پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسائل کا شکارعوام کیلئے مزید مالی مشکلات کا باعث بنے گا، نعیم صدیقی

گذشتہ کئی برس سے پاکستان میں مہنگائی اور بیروزگاری کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عوام بے شمار مسائل کا شکار اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی بے قابو ہوجاتی ہے اور زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تو اس کے نتیجے میں عوام کو کسی بھی طرح سے فائدہ نہ ہوسکا بلکہ ملک بھر میں تیل کی قلت پیدا ہوگئی۔ جس کے فوری بعد پٹرول کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کردیا گیا تھا اور ملک بھر میں پٹرول کی دستیابی عام ہو گئی تھی۔اب ایک بار پھر حکومت تیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جا رہی ہے۔عید کے موقع پر یہ اضافہ عوام کیلئے مزید مہنگائی اور مالی پریشانیوں کا باعث بنے گا جس کی وجہ سے عوام حکومت کے خلاف رد عمل کا اظہار کر سکتے ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے آئندہ ماہ یعنی اگست کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں تقریبا 7 سے 9 روپے فی لیٹر اور مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں تقریبا 6 روپے اضافہ تجویز کیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کی شرح میں کمی کرکے پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمت میں 4 سے 5 روپے تک اضافے کی توقع کی جارہی ہے جبکہ مٹی کے تیل اور ایل ڈی او کی قیمت میں تقریبا 6 روپے فی لیٹر اضافے کی اجازت دیے جانے کا امکان ہے۔
اوگرا، جسے گزشتہ ماہ پیٹرولیم کی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ می نظرانداز کیا گیا تھا ، اس بار انہوں نے پاکستان اسٹیٹ آئل کی موجودہ ٹیکس کی شرح اور درآمدی لاگت پر مبنی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے حکومت کو ایک ورکنگ پیپر ارسال کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کی شرح کو کم کرکے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں چار سے پانچ روپے فی لیٹر تک اضافہ جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر چھ روپے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کی بحالی پر غور اور عیدالاضحی کے موقع پر سیاسی دبائو کی وجہ سے وزارت خزانہ اوروزارت پٹرولیم کے درمیان اتفاق نہیں ہوسکا کیونکہ گزشتہ ماہ کے27 سے 66 فیصد کے اچانک دھچکے کے باعث حکومت پربہت زیادہ تنقید کی گئی تھی لیکن پالیسی فیصلے کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو سیاست سے دور رکھنے اور اوگرا کے ذریعے قیمتوں کو حتمی شکل دینے کے لیے بھی دلائل دیے گئے۔
اس بات کا امکان ہے کہ یہ معاملہ حتمی اعلان سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وہ فیصلہ کریں گے۔ پیٹرول کی ایکس-ڈپو قیمت کا تخمینہ موجودہ سو روپے دس پیسے فی لیٹر کے بجائے ایک سو سات روپے گیارہ پیسے ہے، جس میں سات روپے یا سات فیصد کا اضافہ دکھایا گیا ہے۔
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس-ڈپو قیمت کا تخمینہ، موجودہ 101.46 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 111 روپے فی لیٹر ہے ، جس میں 9.55 روپے فی لیٹر یا نو فیصد اضافہ کیا ہے۔
ڈیزل کی ایکس- ریفائنری لاگت کا تخمینہ اب 51 روپے فی لیٹر ہے، ایچ ایس ڈی زیادہ تر ہیوی ٹرانسپورٹ اور زرعی انجنز جیسا کہ ٹرکس، بس، ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز اور تھریشرز وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ مٹی کے تیل کی ایکس-ڈپو قیمت کا تخمینہ 59.06 روپے فی لیٹر کے بجائے 65.32 روپے ہے، جس میں فی لیٹر 6.26 روپے یا 11 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
لائٹ ڈیزل آئل کی ایکس-ڈپو قیمت کا تخمینہ 55.98 روپے فی لیٹر کے بجائے 62.20 روپے فی لیٹر ہے جس میں 6.22 روپے فی لیٹر یا تقریبا 11 فیصد کا اضافہ دکھایا گیا ہے۔واضع رہے کہ لائٹ ڈیزل آئل زیادہ تر آٹے کی چکیوں اور کچھ پاور پلانٹس میں استعمال ہوتا ہے۔
ملک بھر میں پیٹرول کی مسلسل قلت کے باعث حکومت نے پیٹرول کی قیمت اور مارکیٹنگ کو ‘مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ’ کرنے اور قیمتوں کے یکساں تعین کا طریقہ کار ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب آئل مارکیٹنگ کمپنیز ہائی اوکٹین بلینڈنگ کمپونینٹ کے معاملے میں کارٹیلائزیشن جیسے رویے پر تنقید کی زد میں ہیں۔
خیال رہے کہ ایچ او بی سی ایک اور ڈی ریگولیٹڈ مصنوعات ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کے باوجود اس میں کمی نہیں دیکھی گئی اس جانب حکومت کو بڑی سنجدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ تنقید کے باعث آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے 5 جون کو ایچ او بی سی کی غیر ضروری طور پر زیادہ قیمت پر کچھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو تنبیہ کی تھی جبکہ Real reason for the increase in Petrol prices revealed - BaaghiTV ...سازشی طریقوں پر معاملے کو مسابقتی کمیشن میں لے جانے کا عندیہ دیا تھا۔
او ایم سیز سے بات چیت کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرول کی قیم کو گزشتہ ماہ کے پلیٹز آئل گرام سے منسلک کرنے کا اصولی فیصلہ کیا تاکہ قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار کے بجائے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اصل درآمدی قیمت کی بنیاد پر قیمتیں طے کی جائیں۔قیمتوں کے تعین کے اس طریقہ کار کو عام طور پر آئل انڈسٹری کی جانب سے موگاس 92 کہا جاتا ہے۔سب سے بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ قیمتوں کا تعین اس انداز سے کیا جائے کہ سمجھنے میں سب کیلئے آسانی ہو اور اس کی وضاحت میں بھی ابہام پیدا نہ ہو کیونکہ پاکستان میں سب سے زیادہ سیاست اور مہنگائی کا دارومدار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہوتی ہے۔اس لیے اس جانب کامل سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے اور اس گھمبیر مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق حکام نے انڈسٹری کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی فریکونسی ماہانہ رہے گی کیونکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اسے 15 روزہ بنیاد پر منتقل کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم قیمتوں کے تعین کے فارمولے کو پلیٹز آئل گرام پریویس منتھ ایوریج میں تبدیل کیا جائے گا۔
اسی طرح ایچ او بی سی کی طرز پر پیٹرول کی قیمت بھی مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ ہوجائے گی جس میں او ایم سیز اور ڈیلرز کے کمیشن بھی شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ حکومت نے یہ اتفاق بھی کیا ہے ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن کے طریقہ کار کو بھی ڈی ریگولیٹ کیا جائے گا جسے اس وقت ملک بھر میں قیمتیں یکساں رکھنے میں استعمال کیا جارہا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ قیمتیں ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک آئل کمپنی سے دوسری کمپنی سے مختلف ہوں گی۔علاوہ ازیں پورٹس اور ریفائنریز کے قریب موجود صارفین فائدے میں رہیں گے کیونکہ وہ کم قیمت پر پیٹرول حاصل کرسکیں گے جبکہ پورٹس اور آئل کی تنصیبات سے دور رہنے والے افراد کو زیادہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔مزید برآں اصل ٹرانسپورٹیشن کی قیمت پر منحصر ہونے کے باعث قیمتوں میں فی لیٹر ایک سے 5 روپے تک کا فرق ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

*