معیشت کی بحالی کیلئےتعمیرات کے امدادی پیکیج میں توسیع کا امکان، نعیم صدیقی

اس وقت پاکستان کی معیشت مشکل مرحلے سے گذر رہی ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے گذشتہ کئی ماہ سے معاشی حالات غیر یقینی کا شکار ہیں۔ایسے حالات میں وطن عزیز کو عالمی سطح پر مشکلات درپیش ہیں جن کو حل کرنے کیلئے انتہائی دور اندیشی اور دانشمندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ایسے حالات میں یہ بات مزید تکلیف اور تشویش کا باعث ہے کہ پاکستان کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ کی سہولت باضابطہ طور پر فوری بحال نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ حکام مشکل معاشی صورتحال کے درمیان بجلی کے شعبے اور ریونیو کے مشکل چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ایسے پریشان کن حالات میں دونوں طرف سے فریقین اس وقت نظر ثانی شدہ اسٹرکچرل بینچ مارک کے لیے وقت کی حد طے کرنے میں مصروف ہیں لیکن پی ٹی آئی کی حکومت اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کہ پاکستان کی جو موجودہ صورتحال ہے اس میں کچھ بہتری کے آثار اور اشارے واضع دکھائی دینے چاہئیں تا کہ عوام کے اندر جو بے چینی ہے وہ بھی کم ہو سکے۔یہی وجہ تھی کہ حکومت کی جانب سے تعمیرات کے شعبے کیلئے بہت بڑے پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا کہ شاید اس طرح ملک کی معیشت میں بہتری پیدا ہو اور روزگار کے ذرائع پیدا ہو سکیں۔ابھی یہ بھی خبریں زیر گردش ہیں کہ حکومت کی جانب سے تعمیرات کے شعبے کے لیے جوامدادی پیکیج دیا گیا تھا اس میں جون تک کی توسیع کرنا حکومت کی کوشش اورخواہش ہے ۔ واضع رہے کہ حکومتی پیکیج برائے تعمیراتی انڈسٹری کی میعاد آئندہ ماہ دسمبر میں ختم ہو جائے گی ۔ دیکھا جائے تو اس پیکیج کی وجہ سے صنعتی شعبے کی سرگرمیاں اور متعلقہ علاقوں میں نمو ہورہی ہے جبکہ  زرمبادلہ کے ذخائر اور بہتر ترسیلات زر کی بدولت شرح تبادلہ کی صورتحال بھی بہتر دکھائی دیتی  ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت اس امدادی پیکیج کو مزید جاری رکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔
محکمہ خزانہ کے خصوصی سیکریٹری اور ترجمان کامران علی افضل اس حوالے سے کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے روزانہ اور کبھی کبھی دن میں دو مر تبہ اسٹرکچرل بینچ مارکس اور ان کے اوقات کے بارے میں مشاورت کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔دیکھنا یہ کہ ہم کس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ا نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے متعلق دو اہم بلوں کی منظوری پیش قدمی بن جائے گی اور اس کے لیے بجلی کے شعبے میں باقاعدہ طور پر پروگرام کی بحالی کے لیے اصلاحات اور ریونیو پیداوار کو آگے بڑھانا ضروری ہوگا۔جس کیلئے بھر پور کوشش کی جا رہی ہے۔امید کی جانی چاہئے صورتحال بہتری کی جانب جائے گی۔متذکرہ دو اہم بلوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ دونوں قوانین پیشگی اقدامات بن جائیں گے کیونکہ ان دونوں کا تعلق کورونا وائرس سے نہیں تھا تاہم بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور ریونیو سے متعلقہ تمام معامالات اورچیزوں کو ایڈجسٹ کیا جانا ممکن ہے اور ایسا کیا جائے گاکیونکہ یہ تمام کورونا وائرس کی وبا سے نہ صرف شدید متاثر ہوئے تھے بلکہ اہم چیلنج بھی بنے ہوئے تھے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اسٹرکچرل بینچ مارک سے ہٹنے کو اس کے بعد کے جائزے میں جب تک فنڈ کے ذریعے چھوٹ نہیں دی جاتی ہے میں پیشگی کارروائی کرنی ہوگی۔
ان تمام معاملات کے ٹھوس حل کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ایک بار جب ان تمام مشاورتی مباحثوں اور بات چیت نے واضح سمت کا تعین کردیا تو اس کے فوری بعد آئی ایم ایف کا باقاعدہ جائزہ مشن ترتیب دیا جائے گا۔جس کے نتیجے میں معاملات حل کی طرف جائیں گے اور درپیش معاشی مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے گا۔ابھی ہم ایک بار پھر دیکھتے ہیں کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلے سے زیادہ خطرناک دکھائی دے رہی ہے۔ملک بھر میں اموات اور کیسوں کی تعداد خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔حالانکہ پہلی بار جب کورونا وائرس کا پھیلائوشروع ہوا تھا تو پاکستان نے اس پر قابو پانے اور عوام کیلئے مالی و معاشی مشکلات کم کرنے میں بہترین طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی تھیں۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کو اس لحاظ سے بہتر کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ چارماہ کے دوران ریونیو کی وصولی میں 7 اعشاریہ سات فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور چند فصلوں کی پیدا وار میں بہتری کی صورت میں بحالی کے واضع اشارے دکھائی دے رہ ہیں تاہم ابھی اس بات پر یقین کرنا ممکن نہیں کہ ملک کی مجموعی ترقی میں بہتری آ رہی ہے۔ پاکستان کی مشکل ترین معاشی صورتحال میںنہ صرف آئی ایم ایف بلکہ ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک جیسے دوسرے قرض دہندگان عالمی ادارے بھی مشکل معاشی حالات سے گزرنے میں حکومت کی مدد ،تعاون اور حمایت کرتے رہے ہیں مشاورتی کردار میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ان اداروں کی خدمات و مصروفیات پاکستان کیلئے مثبت اور بہتر ثابت ہوئی ہیں۔ موجودہ حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی پر قابو پانا ہے۔کیونکہ معاشی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عام مارکیٹ میں جب اشیاء کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں تو پھر ان میں کمی لانا ممکن نہیں رہتا۔اس لحاط سے دیکھنا ہوگا کہ وزیراعظم جس انداز میں یہ بات کہتے ہیں کہ وہ ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں کو نیچے لائیں گے۔عوام بھی چاہتے ہیں کہ قیمتیں کم بھی ہوں اور ان میں استحکام بھی رہے۔کاروبار اور روزگار کا سلسلہ جاری رہے۔کورونا وائرس کی دوسری لہر اگرچہ بہت خطرناک دکھائی دیتی ہے لیکن حکومت کو چاہئے کہ معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کرے جس کا براہ راست فائدہ عوام اور کاروبار سے وابستہ طبقے کو ہو کیونکہ پاکستان میں معیشت پا پہیہ چلے گا تو پاکستان ترقی کرے گا اور عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

Leave a Reply

*