ماسک کی سادہ ترین مثال سرجیکل ماسک جو کپڑے یا کاغذ کی تین تہوں سے بنایا جاتا ہے۔ یہ چھینکوں یا کھانسی سے نکلنے والے قطروں کو تو روک لیتا ہے لیکن وائرس کے ذرات سے نہیں بچاتا

کورونا وائرس، ماسک، برطانیہ،کپڑے اور کاغذ کے ماسک عوام میں کووِڈ-19 پھیلنے سے تو روک سکتے ہیں لیکن یہ کسی بھی طرح انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں استعمال کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔

یہاں انفیکشن کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور طبی عملے کو بلند ترین معیار کا حفاظتی سامان چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ خود کو وائرس سے مکمل طور پر محفوظ کر سکیں۔

ماسک کی جو صرف 100 نینو میٹر کے لگ بھگ ہوتے ہیں  ایک نینومیٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوتا ہے۔ سادہ ترین مثال سرجیکل ماسک ہے جو عام طور پر کپڑے یا کاغذ کی تین تہوں سے بنایا جاتا ہے۔ یہ چھینکوں یا کھانسی سے نکلنے والے قطروں کو تو روک لیتا ہے لیکن وائرس کے ذرات سے نہیں بچا پاتا جو صرف 100 نینو میٹر کے لگ بھگ ہوتے ہیں  ایک نینومیٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوتا ہے۔

سانس کے لیے حفاظتی سامان بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک3 ایم کی ہیڈ آف سیفٹی ڈاکٹر نکی میک کلوہ بتاتی ہیں: ‘ایک ایسا ماسک جو آپ کے ناک اور منھ پر رہتا ہے لیکن آپ کے چہرے پر مضبوطی سے نہیں بیٹھتا، وہ آپ کے خارج کیے گئے ذرات کو پھیلنے سے تو روک سکتا ہے لیکن یہ ماسک آپ کو بہت چھوٹے ذرات اندر کھینچنے سے نہیں بچا سکتا۔’

دوسری جانب ریسپائریٹر چہرے پر مضبوطی سے ٹھہر جاتے ہیں تاکہ نہ کوئی ہوا لیک ہو کر باہر جا سکے نہ ہی لیک ہو کر اندر آ سکے۔ انھیں پہننے کا طریقہ بھی نسبتاً دقت طلب ہوتا ہے۔

ڈاکٹر میک کلوہ کہتی ہیں: ‘جب آپ سانس اندر کھینچتے ہیں تو ہوا فلٹر میں سے ہو کر گزرتی ہے اور اس فلٹر کو کارکردگی کے ایک مخصوص معیار تک پرکھا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ یہ اعتماد کر سکتے ہیں کہ اگر آپ کا چہرہ مضبوطی سے سیل ہے، تو ریسپائریٹر ان ذرات کی تعداد گھٹا رہا ہے جو آپ اندر کھینچ رہے ہیں۔

ریسپائریٹر مختلف اقسام کے ہوتے ہیں۔ ان کی سادہ ترین قسم عام ماسک جیسی ہوتی ہے لیکن انھیں فلٹرنگ فیس پیس (ایف ایف پی) کہتے ہیں۔ کچھ استعمال کے بعد پھینک دینے کے لیے ہوتے ہیں جبکہ کچھ کو جراثیم سے پاک کر کے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت کے ذمہ دار امریکی ادارے نیشنل انسٹیٹوٹ فار آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ (این آئی او ایس ایچ) نے ایف ایف پی ریسپائریٹرز کی درجہ بندی اس لحاظ سے کی ہے کہ وہ کتنے ذرات کو آپ کے نظامِ تنفس تک پہنچنے سے روکتے ہیں۔ چنانچہ این 95 اور این 99 ماسک بالترتیب 95 اور 99 فیصد ذرات کو روکتے ہیں جبکہ این 100 ڈیوائسز 99.97 فیصد ذرات کو روک لیتی ہیں۔

یورپ میں ریسپائریٹرز کی درجہ بندی مختلف انداز میں کی جاتی ہے۔ یہاں ایف ایف پی 1 قرار دیے گئے ریسپائریٹر کم از کم 80 فیصد ذرات کو فلٹر کر دیتے ہیں، ایف ایف پی 2 کم از کم 94 فیصد، اور ایف ایف پی 3 این 100 کی طرح 99.97 فیصد ذرات کو روک دیتے ہیں۔

اور پھر باری آتی ہے پاورڈ ایئر پیوریفائنگ ریسپائریٹر یا پی اے پی آر کی جو ہیلمٹ جیسے نظر آتے ہیں۔

یہ ایکورونا وائرس، ماسک، برطانیہ،ن 100 یا ایف ایف پی 3 کی ہی طرح مؤثر ہوتے ہیں۔

ریسپائریٹر بنانے والی ایک بڑی کمپنی ہنی ویل سیفٹی کے چیف مارکیٹنگ افسر برائن ہووی کہتے ہیں: ‘یہ ایک جامع حل ہوتا ہے۔ اس میں ایک چہرے کی شیلڈ ہوتی ہے اور ایک نالی جو بیلٹ میں موجود ایک آلے سے منسلک ہوتی ہے۔ اس آلے میں ایک موٹر ہوتی ہے جو ہوا کو پمپ کر کے فلٹر سے گزارتی ہے۔ یہ ایک سفید سوٹ کا حصہ ہوتا ہے چنانچہ یہ نہایت جامع تحفظ فراہم کرتا ہے۔’

یونیورسٹی آف ساؤتھیمپٹن میں انجینیئرز نے ایک ایسا پی اے پی آر تیار کیا ہے جو وہ یونیورسٹی ہاسپٹل ساؤتھیمپٹن کو فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک ایسے 1000 سوٹ عملے کے زیرِ استعمال ہیں۔

Leave a Reply

*