ترک کمپنیوں کی تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری سے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ، نعیم صدیقی

ترکی اور پاکستان کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ ترکی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی امداد کی اور عالمی مسائل پر بھرپور انداز میں ساتھ دیا ہے۔یاد رہے کہ ترک صدر اب پاکستانی پارلیمنٹ سے سب سے زیادہ مرتبہ خطاب کرنے والے غیر ملکی سربراہ بن چکے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2009، 2012 اور 2016 میں بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرچکے ہیں۔ یوں ان کا گذشتہ دورہ پاکستان میں پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے چوتھا خطاب ہوا۔ پاکستان کا یہ ان کا دسواں دورہ تھا۔ ترک صدر جناب طیب اردوان کی پاکستان آمد اور اہم شعبوں میں تعاون کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے تجدیدی عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی ہمیشہ کی طرح پاکستان کا قریبی دوست ہے۔یہ مستقل مزاجی ترکی کی پاکستان سے مستقل بنیادوں پر گہرے تعلقات اور سیاسی نوعیت سے بالاتر دوستی کی عکاس ہے۔ تاریخی تناظر میں ترکی پاکستان کا ایک آزمودہ دوست ہے۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو ترکی ان ممالک میں شامل تھا جس نے نہ صرف پاکستان کو خوشدلی سے قبول کیا بلکہ دوستی اور محبت کا ہاتھ بڑھا کر دونوں ممالک کے درمیان عظیم تعلقات کی بنیاد رکھی۔جب ترک سفیر بانی پاکستان قائدِاعظم کے پاس اپنی اسناد پیش کرنے آئے تو قائدِاعظم نے دونوں ممالک کے درمیان روحانی، تہذیبی، جذباتی اور ملی رشتوں کا ذکر کیا اور یہ رشتہ 73 برسوں سے قائم و دائم ہے۔

کچھ روز پہلے ترکی سے آئے ہوئے ایک تجارتی وفد کی جانب سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں تعمیراتی صنعت کے فروغ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے وفد میں شامل صنعتکاروں نے پاکستان میں صنعتی یونٹس قائم کرنے میں دلچسپی کا بھرپوراظہار کردیا ہےجس کا مقصد یہ ہے اگر پیداواری سرگرمیاں شروع ہوں گی تو اس کے نتیجے میں تعمیراتی صنعت کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے گا۔ ترک سرمایہ کاروں کے وفد نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کا دورہ کیا جہاں صدر آئی سی سی آئی سردار یاسر الیاس نے وفد کا استقبال کیا اور ان کے ساتھ دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ا آئی سی سی آئی کے صدر  نے دورہ کرنے والے ترک وفد کو ملک کے ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں ممکنہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بڑی تفصیل کے ساتھ آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہائوسنگ یونٹس اور کمرشل بلڈنگز کی پاکستان میں بہت زیادہ ضرورت ہے جس کیلئے سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے تعمیرات کے شعبے میں پاکستان ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ یہ بات اور بھی حوصلہ افزا ہے کہ حکومت کی جانب سے ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے اامدادی پیکیج دیا گیا ہے یہ تعمیراتی پیک اگرچہ آئندہ ماہ دسمبر میں ختم ہو جائے گا لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ اس پیکیج کو مزید بڑھا دیا جائے اس حوالے سے عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔حکومت کی جانب سے موجودہ حالات میں دیا جانے والی تعمیراتی پیکیج غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین تجارتی تحفہ  اور محفوظ و مفید سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی ہے اس لحاظ سے یہ نہایت موزوں وقت ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لیے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں میں بھر پور سرمایہ کاری کریں۔ ترکی کے سرمایہ کاروں کوچاہئے کہ وہ پاکستان میں تعمیراتی شعبے کیلئے جدید ٹیکنالوجی لیکر آئیں اور پاکستان میں صنعتی یونٹس قائم کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان میں تعمیرات کے شعبے میں ایک نئی جدت آئے گی جس کے ساتھ ساتھ ہمارے ترک بھائی سرمایہ کاری کے ذریعے تعمیرات اور دیگر شعبوں میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔اگر ترکی کے سرمایہ کار پاکستان میں صنعتیں قائم کرتے ہیں تو اس کا پاکستان کو یہ فائدہ ہو گا ہمارے ہاں کوالٹی مزید بہتر ہوگی۔ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو گا اور ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر بھی بڑھیں گے جس کی پاکستان کو موجودہ حالات میں اشد ضرورت ہے۔ نئی سرمایہ کاری سے اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے صدر کی جانب سے ترک وفد کو یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ملک میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لیے ترک سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی معاونت اور سہولت فراہم کی جائے گی۔ پاکستان کے دورے پر آئے ترک تجارتی وفد کے سربراہ اور معروف کاروباری ادارے اے ڈی  گروپ کے صدر مصطفی ساک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان میں صنعتی یونٹ قائم کریں۔ شعبہ تعمیرات سے متعلق ان کی جانب سے صنعتوں کے قیام کا مقصد مقامی تعمیراتی صنعت کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے جدید قسم کا تعمیراتی سامان بنانا ہے۔ ان کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وہ پاکستان کی تاجر برادری اور چیمبر کے ساتھ مل کر ایسے منصوبے شروع کریں گے جن کا فائدہ پاکستان اور ترکی کے علاوہ دونوں ممالک کے عوام کو بھی ہوگا ترک وفد میں بریکس پلس کے چئیرمین کامل ارسلان،امارت گروپ آف کمپنیز کے چئیرمین شفیق اکبر،سرامک پرسلین ٹورزم کے منیجرمصطفی آرون شامل تھے۔

واضع رہے کہ پاکستان اور ترکی نے ترجیحی تجارتی منصوبوں پر بڑی سنجیدگی سے کام کیا ہے جس کا مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔جن شعبوں میں پاکستان اور ترکی کے مابین تجارتی معاہدے کیے جا رہے ہیں ان میں خاص طور پر ٹرانسپورٹ، مواصلات،، مینوفکچرنگ اور سیاحت کے علاوہ دیگر صنعتیں بھی شامل ہیں۔ان معاہدوں پر عمل درآمد کے ساتھ ہی پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت کے حجم میں مزید اضافہ ہوگا۔
ترکی اور پاکستان کے درمیان دوستی کا باضابطہ معاہدہ 1951 اور باہمی تعاون کا معاہدہ 1954 میں طے پایاتھا جس کے الفاظ کچھ یوں تھے کہ ترکی اور پاکستان کے درمیان دوستی کے جذبے کے ساتھ طے پایا ہے کہ سیاسی، ثقافتی اور معاشی دائروں کے اندر اور اس کے ساتھ امن اور تحفظ کی خاطر ہم زیادہ سے زیادہ دوستانہ تعاون حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے۔

Leave a Reply

*