غیر ضروری وِد ہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ حکومت کا بہترین اقدام ہوگا، نعیم صدیقی

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی و رہائشی مسائل کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے تمام صوبوں کو ہدایات کی ہیں کہ عام لوگوں کو رہائش کے لیے قرضوں کے حصول میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ پاکستان کے نچلے اور متوسط طبقے کے لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔ عوامی سطح کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خواہش،ہدایت اور بھرپور کوشش ہے کہ ملک میں صنعتی شعبے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے اس شعبے کوٹیکس میں ہر ممکن حد تک رعایت دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی آمدنی اور ریونیو میں اضافے  کے علاوہ مزید ریونیو پیدا کرنے کے لیے ٹیکس کے مروجہ نظام میں انقلابی اور مفید تبدیلیوں کی ضرورت پر جس طرح بھرپور توجہ اور زور دیا جا رہا ہے یہ ملک کی معاشی حالت اورعوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
وزیراعظم ہائوس میں قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاوسنگ، تعمیرات و ڈیولپمنٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ صوبوں کو آن لائن پورٹل کا بھر پور استعمال کرنا چاہیے تاکہ منظوری کے عمل کو شفاف اور تیز بنایا جائے اس کے ثمرات کو جلد از جلد عوام تک پہنچنا چاہئے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ وزیراعظم نے غریب افراد کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ انہیں بینکوں سے قرضوں کے حصول میں ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں۔اب دیکھنا یہ کہ ریاست کے ادارے اور ذمہ داران کی جانب سے عملی سطح پر ان سارے انقلابی اقدامات کو عملی جامہ کیسے پہنایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے بھی حکومت اور وزیراعظم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہائوسنگ اسکیم کے تحت تعمیر کیلئے ہر گھر کو 3 لاکھ روپے کی سبسڈی ملے گی۔اس سلسلے میں اگر فوری عملی اقدامات شروع کر دیے جائیں تو ملک کے اندر لاکھوں لوگوں کو روزگار میسر آئے گا ۔ جو لوگ اپنا گھر بنانے کی شدید ضرورت محسوس کرتے ہیں وہ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن لازم ہے کہ اس کام کو ون ونڈو کی تحت شفاف اورایمرجنسی بنیادوں پر پایہء تکمیل تک پہنچانے کی پالیسی اپنائی جائے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے وزیراعظم کوغریب اور متوسط طبقے کے لیے آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ جس کے بعد یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اب عام لوگوں کیلئے بنکوں سے قرضوں کے حصول میں آسانی ہوگی بلکہ انھیں آسان شرائط پر قرض دیے جائیں گے۔نیشنل بینک، الائیڈ بینک، میزان بینک، بینک الحبیب، حبیب بینک اور بینک آف پنجاب کے سربراہان نے وزیر اعظم کو نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کے تحت قرضوں کی فراہمی کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ اسلامی اور روایتی بینکوں کے تحت قرضوں کی حصولی کا عمل آسان بنایا گیا ہے۔ اس ضمن میں مختلف برانچز میں خصوصی ڈیسک بھی بنا دئے گئے ہیں۔یہ خبریں بھی سامنے آ چکی ہے کہ ہمارے بنک خود سے سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور گذشتہ سالوں کی نسبت کاروباری اور شخصی قرضوں کی فراہمی کا حجم بہت کم ہو گیا ہے۔اس جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے۔بینکوں کے سربراہان نے وزیراعظم کو شعبہ تعمیرات کے فروغ اور معاشرے کے غریب طبقے کو اپنا گھر بنانے کی سہولت مہیا کرنے کے سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے یہ بہت اچھی بات ہے اور اسے عملی بنیادوں پر ہوتے ہوئے نظر آنا چاہئے۔۔
بنک سربراہان کی جانب سے وزیر اعظم اور حکومتی معاشی ٹیم کو کورونا وبا کی صورتحال مد نظر رکھتے ہوئے کاروباری طبقے بشمول بینکوں کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا۔یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل کو مختصر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ قرضہ لینے والے افراد کے کوائف کی تصدیق جلد اور تیزی سے ہو سکے۔چیف سیکریٹری پنجاب جواد رفیق نے اجلاس کو بتایا کہ تعمیرات اور بلڈرز کے لیے آن لائن پورٹل متعارف کروایا جاچکا ہے جس پراب تک 6 ہزار 994 درخواستیں موصول ہوئی اور ان میں سے 54 فیصد کی منظوری دی جا چکی ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا متعلقہ اداروں کو بھی آن لائن پورٹل کے ذریعے منسلک کیا گیا ہے تاکہ منظوری کے عمل میں تاخیر نہ ہو۔ درخواست کی منظوری کے عمل کے لیے وقت مقرر کیا گیا ہے اور درخواست دہندہ اپنے کیس کے بارے میں موبائل ایپلیکشن کے ذریعے آگاہ رہتا ہے۔امید کی جانی چاہئے کہ جیسے وزیراعظم کو بتایا جاتا ہے عملی طور پر بھی ایسا ہی ہو۔
پاکستان میں مروجہ ٹیکس نظام کی تجدید نو اور اس میں موجودہ حا لات اور کاروباری برادری کی ضرورت کے مطابق مناسب تبدیلیوں کی فوری ضرورت ہے۔یہ تبدیلیاں فوری طور پر نافذ العمل بھی ہوں اور اس کا فائدہ پاکستان اور تاجر برادری کو ہونا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف رینیو(ایف بی آر) کی تجدید حکومت کی اولین ترجیح ہے کیوں کہ ملک کی معیشت میں استحکام کے لیے ٹیکس سٹم کی بنیادکو وسعت دینا انتہائی اہم ہے۔ایف بی آر اور نظام ٹیکس پر بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا اور ہدایت کی کہ ایف بی آر اور نظام ٹیکس میں جدید ترین ٹیکنالوجی متعارف کروائی جائے تاکہ ٹیکس کانظام شفاف ہونے کے ساتھ ساتھ ملک اور قوم کیلئے مفید و آسان بھی ہو۔وزیراعظم نے بڑے واضع انداز میں کہدیا ہے کہ اگر ایف بی آر ٹھیک نہیں ہوا تو نیا ادارہ بنایا جائے گا۔ یقینا پاکستان کی تاجر برادری اور صنعتکار وزیراعظم کی اس تجویز سے متفق ہیں لیکن ایف بی آرایک منظم ادارہ ہے اس کومزید فعال اور مفید بنایا جا سکتا ہے۔جاپان کے ٹیکس ماڈل کو لیکر اسی ادارے میں مثبت انداز سے تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ٹیکس گزاروں پرعائد مختلف ٹیکسوں کی بابت وزیرِاعظم نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ کہا ہے کہ غیر ضروری ودہولڈنگ ٹیکسز کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیئے۔یہ تاجر برادری کا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ غیر ضروری ٹیکس ختم کیے جائیں تاکہ پاکستان کی صنعت اور معیشت میں بہتری پیدا ہو،روزگار کے ذرائع پیدا ہوں۔
نظام ٹیکس بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے ٹیکس ریٹرنز اور ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا جانا ضروری ہے اس کا فائدہ حکومت اور عوام دونوں کو ہوگا۔اس بات کی ضرورت ہمیشہ سے محسوس کی جا رہی ہے لیکن ہمارے ہاں سرخ فیتے کی وجہ سے عوام کی بھلائی اور بہتری کیلئے سرکاری اداروں کے عمل کو سہل اور مفید بنانے پر توجہ نہیں دی جاتی جس کا سارا نقصان پاکستان کی معیشت کو ہوتا ہے اور کاروباری برادری مسائل کا شکار رہتی ہے۔اگر موجودہ حکومت ٹیکس نظام میں مثبت و مفید بہتری لاتی ہے اور غیر ضروری ٹیکسوں بالخصوص ود ہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ کرتی ہے تو ہمیں یقین ہے کہ ملک بھر کے تاجر،صنعتکار اور چھوٹا کاروباری طبقہ اور دوکاندار حکومت کے اس اقدام کی بھرپور حمایت کریں گے ۔ اس کے نتیجے میں تاجر برادری کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی بھلا ہوگا کہ ہم جس معاشی بحران۔مہنگائی اور بیروزگاری کے گھمبیر مسائل سے دوچار ہیں ان کو حل کرنے میں آسانی پیدا ہوگی اب دیکھنا یہ کہ حکومتی ادارے وزیراعظم کی ہدایات اور احکامات پر کس ھد تک اور کتنی تیز رفتاری سے عمل درآمد کرتے ہیں۔

Leave a Reply

*