اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کی بدولت مہنگائی میں کمی آئے گی ، نعیم صدیقی

مرکزی بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج پیر کو منعقد ہوا جس میں نئے پالیسی ریٹ، کورونا سے معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات، مہنگائی اور اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔کمیٹی کے مطابق ستمبر 2020 میں منعقدہ گزشتہ اجلاس کے بعد ملک میں بحالی کے عمل نے بتدریج زور پکڑا جو مالی سال 2021 میں 2 فیصد سے کچھ زائد شرح نمو توقعات کے عین مطابق ہے اور کاروباری صورتحال مزید بہتری کی جانب گامزن ہے
کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرے کے پیش نظر اس منظر نامے کو خطرات درپیش ہیں اور نمو میں کمی کے خطرات ایک مرتبہ پھر منڈلانے لگے ہیں۔ زری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی کی شرح میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی وجہ غذائی اشیا کی قیمتوں کا بڑھنا بتایا لیکن ساتھ ساتھ امید ظاہر کی گئی کہ رسد کے دبا میں عارضی کمی کا امکان ہے اور اوسط مہنگائی مالی سال کے لیے سابقہ اعلان کردہ 7-9 فیصد حد کے درمیان رہنے کا امکان ہے اور کمیٹی نے مجموعی طور پر نمو اور مہنگائی کے منظرنامے کو لاحق خطرات کو متوازن قرار دیا۔ زری پالیسی کا موجودہ موقف بحالی کو تقویت دینے کے ساتھ مہنگائی کی توقعات کو منجمد اور مالی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب ہے لہذا آئندہ سہ ماہی میں نمو کو بڑھانے کے لیے وبا کے دوران دی گئی نمایاں مالیاتی، زری اور قرضہ جاتی تحریک جاری رہنی چاہیے۔
کمیٹی نے حقیقی شعبے کے حوالے سے تبصرے میں کہا کہ تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کی بدولت حالیہ اعداد وشمار جولائی سے دیکھے جانے والی معاشی بحالی مزید مضبوطی اور وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مالی سال 2020 کے مقابلے میں پیٹرولیم مصنوعات اور گاڑیوں کی اوسط فروخت کے حجم کی سطح پہلے سے بڑھ چکی ہے اور سیمنٹ کی فروخت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ مالی سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں بڑے پیمانے پر اشیا سازی میں بحالی کا عمل جاری ہے اور 4.8 فیصد سالانہ توسیع ہوئی حالانکہ گزشتہ سال اس میں 5.5 فیصد کمی دیکھی گئی تھی جبکہ مینوفیکچرنگ کے 15 میں سے 9 شعبے اضافے کے عکاس ہیں جن میں ٹیکسٹائل، غذا اور مشروبات، پیٹرولیم مصنوعات، کاغذ اور گتہ، ادویہ، کیمیکل، سیمنٹ، کھاد اور ربڑ شامل ہیں۔زری پالیسی کمیٹی کے مطابق کورونا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت کی فراہم کردہ تحریک، پالیسی ریٹ میں کٹوتیوں اور اسٹیٹ بینک کے بروقت اقدامات سے بحالی میں مدد مل رہی ہے اور ان اقدامات کی بدولت سہولت فراہم کی گئی، ملازمین کی برطرفیوں میں کمی ہوئی اور سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی۔
زراعت کے شعبے کی بات کی جائے تو کپاس کی پیداوار میں متوقع کمی کی تلافی اسی صورت میں ہی ہو سکتی ہے کہ جب اہم فصلوں میں نمو اور امدادی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے گندم کی بلند پیداوار، کھاد اور کیڑے مار ادویہ پر اعلان کردہ اعانت باقاعدہ فراہم کی جائے۔
اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پابندی کی وجہ سے خدمات کے کئی شعبوں بشمول تھوک پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں البتہ خوردہ تجارت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور زراعت میں تیزی سے بالواسطہ فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
زری پالیسی کمیٹی کے مطابق بیرونی شعبے مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہے اور پانچ برسوں سے زائد عرصے میں پہلی مرتبہ مالی سال 2021 کی پہلی سہ ماہی کے دوران جاری کھاتہ فاضل رہا، مالی سال کے ابتدائی چار مہینوں میں مثبت اشاریوں کے بعد اکتوبر تک مجموعی کھاتہ بڑھ کر 1.2 ارب ڈالر کے فاضل تک پہنچ گیا جبکہ اس سے قبل اسی دورانیے میں 1.4 ارب ڈالر خسارہ ہوا تھا۔ستمبر اور اکتوبر میں برآمدات بحال ہوئیں اور مضبوط ترین بحالی ٹیکسٹائل، چاول، سیمنٹ، کیمیکلز اور دوا سازی میں ہوئی، ترسیلات زر میں 26.5 فیصد مضبوط نمو ہوئی البتہ ملکی سطح پر گرتی ہوئی طلب اور تیل کی کم قیمتوں کے باعث درآمدات اب تک قابو میں رہی ہیں۔ اس حوالے سے انکشاف کیا گیا کہ ایم پی سی کے گزشتہ اجلاس کے بعد پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر میں ساڑھے 3 فیصد اضافے میں مدد ملی اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 12.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جو فروری 2018 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔زری پالیسی کمیٹی کے مطابق کارکردگی کی بنیاد پر بیرونی شعبے کے امکانات میں مزید بہتری آئی ہے اور مالی سال 21 کے لیے جاری کھاتے کا خسارہ اب جی ڈی پی کے 2 فیصد سے کم رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔حکومت کا اسٹیٹ بنک سے نئے قرض نہ لینے کا عزم برقرار ہے اور کم تعداد میں نان ٹیکس محاصل کے باوجود مالی سال 21 کی پہلی سہ ماہی میں بنیادی توازن جی ڈی پی کا 0.6 فیصد زائد رہا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے آس پاس ہے البتہ بھاری سود کی ادائیگیوں کے سبب جب شرح سود میں حالیہ کمی کے فوائد پہنچنے لگے تو مجموعی بلند بجٹ خسارے میں کمی آنی چاہیے۔ مجموعی صورتحال کو دیکھا جائے تو حقیقی پالیسی ریٹ کچھ منفی رہا، نجی شعبے کی نمو معتدل رہی تاہم اس کی ہر ماہ کی بنیاد پر نمو کورونا وائرس سے پہلے کے رجحانات کی جانب گامزن ہے جبکہ اسٹیٹ بینک نے کورونا کے بعد عارضی اور ہدف کی حامل ری فنانس اسکیمیں متعارف کراکر نجی شعبے کو قرضے کی فراہمی بڑھانے میں مدد دی۔ زری پالیسی کمیٹی کے مطابق عمومی مہنگائی جنوری سے اب تک بڑی کمی کے بعد گزشتہ 2 ماہ میں 9 فیصد کے قریب رہی جس کی وجہ رسد کے مسائل کے سبب منتخب غذائی اشیا کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے جبکہ آئندہ چند ماہ میں حکومت کی جانب سے کیے گئے رسد کے مسائل حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات سے امید پیدا ہوئی ہے کہ موافق اساسی اثر اور معیشت کی اضافی گنجائش کی بدولت مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

hairy women https://credit-n.ru/order/zaymyi-bistro-dengi-leads.html срочный займ на карту онлайн https://credit-n.ru/order/zaim-online-zaim.html займ на карту без отказов круглосуточно https://credit-n.ru/order/zaymyi-kredito24.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-manimo-leads.html https://www.credit-n.ru/zaymyi-next.html payday loan unshaven girls займ на годзайм в карманезайм рф займ онлайн с 18 лет на кививзять займ без комиссииденьги будут займ на карту онлайн займ на карту срочно с плохой кредитной историейзайм онлайн без комиссиизайм 50000 на 12 месяцев займ на карту сбербанка срочномонеза займ личный кабинетзайм на киви кошелек круглосуточно денежный займ на карту срочно круглосуточноwebmoney займзайм под залог недвижимости омск займ на 1 деньонлайн займ на карту с плохой историейекапуста первый займ займ в интернетекредит и займонлайн займ на карту срочно круглосуточно займ на яндекс кошелек без картызайм онлайн срочно с плохой кредитной историейвзять займ онлайн срочно без отказа онлайн займ по паспортузайм на киви кошелек без привязки картызайм на киви 1000 рублей займ на карту без паспортных данныхвзять займ под 0 на картузайм без фотографий займ под высокий процентзайм под птс казаньоформить займ на яндекс деньги виваденьги займмиг кредит оформить займлегкий займ онлайн

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں