براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ،حکومت فوری نوٹس لے، نعیم صدیقی

یہ بات غور طلب ہے کہ کچھ عرصہ سے پاکستان میں غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری میں کمی دیکھی جا رہی ہے جو کہ ہماری معاشی صورتحال کیلئے تشویش کا باعث ہے ۔اس سے نہ صرف ملک کی ترقی،عوام کی خوشحالی اور روزگار پر اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ زر مبادلہ پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔حکومت کو اس جانب نہایت سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینا ہوگی اور ان وجوہات کا پتہ لگا کر فوری سد باب کرنا ہوگا جن کی وجہ سے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔اس وقت پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات کا نتیجہ ہے کہ ملک میں مہنگائی ،بیروزگاری اور بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے جس کا تدارک روزگار کے ذرائع پیدا کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔اگر بیرونی سرمایہ کاری میں مسلسل اجافہ ہوگا تو اس کے فوائد عوام کو ملیں گے اور پاکستان کی معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانیوالے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر کے دوران ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سالانہ بنیادوں پر 50.7 فیصد کم ہوکر گزشتہ سال کے 38کروڑ 35 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 18کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہو گئی۔ مجموعی طور پر رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 24فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں مالی سال 21 کے پہلے دو ماہ میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اس وقت حالات یہ ہیں پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 4 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جس میں بہتری کیلئے ہر ممکن اقدامات اور نئے ذرائع تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ مالی سال 2021 میں جولائی سے ستمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر 41 کروڑ 57 لاکھ ڈالر ہو گئی جبکہ گزشتہ مالی سال اسی مدت میں یہ سرمایہ کاری 54 کروڑ 55 لاکھ ڈالر تھی اور اس لحاظ سے 23.8فیصد کمی واقع ہوئی۔
اگر دیکھا جائے تو پاکستان میںبراہ راست غیرملکی سرمایہ کاری پہلے ہی کم تھی کیونکہ غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم کم تھا جو پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی کم دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 40 فیصد بڑھ گئی تھی لیکن جولائی میں یہ تقریبا فلیٹ رہی تھی۔تاہم ستمبر میں آنے والی رقوم اگست میں موصول ہونے والی 11کروڑ 23لاکھ ڈالر سے زیادہ تھی۔پاکستان کیلئے یہ بات خوش آئند ہے کہ چین کی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں دگنی رہی، مالی سال 21 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کو 10کروڑ 36 لاکھ ڈالر موصول ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں پچھلے مالی سال کی رقم 5کروڑ 54 لاکھ ڈالر تھی، چین پچھلے کچھ سالوں میں سب سے بڑا سرمایہ کار رہا ہے۔
جولائی میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 61فیصد کا اضافہ ہوا لیکن اس کے بعد پھر اس میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔تاہم گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ناروے سے آنے والی آمدنی نے مجموعی طور پر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا تھا کیونکہ ملک میں 24 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ سرمایہ کاری محض تینکروڑ ڈالر تھی۔ہانگ کانگ سے کی جانے والی سرمایہ کاری پہلی سہ ماہی کے دوران بڑھ کرتینکروڑ 84 لاکھ ڈالرز ہو گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں یہ صرف 69 لاکھ ڈالرز تھی۔مالٹا سے ہونے والی سرمایہ کاری دونوں مالی سالوں کی پہلی سہ ماہی کے دوران5 کروڑ 56لاکھ ڈالرز رہی۔گزشتہ مالی سال میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2کروڑ 65 لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی جو اس سال کم ہو کر ایک کروڑ 89لاکھ ڈالرز رہ گئی۔
یورپی ملک ہالینڈ سے آنے والی سرمایہ کاری بڑھ کر 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز ہو گئی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصہ میں ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
رواںمالی سال کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی توجہ کا محور بجلی کا شعبہ تھا جس نے گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میںتینکروڑ 23 لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 11کروڑ 33 لاکھ ڈالرز وصول کیے۔
پاکستان میںایک اور مفید کاروباری شعبہ بنکوں کا ہے جہاں گزشتہ سال 3 کروڑ 7 لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 10کروڑ 25لاکھ ڈالرز وصول کیے گئے۔ سب سے کم سرمایہ کاری مواصلات کے شعبے میں دیکھی گئی ہے گزشتہ مالی سال میں 30 کروڑ 74لاکھ ڈالرز کی آمدنی کے مقابلہ میں اس سال صرف تینکروڑ 75لاکھ ڈالرز موصول ہوئے ہیں جو کہ اس شعبے کی تنزلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ٹیلی مواصلات کا شعبہ ایسا تھا جو سب سے زیادہ متاثر ہوا کیونکہ کو گزشتہ مالی سال میں اسے دوکروڑ 60 لاکھ ڈالرز موصول ہوئے جبکہ پچھلے مالی سال میں 29 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز موصول ہوئے تھے۔
تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں بھی بہتری آئی ہے کیونکہ گزشتہ مالی سال کے تینکروڑ 98 لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 6کروڑ 72لاکھ ڈالرز موصول ہوئے۔اگر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو ملک کے معاشی صورتحال میں بہتری دکھائی دیتی ہے لیکن جب عوام کے معیار زندگی اور مہنگائی و بیروزگاری کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ حکومت کو ملک کے اندر معاشی صورتحال بہتر بنانے کیلئے تاجر برادری بالخصوص چھوٹے کاروباری لوگوں کو سہولیات فراہمکرنا ہوں گی۔اشیاء خوردو نوش کی قیمتی پر کڑی نظر رکھنا ہوگی اور جس انداز سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اسے روکنا ہوگا۔بجلی اور گیس کے علاوہ تیل مصنوعات کی قیمتوں مین اگر کمی لائی جا سکتی ہے تو حکومت کو فوری طور پر اس جانب توجہ دینا ہوگی کیونکہ اس وقت ملک بھر میں غربت وبے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے،چھوٹا کاروباری طبقہ مالی بحران کا شکار ہے اور عوام کی قوت خریدشدید متاثر ہ ہوئی ہے جس کا سد باب کرنا حکومت کا اولین اور لازمی فریضہ ہے۔

Leave a Reply

*