جاپان کی چین پرمسط حیاتیاتی جنگ میں چھ لاکھ کے قریب افراد مارے گئے, دنیا میں حیاتیاتی ہتھیاروں پر تحقیقات کون کر رہا ہے؟

Biological War
Naeem Siddiqi
Naeem Siddiqi

سائنس وٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ گھنٹوںکا کام سیکنڈ میں ممکن ہوگیا ۔ متعدد چیزیں تیار کرلی گئی ہیں ، دل اورگردوں کی پیوند کاری کا تجربہ ہو گیا۔ ماہرین فلکیات نے خلا میں نئے نئے سیارے دریافت کر لیے ہیں ۔ اتنی تر قی کے باوجود تاحال سائنس ابھی بھی چند چیزوں کا حل نہیں نکال سکی ۔چند ماہ قبل چین میں شروع ہونے والا نیا وائرس ’’کرونا وائرس ‘‘(کوڈ 19)جو کہ اب قریباً پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور لاتعدادفراد اس کی وجہ سے اپنی جاں بھی گواہ چکے ہیں ۔اور بہت سارے ابھی بھی اس وائرس سے زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔سب سے پہلے اس وائرس کی دریافت 1960 کی دہائی میں ہوئی تھی جو سردی کے نزلے سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا.. اس وقت ہمیں پاکستان میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے اور اپنے لوگوں کو اس سے محفوظ کرنے کیلئے شدید محنت کی ضرورت ہے،ہمارے سائنسدان اور ماہرین اپنی سی کوشش کر رہے ہیں لیکن وسائل کی کمی تحقیقات میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے ورنہ پاکستان میں قابلیت کی کوئی کمی نہیں ہے۔

کورونا وائرس کو کم قیمت اور کم وقت میں ٹیسٹ کرنا اس وقت ایک عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے اس وقت جس طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کورونا وائرس کی موجودگی

پی سی آر ٹیک نالوجی کا طریقہ کار اپناتے ہوئے مشتبہ مریض کا ٹیسٹ کرنے کے لیے  ناک سے سیمپل لیکر  مشین میں ڈالا جاتا ہے اس ٹیسٹ میں نتیجہ تین دن میں آتا ہے جبکہ اس ٹیسٹ کی قیمیت آٹھ سے بارہ ہزار روپے تک ہوتی ہے۔پی سی آر مشین کی قیمت چالیس لاکھ روپے ہے جوانتہائی مہنگا طریقہ کار ہے اور حکومتی سطع پر ہی یہ ٹیسٹ ممکن ہوسکتا ہے۔پاکستان میں بھی تاحال کورونا ٹیسٹنگ کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے یہاس لیے ہے کہ ٹیسٹنگ کٹ اور مشین کی قیمت بہت یادہ ہے  ٹیکنالوجی کٹ کہا جاتا ہے۔۔دنیا بھر میں کورونا کی ٹیسٹنگ کے لیے کم قیمت طریقہ کار اپنانے کے لیے سائنسداں اور ادارے مصروف عمل ہیں اسی حوالے سے پاکستان کے ادارے ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان اور تحریک ٹیک کے سائنسدانوں نے دنیا کے کئی اور ممالک کی طرح کورونا کے کم قیمت اور کم وقت میں نتائج دینے کے حوالے سے تحقیقات مکمل کرکے چین کے شہر ووہان میں مصروف سائنسدانوں سے مشاورت کے لیے اپنا ریسرچ پیپر روانہ کیا اور وہاں سے بھی مثبت نتائج ملنے کے بعد

Biological War
Biological War

حکومت کو دو اپریل کو اپنی تحقیقات سے آگاہ کیا تھا۔

کرونا وائرس کی وجہ سے ایک سوال اٹھا ہے کہ دنیا میں حیاتیاتی یا جراثیمی جنگ پر کہاں کہاں تحقیق ہو رہی ہے اور دنیا کے بڑے ملکوں نے لیبارٹریوں میں کیسے کیسے خوفناک جراثیمی ہتھیار تیار کر رکھے ہیں؟…. خصوصی رپورٹ
اکتوبر 1940: جاپان کے جنگی جہاز چینی شہر ننگبو کے اوپر نیچی پرواز کر رہے ہیں۔آج کے مشن میں ایک خاص چیز شامل ہے، بعض جہازوں میں کیمرا مین بیٹھے ہوئے ہیں جن کا کام جہازوں سے گرائے جائے والے بموں کی فلم بندی کرنا ہے، یہ فلم بعد میں جاپان کے شاہی خاندان اور دوسرے ممتاز ناظرین کو دکھائی جائے گی۔آج کا مشن کوئی عام مشن نہیں کیوں کہ جہاز جو بم گرانے والے ہیں ان کے اندر باردو نہیں، بلکہ اندر ایسے گیند ہیں جن میں مکھیاں بند ہیں، یہ مکھیاں طاعون کے تباہ کن جراثیم سے آلودہ ہیں، وہ جراثیم جو جاپان کی حیاتیاتی جنگ کے خصوصی ادارے یونٹ 731 نے ایک مریض کے جسم سے حاصل کیے ہیں اور لیبارٹری میں ان کی افزائش کی گئی ہے۔یہ تو معلوم نہیں کہ اس ایک واقعے میں کتنے چینی شہری طاعون کا شکار ہوئے، لیکن جاپان نے چین پر کئی برس تک حیاتیاتی جنگ مسط کیے رکھی جس کے نتیجے میں ایک رپورٹ کے مطابق پونے چھ لاکھ کے قریب افراد مارے گئے۔ 90 کی دہائی میں ان چینیوں کے لواحقین نے جاپان کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا جس میں ہر متاثرہ شخص کو 18 ہزار ڈالر دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

Virus kills innocent

ٹوکیو ڈسٹرکٹ کورٹ نے 2002 میں تسلیم کیا کہ جاپان نے دوسری عالمی جنگ کے دوران حیاتیاتی ہتھیار استعمال کر کے لوگوں کو نقصان پہنچایا تھا، البتہ اس نے ہرجانے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔یہ کسی ملک کی جانب سے سائنسی علوم استعمال کر کے بڑے پیمانے پر جراثیمی جنگ چھیڑنے کا پہلا موقع تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس دور میں صرف جاپان ہی اس سرگرمی میں ملوث تھا۔بہت سے لوگوں کے علم میں ہو گا کہ آئن سٹائن کے دستخط کے ساتھ امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کو 1939 میں ایک خط بھیجا گیا تھا جس میں انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ ایٹم بم بنانا شروع کر دیں ورنہ جرمنی ان سے پہلے یہ بم تیار کر سکتا ہے۔لیکن یہ بات کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اس کے دو سال بعد، جب دوسری عالمگیر جنگ پورے عروج پر تھی اور امریکہ نے ایٹمی پروگرام شروع کر دیا تھا،

امریکہ کے وزیرِ جنگ ہینری سٹم سن نے نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کو اسی قسم کا خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ حیاتیاتی جنگ کا پروگرام شروع کر دے اور اس کی وجہ بھی وہی بتائی گئی تھی کہ دشمن بھی اس پر کام کر رہا ہے۔چنانچہ فروری 1942 میں امریکہ نے بڑے پیمانے پر حیاتیاتی ہتھیار بنانے کا خفیہ پروگرام شروع کر دیا جس میں درجنوں جراثیم کو بطور اسلحہ استعمال کرنے پر تحقیق کا آغاز ہوا۔ سائنسی جریدے ایمبو رپورٹس کے مطابق اس پروگرام کے تحت 1950 میں سان فرانسسکو اور 1966 میں نیویارک میں بے ضرر جراثیم چھوڑ کر دیکھا گیا کہ ان کا پھیلا و آبادی میں کس حد تک اور کتنی تیزی سے ہوتا ہے۔چونکہ جاپان نے بڑے پیمانے پر جنگی قیدیوں اور مفتوحہ آبادیوں پر جراثیموں کے اثرات کے تجربات کر رکھے تھے، اس لیے جب امریکہ نے 1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم برسانے کے بعد جاپان پر قبضہ کیا تو اس نے جنگی جراثیم کے ادارے یونٹ 731 کے ارکان کو اس شرط پر معاف کر دیا کہ وہ اپنا تمام ریکارڈ امریکہ کے حوالے کر دیں!امریکہ تو بعد میں اس دوڑ میں شامل ہوا، برطانیہ ایک عرصے سے جراثیم کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے پر نہ صرف تحقیق بلکہ عملی تجربات بھی کر رہا تھا۔ ویسے تو 18ویں صدی میں برٹش آرمی امریکہ اور آسٹریلیا کے آبائی باشندوں کو جنگی حکمتِ عملی کے تحت چیچک اور تپ دق جیسی تباہ کن بیماریوں سے آلودہ کر چکی تھی

Leave a Reply

*