پاکستان کی معاشی صورتحال مستحکم ہو رہی ہے لیکن بیرونی قرضے ملکی معیشت اور عوام کیلئے مسائل پیدا کرتےہیں،نعیم صدیقی

 پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے دوران 13 ارب 20 کروڑ ڈالر بیرونی قرضہ حاصل کیا۔ اسٹیٹ بنک کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ایک سال میں 8333 ارب روپے قرض لیا ہے۔ وزارتِ خزانہ  کی جانب سے یہ کہا گیا  ہے کہ ایک سال میں حاصل کیا جانے والا یہ سب سے بڑا بیرونی قرضہ ہے۔  وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 10 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کیا تھا، 2 سال میں مجموعی طور پر پی ٹی آئی حکومت نے 29 ارب 20 کروڑ ڈالر کا قرضہ لیا ہے۔اگرچہ پاکستان کی معاشی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے اور رفتہ رفتہ مستحکم ہو رہی ہے لیکن بھاری بیرونی قرضے لیکر ملک کی معیشت کو بہتر کرنا آسان کام نہیں ہوتا بلکہ سود کے ساتھ ان قرضوں کی واپسی ملکی معیشت اور عوام کیلئے خوفناک مسائل پیدا کرتی ہے۔
وزارتِ خزانہ کایہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ 2 سال میں 19 ارب 20 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا۔زارت تجارت کی جانب سے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیاہے کہ مارچ کے مہینے میں عالمی سطح پر معاشی سست روی کے باوجود کچھ ممالک کے لیے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔برآمدات میں اضافے کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کے بارے میں متعدد مرتبہ اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں وزارت تجارت نے ایوانِ زیریں کو تفصیلات فراہم کیں۔کووِڈ 19 کے پھیلا ئوکے بعد سعودی عرب اور قطر کے لیے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے۔
وزارت تجارت کے مطابق کووِڈ 19 کے باوجود سعودی عرب مشرق وسطی میں اشیا کی برآمدات کی سب سے بڑی منزل بن کر ابھرا اور جون میں سعودی عرب کے لیے برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین باہمی تجارت کا حجم مالی سال 2020 میں 2 ارب 18 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک بڑھ چکا ہے۔
سعودی عرب کے لیے برآمدات میں ہر سال اضافہ دیکھنے کو ملا ہے مالی سال 2017 میں اس کا حجم 33 کروڑ 69 لاکھ ڈالر، مالی سال 2019 میں 34 کروڑ 20 لاکھ Exports Fall by a Massive 47.24% in April 202080 ہزار ڈالر تھی جو مالی سال 2020 میں 44 کروڑ 61 لاکھ 80 ہزار ڈالر تک جا پہنچی۔
وزارت کامرس سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی برآمدات مسلسل چوتھے ماہ بھی کمی کے بعد جون کے مہینے میں مزید کم ہوکر ایک ارب 60 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک جا پہنچیں۔
گزشتہ برس جون کی ایک ارب 71 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں گزشتہ ماہ برآمدات میں 6.3 فیصد کمی آئی۔
مئی کے مہینے میں برآمدات میں 33.6 فیصد کمی کے مقابلے میں جون میں 54 فیصد کمی آئی جو بین الاقوامی خریداروں، خاص طور پر ٹیکسٹائل اور کپڑوں کے شعبوں میں بین الاقوامی خریداروں کی جانب سے برآمدی آرڈر کی ریکوری کے باعث برآمدات میں کمی کی رفتار سست ہوئی ہے لیکن اس میں بہتری کا امکان موجود ہے۔
کورونا وائرس وبا کے عالمی معیشت پر اثرات کی وجہ سے آرڈرز منسوخ اور مخر ہونے کے سبب ملکی برآمدات اپریل میں 54 فیصد کم ہو کر 95 کروڑ 70 لاکھ ڈالر پر آگئی جو ایک سال قبل 2 ارب 8 کروڑ ڈالر کی سطح پر تھی۔
پاکستان ادارہ شماریات سے جاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی برآمدی اشیا کی سب سے اہم مارکیٹس شمالی امریکا اور یورپی ممالک میں عالمی معیشت کی سست روی کے اثرات سے اپریل میں ملک کی مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی۔
گزشتہ ماہ برآمدات میں کمی کی توقع تھی کیوں کہ وبا کے تناظر میں طلب کم ہونے کے باعث صرف چند خریداروں نے مقامی مینوفیکچررز کے ساتھ اپنے وعدوں کا پاس رکھا ہے تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ ماہ سے پاکستان کی برآمادات میں اضافہ ہوگا اور ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

Leave a Reply

*