توانائی کے شعبے میں نیا ٹیرف ماڈل چھوٹے کاروبار کیلئے مفید ثابت ہو گا، نعیم صدیقی

پی ٹی آئی کی حکومت بجلی کے شعبے میں بڑی تبدیلیوں کا منصوبہ بنارہی ہے جس کے تحت صنعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے مراعات پر مبنی کم قیمت اور صارفین کے ٹیرف کو ایک بنانے، تقسیم کار کمپنیوں  (ڈسکون )کی صوبوں کو منتقلی کے علاوہ پاک چین اقتصادی راہداری  کے تحت کے الیکٹرک کے اکثریتی حصص شنگھائی الیکٹرک کو منتقل کرنا شامل ہے۔
حال ہی میں تعینات ہونے والے وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے توانائی تابش گوہر کہتے ہیں کہ حکومت ملک بھر میں یکساں بجلی کے نرخوں کو ختم کرنے پر بھی زور دے رہی ہے اس سلسلے میں کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ معاملہ جلد از جلد کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر سے حالیہ ملاقات کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے عملے نے مبینہ طور پر بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس بات کو قوی امکان ہے کہ اس معاملے کو وزیر اعظم عمران خان اعلی سطح پر مخصوص اصلاحی اہداف کے حصول کے لیے  اٹھائیں گے۔حکومت اس بات کو مانتی ہے کہ آئی ایم ایف کی قیادت کو یہ اعتماد حاصل ہوگا کہ ماضی میں وزارتی اور عملے کی سطح کے وعدوں کے برعکس پاکستان میں اعلی سطح پر وعدوں پر پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ای ایف اور حکومت کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہے لہزا اس کے مثبت نتائج کا سامنے آنا بھی لازم ہے۔۔
یہ بات بھی سننے میں آئی ہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے نیا ٹیرف ماڈل تیار کیا گیاہے اس ٹیرف کے ماڈل کو وزیر اعظم عمران خان کے سامنے پیش کیا جاچکا ہے جس کے بعد بڑی تیزی کے ساتھ اسے حتمی شکل دی جارہی ہے تاکہ اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ماڈل ٹیرف کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ اس کے تحت پیک آورزجن اوقات میں بجلی کا لوڈ زیادہ ہوتا ہے اور آف پیک آورز کے مختلف نرخوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔اس نئے ٹیرف ماڈل کے تحت بجلی کے صارفین کو اضافی بجلی کی صلاحیت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے چوبیس گھنٹے کم نرخوں سے لطف اندوز ہونے کی پیش کش کی جائے گی۔جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری چھوٹی اور گھریلو انڈسٹری کی پیدا وار میں اضافہ ہوگا اور لاگت بھی کم آئے گی جب کہ عام لوگوں کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی آئے گی۔یہ بات تسلی بخش ہے کہ موجودہ حکومت حالیہ برسوں میں ملک کی بڑی صنعتوں کو بجلی کم قیمت پر فراہم کررہی ہے جس سے برا سرمایہ دار فائدہ اٹھا رہا ہے لیکن اس کے مقابلے میں چھوٹا کاروباری طبقہ یعنی ایس ایم ای سیکٹر جو واقعتا ملازمت کے بہت زیادی ذرائع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جی ڈی پی میں خاطر خواہ شراکت کرسکتا ہے اس کو مسلسل  نظرانداز کیا گیا ہے جسکی وجہ سے عوام کی مالی و معاشی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔موجودہ حالات میں بہتری کیلئے نیا ٹیرف ماڈل چھوٹی صنعت کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم ثابت ہوگا۔
اگر حکومت کی پالیسی کے مطابق ایس ایم ایز اور یہاں تک کہ رہائشی صارفین کے لیے چوٹی کی شرحیں ختم کردی جائیں گی تو یقین کیجئے کہ اس کے نتیجے میں عوام کے بے شمار مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ہمارے ملک میں جب اضافی صلاحیت موجود ہے تو 21 روپے فی یونٹ یا اس سے زائد نرخ کا کوئی جواز نہیں ہے۔اس سلسلے میں مبنی بر حقیقت اقدامات کا اٹھایا جانا لازم ہو گیا ہے۔اگرچہ ادائیگیوں کے چیلنج کا سامنا ہے لیکن حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے قابل عمل معاشی پالیسیوں کی بدولت اس کا مقابلہ کرے ۔ایک اندازے کے مطابق رواں مالی سال میں 900 ارب روپے سے زیادہ کی ادائیگیوں کا چیلنج ہوگا اور اگلے سال 16 کھرب روپے کا امکان ہے۔اس وقت ملک بھر میں بجلی کے نرخوں کی صورتحال یہ ہے کہ اوسط قیمت بھی لوگوں کی ادائیگی کی صلاحیت سے تجاوز کرچکی ہے ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جس کا فائدہ ملک اور قوم کو بہر صورت ہونا چاہئے۔۔

Leave a Reply

*