کلبھوشن کی سزائے موت، عالمی عدالت میں مقدمہ اور اب قونصلر رسائی کا نتیجہ کیا نکلے گا،نعیم صدیقی

Kulbhushan Jadhav: Kulbhushan Jadhav latest news, photos & videosپاکستان میں سزائے موت کے قیدی بھارتی جاسوس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ را کے لیے کام کرنے والا یہ بھارتی جاسوس انڈین نیوی کا حاضر سروس کمانڈر ہے۔ اس کے ہاتھ سینکڑوں پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔پاکستان کے مختلف شہروں میں خود کش بم دہماکے اور دہشت گردی کی خونی وارداتوں میں یہ شخص ملوث رہا ہے ۔پاکستان نے بھارت کی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے زیر حراست اور سزا یافتہ ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن یادیو کو تیسری مرتبہ قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ کیا ہےا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکو تیسری قونصلر رسائی دینے کے حوالے سے بھارت کو رسمی طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔اس مرتبہ پاکستان کی جانب سے بھارتی جاسوس کوسیکیورٹی اہلکاروں کے بغیر قونصلر رسائی دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی  کا یہ کہنا ہے کہ قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں بھارت کے جواب کا انتظار ہے۔

یہ بات بڑی دلچسپ ہے گزشتہ روز ہی بھارتی ہائی کمیشن کے 2 اہلکاروں کو کلبھوشن تک رسائی دی گئی تھی تاہم ان سفارت کاروں نے اس جاسوس کی کوئی بات نہیں سنی اور واپس چلے گئے تھے۔
اس سے قبل ستمبر 2019 میں کلبھوشن یادیو کو دی گئی پہلی قونصلر رسائی ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت دی گئی تھی جو 2 گھنٹوں تک جاری رہی تھی۔کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ مقدمے کے دوران بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے یہ اعتراف کیا تھا کہ اسے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا کہا گیا تھااس کیلئے پاکستان میں رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
اپریل 2017 کو آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو فوجی عدالت نے پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا ۔ سزائے موت کے اس فیصلے کی توثیق بعد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔
بھارت کی جانب سے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی تھی۔ بھارت کی جانب سے دی جانیوالی درخواست میں کہا گیا تھا کہ عالمی عدالت انصاف پاکستان کو پھانسی دینے کے عمل سے روکے ۔اس کے بعد بھارت کی درخواست پر یہ کیس سماعت کیلئے مقرر کیا گیا اور پاکستان کو بھارتی جاسوس کی پھانسی دینے کے عمل کو روک دیا گیا تھا۔
عالمی عدالت انصاف کی جانب سے مئی 2018 کو عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے آگاہ کر دیا تھا کہ آئی سی جے کے حکم پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے متعلقہ اداروں کو عمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے اور سزائے موت پر عمل روک دیا گیا ہے۔
بھارتی جاسوس کے کیس کی اہم ترین بات یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے دعووں پر بھارت کی جانب سے دوجوابات داخل کروائے گئے تھے اور پاکستان نے بھی دو جوابات عالمی عدالت انصاف میں پیش کیے تھے جہاں تک بھارت کی فریبکاری کی بات ہے تو بھارت اس بات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا تھا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح اپنی نوکری سے ریٹائر ہوا ۔جس وقت کلبھوشن کو گرفتار کیا گیا تھا تو اس وقت اس کی عمر سینتالیس برس تھی۔
اس کے علاوہ بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت تھی کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت تھا لیکن پاسپورٹ اصلی تھا اور اسی پاسپورٹ پر وہ ایک درجن سے زائد مرتبہ بھارت گیا اور واپس آیا تھا،اس پاسپورPakistan sends captured Indian pilot back home in bid to defuse ...ٹ میں اس کاعارضی نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔

دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لیے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے۔یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی۔مذکورہ ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا۔گزشتہ سال 2019 میں 18 سے 22 فروری کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کلبھوشن یادیو کیس کی عوامی سماعت مکمل ہوگئی تھی۔بعد ازاں 17 جولائی 2019 کو عالمی عدالت نے کیس کا فیصلہ سنادیا تھا جس کے مطابق کلبھوشن یادیو کو پاکستانی فوجی عدالت کی جانب سے دیا جانے والا سزائے موت کا فیصلہ منسوخ اور کلبھوشن کی حوالگی کی بھارتی استدعا مسترد کردی گئی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے، جس پر پاکستان نے بھارتی جاسوس کو قونصلر رسائی فراہم کردی تھی۔دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لیے ان کی اہلیہ اور  والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے ۔اس بار دیکھنا یہ کہ پاکستان کی جانب سے دی جانیوالی تیسری قونصلر رسائی خیر سگالی کے طور پر دی جا رہی ہے اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس سے قبل پاکستان کی جانب سے بھارت کے ایک فوجی پائلٹ ایبھی نند ن کو خیر سگالی کے طور پر رہا کر دیا گیا تھا جو بھارتی جنگی طیارے میں پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا لیکن ناکام و نامراد رہا عوام کے ہاتھوں اس کو مار پڑی، اس کا جہاز تباہ ہو گیااور وہ خود پکڑا گیا تھا۔

Leave a Reply

*