ کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے سے پہلے چین کی شرح ترقی 6 فیصد تک تھی جو اب کم ہو کر 5 فیصدسے نیچے جا سکتی ہے۔
ان حالات میں پاکستان کو کوشش یہ کرنی ہے کہ یہ وائرس وبائی شکل اختیار نہ کرے۔ معاشی سرگرمیوں میں کمی اور سست روی کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی معیشت میں بحران اور سست روی کے نتیجے میں برآمدات متاثر ہو سکتی ہے۔ نقل و حرکت محدود ہونے سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ چین میں لاک ڈائون کی وجہ سے پاکستانی درآمدات پہلے ہی متاثر ہو رہی ہیں۔ کئی صنعتوں کا خام مال چین سے آتا ہے جو کہ اس وقت دستیاب نہیں ہے۔
رواں مالی سال کیلیے تمام اقتصادی اہداف متاثر ہونیکی وجہ سے اگلے بجٹ کے حوالے سے اقتصادی اہداف کا تعین بھی مشکل ہورہا ہے۔۔ابھی تک اگلے بجٹ کی تیاری کیلیے ڈالر کی سرکاری شرح تبادلہ و قیمت کا بھی اعلان نہیں ہوسکتا ہے جس کے باعث وزارتوں و ڈویژنوں کو اگلے مالی سال کے بجٹ تخمینہ جات فائنل کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔وزیراعظم نے 14مارچ کو اجلاس کی زیر صدارت کرتے ہوئے اقتصادی ٹیم کو اگلے بجٹ کی تیاری کے بارے گائیڈ لائن جاری کردی تھیں جسکی روشنی میں وزارت خزانہ اور ایف بی آر نے بجٹ کے خدوخال تیار کرنا شروع کردیے تھے مگر جن اعدادوشمار کو بنیاد بنا کراگلے مالی سال کیلیے بجٹ تخمینہ جات طے کیے جارہے تھے کورونا کے بعد پیداہونیوالی صورتحال نے ان اعدادوشمار کو بری طرح متاثر کردیا ہے جبکہ کورونا سے پیدا ہونیوالی صورتحال سے ملکی معیشت کو 1300 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے جبکہ جی ڈی پی، ریونیو، بجٹ خسارے،درآمدات و برآمدات ،ادائیگیوں کے توازن و تجارتی خسارے سمیت دیگر تمام اقتصادی اہداف حاصل ہونا مشکل ہوگئے ہیں اور عالمی بینک، آئی ایم ایف و ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے اقتصادی اہداف میں منفی رجحان کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ عالمی ریٹنگ کے ادارے موڈیز کی پیشگوئی بھی یہی ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی شرخ نمو 2.9 فیصد کی بجائے 2.5 فیصد رہے گی ۔
پاکستان کو اگر لاک ڈائون کو طول دینا پڑا تو پہلے سے مشکلات اور دبائو کا شکار پاکستانی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کو اس حوالے سے موثر اور فوری حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت معیشت کو سہارا دیا جا سکے اور سماج کے کمزور طبقات اور غریب عوام کو معاشی بحران کے اثرات سے بچایاجا سکے۔ ہمیں اس حوالے سے چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چین نے جس قدر برق رفتاری سے اس وبائی مرض پر قابو پایا ہے وہ حیران کن ہے۔ اس کی بڑی وجہ چین کی ریاست کی معیشت پر گرفت اور مرکزی منصوبہ بندی کا موثر نظام ہے۔ پاکستان کو اپنے لوگوں اور معیشت کو اس مشکل سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

срочный займ https://credit-n.ru/order/zaymyi-e_zayom.html микрозайм онлайн https://credit-n.ru/informacija/informacija-dlja-vkladchikov/bezopasnoe-ispolzovanie-bankovskih-kart-1.html payday loan https://credit-n.ru/order/zaymyi-mig-kredit.html https://credit-n.ru/order/zaim-glavfinans.html https://credit-n.ru/informacija/voprosy-oblasti-bankovskih-uslug/voprosy-oblasti-bankovskih-uslug-1.html unshaven girl займы без отказа займ на киви онлайнlime займ личный кабинетзайм безработным на карту займ телепортзайм на карту без снилсгде взять займ на год быстрый займ якутскзайм под залог недвижимости в иркутскеденьги под займ займ через контактчто будет если не платить займнародная казна займ кто брал займ под материнский капиталзайм под мат капиталзайм под материнский капитал краснодар займ ухтазайм безработным на кивионлайн займ без кредитной истории платиза займ личный кабинетзайм на киви без паспортагрин займ займ без регистрации картызайм королевzaimo займ что делать если нигде не дают займзайм кашалотсмарт деньги займ займ на улучшение кредитной историиёкапуста займзайм на карту быстроденьги займ на карту сбербанка срочномонеза займ личный кабинетзайм на киви кошелек круглосуточно быстрый займ якутскзайм под залог недвижимости в иркутскеденьги под займ

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں