ایف اے ٹی ایف کا اجلاس،پاکستان بلیک لسٹ نہیں ہوگا،نعیم صدیقی

Corruption

ایف اے ٹی ایف ٹاسک فورس کے تین روزہ جائزہ اجلاس کے دوران عالمی واچ ڈاگ نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے حوالے سے7 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر پاکستان کی جانب سے عمل درآمد کا جائزہ لیا اور اس بات کا فیصلہ بھی کیا گیاکہ جب پاکستان تمام 27 نکات پر عمل درآمد یقینی بنا لے گا تب ایک ٹیم پاکستان کا دروہ کرے گی جس کا مقصد زمینی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔اس وقت چھ نکات ایسے ہیں جن پر عمل درآمد ایف اے ٹی ایف کا بنیادی مطالبہ اور گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے عمل درآمد سے مشروط ہے یقینا پاکستان مقررہ مدت کے دوران آخری چھ نکات پر بھی عمل درآمد کرے گا جیسا کہ اب تک اکیس نقاط پر عمل درآمد کیا جا چکاہے۔
ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان نے جن چھ نکات پر عمل کرنا ہے وہ بہت اہم ہیں اور حکومت پاکستان نے ان نکات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔مارک پلئیر کا کہنا تھا کہ ایران اور شمالی کوریا کے نام بلیک لسٹ میں شامل رہیں گے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اس اجلاس کے بعد آئس لینڈ اور منگولیا کا نام گرے لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں پاکستان کے بارے میں اچھی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے ستائیس میں سے اکیس نکات پر کامیابی سے عمل درآمد کر لیا ہے جبکہ ابھی تک باقی چھ نکات پر جزوی عمل درآمد کیا گیا جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان بقیہ نکات پر مکمل عملدرآمد کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کی مہلت دی جارہی ہے۔امید کی جانی چاہئے پاکستان اس محدود مدت کے دوران تمام نکات پر عمل درآمد کر کے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے کامیابی کے ساتھ نکل آئے گا ۔بلیک لسٹ کیے جانے کا بھارتی پروپیگینڈہ خاک میں ملانے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کی حکومت پوری یکسوئی کے ساتھ اس پر عمل درآمد کرے تاکہ پاکستان کوعالمی برادری میں معاشی ، تجارتی ا ور سفارتی حوالے سے جن شدید مشکلات کا سامنا ہے ان کا فوری ازالہ ہو سکے اور وطن عزیز تعمیر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ایف اے ٹی ایف کے اعلامیے میں منی لانڈرنگ کی روک تمام کے لیے پاکستانی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے بیشتر نکات پر عمل درآمد کے لیے خاطر خواہ کام کیا ہے۔جو کہ قابل تعریف ہے۔اس حوالے سے یہ بات خوش آئند تھی کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر قانون سازی میںحکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے کا پھرپور ساتھ دیا تھا۔
اس حوالے سے وزیر صنعت حماد اظہر کہتے ہیں کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر متاثر کن کام کیا ہے۔وفاقی اور صوبائی ٹیموں کو مبارکباد دیتے ہوئے حماد اظہر کا کہنا تھاکہ اس کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے سب نے کورونا بیماری کے باوجود شب و روز کام کیا ہے۔ پاکستان کی پیشرفت کے بعد ایف اے ٹی ایف نے تسلیم کیا تھا کہ اب پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ زیر غور نہیں ہے۔
واضع رہے کہ ایف اے ٹی اے کے پلانری گروپ کی جانب سے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے عمل میں پائی جانے والی مختلف خامیوں کو بنیاد بنا کرجون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میںشامل کر دیا تھا۔
اکتوبر 2019 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو رواں برس فروری تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 27 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی مہلت دی تھی۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے اسلام آباد کو مزید اقدامات لینے کی ہدایت کی تھی جبکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات کے حل میں کارکردگی کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ایف اے ٹی ایف نے 21 فرروی 2020 کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان کو 27 نکاتی ایکشن پلان پر عمل کے لیے دی گئی تمام ڈیڈ لائنز ختم ہوگئی ہیں اور اب تک صرف 14 نکات پر عملدرآمد ہوا جبکہ 13 اہداف اب بھی باقی ہیں۔ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ جون 2020 تک تمام ایکشن پلان پر تیزی سے عمل کیا جائے ورنہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کردیا جائے گا۔تاہم کورونا وائرس کی وبا کے باعث ایف اے ٹی ایف کے ہر سطح کے اجلاس ملتوی ہوگئے تھے جس سے پاکستان کو نکات پر عملدرآمد کے لیے چار ماہ کا اضافی وقت مل گیا تھا۔
یہ بات قابل تحسین ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہا ہے اس لیے یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف ہمیں بلیک لسٹ میں شامل نہیں کرے گا لیکن جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان پر مزید دبائو بڑھایا جا رہا ہے۔اس وقت دنیا کا عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے۔چین اور پاکستان کی دوستی لازوال ہے۔سی پیک کا منصوبہ موجودہ دور میں ایک عظیم الشا ن معاشی منصوبہ ہے جو ساری دنیا کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں تاریخ ساز کردار ادا کر سکتا ہے۔اس کی کامیاب تکمیل پاکستان کی خوشحالی کی ضمانت ہے اس لیے ہمیں دنیا کے ساتھ اپنے معاملات انتہائی دانشمندی اور خوش اسلوبی کے ساتھ کرنا ہوں گے کیونکہ پاکستان بائیس کروڑ آبادی کا ایک ایٹمی قوت سے لیس ملک ہے۔آج پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں انھیں حل کرنے لیے ملک کے اندر اتفاق اور اتحاد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ہمیں جو کچھ کرنے کو کہا جا رہا ہے ہمیں اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا کیونکہ آج کے دور میں یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم عالمی برادری سے کٹ کر کچھ کر سکتے ہیں۔پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر اچھے تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے جو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اگرچہ یہ بہت کم وقت ہے لیکن اگر عزم پختہ ہو تو سارے معاملات کو فی زمانہ ضرورت کے مطابق حل کیا جا سکتا ہے۔
اگر ہم غور سے دیکھیں تو آج کی دنیامیں بے شمار تبدیلیاں روما ہو رہی ہیں۔ کورونا کی عالمی وبا کووڈ 19 کے بحران میں ہم دیکھتے ہیں کہ بیشتر مغربی ممالک،امریکہ اور لاطینی امریکہ کے ملک اس کی لپیٹ میں ہیں۔اس بیماری نے دنیا بھر کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں جن سے عہدہ برآ ہونے کیلئے لازم ہے کہ امیر ممالک اب غریب ملکوں کو قرضوں اور معاشی زینجیروں میں جکڑنے کی بجائے سب کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔قرضوں کی ادائیگی ہر ممکن حد تک معاف کریں یا اس میں مہلت دی جائے تاکہ غریب اور ترقی پذیر ممالک اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔

Leave a Reply

*