کوروناسے نجات،علاج،احتیاطی تدابیر اور دعا و التجا لازم ہیں

نعیم صدیقی

Naeem Siddiqi
Naeem Siddiqi

ملک بھر میں کورونا کا شکار ہونے والوں کی تعداد اور اموات میں اضافہ شدید تشویش کا باعث بن رہا ہے۔حکومت کی جانب سے لاک ڈائونکا دورانیہ 14 اپریل تک بڑھا دیا گیا ہے۔اس عرصہ میں کیا عوام حکومتی احکامات اور ہدایات کی پابندی کر پائیں اوراپنے گھروں میں بند حکومت کی ہدایات پر عمل درآمد کرنے میں تعاون کریں گے۔ملک بھر میں گذشتہ دس روز سے لاک ڈائون والی کیفیت ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ شدید مشکلات کے ساتھ ساتھ ذہنی دبائو اور اذیت کا شکار ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ابھی ہم پورے ملک سے ڈاٹا جمع کر رہے ہیں اصل صورتحال ایک ہفتے بعد واضع ہوگی کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کی صورتحال کتنی خطرناک ہے؟ ان کی اس بات کو کس کس انداز میں لیا جا سکتا ہے اس پر ملک بھر میں بحث جاری ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ شاید ہم خدانخواستہ کسی شدید نوعیت کی ہنگامی صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دیگر ریلیف پیکیجز کے علاوہ ہنگامی فنڈ کیلئے سو ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ فوج پاکستان کے عوام کو کسی وبائی مرض یا مسائل کے رحم و کرم پر نہیں چھور سکتی اس کا مطلب تو یہ لیا جا سکتا ہے کہ فوج اپنے ملک کے عوام کا تحفظ کرنے کیلئے تمام اقدامات کرے گی اور بلاشبہ فوج سے بہتر تنظیم اور منظم کام کوئی اور نہیں کر سکتا کیونکہ سیلاب اور زلزلوں کے دوران ہم اپنی افواج کی بہترین کارکرگی سے واقف ہیں۔اپوزیشن کی جانب سے حکومت کے اقدامات پر سخت اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں،کیا وجہ ہے پوری دنیا مشکل ترین صورتحال سے دوچار ہے اور ہمارے ہاں سیاست ہو رہی ہے، کیا اس سے زیادہ مشکل وقت بھی آئے گا،اس کا بہترین حل تو یہ ہونا چاہئے کہ سب کو مل بیٹھ کر صرف قوم کو اس عذاب سے نجات دلانی ہے اور اپنے اپنے حصے کا کردار اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ پاکستان میں صحت کا شعبہ اس قابل نہیںہے کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں ہمارے ہسپتال اورڈاکٹر اس کا مقابلہ کر سکیں یا ہمیں ہنگامی بنیادوں پر کچھ فوری اطبی امداد مل سکے اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت کم تعداد ہے ڈاکٹرز اور نرسوں کی۔اس کے علاوہ وسائل نہیں ہیں۔وینٹی لیٹرز کی شدید کمی ہے اور کورونا کے مریض کیلئے ونٹی لیٹر لازمی ہے۔آج امریکی صدر نے کہا ہے کہ ماسک کی بجائے سکارف بہترین چیز ہے وہ استعمال کیا جائے۔ ان کے اس بیان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کو اپنی غلطیوں کا احساس ہو رہا ہے کیونکہ مغرب میں سکارف کی بہت مخالفت کی جاتی ہے۔: چین کی حکومت کی جانب سے کتے اور بلیوں کے بطور خوراک استعمال اور کھانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ آسٹریلیا کے ڈاکٹرز اور ماہرین کے تحقیق کے مطابق کوروانا وائرس کا مقابلہ وہ لوگ زیادہ بہتر کر سکتے ہیں جن کی قوت مدافعت قدرتی طور پر زیادہ ہے اس کے لیے خالص خواراک کا استعمال نا گزیر ہے ۔پاکستان میں اللہ کا لاکھ لاکھ فضل و کرم ہے۔ہم باقی دنیا کی نسبت کہیں زیادہ محفوط ہیں لیکن احتیاط اور اگر بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہو تو اس کی روک تھام لازم ہو جاتی ہے۔روس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ انھوں نے کورونا وائرس کے فوری کنٹرولک کیا ہے۔ چین میں اگر دو کروڑ کی آبادی والے شہر ووہان کو لاک ڈائون کر کے کورونا وائرس پر قابو پایا جا سکتا ہے تو ہم ایسی منصوبہ بندی کیوں نہیںکر سکتے؟ ہمیں ہر حال میں تمام وسائل اس جانب لگانے ہوں گے۔موجودہ لاک ڈائون میں ہم دیکھتے ہیں کہ سبزی منڈیاں کھلی ہیں، گوشت کریانہ اور میڈیسن کی دوکانیں کھلی ہیں۔ بنکوں میں پنشن اور تنخواہ والوں کا رش لگ جاتا ہے۔جہان کھانا یا خوراک تقسیم ہوتی ہے وہاں لوگ جمع ہو جاتے ہیں ہمیں اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی،اگر فاصلہ بہت ضروری ہے۔ماسک کا سینی ٹائیذر کا استعمال لازم ہے تو اس کیلئے عوام کی رسائی اور کم سے کم قیمت پر دستیابی ضروری ہے جسے ممکن بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اگر ہماری قوم نے معاملات کو سنجیدہ نہ لیا توایسے حالات میں لاک ڈائون کا مطلوبہ نتائج کیونکر حاصل ہوں گے؟ وزیراعظم کی بنائی گئی کورونا ریلیف ٹائیگر فورس سے کس حد تک امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں کہ یہ ملک بھر میں لاک ڈ ائون کے دوران لوگوں تک زندگی کی بنیادی ضرورت کی اشیاء پہنچا سکے گی اور کیا اس کا میکنزم فوری طور پر بن جائے گا؟یہ سوال ابھی حل طلب ہے۔:حکومت کے پاس پہلے سے ہیلٹھ ورکر کا مربوط اور موثر نیٹ ورک موجودہے۔بلدیاتی ادارے،یونین کونسل موجود ہیں جن کے پاس ہر گھر کا ڈاٹا موجود ہے۔یہ وقت تھا کہ ان سے کام لیا جاتا۔ حکومت کی جانب سے پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج عوام کو دیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک خاندان کو ماہانہ چار ہزار روپے ملیں گے تو اس کا گزارہ کیونکر ہوگا یہ بہت ہی مشکل ترین صورتحال ہے اور یہ کیسے ہوگا ہر مستحق تک اس کا حق کیا انصاف کے ساتھ پہنچ پائے گا۔اب جبکہ مساجد میں نماز کی با جماعت ادائیگی پر حفاظتی اقدامات کے طور پر پابندی ہے لیکن نماروں کی ادائیگی ہو رہی ہے کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ مساجد کو مرکز بنا کر مستحق لوگوں تک خوارک راشن پہنچانے کا بندوبست کیا جائے تا کہ اصل مستحقین تک امداد براہ راست پہنچ جائے۔یہ بات اخوت فائونڈیشن کے چیئر مین ڈاکٹر امجد ثاقب کہہ بھی چکے ہیں اس جانب غور کرنا چاہئے۔ اگر ہم اپنے ملک کے حالات کی جانب دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں صورتحال بہت بہتر ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعال کی جانب رجوع نہیںکر رہے حالانکہ چوہدری شجاعت نے بہت اچھی بات کہی کہ ہمارے وزیراعظم اور آرمی چیف کو خانہ کعبہ میں جا کر دعا مانگنی چاہئے۔ان کی تجویز بہت ہی اہم ہے۔کیونکہ ابھی خانہ کعبہ کا کچھ حصہ طواف کیلئے کھول دیا گیا ہے۔ جہاں ایک طرف ہم احتیاطی تدابیر اور فلاحی منصوبوں کو دیکھ رہے ہیں اسی طرح اللہ تعالی کے حضور دعا و التجا کا سلسلہ بھی لازم ہے کہ نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ ساری دنیا اس وقت کورونا وائرس کے انتہائی خطرناک حملے کی زد میں ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے ہر وہ اچھا عمل اور راست اقدام ضروری ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم اس وبائی مرض کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

buy over the counter medicines https://credit-n.ru/order/kreditnye-karty-kviku-card.html hairy women https://credit-n.ru/offer/kredit-nalichnymi-bank-moskvyi.html hairy girls https://credit-n.ru/zaymi-online-blog-single.html https://credit-n.ru/order/kreditnye-karty-bank_tinkoff-platinum.html https://credit-n.ru/offers-zaim/glavfinance-online-zaymi.html hairy girls hairy girl експресс займзайм с автоматическим одобрениемзайм онлайн только по паспорту займ 1000 рублей онлайнзайм онлайн на карту кукурузазайм webbankir займ денег у частных лиц без залогаденьги в займ под распискузайм на билайн взять займ на карту на 1 годзайм 365 днейцентр инвест займ займ денег по паспортузайм для мужчинзайм онлайн через контакт срочный займ 30000займ долгосрочный на картузайм быстрый срочно займ на карту без отказаone займзайм 50000 рублей манимен займ онлайнмоментальный займ на кивизайм денег тюмень мтс займполучить займ на киви кошелекзайм 1000 рублей на карту онлайн займ на карту мгновеннозайм с исправлением кизайм в омск взять займ с плохой кизайм под ноль процентовонлайн займ на карту без отказа с 18 лет

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں