پاکستان کی برآمدات تیزی سے کم ہو رہی ہیں،تاجر برادری کو سہولیات دیے بغیر معیشت مضبوط نہیں ہو سکتی،حکومت کی عدم توجہ سے بیماری اور بیروزگاری میں اضافہ ہوگا, نعیم صدیقی

Prospects of Maritime Economy for Pakistan - MSFپاکستان کی موجودہ کمزورمعاشی صورتحال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ہمیں ایک متوازن اور قابل عمل معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جس پر عمل کر کے پاکستان کو لاحق سنگین معاشی بحران سے نکا لا جا سکتا ہے اس کے لیے حکومت اپوزیشن اور کاروبار سے وابستہ لوگوں کو باہمی مشاورت کے ساتھ ٹھوس اور قابل عمل پلان ترتیب دینا ہوگا۔اس حوالے سے لازم ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو دعوت دے تا کہ ملک کے اندر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو سکے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق اپریل کے مہینے میں پاکستان کرنٹ اکانٹ خسارہ مارچ کے صرف 9 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 57 کروڑبیس  لاکھ ڈالر ہوگیا تھا جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کے دوران مجموعی خسارہ کم ہوکر 3 ارب 34 کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 11 ارب 44 کروڑ ڈالر تھا۔
اگر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مہینوں کے حساب سے خسارے میں جو اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہ ہماری برآمدات میں تیزی سے ہونیوالی کمی کی وجہ سے ہوا ۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں دو ارب آٹھ کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 54 فیصد کم ہوکر 95 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوگیا ہے۔
اس بات کا قوی امکان ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مجموعی طور پر کرنٹ اکانٹ خسارہ 5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوکی وجہ سے پاکستان کی برآمدات خطرے کا شکار ہو گئی ہیں۔ ممکنہ طور پر اپریل کے اعداد و شمار میں تیزی سے کمی کے بعد مئی میں صورتحال مزید خراب ہوگئی تھی کیونکہ شمالی امریکا اور یورپی ممالک کے لیے برآمدات کے لیے بیشتر آرڈر یا تو منسوخ کردیئے گئے تھے یا پھر بندرگاہوں پر ہی پڑے رہ گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے 10 ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے 20 ارب 13 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں تھوڑا کم 19 ارب 65 کروڑ ڈالر تک رہ گئیں تھیں۔
تاہم درآمدات گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 43 ارب 44 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم 36 ارب 9 کروڑ ڈالر ہوگئیں ہیں۔
درآمدات میں تیزی سے کمی نے رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں کے دوران تجارتی توازن کو 19 ارب 5 کروڑ ڈالر تک محدود کردیا ہے جو گزشتہ سال 27 ارب 24 کروڑ تھا۔اب اس میں بہتری کی صورت کورونا وائرس سے وابستہ ہے اگر کورونا وبا کا دبائو کم ہوا تو پاکیستان کی تجارت اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
حکومت رواں مالی سال میں کرنٹ اکائو نٹ خسارے کو کم کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے جو 20 ارب ڈالر کی اعلی ترین سطح پر پہنچ چکی تھی جس سے اس کی غیر ملکی ادائیگیوں کی صلاحیت خطرے میں پڑ گئی تھی۔
سہ ماہی کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو جنوری تا مارچ میں اکتوبر سے دسمبر کے مقابلے میں زیادہ خسارہ رہا ہے۔جنوری تا مارچ کے دوران خسارہ اکتوبر سے Pakistan eyeing to become top 25th economy by 2025 - SAMAAدسمبر میں 54 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں جنوری سے مارچ میں 73 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھا۔
رواں مالی سال میں جاری کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہونے والے رجحان پر رہا ہے تاہم کورونا وائرس نے مزید بہتری لانے کے نقطہ نظر کو تبدیل کردیا ہے کیونکہ پوری دنیا میں اشیا کی طلب میں تیزی سے کمی کی وجہ سے ملک کی برآمدات کو زبردست دھچکا لگا ہے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ان تمام معاشی مشکلات کے باوجود مثبت بات یہ ہے کہ جی-20 قرض ریلیف کے اقدام سے پاکستان کو انتہائی مطلوبہ ریلیف فراہم کرنے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ اس سے حکومت 12 ماہ کی مدت کے لیے 2 ارب 40 کروڑ روپے کے قرضوں کی ادائیگی کو مئوخر کردے گی جس کی وجہ سے زرمبادلہ کی بچت ہماری معیشت کو سہارا دے گی ۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں مئی کے مہینے میں کرنٹ اکائونٹ ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر سرپلس ہوگیا۔واضح رہے کہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکائو نٹ دوسری مرتبہ سرپلس ہوا ہے۔اس سے قبل اکتوبر 2019 میں بھی کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہوا تھا۔گزشتہ مالی سال کی بات کی جائے تو مئی کے مہینے میں کرنٹ اکانٹ خسارہ ایک ارب ڈالر تھا جو رواں مالی سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔اپریل 2020 میں کرنٹ اکانٹ خسارہ 53 کروڑ ڈالرز تھا جبکہ مئی 2019 میں یہ۔ ایک ارب ڈالر تھا۔
رواں مالی سال کے 11 ماہ میں کرنٹ اکانٹ خسارہ 9 ارب 16 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز (73.70 فیصد) کم ہو کر 3 ارب 28 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 12 ارب 45 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز تھا۔خیال رہے کہ جون کے آغاز میں وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اعلان کیا تھا کہ پہلی مرتبہ حکومت نے اخراجات آمدن سے کم کرتے ہوئے ورثے میں ملنے والے 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکائونٹ خسارے کو کم کرکے 3 ارب ڈالر تک لے آئے ہیں۔
اقتصادی سروے رپورٹ کے بارے میں حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پہلے سال اور خصوصی طور پر اس سال کرنٹ اکائونٹ خسارے میں 73 فیصد کمی کرنا حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے ۔ زرمبادلہ کی شرح کے نظام میں استحکام لایا گیا ہے، گزشتہ حکومت نے جب اسے مصنوعی طریقے سے مستحکم کیا تھا تو درآمدات میں اضافہ ہوگیا تھا لیکن اب کئی ماہ سے درآمدات مستحکم ہوگئی ہیں۔حفیظ شیخ کہتے ہیں کہ ملک کے اندر اس سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 127 فیصد اضافہ ہوا، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف ایک ہزار ایک سو تھا اور حکومت نے ایک ہزار 6 سو ارب روپے جمع کیے۔حکومت کے سارے اقدامات اپنی جگہ ملک کے لیے بہت ہی اہم اور مفید ہوں گے لیکن پاکستان کی معیشت اس وقت شدید تری مشکلات کا شکار ہے۔عوام بیروزگار ہورہے ہیں۔ کورونا وائرس نہایت خطرناک رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔شرح سود میں کمی کی گئی ہے لیکن اس ابھی اس میں اور بھی کمی کی ضرورت ہے۔عوام کو ریلیف چاہئے اور تجارت و صنعت کو اپنا پہیہ چلانے کئلئے حکومت کی جانب سے ہر وہ سہولت درکار ہے جو ساری دنیا میں تاجر اور کاروباری برادری کو دی جا رہی ہے تاکہ کاروبار اور روزگار دونوں چلتے رہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ دونوں شعبے نظر انداز کیے گئے تو بیماری کے ساتھ ساتھ پاکستان میں معاشی بدحالی سنگین ترین بحران پیدا کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

*