امریکا کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا شورکیوں ہے ؟نعیم صدیقی

امریکا میں ہونے والے موجودہ صدارتی انتخابات اگرچہ ختم ہو چکے ہیں لیکن ووٹوں کی گنتی کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ جس کی وجہ سے مکمل نتائج کے آنے میں دیر ہو رہی ہے ۔اگرچہ اس تاخیر کی بنیادی وجہ ایک تو بذریعہ ڈاک آنے والے لاکھوں ووٹوں کی گنتی ہے اور دوسرا کورونا کی وبا بھی الیکشن کے نتائج کی تاخیرکی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔ان امکانات کا پہلے ہی اعلان کر دیا گیا تھا لیکن دیکھا یہ جا رہا کہ صدر ٹرمپ کے حامی الیکشن میں دھاندلی اور ووٹ چوری کے الزامات لگا رہے ہیں۔ امریکا سے آنے والی معلومات کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے ڈاک کے ذریعے دیے گئے ووٹس کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جن کی گنتی آسان کام نہیں اور نہ ہی مختصر وقت میں یہ گنتی مکمل کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدارتی انتخاب کو مکمل ہوئے آج تیسرا روز ہے لیکن مکمل نتائج کا انتظار ہے۔ چند سوئنگ سٹیٹس یعنی سخت مقابلے والی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے جس کے مطابق اب تک جو بائیڈن کا پلڑا اچھا خاصا بھاری نظر آتا ہے اور یہی بات صدر ٹرمپ کیلئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے کہ وہ اپنی شکست تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔جو نتائج آج آخری وقت تک سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ڈیموکریٹس امیدوار جو بائیڈن واضع اکثریت کے ساتھ وائٹ ہائس کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
امریکا کے صدارتی انتخابات میں صد ارات کے عہدے کی کامیابی کے لیے 270 الیکٹورل ووٹس کی ضرورت ہوتی ہے جن میں سے ڈیموکریٹس پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن نے آخری نتائج کے مطابق اب تک 264 الیکٹورل ووٹس حاصل کرلیے ہیں جبکہ ان کے مد مقابل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حصے میں 214 الیکٹورل ووٹس آئے ہیں تاحال تمام ریاستوں کے ووٹوں کی گنتی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے کیونکہ کئی ریاستوں کے انتخابی نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔جن اہم امریکی ریاستوں کے نتائج جمعہ کے روز تک آنا باقی ہیں ان میں 16 الیکٹورل ووٹس والی ریاست جیارجیا، 15 الیکٹورل ووٹ والی ریاست شمالی کیرولینا اور نیواڈا شامل ہیں نیواڈا کے الیکٹورل ووٹس کی تعداد چھ ہے تاہم نارتھ کیرولینا میں انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹس کی گنتی 12 نومبر تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ابھی مکمل نتائج کا اعلان ممکن نہیں ہے کیونکہ امریکہ میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ آخری ووٹ تک  گنتی کی جائے۔انتخابی دن کے بعد سے اب تک تین روز گزرنے کے باوجود کوئی امیدوار وائٹ ہاس کے لیے درکار ووٹس حاصل نہیں کرپایا تاہم بڑی جھیلوں کے نام سے معروف ریاستوں میں جو بائیڈن کی کامیابی نے انہیں 264 ووٹس کے مضبوط و پرامید ہندسےتک Live: Biden holds edge as US election goes down to wire | Dhaka Tribuneپہنچا دیا ہے یعنی وہ صدر منتخب ہونے کے لیے صرف ایک سوئنگ ریاست کے نتیجے کے فاصلے پر ہیں۔
امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے حامی نتائج کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
ریاست ایریزونا میں جو بائیڈن کو جو برتری اب تک حاصل ہے اگر ان کی یہ سبقت قائم رہتی ہے تو جیارجیا، شمالی کیرولینا یا نیواڈا میں سے کسی ایک ریاست میں بھی ان کی جیت ان کو وائٹ ہائوس تک پہنچانے کیلئے کافی ہو گی کیونکہ ان کو محض چند اور الیکٹورل ووٹس کی ضرورت ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان سے بہت پیچھے ہیں۔تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ وہ صدارتی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے ان تینوں ریاستوں میں کامیابی حاصل کریں۔
ریاست نیواڈا کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو یہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس ریاست کے نتائج بھی جو بائیڈن کے حق میں جارہے ہیں۔اگر ریاست ایریزونا میں ان کی کامیابی قائم رہتی ہے تو ریاست نیواڈا سے انہیں کامیابی کے لیے درکار 6 الیکٹورل ووٹس حاصل ہوسکتے ہیں،اس ریاست میں 89 فیصد ووٹوں کی گنتی ہوچکی ہے جس میں جو بائیڈن کو صدر ٹرمپ پرساڑھے 11 ہزار ووٹس کی برتری حاصل ہے۔ان سب  ریاستوں سے ہٹ  کر دیکھا جائے تو ریاست پینسلوینیا  میں سب سے بڑا اور اہم ترین انتخابی مقابلہ ہے اس ریاست کے الیکٹورل ووٹس کی تعداد بیس ہے جو کہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، جیارجیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن بہت بہتر لیکن یہاں بھی ڈیموکریٹس کی حمایت کرنے والے علاقوں مثلا گریٹ فلاڈیلفیا میں اکثر ووٹوں کی گنتی ابھی ہونا باقی ہے جو کہ ڈیموکریٹس امیدوار جو بائیڈن کو ملنے کے زیادہ امکانات ہیں۔
یہ بات کچھہ عرصہ قبل بھی کہی گئی تھی اور اب بھی یہ دکھائی دیتا ہے کہ نتائج میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے ڈاک کے ذریعے دیے گئے ووٹس کا انبار ہے اور ان ووٹوں کا نتیجہ جو بائیڈن کے حق میں جانے کا امکان سب سے زیادہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے حامی ووٹ چوری کے نعرے لگا رہے ہیں اور جو بائیڈن کے حامی آخری ووٹ تک کی گنتی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ایک جانب جو بائیڈن کو ایریزونا کی کامیابی برقرار رکھتے ہوئے نیواڈا یا جیارجیا میں جیتنے کی ضرورت ہے جو انہیں درکار 270 الیکٹورل ووٹس فراہم کرے گی تو دوسری جانب شمالی کیرولینا، جیارجیا میں برتری رکھنے والے امریکی صدر کے لیے نیواڈا کے ساتھ ساتھ پیسلوینیا میں بھی کامیابی سمیٹنا ضروری ہے۔
متعددامریکی ریاستوں میں الیکشن حکام، امریکی صدر کی جانب سے انتخاب میں دھاندلی کے بے بنیاد دعوے کے بعد اپنے دفاتر کے باہر جمع ہونے والے مشتعل مظاہرین کی دھمکیوں کے باعث اپنے عملے کے تحفظ کے لیے فکر مند ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے نیواڈا کے ایک رجسٹرار کا کہنا تھا کہ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میری اہلیہ اور میری والدہ میرے حوالے سے کتنی فکر مند ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا عملہ نہ صرف سیکیورٹی میں اضافہ کررہا ہے بلکہ انتخابی دفاتر آنے اور جانے والی گاڑیوں کی بھی نگرانی کررہا ہے۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ وہ اور دیگر افراد ووٹوں کی گنتی کرنے کے اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ فوئینیکس، ڈیٹروئیٹ اور فلا ڈیلفیا میں ووٹوں کی گنتی کے مقامات پر امریکی صدر کے حامی گروہوں کی شکل میں اکھٹے ہوگئے تھے اور ایسے نتائج کو ماننے سے انکار کر رہے تھے جس میں جو بائیڈن کو برتری حاصل تھی۔حالانکہ مظاہرے پرتشدد یا بہت بڑے نہیں تھے لیکن مقامی حکام کو ہجوم اور ان کے لگاتار الزامات سے تشویش ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی اور ووٹ چوری کے الزامات موجودہ صدر کی جانب سے لگائے جا رہے ہیں حالانکہ امریکہ کی یہ روایت نہیں رہی ہے۔دوسری جانب سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک نے اسٹاپ دی اسٹیل یعنی چوری روکو نامی فیس بک گروپ پر پابندی لگادی ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ووٹوں کی گنتی کے خلاف احتجاج منعقد کرنے کے لیے استعمال کررہے تھے۔ اس گروپ میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد اراکین شامل تھے ان ھالت میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ دھاندلی اور ووٹ چوری کے الزامات میں وائٹ ہائس کی صدارتی کرسی پر کون بیٹھے گا۔ صدر ٹرمپ کے حمائتیوںں کی جانب سے مظاہروں کو دیکھتے ہوئے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حمائتی ووٹوں کی مکمل گنتی پر اثر انداز ہونے کیلئے کتنے منظم انداز میں الیکشن میںدھاندلی اور ووٹ چوری کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے احتجاج کا منصوبہ بنا ئے بیٹھے ہیں تاہم امریکی ادارے اسقدر مضبوط ہیں کہ وہ ایسی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے بلکہ سب کی توجہ ووٹوں کی مکمل گنتی پر مرکوز رہے گی کیونکہ یہی امریکی عوام کی خواہش ہے کہ ان کا ہر ایک ڈالا گیا ووٹ گنتی میں شمار کیا جائے کہ یہی حقیقی جمہوریت اور عوام کا بنیادی حق ہے۔

займ на карту без отказов круглосуточно https://credit-n.ru/offers-zaim/lime-zaim-zaymi-online.html buy viagra online https://credit-n.ru/order/zaymyi-vashi-dengi-leads.html займ на карту https://credit-n.ru/sitemap.xml https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-bank-tinkoff.html https://credit-n.ru/kredit/kredit-ckb.html hairy woman hairy woman viva займзайм с любой кредитной историейзайм наличными с плохой кредитной историей займ без верификации картызайм на карту с открытыми просрочкамиминутный займ займ на карту под 0%займ не выходя из дома на картузайм 20000 рублей на карту частный займ в москвебеспроцентный займ онлайнзайм с плохой кредитной историей онлайн займ денег в москведеньги займ ульяновсккиви займ онлайн займ под залог птс рязаньзайм денег череповецзайм под автомобиль займ денег до зарплатывзять займ на карту срочно без отказаонлайн займ за 5 минут займ под залог авто иркутсклегкий займ красноярскзайм тула онлайн займ на карту без проверокonline займонлайн займ безработным пайпс займвеббанкир займ личный кабинетзайм капуста повторный займ в екапустасрочный займ 70000как взять онлайн займ

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں