بجلی،بیروزگاری اور بنیادی ضروریات زندگی،عوام کو ریلیف چاہئے، نعیم صدیقی

پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کیلئے حکومت کو ملک اور قوم کے بہترین مفادات کو سامنے رکھ کر ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جن کا براہ راست عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔اس وقت حالات یہ ہیں کہ حکومت کی نظر میں ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہو چکی ہے۔زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان کی برآمدات بڑھ رہی ہیں۔حکومت اپنے اخراجات پر کنٹرول کرتے ہوئے اس میں کمی کا دعوہ کر رہی ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کے اندر عوام کا معیار زندگی شدید متاثر ہو رہا ہے۔مہنگائی کا جن حکومت کے قابو سے باہر ہو چکا ہے۔چینی اور گندم کی وافر مقدار میں برآمد کے باوجود قیمتیں کم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتاہے۔ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔اس جانب حکومت کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیتے ہوئے عوام کو ریلیف دینا ہوگی۔بجلی اور گیس ہر گھر کی ضرورت ہے لیکن ان کی قیمتیں بھی عام لوگوں کیلئے عذاب جاں بن گئی ہیں۔لوڈ شیڈنگ ایک الگ عذاب ہے۔کورونا وائرس کی وبا نے دوبارہ پنجے گاڑھ لیے ہیں اور اس مرتبہ اس کا خطرہ پے سے کہیں زیادہ باور کرایا جا رہا ہے۔بجلی اخراجات کے حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے فیصلوں سے آئندہ 3 سالوں (23-2021) میں بجلی کے اخراجات پر 300 ارب روپے سے زائد کا مجموعی اثر پڑے گا۔ اسد عمر، جو کابینہ کمیٹی برائے توانائی CCOEکے سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی حکومت کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کی گنجائش میں اضافے سے آئندہ 3 سالوں میں گردشی قرضوں میں تقریبا 10 کھرب روپے کا اضافہ ہوگا۔ایسے حالات ہوںگے تو عوام کو ریلیف کیسے ملے گا؟ان کے بقول گنجائش سے متعلق ادائیگی کے اعتراضات، جو 2018 میں 488 ارب روپے تھا، اس کا اندازہ 2023 تک بڑھ کر 14 کھرب 73 ارب روپے ہوجائے گا کیونکہ 2018 کے 84 فیصد کے مقابلے میں سسٹم کا استعمال 55 فیصد ہوجائے گا۔
وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ 2023 میں ٹیرف میں اضافے کی ضرورت ہوگی 2018 میں 450 ارب روپے گردشی قرضے کا تخمینہ 4.09 روپے فی یونٹ تھا جبکہ مزید 8.09 روپے فی یونٹ اضافے کا تخمینہ لگایا گیا تھا جس کی وجہ سے 890 روپے کی گنجائش کی ادائیگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے 2023 تک مجموعی یونٹ کا خلا 12.18 روپے رہ جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے سستی بجلی کو یقینی بنانے کے لیے مسابقتی ٹیرف متعارف کروا کر پاور ڈویژن سے ‘سینٹر آف پاور’ کو ختم کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسد عمر نے اس بات کو تسلیم کیاہے کہ مسلم لیگ نواز نے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے تاہم ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے کراچی سمیت پورے ملک میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں صنعتی سرگرمیوں میں تقریبا 20 فیصد کمی کو بھی مدنظر رکھا جاتا تو صلاحیت کے اضافے کو اب ختم نہیں کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ بجلی کے ذخائر موجود تھے جو ٹرانسمیشن کی رکاوٹوں وجہ سے کم نہیں ہوسکتے تھے۔اگر کوئی کام باقی رہ گیا تھا تو لازم ہے کہ موجودہ حکومت اس پر فوری توجہ دے اور ہنگامی بنیادوں پر اسے انجام دیکر لوڈ شیڈنگ کے عذاب پع قابو پائے کیونکہ لوڈ شیڈنگ سے نہ صرف عوام کیلئے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صلاحیت میں اضافہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا کہ اس وقت کے وفاقی اداروں نے پنجاب میں ایل این جی اور کوئلے پر مبنی بجلی گھروں کی مخالفت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے قطر سے مہنگی ایل این جی کا معاہدہ کیا تھا اور اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ اس کو قابل عمل بنانے کے لیے پنجاب میں بجلی کے منصوبوں کو فراہم کیا جائے۔
اسد عمر کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت اب بجلی کے شعبے میں اصلاحات لا رہی ہے جس کے تحت بلک پاور مارکیٹ کے تحت مسابقتی ٹیرف ممکن ہوسکے گا جبکہ حال ہی میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹیNEPRA کے ذریعے منظور شدہ مسابقتی تجارتی باہمی معاہدہ ماڈل اگلے 18 ماہ میں میں عمل میں آئے گا اور اس سے عام صارفین کو فائدہ ہوگا۔اسد عمر کا یہ بھی کہنا ہے کہ گزشتہ انتظامات سے سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور تقسیم کار کمپنیوں اور ان کے افسران کو فائدہ ہو رہا تھا کیونکہ صارفین سے قیمت ادا کروائی جارہی تھی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے بڑے اقدامات کیے ہیں اور سی سی او ای کے فیصلوں سے آئندہ 3 سالوں میں 300 ارب روپے کے اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ 2 ستمبر کو سی سی او ای منظور شدہ سرکاری شعبے کے منصوبوں کی ایکویٹی پر ریٹرن کی شرح میں کمی کے نتیجے میں 23-2021 کے دوران پیداواری لاگت میں 100 ارب روپے کی کمی واقع ہوگی۔اگر حکومت کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھ کر اقدامات کیے جا رہے ہیں تو لازم ہے کہ ان اقدامات کے مثبت اثرات عوام کو نظر آئیں اور لوگوں کی زندگی میں بہتری پیدا ہو۔ بجلی اور گیس کے شعبے کو مکمل طور پر فعال اور بحال کرتے ہوئے اسے ملک و قوم کیلئے تعمیر و ترقی کاایک عظیم الشان نمونہ بنا نا پی ٹی آئی حکومت کا تاریخ ساز کارنامہ ہوگا ۔بجلی اور گیس اگر عام اور وافر مقدار میں ہوگی تو عوام کا چولہا بھی جلے گا اور معیشت کا پہیہ بھی پوری رفتار کے ساتھ چلے گا۔

unshaven girls https://credit-n.ru/order/zaymyi-greenmoney-leads.html займ на карту срочно без отказа https://credit-n.ru/order/zaim-web-zaim.html hairy woman https://credit-n.ru/order/zaymyi-money-man-leads.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-sms-finance.html https://credit-n.ru/blog-single-tg.html займ на карту без отказов круглосуточно unshaven girl займ 365быстрый займ денегзайм деньга онлайн займ по паспорту на кивизайм онлайн под залог птс без посещения офисазайм на карту и киви займ переводом золотая коронафаст мани займ личный кабинетонлайн займ до 100 тысяч веб-займвзять займ без процентовзайм манимен манимен займ онлайнмоментальный займ на кивизайм денег тюмень займ в вебманибыстрый займ омскпай пасс займ займ под залог недвижимости екатеринбургзайм без отказа и проверокзайм на карту по паспорту займ под залог недвижимости челябинсконлайн заявка на быстрый займбыстрый займ на карточку займ под залог недвижимости новосибирскмоментальный займ на карту без проверок круглосуточносрочный займ на киви кошелек где взять беспроцентный займзайм без отказа спбманго займ онлайн займ онлайн безработнымзайм ижевсккак получить займ через систему контакт yandex деньги займзайм под залог птс пермьгде взять займ если везде отказ

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں