کورونا وائرس سے پاکستان میں تعلیم کی زبوں حالی توجہ کی منتظر ،نعیم صدیقی

کورونا وائرس کی وبا نے جہاں ساری دنیا کو تعلیم وصحت اور معیشت کے میدان میں شدید ترین مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے وہاں ہم دیکھتے ہیں کہ تیسری دنیا کے غریب اور ترقی پذیرمماک ہر لحاظ سے بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے سارے خواب اور عملی اقدامات کورونا وائرس وبا کی نذر ہو گئے ہیں۔اس وقت دنیا کی نصف سے زائد آبادی امیر ممالک کی جانب دیکھ رہی ہے کہ وہ امداد یا آسان شرائط پر قرضے دیں گے تو یہ ممالک اپنی معیشت کو سہارا دے سکیں گے۔اس سے پہلے جی ٹونٹی یعنی قرض دینے والے امیر ترین ملکوں سے اقوام متحدہ اوربہت سے ملکوں کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ ان کو جو قرض دئے گئے ہیں ان کی واپسی میں بھی رعایت دیتے ہوئے مڈت بڑھا دی جائے ۔اس حوالے سے مثبت پیش رفت اچھی بات ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے شعبوں میںتعلیم کا شعبہ ان تمام شعبوں سے اس لیے اہم ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار تعلیمی نظام اور شرح خواندگی پر ہوتاہے۔دنیا میں صرف ان ممالک نے حیرت انگیز ترقی کی ہے جہاں تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔اس وقت دنیا میں تعلیم کا نظام بری طرح متاثر ہے۔ابتدائی کلاسوں کے بچے گذشتہ فروری سے اب تک سکول جانے سے قاصر ہیں۔جس کی وجہ سے ان کی علمی استعداد شدید متاثر ہو رہی ہے۔دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی تعلیمی ادارے کئی ماہ سے بند ہیں۔چند روز پہلے جب تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ اس وائرس کے پھیلنے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔جس کی وجہ سے بعض چھوٹی اور بڑی کلاسوں والے ادارے سیل کر دیے گئے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر پھیل رہی ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان کے نظام تعلیم پر پڑنے والے کورونا وائرس کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کو آسان شرائط پر 20 کروڑ ڈالرکا قرض دینے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ کسی طرح سے ترقی پذیر ممالک کو اس موذی وبا کے دوران ہر ممکن حد تک معاشی لحاظ سے سہارا دیا جائے۔حال ہی میں عالمی بینک کی جانب سے ایک نئی رپورٹ بھی سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کے نتیجے میں پاکستان میں تعلیمی بدحالی 79 فیصد بڑھ جانے کا امکان ہے۔یہ انتہائی خطرناک شارے ہیں۔ تعلیمی کے شعبے میں بدحالی کا مطلب یہ کہ 10 سال کی عمر تک کے بچے سادہ ترین لکھی ہوئی تحریر کو بھی پڑھنے کے قابل نہیں ہونگے۔ کم اوردرمیانے درجے کی آمدن والے ممالک میں 53 فیصد بچے اپنی پرائمری اسکول کی تعلیم ختم ہونے کے بعد بھی ایک سادہ سی کہانی نہ تو پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کا مطلب سمجھ پاتے ہیں۔ اس شرح میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو اسکولوں سے باہر ہیں اور وہ بھی جو اسکول کی تعلیم حاصل کرنے باوجود 10 سال کی عمر تک پڑھنا یا لکھنا نہیں سیکھ پاتے۔اگر ہم پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کو دیکھتے ہیں تو یہاں بھی افسوسناک صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تعلیمی بدحالی کی شرح پہلے ہی خاصی بلند یعنی 75 فیصد ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے اسکولوں کی بندش سے پاکستان میں تعلیمی نقصان کے عنوان سے عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ عالمی بنک کے تخمینے  پتھر پر لکیر کی مانند ہر گز نہیں ہیں بلکہ حکومت کے تعاون کے ساتھ ڈیولپمنٹ پارٹنرز مناسب اقدامات اٹھا کر ان اعداد و شمار میں خاطر خواہ کمی لا سکتے ہیں بالخصوص اب جبکہ اسکول دوبارہ کھل گئے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے ہے ااس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی طالب علم اسکول نہ چھوڑے، بچوں کے اسکولوں میں داخلے کیلئے یک منظم مہم چلا ئی جائے اور دوبارہ داخلوں پر رقم دی جائے، مسئلے کی اصل نوعیت جاننے کے لیے طلبہ کے ٹیسٹس کا استعمال کیا جائے اور اساتذہ کو طلبہ کی سطح پر تعلیم بہتر بنانے اور اس کی منصوبہ بندی میں سہولت فراہم کی جائے۔ عالمی بنک کی رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ مواصلات کو توسیع دے کر فاصلاتی تعلیم تک رسائی بہتر بنائی جائے، ڈیوائس کی ملکیت اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب پروگرام دستیاب ہو تو بچوں کے اہل خانہ اس بات سے واقف ہوں۔اس کے علاوہ مواد کو مزید ترقی دے کر فاصلاتی تعلیم کا معیار بہتر بنایا جائے۔اگرچہ پنجاب حکومت نے کیبل کے ذریعے ٹیلی ویژن پر بچوں کی تعلیم کے پروگرام شروع کیے تھے لیکن ہمیں اس میں کوئی بہتری یا ترقی دکھا ئی نہیں دیتی۔سنجیدگی اور ایمانداری کسی بھی کام کیلئے لازم ہوا کرتی ہے۔
عالمی بنک کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے آغاز سے ہی پاکستان نے فاصلاتی تعلیم میں معاونت کے لیے ایک بہترین انفرا اسٹرکچر قائم کیا لیکن عالمگیر اپیل کے باوجود فاصلاتی تعلیم تک معاشرے کے تمام لوگوں کی رسائی نہیں ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر گھروں میں ٹیلی ویژن دستیاب ہے لیکن عالمی سطح پر قابل رسائی سے کوسوں دور ہے یہاں تک کہ پاکستان میں اب ٹیکنالوجی کے سادہ سے آلات مثلا ریڈیو وغیرہ بھی باقاعدگی سے استعمال نہیں ہوتے حالانکہ یہ وقت ہے کہ والدین اپنے بچون کو علم کی جانب راغب کریں اور ریڈیو کی سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے تا کہ بچے جس حد تک ممکن ہے علم سیکھ سکیں اس سلسلے میں حکومت کو عوام کی مدد کرنا ہوگی رہنمائی کرنا ہوگی اور جیسا کہ ایف ایم ریڈیو کی نشریات مملک بھر میں عام ہیں۔ان نشریات کے ذریعے بھی تعلیم کو عام کیا جا سکتا ہے اور بچوں کی دلچسپی کے پروگرام نشر کیے جا سکتے ہیں۔ہمارے کمیونٹی سینٹر بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔والدین پر بھی لازم ہے کہ بچوں کو گھر میں تعلیم کا پابند بنائیں اور خود ان کو سبق پڑھائیں۔موجودہ حالات نہایت افسوسناک اعشاریے پیش کر رہے ہیں۔عالمی بنک کی رپورٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں واضع طور پر اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق مزید 9 لاکھ 30 ہزاربچے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں سے نکل جائیں گے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں پہلے ہی 2 کروڑ 20 لاکھ بچے بنیادی تعلیم سے محروم سکول میں نہیں جاتے ہیں۔کورونا وبا کی موجودہ خوفناک صورتحال میں اس تعداد میں چار اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ہمیں یہ بات نہایت افسوس سے کہنا پڑتی ہے کہ عالمی سطح پر اگر دیکھا جائے تو پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں کورونا وائرس کی بیماری کی وجہ سے سکول چھوڑ کر گھر بیٹھ جانے والے بچوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔اس کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہم سب کا فرض اور ارباب حکومت کی قومی ذمہ داری ہے کیونکہ قومیں تعلیم اور ٹیکنالوجی کی بدولت ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کرتی ہیں۔ہمارا مستقبل ہمارے آج کے بچے ہیں ان کی تعلیم و تربیت ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی کہ ہمارا دین سب سے پہلے علم کے حصول کی ترغیب اور حکم دیتا ہے۔

Leave a Reply

*