ایس ای سی پی کی جانب سے 'پیر ٹو پیر' قرضوں کے پلیٹ فارم کی منظوری ، نعیم صدیقی

سیکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے  اپلوجی سے چلنے والے پہلے ریگولیٹری سینڈ باکس کے پہلے گروپ کے تحت پیر ٹو پیر قرض دینے کے پلیٹ فارم کے آغاز کے لیے منظوری دے دی ہے۔ایس ای سی پی کی جانب سے  حاصل ہونے والی معلومات اور تفصیلات کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں فنانشل ٹیکنالوجی کی حمایت اور فروغ دینا ہے۔
‘پیر ٹو پیر’ قرضے یعنی افراد کی جانب سے کسی کاروبار کو قرض کی فراہمی ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جہاں قرض اور سرمایہ حاصل کرنے والے کاروباری اداروں اور انفرادی سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان کا ایک دوسرے سے رابطہ ہوتا ہے۔اس پلیٹ فارم سے سرمایہ کار قلیل مدتی قرض دیتے ہیں جبکہ کاروباری افراد سہل طریقے سے سرمائے کی ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں۔اس طریقے سے چھوٹے اور درمیانے انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کو فروغ دیا جاسکتا ہے جبکہ روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ریگولیٹری سینڈ باکس میں ٹیسٹنگ اورتجربہ کے مرحلے کے دوران، پیر ٹو پیر قرضوں کا یہ پلیٹ فارم متعین شدہ پیرامیٹرز کے اندر کام کرے گا اور شرائط و ضوابط سے  مشروط ہوگا۔اس پلیٹ فارم پر قرض دہندہ یاادھار لینے والے کے لیے اہلیت کے مخصوص معیار کا اطلاق ہوگا۔ یہ شرائط و ضوابط اس مالیاتی پراڈکٹ کے لیے باقاعدہ فریم insurance brokers list updatedورک کی عدم موجودگی میں کسی بھی مالیاتی رسک کو کم کرنے میں معاون ہوں گی۔
ایس ای سی پی کے ریگولیٹری سینڈ باکس میں نئی جدید مالیاتی پراڈکٹ کو ایڈجسٹ کرنے کا فریم ورک موجود ہے اور نئی ٹیکنالوجیز اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔سینڈ بکس میں فنانشل ٹیکنالوجیز کمپنیاں محدود، بہتر وضاحت شدہ دائر کار میں رہ کر جدید ٹیکنالوجی کو اپنائے ہوئے اپنی پراڈکٹ کی جانچ کرسکتی ہیں۔
اس سے قبل ایس ای سی پی کی جانب سے ممنوعہ افراد کے لیے پابندیاں سخت کردی گئی ہیں۔ مالی خدمات تک رسائی پر مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے تمام نان بینکنگ مالیاتی اداروں کو ممنوعہ افراد کے ساتھیوں کے لیے ریڈ فلیگ جاری کرنے کی ہدایت کردی۔ ایس آر او 2020/(1) 881 ایس ای سی پی کے (انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت) ریگولیشنز 2018 کے تحت جاری کیا گیا جس میں سیکیورٹیز بروکرز، فیوچر بروکرز، انشورنس کمپنیاں، تکافل آپریٹرز، نان بینکنگ فنانس کمپنیوں اور مضاربہ کو ہدایت دی گئی کسی بھی ممنوعہ افراد سے وابستگی کے حوالے سے اپنے صارفین کے ڈیٹا بیس کا جائزہ لیں۔ایس ای سی پی کی ہدایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ذمہ دار اتھارٹی تقاضوں کی تعمیل کرنے یا تعمیلی رپورٹ پیش کرنے میں ناکام رہی اور اس طرح کی خلاف ورزی جاری رہی تو ایک کروڑ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔واضح رہے کہ کمیشن نے جنوری میں شیڈول فور، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت نامزد افراد کے لیے مالی اعانت تک رسائی محدود کردی تھی اور موجودہ ہدایات اس فہرست میں نامزد افراد سے وابستہ افراد سے متعلق ہے۔ایس ای سی پی کی ہدایات کے تحت ‘ریگولیٹڈ پرسنز’ (آر پی) میں سیکیورٹیز بروکرز، فیوچر بروکرز، انشورنس کمپنیاں، تکافل آپریٹرز، این بی ایف سی اور مضاربہ صارف کے فنڈ، پالیسی سے متعلق الرٹ جاری کریں گے یا ان کے ٹرانزیکشن کو روکیں گے اور مشکوک ٹرانزیکشنز کی وزارت خزانہ کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) میں رپورٹ کریں گے۔
ایس ای سی پی نے آر پی کو ہدایت کی کہ وہ افراد یا اداروں کے لیے ریڈ فلیگ لگائیں جس پر مشتبہ افراد کی جانب سے یا اس کی ہدایت پر کام کرنے کا شبہ ہے۔ہدایات ان اداروں پر بھی لاگو ہیں جن کے بورڈ یا انتظامیہ میں نامزد ممنوعہ افراد شامل ہیں۔’ریڈ فلیگ’ لگانے کی ہدایت میں کالعدم افراد یا اداروں سے وابستہ اکانٹ ہولڈر کے طرز عمل، جس میں رہائش یا دفتر کا پتا ایک ہونا، جو نامزد ممنوعہ فرد کے معروف رہائشی یا دفتر کے پتے سے ملتا ہے، شامل ہے۔
اس کے علاوہ اگر کسی صارف نے وہی ذاتی رابطہ نمبر فراہم کیا ہے جو اس سے قبل کسی کالعدم صارف نے فراہم کیا تھا، کوئی صارف کسی ایسے اکائونٹ میں فنڈ جمع کراتا ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کے مطابق بین الاقوامی یا غیر ملکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے، تو واضع رہے کہ اسے بھی  ریڈ فلیگ میں رکھا جائے گا۔

Leave a Reply

*