سائنسدان کو بہادر ہونا چاہئے،چین کے سائنسدان نے کورونا وائرس کی تجرباتی ویکسین خود کو لگا لی،عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگاا

چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے سربراہ گاؤ فو کا کہنا  ہے کہ انہوں نے خود کو کورونا وائرس کی تجرباتی ویکسین لگا لی ہے تاکہ ویکسین کی منظوری کےUSA vs China: The new cold war on the horizon | DW Analysis - YouTube بعد عوام کو اسے لگانے کے لیے قائل کیا جا سکے۔

مذکورہ مرکز کے سربراہ گاؤ فو نے علی بابا ہیلتھ کے زیر اہتمام ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک ایسی بات کا انکشاف کرنے لگا ہوں جو اب تک کسی کو نہیں معلوم، میں نے خود کو ایک ویکسین لگا لی ہے اور اُمید ہے کہ یہ کارگر رہے گی۔ رواں ماہ کے اوائل میں چین کی ریاستی کمپنی نے حکومت کی جانب سے منظوری سے قبل ہی مارچ میں ملازمین کو تجرباتی ویکسین لگائی اور ماہرین نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اس دعوے کے ساتھ ہی کئی چیزیں داؤ پر لگ گئی ہیں کیونکہ کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کے لیے چین کا امریکا اور برطاننیہ سے مقابلہ جاری ہے جہاں یہ ویکسین سائنسی اور سیاسی بنیادوں پر بڑی کامیابی ہو گی۔

چین ویکسین بنانے کا اہم امیدوار ہے دنیا بھر میں جن دو درجن ویکسین کا تجربہ کیا گیا ہے ان میں سے 8 چین نے بنائی ہیں اور یہ اب تک کسی بھی ملک کی جانب سے بنائی گئی سب سے زیادہ ویکسین ہیں۔

گاؤ نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کونسی ویکسین خود کو لگائی ہے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ سمجھا جائے کہ وہ کسی خاص کمپنی کے لیے کوئی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔گزشتہ ماہ گاؤ نے ایک تحقیقی مقالہ مشترکہ طور پر لکھا تھا جس میں ایک ویکسین متعارف کرائی تھی اور اس ویکسین کے ذریعے لیب ہی میں تیار کردہ وائرس کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ ویکسین ریاستی سینوفارم کمپنی کے تعاون سے بنائی گئی تھی۔

Head of China's CDC gets injected with experimental Covid-19 ...

کمپنی نے اپنی آن لائن پوسٹ میں کہا تھا کہ اعلیٰ افسران سمیت 30 ملازمین نے انسانوں پر استعمال کی منظوری ملنے سے قبل مارچ میں ویکسین کی ٹیسٹنگ میں مدد کی تھی,

سائنسدانوں نے اس اقدام پر بڑے پیمانے پر بحث کی تھی کیونکہ چند لوگوں پر دوا کے جو بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں اسے ویکسین کو محفوظ یا مؤثر قرار دینے کے لیے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق بیرون ملک جانے والے سرکاری ملازمین کو ان ویکسین کے انجیکشن لگانے کی پیشکش کی گئی ہے۔

ادارے کے سربراہ گاؤ فو نے کہا کہ انہوں نے عوام کے اعتماد میں ہوتی ہوئی کمی کو دیکھتے ہوئے ویکسین کا انجیکشن اس لیے لگایا تاکہ وہ عوام کے اعتماد میں اضافہ کر سکیں کیونکہ اس دوران سائنسدانوں کے حوالے سے عجیب و غریب سازشوں پر مبنی کہانیاں زیر گردش ہیں۔

گائو فائو کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو ویکسین کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں، ایک سائنسدان کو بہادر ہونا چاہیے، اگر ہم ہی اس ویکسین کو استعمال نہیں کریں گے تو ویکسین لگانے کے لیے دنیا کو کیسے قائل کریں گے۔

ویبینار کی میزبانی کرنے والے ایڈیٹر اینڈریو رین کیمہ نے چینی سائنسدان کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بہادری کی بات ہے اور یہ ویکسین کے محفوظ ہونے کے حوالے سے ان کے اعتماد کی ترجمانی کرتا ہے۔

Leave a Reply

*