سپریم کورٹ نے معیشت کا پہیہ چلا دیا لیکن عوام اور تاجر برادری پر احتیاط لازم ہے، نعیم صدیقی

چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال اور اس سلسلے میں حکومتی اقداماتNaeem Siddiqi (@NaeemSiddiqi18) | Twitter پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کے روز مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ساتھ ہی ملک بھر میں شاپنگ مالز کھولنے کی ہدایت کر دی۔جس کے بعد ملک بھر میں تاجر برادری اور عوام نے عدالتی فیصلے کو ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بالکل بجا کہا کہ عید پر رش بڑھ جاتا ہے، ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کرائی جائیں، آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لینا چاہتے ہیں، بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔حقیقت میں یہی بات سچ ہے کہ پاکستان کے لاکھوں نہیں کروڑوں لوگ صرف عید کے موقع پر نئے کپڑے اور جوتے پہنتے ہیں۔ بچے پورا سال انتظار کرتے ہیں اور تب کہیں جا کر عید پر ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری ہوتی ہیں۔

حکومت کو عوام کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے ایسے فیصلے پارلیمنٹ کے اندر کرنے چاہیئں تھے لیکن ہم نے دیکھا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس الزام تراشیوں اور پوائنٹ سکورنگ کی نظر کر دیا گیا۔ کورونا وائرس کیلئے مخصوص کیا گیا اجلاس اس موذی مرض کے حوالے سے کوئی دوٹوک پالیسی دینے میں ناکام نظر آیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کے نمائندے عوام کی زندگیوں سے لا تعلق صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے اپنا سارا زور صرف کر رہے ہیں۔ پاکستان کے معاشی حالات روز بروز بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہین لیکن اس کی کسی کو مطلق پرواہ نہیں ہے۔ بجٹ سر پر آ گیا ہے لیکن ابھیSupreme Court trusts PM's intentions: CJP says SAPMs inept ... تک اس کے خدوخال واضع نہیں ہیں، تاجر برادری سے مشاورت نہیں کی جا رہی اور نہ ان کی تجاویز کو قابل غور سمجھا جا رہا ہے۔پاکستان کی معیشت اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گذر رہی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ سندھ اور مرکزی حکومت کے درمیان شدید اختلافات نے پوری قوم کو ہیجان میں مبتلا کر دیا ہے شاید اسی وجہ سے سپریم کورٹ نے معاملات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاق اور صوبے کو ایک ہفتے میں کورونا وائرس پر  یکساں پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس کا یہ سوال بہت معنی خیز تھا کہ کورونا وائرس ہفتہ اور اتوار کو کہیں چلا نہیں جاتا، کیا کورونا نے بتایا ہے کہ وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آتا؟ یا ہفتہ اور اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے؟ ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں بند کرنے کا کیا جواز ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا کوئی مدلل جواب نہیں ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مارکیٹس اور کاروباری سرگرمیوں کو ہفتہ اور اتوار بند رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے، پنجاب اور اسلام آباد شاپنگ مالز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو سندھ میں شاپنگ مالز بند رکھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

سپریم کورٹ نے حکومت اور عوام دونوں کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام اور حکمران اپنے فرائض کی ادائیگی کیسے کرتے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ سپریم کورٹ کی دی گئی رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا کسی نئے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ سندھ شاپنگ مالز کھولنے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرے، اجازت کے بعد صوبے شاپنگ مالز کھولنے میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔عدالت نے کہا کہ 2 دن کاروبار بند رکھنے کا حکم آئین کے آرٹیکل 4, 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ پولیس کا عام وطیرہ یہی رہا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کی بجائے چھوٹے تاجروں کو بلاوجہ دھمکاتی ہے جس کا نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس نے بجا کہا کہ تاجروں سے بدتمیزی کرنی ہے نہ رشوت لینی ہے۔ دکانیں سیل کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل کروائیں اور جو دکانیں سیل کی گئی ہیں انہیں بھی کھول دیں۔اب Parliament calls for neutrality in Yemen conflict - Pakistan ...دیکھنا یہ کہ پاکستان کی پولیس من مانی کرتی ہے یا قانون کے دائرے میں رہ کر عوام کے جان ومال کا تحفظ کرتی ہے۔

عدالت نے بجا کہا کہ پنجاب میں شاپنگ مال فوری طور پر آج ہی سے کھلیں گے جبکہ سندھ شاپنگ مال کھولنے کے لیے وزارت صحت سے منظوری لے گا، عدالت توقع کرتی ہے کہ وزارت صحت کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی اور کاروبار کھول دے گی۔اب دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں سرخ فیتہ کیا رنگ دکھاتا ہے۔عدالت نے بالکل بجا حکم دیا کہ تمام مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، ان پر عملدرآمد کے حوالے سے متعلقہ حکومتیں ذمہ دار ہوں چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ہفتہ اور اتوار کے روز بھی مالز اور مارکیٹیں بند نہیں ہوں گی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شاپنگ مالز کو بند رکھنے کی کیا منطق ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ حکومت قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی تعمیل کرتی ہے، پنجاب اور اسلام آباد میں مالز کھولنا قومی رابطہ کمیٹی فیصلوں کے برعکس ہوگا۔چیف جسٹس نے کمشنر کراچی افتخار شلوانی کو دکانیں اور مارکیٹیں سیل کرنے سے روک دیا ہے۔ جس کے بعد اب امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں تاجر برادری قانون اور اخلاق کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنا کاروبار کرے گی.. عوام پر بھی لازم ہے کہ وہ سماجی فاصلوں کا خاص خیال رکھیں – بچوں کو مارکیٹ لیکر نہ جائیں،صرف اپنی لازمی خریداری تک محدود رہیں اور بازاروں میں فضول گھومنے پھرنے کی عادت کو ترک کر دیں- اپنی صحت اور دوسروں کی صحت کا خاص طور پر خیال رکھیں کہ یہی ملک وقوم کی خدمت ہے اور اسی کا نام انسانیت ہے۔۔

Leave a Reply

*