شوگر کمیشن چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، چینی سکینڈل،تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ نعیم صدیقی

Dirty politics: Sugar mafia threatens govt against legal action ...کچھ عرصہ قبل جب پاکستان میں آٹے اور چینی کا بحران پیدا ہوا قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا تو ملک کے طول و عرض میں عوام کی جانب سے شید احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوام کو گندم، چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی تاہم ابتدائی طور پر وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں کے نام جب سامنے آئے جن میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار شامل تھے تو اس وقت بات یہ کہہ کر آگے بڑھا دی گئی کہ شوگر فرانزک کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد کاروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اب یہ فرانزک رپورٹ سامنے آگئی ہے تو اس پر حکومت اور اپوزیشن کا موقف حسب توقع ایک دوسرے کی ضد ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے چینی کمیشن کی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دے دیا گیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اپوزیشن اور ان کے کچھ اپنے اتحادیوں اور عمران خان کے کچھ ساتھیوں کو ابہام کے ساتھ مورد الزام ٹھرایا جا رہا ہے اور بچائو کا پہلو بھی شامل کر دیا گیا ہے
ملک کی 2 بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے شوگر فرانزک کمیشن رپورٹ پر شدید رد عمل اورتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس ساری رپورٹ کو گمراہ کن اور اصل مجرمان کو تحفظ دینے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اپنی گفتگو میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شوگراسکینڈل یہ نہیں تھا کہ سبسڈی کسے ملی بلکہ اصلی جرم یہ مجرمانہ فیصلہ تھا کہ ملک میں چینی کی قلت کے دوران شوگر ایڈوائزری بورڈ کی تحریری تجویز کے خلاف چینی برآمد کرنے کی منظوری دی گئی۔ مسلم لیگ نون کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ پوری رپورٹ آنکھوں کا دھوکا اور اس اسکینڈل کے حقیقی مجرمان وزیراعظم، عثمان بزدار اور ان کی کابینہ کو بچانے کی کوشش ہے۔
ایس ایف سی کی رپورٹ کے ردِ عمل میں علیحدہ علیحدہ بیان جاری کرتے ہوئے پی پی پی اور مسلم لیگ ) نون)کے رہنمائوں نے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے نام رپورٹ میں نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اس وقت چینی کی برآمدات کی اجازت دی جب ملک میں اس کی قلت تھی۔
ایس ایف سی چینی کی قلت اور ملک میں اس کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا جس نے چینی بحران کے ذمہ دار شوگر ملز مالکان کے نام افشا Was the disqualification of Jahangir Tareen the right decision ...کیے تھے جن میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادی سیاستدان اور ان کے عزیز شامل تھے۔
کمیشن کی رپورٹ میں پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی مِل اور اس مل کا نام بھی شامل تھا جس کے شریک مالک مونس الہی تھے۔رپورٹ کے بعد ایک ٹوئٹر پیغام میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات سے حیرت زدہ رہ گئے۔ان کا کہنا تھاکہ میں 2 گوشوارے نہیں رکھتا میں نے اپنے تمام ٹیکسز بروقت ادا کیے اور کہا کہ وہ ہر الزام کا جواب دیں گے اور ثابت قدم رہیں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت نے جس صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی ہے کیا اس کا فیصلہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو کرنا پڑے گا یا حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہیں گے ۔
مسلم لیگ ق کے رکنِ قومی اسمبلی مونس الہی نے اس بات کی تردید کی کہ ان کا شوگر ملز کے انتظامی امور میں کوئی عمل دخل تھا۔انھوں نے کہا کہ ان کا اس معاملے میں کوئی لینا دینا نہیں رہا اس لیے ان کا نام اس سکینڈل میں شامل کرنا بدنیتی ہے۔
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان، وزیراعلی عثمان بزار اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو فوری طور پر گرفتار کرنا چاہیئے کیوں کہ انہوں نے ان تمام مبینہ فیصلوں کی منظوری دی جس سے چینی چوری کا راستہ نکلا ہے۔
سندھ کی حکمراں جماعت پی پی پی نے ایس ایف سی رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ملک میں انکوائری کمیشن اور ایگزیکٹو بورڈز کے ذریعے جھوٹ اور نااہلی کے جواز کا نیا رجحان قائم کررہی ہے۔
Shehbaz Sharif appreciates Pakistan's response over Indian aggressionشہزاد اکبر تسلیم کرتے ہیں کہ کوتاہی ضرور ہوئی، چینی کی ایکسپورٹ نہیں روکی گئی ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ شہباز فیملی کی شوکرملز میں ڈبل رپورٹنگ ہوئی ان کا انکشاف اپنی جگہ لیکن دیکھنا ہوگا کہ شوگر کمیشن کون سے حالات و وقعات کے تناظر میں بنایاگیا ہے۔ پہلی بار وزیراعظم کے ساتھی جہانگیر ترین، عمرشہریار اوران کے علاوہ اومنی، شریف اور چوہدری گروپ ذمہ دار لیکن مسئلہ اصل ذمہ داروں کے تعین اور شفاف کاروائی کا ہے۔اس بارے مہں ابہام پایا جاتا ہے۔ شوگر کمیشن کی جانب سے ٹیکس چوری کامعاملہ ایف بی آر کے حوالے کرنیکی سفارش کر دی گئی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ کمیشن کی رپورٹ سے ملکی سیاست نئی کشمکش میں کا شکار ہو گئی ہے ، حکومت اپوزیشن کے درمیان فاصلے مزیدبڑھ گئے ہیں۔ پوری قوم کورونا وائرس اور بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے۔کروڑوں لوگ روزگار اور لاکھوں اپنے کاروبار گنوا بیٹھے ہیں لیکن حکمران اور اپوزیشن کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی لفظی جنگ جاری ہے۔ چینی کمیشن رپورٹ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ ذمہ داروں کیخلاف ایکشن لینا وزیراعظم عمران خان کا بڑا امتحان ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جولوگ حکومت میں ہیں ان کیخلاف کیاایکشن ہوگا ۔وفاقی وزیر اسد عمر نے بہت اہم انکشاف کیاہے کہ چینی برآمد کی اجازت نہ دینے پر ملز مالکان نے دھمکی دی تھی جبکہ شوگر کمیشن خود یہ تسلیم کرتا ہے کہ اگر شوگر برآمد کی گئی تو اس وقت ملک کو زر مبادلہ کی ضرورت تھی۔حکومت اور اپوزیشن کی اپنی ترجیحات ہیں جبکہ عوام پہلے بھی مہنگی چینی خریدنے پر مجبور تھے اور اب بھی چینی مہنگی فروخت ہو رہی ہے صرف چینی ہی نہیں بنیادی ضرورت کی ہر شے مہنگے ترین داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میںحکومت عوام سے ہمدردی اور شوگر مافیا کے خلاف سخت کاروائی کا دعوی کیسے کر سکتی ہے؟

Leave a Reply

*