مہنگائی بے لگام کیوں؟ درآمد کے باوجود چینی کی قیمت میں اضافہ، نعیم صدیقی

وفاقی حکومت کی جانب سے چینی اور گندم کی درآمد کے بعد یہ امید کی جا رہی تی کہ مہنگائی میں کمی آئے گی اور ان دونوں اجناس کی قیمتیں معمول پر آ جائیں گی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ملک بھر میں مہنگائی کی شدید لہر تاھال جاری ہے۔سبزیوں سے لیکر روز مرہ استعمال کی ہر شے کی قیمت عوام کی پہنچ سے باہر ہے ۔وزیراعظم عمران خان کی خصوصی توجہ اور ہدایات کے باوجود آٹے اور چینی کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ حال ہی میں چینی اور گندم کی درآمد سے آنے والے دنوں میں حکومت کی جانب سے چینی کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی کلو کی کمی کے باوجود ملک بھر کی مارکیٹوں میں چینی کی تھوک قیمت 98 روپے فی کلو سے بڑھ کر 99-100 روپے فی کلوتک پہنچ گئی ہے ۔
سرکاری اور نجی شعبے کی طرف سے چینی کی درآمد کے باوجود گذشتیہ ماہ سے چینی کی تھوک قیمت 5 روپے اضافے کے بعد بڑھ کر فی کلو 98 روپے تک پہنچ گئی تھی۔کچھ دن پہلے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے درآمد شدہ چینی کی آمد کے سبب آنے والے دنوں میں چینی کی فی کلو قیمت میں 15 سے 20 روپے تک کمی کا عندیہ دیا تھا لیکن ایسا کچھ حقیقت میں دکھائی نہیں دے رہا جس کے بارے میں حکومتی اداروں کو سخت نوٹس لینا چاہئے کیونکہ عوام پہلے ہی ضروریات زندگی کی ہر شے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں۔ماہ ربیع الاول سے قبل مٹھائی اور دیگر میٹھے اجزا کی تیاری کی وجہ سے مانگ میں اضافے کی وجہ سے ہول سیلرز اور پرچون فروشوںنے جب قیمتوں میں اضافہ کیا تھا تو حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی، خوردہ فروش، علاقوں کے لحاظ سے فی کلو چینی 110-115 روپے پر فروخت کر رہے ہیں جسے ربیع الاول سے قبل 95 سے 100 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ اگر ہم ڈالر کی قیمت کی جانب دیکھتے ہیں تو مزید حیرانی ہوتی ہے کہ ان دنوں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے لیکن چینی کی قیمت میں اضافہ بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بے بسی کا شکار ہے۔
ذرا غور کریں کہ اب ایک ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں 158.91 پر فروخت ہو رہا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں اگست کے آخری ہفتے میں 168.43 روپے میں فروخت ہو رہا تھا جو مذکورہ مدت میں 5 فیصد سے زیادہ کی قدر کی نشاندہی کرتا ہے، اب جبکہ ڈالر کی قدر کم ہو گئی ہے تو اس سے تیار شدہ سامان اور خام مال کی درآمد سستی ہوجاتی ہے لیکن عجیب ماجرہ ہے کہ پاکستان میں اس کا فائدہ عوام کو نہیں ہو رہا۔ یہ الجھن اپنی جگہ اب بھی برقرار ہے کیونکہہول سیلرز اور درآمد کنندگان کی جانب سے یہ دعوی کیا جاتاہے کہ درآمد شدہ چینی کی قیمت میں استحکام رہا ہے اور گزشتہ سیزن میں مقامی طور پر تیار کی جانے والی چینی کے نرخوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں اوپن مارکیٹ میں اسٹاک انتہائی کم سطح پر ہے جو کہ قیمت منیں اضافے کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں پاکستان کی شوکر ملوں میں تیار کی جانے والی چینی کے ذرے بڑے ہوتے ہیں جب کہ جو چینی بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہے وہ معیاری، باریک اور عمدہ قسم کی ہوتی ہے اس لیے لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خوردہ فروش یہ حرکت کرتے ہیں کہ مقامی طور پر تیار کردہ اور درآمد شدہ چینی کو ملا دیتے ہیں اور قیمت میں کمی کی بجائے اس میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دکاندار تھوک قیمت میں اضافے کا الزام عائد کرتے ہوئے درآمد شدہ چینی کو براہ راست 100سے 110 روپے فی کلو پر فروخت کرتے ہیں۔جیسا کہ اب بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کراچی ہول سیلرز گروسرس گروپ کے سربراہ انیس مجید کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی شوگع ملز میں تیار کی جانیوالی چینی کی ہول سیل قیمت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کا اسٹاک کم ہو رہا ہے، امید کی جا رہی ہے اسی ماہ کے دوران گنے کی کرشنگ کا آغاز ہو جائے گا جس کے بعد کہا جاتا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں کمی آ جائے گی۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست معلوم ہوتی ہے پاکستانی صارفین کو درآمدی کی جانے والی چینی پسند نہیں ہے جو دکہ برازیل، مصر اور دبئی وغیرہ سے خریدی جاتی ہے۔اس وقت کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں عمدہ درآمد شدہ چینی 88 روپے فی کلوگرام پر دستیاب ہے۔ فائن چینی کی درآمد بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ پاکستان میں باریک چینی بہت کم استعمال کی جاتی ہے جبکہ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لوگ بڑے ذروں والی چینی پسند کرتے ہیں جو کہ مقامی طور پر تیار کی جاتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ مقامی طور پر تیار ہونے والی چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ درآمدی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا۔نجی شعبے کی جانب سے ستمبر سے 28 اکتوبر تک ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی درآمد کی گئی ہے جبکہ ٹریڈ نگ کارپوریشن آف پاکستان بھی درآمد شدہ چینی مارکیٹ میں لا رہی ہے۔مالی سال 20 میں پاکستان کی چینی کی پیداوار 7 فیصد کمی سے 48 لاکھ 81 ہزار ٹن رہی، جولائی میں چینی کی پیداوار 4 ہزار 309 ٹن رہی جبکہ جولائی 2019، 14ہزار 640 ٹن تھی، اگست 2020 اور 2019 میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے اعداد و شمار نے صفر پیداوار ظاہر کی ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے قدرت کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ہے لیکن افسوس کہ ہماری زراعت،ہمارے کھیت اور کھلیان تباہ ہو رہے ہیں۔ کسان پریشان ہے۔اسے پیداوار کا پورا معاوضہ نہیں ملتا لیکن مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہے۔اگر حکومت بصد اخلاص کام کرے تو پاکستان چینی اور آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاء میں مہ صرف خود کفیل ہو سکتا ہے بلکہ ہم یہ اجناس دنیا بھر میں برآمد بھی کر سکتے ہیں لیکن ایسا کب ہو گا اورکون کرے گا؟

Leave a Reply

*