کورونا ویکسین خریداری کیلئے دس کروڑ ڈالرکی رقم کافی ہوگی؟ نعیم صدیقی

ساری دنیا بالخصوص ترقی یافتہ ممالک جن میں امریکہ،روس،چین،جرمنی،جاپان،برطانیہ اور کینیڈا وغیرہ شامل ہیں ان سب کی کوشش ہے کہ جلد از جلد کورونا وائرس سے پھیلنے والی وبا کے علاج کیلئے ویکسین دریافت کی جائے جس کے لئے گذشتہ کئی ماہ سے کام جاری تھا۔امریکہ روس اور برطانیہ کی جانب سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ انھوں نے اس وبا کیلئے ویکسین تیار کر لی ہیجو تجربات کے ابتدائی مراحل میں ہے۔تاہم اس کی نوے فیصد کامیابی کا بتایا جا رہا ہے۔ایسے حالات میں جب کہ ابھی تک یہمعلوم نہیں کہ اس ویکسین کی لاگت کیا آئے گی، وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر ویکسین کی خریداری کیلئے ابتدائی طور پر 10 کروڑ ڈالر مختص کرتے ہوئے ویسکین کی فوری خریداری کے لیے پیشگی ادائیگی کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ معاشرے کے مختلف طبقات مثلا بزرگ شہری، ماہرین صحت اور اس مہلک بیماری سے لڑنے والے لوگوں کو ویکسین کے لیے ترجیح دی جائے گی جو کہ رواں سردیوں کے موسم میں محدود تعداد میں دستیاب ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کی دوسری لہر میں کیسز کی تعداد جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ رقم کورونا وائرس ویکسین کی خریداری کیلئے کافی ہو گی یا سا میں اور اضافہ کرنا پڑے گا۔ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کی قیمت کا تعین کیا ہوتا ہے۔۔اس حوالے سے پارلیمانی سیکریٹری برائے قومی صحت سروسز نوشین حامد نے بھی کچھ عرصہ پہلے کہا تھاکہ مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی ویکسین پر کام ہورہا ہے اور کئی لوگ اس میں کامیابی کا دعوی کر رہے ہیں۔ جیسے ہی یہ ویکسین بنے گی تو اس کی طلب ہوگی اور لوگ ابھی سے اس کی ایڈوانس بکنگ کروا رہے ہیں تو پاکستان نے بھی 2 کمپنیز کو شارٹ لسٹ کیا ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی منظوری دی جا چکی ہے۔تاہم اب تک کسی کمپنی نے ویکسین کی لاگت کا اعلان نہیں کیا ہے، مزید یہ کہ کسی ایک کمپنی کو بھی ویکسین فروخت کرنے کی منظوری نہیں دی گئی کیوں کہ کلینکل ٹرائل کا ڈیٹا محدود ہے۔حالانکہ بین الاقوامی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک نے اعلان کیا تھا کہ کلینکل ٹرائل کے تیسرے مرحلے میں ان کی ویکسین سے ان افراد میں بیماری روکنے کے لیے 90 فیصد کامیابی حاصل ہوئی جو اب تک وائرس سے محفوظ ہیں لیکن وہ اب بھی اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔ جب یہ عمل مکمل ہوجائے گا تو وہ اس ڈیٹا کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگز اتھارٹی اور یورپی یونین کی بھی اسی طرح کی ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس جمع کروائیں گے۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) کے وائس چانسلر اور نیشنل ویکسین کیمیٹی کے ڈاکٹر اسد حفیظ کا کہنا تھا کہ ‘اس کام میں مزید 4 ہفتے لگ سکتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘کمپنیوں کو فوری استعمال یا ویکسین کے استعمال کے لیے ٹرانزٹ اجازت مل جائے گی اور ایک سال بعد شاید انہیں ویکسین فروخت کرنے کے لیے مکمل منظوری مل سکتی ہے تاہم عوام پر اس کا کوئی فرق نہیں پڑے گا چاہے ویکسین ٹرانزٹ یا مکمل اجازت کے تحت فروخت کی جائے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ  وزارت صحت کی جانب سے جلد از جلد ویکسین حاصل کرنے کے لیے آدھ درجن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات کیے جا رہے ہیں
ڈاکٹر حفیظ  کا کہنا ہے کہ حکومت ویکسین کی خریداری کے عمل کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب ہے تاہم ویکسین حاصل ہونے میں مزید چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ وزارت صحت کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ابھی ویکسین کی لاگت کا اندازہ لگانا ممکن نہں ہے کیوں کہ ویکسین کا کوئی آر این اے دنیا میں موجود ہی نہیں ہے اور ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تجارتی کمپنیاں جو کہ ویکسین بنا رہی ہیں ان کی جانب سے اس اعلان کے باوجود کہ ویکسین مناسب قیمت پر دستیاب ہوگی ہمیں ایسی کوئی توقع نہیں کرنی چاہیئے کہ یہ معمولی قیمت پر دستیاب ہوگی۔ حکومت کی جانب سے ویکسین کی خریداری کے لیے فنڈز مختص کرنا ایک مثبت پیش رفت ہے تاہم حکومت کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ ویکسین پاکستانی عوام کے لیے بھی موثر اور مفید ثابت ہو کیوں کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کسی ایک ملک کے لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو جبکہ دوسرے ممالک کے افراد کے لیے اس کا اثر حسب توقع نہ ہو۔ اس بات پر خصوصی توجہ دی جائے کہ ویکسین کیلئے شعبہ صحت میں خدمات دینے والے افراد،، بزرگ شہریوں، ذیابیطس اوردل کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو ترجیح دی جائے۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنے ترقی پذیر اراکین ملکوں کی کووِڈ 19 ویکسین تک رسائی اور اسکی مساوی تقسیم کے لیے 2 کروڑ 3 لاکھ ڈالر مختص کر رکھے ہیں۔اس سلسلے میں بینک کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہیکہ ‘ایشیا اور پیسفک میں کورونا وائرس کے پھیلا ئوکے لیے اچھا کام کیا گیا ہے اور وائرس کے خلاف موثر جدوجہد میں مساوی طور پر ویکسین کی فراہمی اگلا محاذ ہوگا۔
اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کی جانب سے بھی سروائیکل کینسر سے متعلق حکمت عملی طے کر دی گئی ہے۔اس عالمی ادارے نے سروائیکل کینسر کے خاتمے کے لیے جو عالمی حکمت عملی متعارف کروادی ہے اس کی روشنی میں تین اہم قدامات شامل کیے گئے ہیں۔ان اقدامات میں سب سے پہلے، ویکسنیشن کا عمل اور اس کے بعد دوسرے مرحلے میں اسکریننگ شامل ہے جبکہ اسحکمت عملی کا آخری اور حتمی مرحلہ علاج ہے۔ان تینوں چیزوں کا کامیابی سے اطلاق نئے کیسزکوچالیس فیصد تک رکھ سکتا ہے اور ان سے ہونے والی اموات میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔۔

Leave a Reply

*