پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج معاشی مسائل ہیں،مضبوط معیشت ملکی استحکام کی ضمانت ہے، نعیم صدیقی

وطن عزیز میں کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے وال صورتحال زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ معاشی بدحالی کی وجہ سے عوام کا معیار زندگی مسلسل گرتا جا رہا ہے،تعلیم ، صحت، روزگار اور روز مرہ زندگی کے معاملات میں ناقابل یقین حد تک بگاڑ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کا فوری طور پر کوئی مناسب حل بھی موجود نہیں ہے۔حکومت کی جانب سے اگرچہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کئی ایک اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن ایک کثیر آبادی والے ملک میں جہاں کروڑوں لوگ غربت اور مہنگائی و بیروزگاری کا شکار ہوں وہاں حکومتی اقدامات حالات میں بہتری پیدا کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں تجارت اور صنعت کے علاوہ زراعت کو بہت زیادہ فروغ دینے پر توجہ دی جائے اور اس کام میں غفلت یا سستی پاکستان کی معیشت کیلئے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ بائیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں حکومت سبسڈی اور پیکیج دیکر حالات میں بہتری نہیں لا سکتی بلکہ لوگوں کو پیداواری کاموں پر لگانا ضروری ہو گیا ہے۔اگر ہم چین کی مثال دیتے ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہاں لوگ بہت زیادہ محنت اور کام کرتے ہیں۔چین کے حکمران ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے شب و روز کام کرتے ہیں۔ان کی صنعت اور زراعت کی ترقی و پیدا وار ناقابل یقین حد تک کامیاب ہے اور اس میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس وقت۔پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج معاشی مسائل ہیں حکومت ہو یا اپوزیشن،ان سب پر لازم ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کیلئے آپس میں تعاون کریں کیونکہ ،مضبوط معیشت ہی Ramadan prices hike in Pakistan, residents stressed | Pakistan – Gulf Newsملکی استحکام کی ضمانت ہے اسی میں حکمرانوں اور عوام دونوں کی بھلائی ہے۔
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان میں اصل خرابی کیا ہے؟ کورونا وائرس کا بحران تو ایک نیا اور قدرتی عذاب ہے جو اچانک آگیا ہے اور ہم بڑی بے بسی کے ساتھ اس کا سامنا کر رہے ہیں۔اگر غور کیا جائے تو پاکستان کی معیشت پہلے سے ہی گراوٹ کا شکار چلی آ رہی ہے۔ عوام کا معیار زندگی بہتری کی جانب گامزن نہیں ہے۔ ملک میں معاشی بحران اگر ہے تو اس کا حل کس نے تلاش کرنا ہے؟ اگر مہنگائی اور بیروزگاری ہے تو اس کو کس نے کس طریقے سے ختم کرنا ہے؟ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر ہمارے تمام قومی ادارے ہماری پارلیمنٹ اس جانب کامل ایمانداری اور سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں تو ہمارے بہت سے مسائل بہتر منصوبہ بندی ،فرض شناسی اور نیک نیتی سے حل ہو سکتے ہیں۔عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔
اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے اور ایک ہفتے میں چینی مزید 2 روپے 52 پیسے فی کلو مہنگی ہوگئی۔ادارہ شماریات نے مہنگائی کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق ایک ہفتے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ چینی کی اوسط قیمت بڑھ کر 88روپے فی کلو ہوگئی۔چار ہفتوں میں چینی کی قیمت میں آٹھ روپے فی کلو کا اضافہ ہوا۔ گزشتہ ایک ہفتے میں سترہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔آٹے کا بیس کلو تھیلا 34 روپے، آلو اور گڑ ہوئے جبکہ پیاز، تازہ دودھ، دہی، چھوٹا گوشت اور چاول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں 11 اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی جن میں ۔چکن برائلر مرغی،سبزی اور فروٹ شامل ہیں۔ ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر سستا ہوا ۔ ایک ہفتے کے دوران 23 اشیا کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں کورونا لاک ڈائون میں نرمی کے بعد سے اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جارہا ہے، بالخصوص چینی اور آٹے کی قیمتیں کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے عوام بہت زیادہ پریشان ہیں۔
اقتصادی سروے کی رپورٹ برائے سال 20-2019 کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے افراطِ زر کے دبا ئومیں مزید کمی ہوگی اور حکومت کو مہنگائی کی شرح آئندہ مالی سال کے دوران واحد ہند سے تک محدود رہنے کی توقع ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلا ئوسے بھی مہنگائی کا گراف اوپر جا رہا ہے جسے مناسب سطح پر رکھنا All products available in abundance at utility storesحکومت کا کام ہے۔موجودہ حالات میں مزید ایک کروڑ افراد کے خطِ غربت سے نیچے جانے کا اندیشہ بھی موجود ہے
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ 17 ہزار 300 روپے تک پہنچ گئی ہے۔عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمت فی اونس 26 ڈالر اضافے سے ایک ہزار 228 ڈالر ہونے کے بعد مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی معیشت کا کیا حال ہورہا ہے۔۔
حکومت کی جانب سے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی اور یوٹیلیٹی اسٹور پر فروخت ہونے والی اشیا پر سبسڈی دینے کے ساتھ متعدد پیکجز کے ذریعے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے سے رسد بہتر اور قیمتوں میں اضافے کو قابو کرنے میں مدد ملی ہے لیکن یہ ناکافی ہے پاکستان کے تمام شہریوں تک ان سہولیات کا پہنچنا ممکن نہیں ہے اس کیلئے بہترین طرز حکمرانی اور انتظامی طور پر قانون کی بالادستی کا ہونا ضروری ہے تاکہ اسلام آباد یا کسی بلوچستان کے دیہات میں رہنے والے پاکستانی کو ایک جیسی سہولیات اور مناسب قیمت پر ضرورت کی تمام اشیا میسر ہوں۔ مہنگائی کا الزام ذخیرہ اندوزی پر ڈالنے سے بہتر ہے کہ قانون کی بالادستی قائم کی جائے۔پرایس کنٹرول کمیٹی کا فرض ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر کام کرے اور ہر روز بازاروں پر کڑی نظر رکھی جائے۔اگر تمام ادارے اپنا کام ایمانداری سے کریں توگندم یا چینی کی ذخیرہ اندوزی نہیں ہو سکتی ۔گذشتہ برس موسم کی صورتحال بھی معمول کے مطابق نہ تھی اور 2019 کے تمام موسموں کے معمول کے اوقات میں کچھ تبدیلی دیکھنے میں آئی جس سے فصلوں میں معمولی نقصان ہوا اور درآمد شدہ اشیائے خور و نوش پر انحصار میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔کچھ عرصہ سے ٹڈی دل کے حملوں نے پاکستان کی زراعت کا بہت نقصان کیا ہے جس کا خطرہ اب بھی موجود ہے اس کا تڈارک بہت ضروری ہے۔
کورونا وبا کے ظاہر ہونے کے بعد حکومت نے متعدد پالیسی، انتظامی اور ریلیف اقدامات متعارف کروائے تا کہ مہنگائی کو ایک ہندسے تک محدود رکھا جاسکے جس سے اپریل میں افراط زر کی شرح 8.5 فیصد ہوگئی اور مسلسل تیسرے ماہ بھی اس میں کمی دیکھی گئی۔اس کے علاوہ حکومت نے مارچ اور اپریل میں اقتصادی ریلیف اوردیگر مراعات کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی کم کی گئیں تاہم عوام کو ان اقدامات سے زیادہ فائدہ نہیں ہوا کہ پٹرول سستا ہونے کے باوجود مارکیٹ سے غائب ہوگیا بعد ازاں حکومت نے اچانک اس کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کردیا۔ کورونا وائرس پابندیوں سے ملک بھر میں چودہ لاکھ روزگار ختم ہونے کا خد شہ اپنی جگہ موجود ہے۔اب بھی بے شمار لوگ نوکری پیشہ اور چھوٹے تاجر مسائل سے دوچار اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ان کو جینے کی امید دینا اور نارمل زندگی کی طرف واپس لانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سیاسی لڑائیاں لڑنے کی بجائے باہمی اتفاق اور اتحاد کے ساتھ ملک و قوم کے سلگتے ہوئے مسائل حل کرنے کی جانب اخلاص کے ساتھ توجہ دیں گے۔

 

Leave a Reply

*