مو جو دہ نظا م ا لا و قا ت کو اصلا ح کی شد ید ضر ور ت ہے۔پاکستان کا نرالا نظام الا و قا ت,محمد زاہد قریشی ،صدر اسلام آباد،بزنس فورم

Business time late night in Pakistan

وطن عز یز کی مو جو دہ گھمبیر صو رتحا ل کو رونا و ا ئر س کی وبا ء اور لا ک ڈا ئو ن کی و جہ سے گھمبیر تر ہو تی جا رہی ہے۔ حب الو طنی اورایمان کا تقا ضا یہ ہے

Muhammad Zahid
Muhammad Zahid

کہ ہم سب تد بیر اور تو کل علی اللہ کو کا م میں لا تے ہو ئے صو رتحا ل کو بہتر کر نے میں اپنا کر دار ادا کر یں۔ واویلا کر نے اور دو سر و ں کو مو ر دِالز ا م ٹھہر انے سے مسا ئل حل نہیں ہو ا کر تے ۔
بحیثیت ذمہ دار ی شہر ی اور بزنس مین میر ے لئے بھی یہ صو رتحا ل انتہا ئی پر یشا ن کن ہے۔ غو ر و خو ض اور تفکر کے بعد میں چند گز ارشا ت پیش کر رہا ہو ں۔ اگر ان پر عمل در آمد کیا جا ئے تو یہ تجا و یز ملک و قو م کے بہتر ین مفا د میں ہو ں گی (انشا ء اللہ) ۔کو رو نا صر ف ملکی نہیں بلکہ آ ج ایک بین الا قو امی مسئلہ بن چکا ہے ۔ جس سے دنیا بھر کی معشیت ہی نہیں بلکہ انسا نی صحت کو بھی سنگین خطر ات لاحق ہیں ۔ لیکن اس کے سا تھ سا تھ یہ بحر ان ہمیں غو ر و فکر کی د عو ت بھی دے رہا ہے۔
اپنے مو جو دہ طر زِ زند گی پر نظرثا نی کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہما ر ے مو جو دہ نظا م ا لا و قا ت کو اصلا ح کی شد ید ضر ور ت ہے۔ میر ے ذاتی
مشا ہد ے کے مطا بق حکو مت کا کا رو با ر ی سر گر میو ں کو صبح آ ٹھ سے رات آ ٹھ بجے تک محد ود کر نے کا اقدا م ایک کا میا ب تجر بہ ثا بت ہو ا ۔اس سے نہ صر ف بجلی کی بچت ہو ئی بلکہ ہما ر ی ذاتی صحت اور خا ند انی زند گی پر بھی اس کے مثبت اثر ات مر تب ہو ئے ۔ اگر سا ل بھر ملک میں یہی رو ٹین رہے تو اس طر ز عمل سے ان گنت فو ائد حا صل کیے جا سکتے ہیں ( اگر چہ یہ ایک مشکل کا م ہے لیکن نا ممکن نہیں)۔ پا کستا ن کی مو جو دہ صو رتحا ل میں بجلی کا بحر ان ، صنعتو ں اور بڑ ے
منصوبو ں کے لئے بجلی کی صیحح تقسیم، عوامی ضر ور ت پو ر ی کر نے کے لئے سا لا نہ ار بو ں رو پے کی اضا فی اخرا جا ت قو می مسا ئل میں سر فہر ست ہیں۔
ترقی یا فتہ اقو ام کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو معلو م یہ ہو تا ہے کہ وہ سو ر ج کی رو شنی سے استفاد ہ حا صل کر تی ہیں۔ جبکہ ہما ر ے ملک میں سو رج طلو ع ہو نے کے 5یا 6 گھنٹے بعد کارو با ر شر وع ہو تا ہے ۔ جوسو رج غر وب ہو نے کے 7,8 گھنٹے بعد تک جار ی رہتا ہے ۔ دنیا میں چند عر ب مما لک کے علا و ہ کو ئی ملک بھی شمسی تو انا ئی کو اس طرح ضا ئع نہیں کر تا ۔ امر یکا ، یو ر پ ، چین، جا پا ن، جنو بی، افریقہ اور آ سٹر یلیا سمیت دیگر مما لک میں با زار رات 8 بجے بند کر دئیے جاتے ہیں جبکہ ہما ر ے ہا ں
معا ملہ اس کے بر عکس ہے۔ یہا ں رات کو کا رو با ر عر و ج پر ہو تا ہے ۔ سما جی اور سیا سی سر گر میا ں رات گئے تک جار ی رہتی ہیں۔ شا د ی ہا لز اور شا پنگ ما لز رات دیر تک کھلے رہتے ہیں حا لا نکہ آ ج سے 25 سا ل پہلے رات 9 بجے کے بعد کو ئی ہو ٹل یا کا رو با ی مر کز کھلا نہیں ملتا تھا ۔آ ج بھی اسلا م آ با د میں سفا ر تی حلقو ں کی سر گر میا ں Dinner وغیر ہ کا دو رانیہ 7 سے 9 بجے تک ہو تا ہے اور وہ وقت کی پا بند ی کا خا ص خیا ل رکھتے ہیں۔
سا ر ی دنیا کے ڈاکٹر ز اور ما ہر ینِ صحت اس با ت پر متفق ہیں کہ صبح جلد ی بید ار ہو نا اور رات کو جلد سونا اچھی ذ ہنی اور جسما نی صحت کا ضا من ہے ۔ قر آ ن و سنت کی تعلیما ت کے مطا بق بھی عشا ء کے بعد جلد سو جا نا بہتر ین عمل جبکہ اپنی مصر و فیا ت جا ر ی رکھنا نا منا سب ہے تو مستحسن یہی ہے کہ مغر ب کے بعد کھا نے اور عشا ء کے بعد سو نے کو اپنا معمو ل بنا لیا جا ئے۔
ایک تا جر کی حیثیت سے میں ذا تی طو ر پر یہ محسو س کر تا ہو ں کہ اوقا ت کے اس تقسیم کا ر کے نتیجے میںہم اپنے والدین اور بیو ی بچو ں کے سا تھ معیا ری وقت نہیں گزار پا تے جسکے ہما رے بچو ں کی تعلیم و تر بیت پر منفی اثر ات مر تب ہو تے ہیں اور ہما رے قر یب تر ین رشتے رفتہ رفتہ ہم سے دو ر ہو تے جا تے ہیں۔ عمو ما ً جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو ہما رے بچے سکو ل جا چکے ہو تے ہیں اور رات گئے جب ہم لو ٹتے ہیں تو بچے سو چکے ہو تے ہیں ۔ ہما ر ی یہ عد م تو جہی ہما رے خا ند انی نظا م کو گھن کی طر ح چا ٹ رہی ہے۔ آ ج جب میں یہ مضمو ن لکھ رہا تھا تو ایک دلچسپ با ت میر ی نظر و ں سے گز ر ی کہ ڈینیل پنک مشہو ر امر یکی مصنف نے اپنی کتا ب When ، جسے 2018 میں بیسٹ سیلر کا ایو ارڈ بھی مل چکا ہے، میں اُ س نے تحقیق سے یہ با ت ثا بت کی ہے کہ کا م کر نے کا بہتر ین وقت صیح کا ہو تا
ہے اور انسا نی ذہنی صلا حیت نیند سے بید ار ہو نے کے بعد ابتد ائی وقت میں اپنے عر و ج پر ہو تی ہے تما م تر تخلیقی کا م اُ سی وقت احسن اند از میںسر انجام دیے جا سکتے ہیں۔
با ت اگر ریسر چ کی،کی جا ئے تو ایک امر یکی ریسر چ ادارے نے حا ل ہی میں اپنی ایک ریسر چ سے یہی با ت ثا بت کی ہے ۔ اس ادارے نے 24 لا کھ لو گو ں کے 50 کر و ڑٹو یٹ پڑ ھے ،ہر شخص کا مو ڈ اس کی جسما نی گھڑی یعنیBody Clock کے تا بع ہو تا ہے جبکہ جسما نی گھڑی میں صبح کے اوقات کی اہمیت سب سے زیاد ہ ہے۔ جو شخص جسمانی گھڑی کوسمجھ جا تا ہے اس کے لئے کا میا بی کا حصو ل آ سا ن ہو جا تا ہے ، جب ہما را بز نس مین صبح کا وقت سو کر گز ارے گا تو تخلیقی کام کیسے کرے گا۔۔۔؟ وہ اپنے بز نس کو تر قی کیسے دے سکے گا ؟
میر ے خیا ل میں اگر کا رو با ر بند کر نے کے لئے صبح ٨سے رات ٨ بجے کی حا لیہ پا بند ی مستقل بنیا دو ں پر نا فذ کر دی جا ئے تو ہما ر ی کی گئی کو تا ہیو ں کا ازالہ بھی ہو سکتا ہے اور ہما ر ی زند گی ،صحت اور تعلقا ت بہترہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے اہم کر دار تا جر بر ادری کا ہو سکتا ہے ، ہمیں اس جا نب سنجید گی سے تو جہ دینا ہو گی ، ہما رے تا جر دوست جہا ں بھی ہیں ، اس مقصد میں ہما ر ا سا تھ دیں ۔میں خصوصا ً بز نس کمیو نٹی کے رہنما ئو ں اور عہد ید ارو ں سے اپیل کر تا ہو ں کہ وقت کی پا بند ی کا ایک مر بو ط نظا م وضع کر یں اور اس پر سختی سے کا ربند ہو جا ئیں ،کیو نکہ اسطر ح ہم سب کو کا رو با ر میں تر قی اور خیر و بر کت کے بے پنا ہ مو اقع میسر ہو ں گے ۔ اس حو الے سے ابتد ائی طو ر پر اسلا م آ با د اور راولپنڈ ی کے چیمبر ز کو دیگر تاجر تنظیمو ں کے سا تھ با ہمی مشا ورت سے کو ئی لا ئحہ عمل تر تیب دینا ہو گا جسے رو ل ما ڈل کے طو ر پر متعا رف کر وا یا جا سکتا ہے ۔ اور مجھے یقین ہے کہ ہما ر ے اس مقصد کو کا میا ب بنا نے کے لئے میڈ یا ، اسا تذ ہ اور علما ئے کر ام اور دیگر سما جی تنظیمیں ہما ے سا تھ بھر پو ر تعا و ن کر یں گی ۔ اس سلسلے میں تا جر بر ادری میں آ گا ہی مہم چلا ئی جا ئے، دنیا کے کا میا ب چیمبر ز کے تجر با ت سے استفا دہ کیا جا ئے تا کہ ہم اپنے ملک و قوم کی بہتر ی کیلئے اپنے حصے کا کر دار کا میا بی سے ادا کر سکیں ۔
جزاک اﷲ خیرٰ!

Leave a Reply

*