پاکستان لاک ڈائون میں نرمی اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے

لاک ڈائون میں نرمی اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے ۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں تمام صوبوں کی ٹرین سروس کی بحالی کی مخالفت کی گئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاک ڈائون پر وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات برقرار رہیں گے۔بالخصوص سندھ اور وفاق کے درمیان ایک عرصہ سے کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے معاملے پر لفظی جنگ جاری ہے۔وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس میں وزیر ریلوے شیخ رشید نے ٹرین سروس کی بحالی کا مطالبہ کیا تاہم سندھ سمیت تمام صوبوں نے ٹرین آپریشن بحال کرنے کی مخالفت کی ہے۔ اجلاس میں لاک ڈائون میں نرمی اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور Lockdown, what lockdown? - Pakistan - DAWN.COMکیا گیا۔

سندھ حکومت نے تجویز دی کہ مکمل کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کے بجائے انھیں مرحلہ وار بحال کیا جائے اور دیہی علاقوں میں دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات شبلی فراز نیگذشتہ روز کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدھ کے روز قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس متوقع ہے لیکن چند ارکان کی غیر موجودگی کے باعث آج اجلاس نہیں ہو سکا۔ اب یہ اجلاس اگلے دن ہوگا۔
سندھ حکومت نے پہلے مرحلے میں چھوٹی مارکیٹس کھولنے اور بڑے شہروں میں تجارتی مراکز فی الحال نہ کھولنے کی تجویز دی ہے جبکہ سندھ حکومت نے عیدالفطر کے لیے بھی ایس او پیز بنانے کی تجویز دی ہے۔دوسری جانب سندھ حکومت نے اندرونِ شہر ٹرانسپورٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم انٹراسٹی ٹرانسپورٹ کی بحالی کے لیے ایس اوپی بنائی جائیں گی۔لاک ڈائون اور پابندیوں سے متعلق صوبوں کی تجاویز پر حتمی فیصلہ وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں ہو گا۔

گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات شمس میر کے مطابق گلگت بلتستان حکومت نے لاک ڈائون کے تیسرے فیز کا اعلان کیا ہے اور اس کو سمارٹ لاک ڈائون قرار دیتے ہوئے لاک ڈائون میں نرمی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سمارٹ لاک ڈائون میں حکومت کے لازمی ایس او پی کے مطابق ماسک کا استعمال، سماجی فاصلہ برقرار رکھنا اور سینی ٹائزر کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خواتین، بچوں اور ضعیف العمر افراد کو مارکیٹس میں کم سے کم آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ 10 مئی کے بعد ماسک کا استعمال نہ کرنے والوں پر جرمانہ کیا جا سکے گا، اس جرمانے سے ماسک عوام کو دیں گے۔احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بازار اور مارکیٹس میں بھیڑ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔تمام کاروبار سمارٹ لاک ڈاون کے شیڈول اور ڈسپلن میں مطابق عمل کریں گے اور تاجران سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ ان قوائد پر عملدرآمد کرائیں۔ نظم و Centre, Sindh at odds on lockdown; Punjab extends 'shutdown ...ضبط کی خلاف ورزی پر جرمانے اور سزا ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث متاثرہ افراد کی کل تعداد 23 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔اب تک ملک میں 535 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 6291 افراد اب تک صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔آج صوبہ سندھ میں 451، پنجاب میں 273 اور کشیمر میں دو نئے مریض سامنے آ چکے ہیں۔ صوبہ سندھ میں مزید نو اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔

آزاد کشمیر میں ضلع مظفرآباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب سے سفر کرنے والے دو بچوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 78 ہو گئی ہے ان متاثرہ بچوں کا تعلق ہٹیاں سے ہے جو بہت کم عمر ہیں اور اپنی والدہ اور دادی کے ہمراہ سعودی عرب سے سفر کر کے کشمیر پہنچے ہیں۔ دونوں بچوں اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والی۔ دونوں خواتین کو آئیسولیشن ہسپتال مظفرآباد میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کے خاندان کے اراکین کے بھی ٹیسٹ لیے جائیں گے۔حکام کے مطابق اس خطے میں کورونا وائرس کا مزید ایک مریض صحتیاب ہو کر گھر چلا گیا ہے

 

Leave a Reply

*