کورونا وائرس کی دوسری لہر،پاکستان کی معیشت میں بہتری کیسے آئے گی؟ نعیم صدیقی

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کی لہر خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ معیشت کو ایک بار پھر خطرات لاحق ہیں۔ایسے حالات میں عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف  کی جانب سے متعدد پالیسیوں کی تجویز دی گئی ہے جس میں ٹیکس کی شرح کو معقول بنانے سے لے کر ٹیکس استثنی ختم کرنا اور نظام ٹیکس میں تمام خرابیوں کو دور کرنا شامل ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے حاصل معلومات کے مطابق آئی ایم ایف کے ٹیکنکل مشن نے پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کا تفصیلی مطالعہ کر کے بڑی سخت اور مضبوط تجاویز پیش کر دی ہیں۔اگرچہ یہ رپورٹ خفیہ ہے اور منظرِ عام پر نہیں لائی جاسکتی لیکن اتنا ضرور کہا جاتا ہے کہ اس میں پالیسی تجاویز کے ساتھ نظام ٹیکس کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں قرضے کی پہلی قسط کے اجرا کے بعد پاکستان نے آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ ایک تکنیکی ٹیم ٹیکس اسٹریکچر کا جائزہ لے کر عمل درآمد کے لیے حکومت کو اقدامات کی تجویز دے گی۔ اس حوالے سے  معاشی ماہرین کی جانب سے رپورٹ دی جا چکی ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا کہ ریونیو کو وسیع کرنے اور ریونیو کے ذرائع تلاش کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جائے گا۔رپورٹ میں پاکستان کے پورے ٹیکس ڈھانچے کا احاطہ کیا گیا ہے اور حکومت کو فوری طور پر کچھ چیزوں پر عملدرآمد کی تجویز بھی دی گئی ہے۔رپورٹ میںتینچیزوں پر زور دیا گیا ہے جن میں جہاں ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے اسے معقول بنانا، ٹیکس استثنی پر نظر ثانی اور رعایت شامل ہیں۔ بہت سی ایسی چیزوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہیجوآئی ایم ایف کے نزدیک بین الاقوامی طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس رپورٹ میں سیلز ٹیکس سے متعلق بھی کچھ تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں لیکن حکومت کا ماننا ہے کہ اس کا منفی اثر ہوگا لہذا محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس وقت کارپوریٹ انکم ٹیکس استثنی اور رعایت کی نظرِ ثانی پر توجہ دی جائے گی، ایف بی آر کی جانب سے یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس کے معاملات میں استثنی بہت زیادہ ہے۔اس حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے اس پر کچھ کام کرلیا گیاہے اورامید ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کام کیا جائے گا ۔ باقی رہ جانیوالے معاملات پر عملدرآمد کا کام آئندہ سال یعنی اگلے مالی سال کے بجٹ میں کیا جائے گا۔
ایک طرف پاکستان کے عوام کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانے کیلئے بڑی تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کیلئے بھی حکومت اقدامات کر رہی ہے جسکے تمام منفی اثرات مہنگائی اور بیروزگاری کی صورت عوام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کو ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے مہنگائی پر قابو پانا ہوگا کیونکہ عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جس نے ملک بھر کے عوام کے شدید ترین مالی مشکلا ت اور ذہنی پریشانیوں سے دوچار کر دیا ہے۔ایسے حالات میں حکومتی اراکین کی جانب سے آئندہ سالوں میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے کا عندیہ بھی دے دیا گیا ہے جو کہ عوام کیلئے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ حکومت کی معاشی ٹیم کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اگلے مہینے گردشی قرضہ صفر نہیں ہو گا کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ جس منصوبے پر بات ہوئی تھی اس کے تحت جنوری سے ٹیرف بڑھنا تھا لیکن اس وقت مہنگائی زیادہ تھی اور پھرکورونا وائرس کی وجہ سے معاشی حالات خراب ہوئے تو وزیر اعظم عمران خان نے فیصلہ کیا کہ ٹیرف نہ بڑھایا جائے۔ واضع رہے کہ جو ٹیرف بڑھایا نہیں گیا اس کی مالیت 270 ارب روپے بنتی ہے۔
پاکستان کے گردشی قرضوں کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہم نے جومہنگے معاہدے کیے ہیں اس کے گرداب سے ہم باہر نہیں نکل پائے کیونکہ ان معاہدوں پر یکطرفہ طور پر کوئی ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جا سکتی بلکہ ان پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو معاہدے کیے گئے اگر ان میں ٹیرف کا تعین صحیح وقت پر ہو جاتا اور اس کا نوٹیفکیشن بھی وقت ہو جاتا تو گردشی قرضہ اتنا زیادہ نہ آتا، ماضی کی حکومتوں میں سیاسی فائدے کے لیے ٹیرف نہیں بڑھایا گیا۔ اگر دسمبر تک بھی گردشی قرضہ صفر رہتا ہے تو حکومت کو اس کے اثرعات صارفین کو منتقل کرنا پڑیں گے جہاں جنوری میں وزیر اعظم نے بڑھتی مہنگائی اور پھر کورونا کی وجہ سے ٹیرف میں اضافے سے روک دیا تھا۔شبلی فراز نے کہا کہ عوام نے بجلی و گیس کے نرخ نہ بڑھنے سے فائدہ اٹھایا جہاں اس کے برعکس مسلم لیگ نون نے سیاسی فوائد کے حصول کے لیے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا حالانکہ ریگولیٹرزکے مطالبے کے مطابق جو اضافہ کیا جانا تھا وہ 170ارب روپے کے قریب تھا۔ جبکہ گیس کے شعبے میں دیکھا جائے تو 192ارب روپے کے گردشی قرضے چھوڑ دیے گئے تھے۔وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی حکومتکے لیے یوٹیلٹی بلز کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے موجودہ حکومت بھی اس مشکل صورتحال سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومت نے مہنگے معاہدوں کی وجہ سے جو بجلی کا دلدل چھوڑا ہے، موجودہ حکومت اس کے گرداب سے نکل نہیں پا رہی ان کی اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ بحرھال ہوگا اور یہ سارا بوجھ عوام پر پڑے گا جو ک پہلے ہی مسائل سے دوچار ہیں۔اس پر مزید ستم یہ ہے کہ کورونا وائرس نے دوبارہ خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ ملک بھر میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو محدود کیا جا رہا ہے۔تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں۔حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ احتیاط اور ہدایات پر مکمل عمل درآمد ہو لیکن پاکستان جیسے ملک میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ہمارے ہاں عوام کی ایک بہت بڑی تعداد ابھی تک فیس ماسک کی پابندی کی جانب سنجیدگی کے ساتھ مائل نہیں ہے۔اپوزیشن کے جلسوں کا سلسلہ جاری ہے۔کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ نہایت خطرناک ہے۔پاکستان مکمل لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہو سکتا عوام کو روز مرہ زندگی گذارنے کیلئے بنیادی اشیاء کی لازمی ضرورت رہتی ہے اور یہ ضروریات نقل و حمل سے ہی پوری کی جا سکتی ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں زندگی کا معمول کے مطابق انحصار معاشی اور تجارتی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔دنیا کی کوئی بھی حکومت عوام کو گھر میں محصور رکھ کر ان کی بنیادی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ اب یورپ اور تمام ترقی پذیر ممالک بھی مکمل لاک ڈائون کے حق میں نہیں ہیں۔عوام کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے۔ لہذا لازم ہے کہ عوام کو احتیاطی تدابیر کی جانب مائل کیا جائے۔ایس او پیز کی مکمل پابندی کی عادت دالی جائے۔ارباب حکومت کو اس سلسلے میں خود مثال بننا چاہئے تا کہ عوام حکمرانوں کوسوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کورونا وائرس سے احتیاط اور ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کی جانب سے بھی ہدایات و احتیاط پر پابندی دیکھنے کو ملے گی۔

hairy girl https://credit-n.ru/order/zaymyi-oneclickmoney-leads.html быстрые займы онлайн https://credit-n.ru/order/zaymyi-bistro-dengi-leads.html срочный займ https://credit-n.ru/order/zaymyi-platiza-leads.html https://credit-n.ru/zakony/gk/gk-1.html https://credit-n.ru/ipoteka.html unshaven girl buy over the counter medicines займ-экспрессзайм онлайн без звонковгк займ займ в вебманибыстрый займ омскпай пасс займ займ на кртусрочный займ онлайн на киви кошелекбыстро займ улан-удэ займ за 5 минутгосударственный займсрочно займ на карту займ от частного лица иркутскзайм на карту maestroбыстрый займ по паспорту займ онлайн ижевскзайм от 1000 рублейзайм до 200000 расписка на займ денегкто брал займ под материнский капитал отзывызайм на сим карту займ с 18 лет безработнымвзять займ под распискумгновенный займ на киви кошелек займ экспресс сургутоформить займ по телефону на картузайм на карту срочно без отказа круглосуточно займ на карту екапустазайм за 5 минзайм в биробиджане займ в тольяттизайм в иркутскеденьга займ красноярск онлайн займ грин манизайм онлайн до 100000быстрый займ ачинск

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں