سال 2019 میں ایک کھرب 66 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس 'چوری' کا انکشاف، نعیم صدیقی

 ایف بی آر کے سال ۲۰۱۹ کےاکائونٹس کی آڈٹ رپورٹ میں آڈیٹر جنرل پاکستان نے ٹیکس وصولیوں میں ایک کھرب 66 ارب ساڑھے 5 کروڑ روپے کے تضاد سے پردہ اٹھایا ہے اس رپورٹ کے نتیجے میں سامنے آنے والے اس تضاد کو رپورٹ میں ‘چوری’ کہا گیا ہے۔
آڈیٹر جنرل نے ایک ایسا سسٹم تشکیل دینے کی تجویز دی ہے جو سیلز ٹیکس ریٹرنز کے ڈیٹا کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس ریٹرنز میں فراہم کردہ ڈیٹا میں موجود تضادات کی نشاندہی کرے اور ڈیوٹی، ٹیکس کی وصولی کے علاوہ داخلی کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لیے قانونی دفعات کی درخواست کرے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں ان پٹ ٹیکس کے ناقابل قبول دعوئوں کو روکنے اور اس کے سافٹ ویئر سسٹم کو دیگر محکموں کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے سسٹم میں توثیق کی آن لائن نگرانی متعارف کروانے کی تجویز بھی دی گئی ہے تا کہ غیر واضح سرمایہ کاری کی شناخت کی جاسکے۔
یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ آڈٹ رپورٹ میں قابل ٹیکس سپلائیز اور سروسز کے 199 کیسز میں ایک ارب 66 کروڑ 47 لاکھ روپے ٹیکس کی عدم وصولی کا انکشاف کیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری پر قابو نہیں پایا جا سکا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔اس کے علاوہ سیلز ٹیکس رینٹرنز اور انکم ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کردہ سیلز ٹیکس میں تضاد کی وجہ سے 77 کیسز میں سیلز ٹیکس کی مد میں 5 ارب 70 کروڑ 60 لاکھ روپے کے کمی سامنے آئی۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی اس رپورٹ کے مطابق ایف بی آر 188 کیسز میں حکومت کا مقرر کردہ 5 ارب 28 کروڑ 60 لاکھ روپے کا ریونیو وصول کرنے میں ناکام رہا۔اس کے علاہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے قانونی شرائط پوری کیے بغیر 255 کیسز میں ناقابل قبول ان پٹ ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دی جس سے 5 ارب 65 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔
اسی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ 536 کیسز میں 8 ارب 96 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ٹیکس کریڈٹ کی غلط ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے اور 447 کیسز میں 7 ارب 16 کروڑ 20 لاکھ روپے کا کم از کم ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جس کا سارا نقسان ملکی خزانے کو پہنچا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق 1080 کیسز میں قبضے میں لی گئی اشیا کے عدم تصرف کی وجہ سے 3 ارب 29 کروڑ روپے کی آمدن پھنس گئی ہے جبکہ 6 ہزار 874 کیسز میں 2 ارب 56 کروڑ 3 لاکھ روپے کے ویلیو ایڈیشن ٹیکس کا ادراک نہیں کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ 3 ہزار 54 کیسز میں درآمدی اشیا کی غلط کلاسفکیشن کی وجہ سے 89 کروڑ 63 لاکھ 20 ہزار روپے کے ریونیو کا مکمل ادراک نہیں کیا گیا۔
٭وفاقی حکومت کے 9 اداروں میں پروویڈنٹ فنڈز کے خصوصی آڈٹ کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، کیا وجہ ہے کہ کرپشن کا راستہ روکا نہیں جا رہا ہے اور ہر جانب سرکاری اداروں میں کرپشن کی آوازیں آرہی ہیں؟
٭تیل اور گیس کے شعبوں میں 15 کھرب روپے سے زائد بے ضابطگیوں کا انکشاف بھی ہوا ہے اس حوالے سے بھی خبریں آ رہی ہیں، اس کا ذمہ دار کس کس کو ٹھہرایا جائے۔پی ٹی آئی کی حکومت کو ہر جگہ کہیں نہ کہیں مافیا کا سامنا ہے لیکن ضروری ہے کہ اس مافیا کو بے نقاب کر کے سخت قانونی کاروائی کی جائے اور ٹیکس چوری و کرپشن کے کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

Leave a Reply

*