کورونا وائرس کی نئی لہراورپابندیاں معیشت کیلئے خطرہ، نعیم صدیقی

کورونا وائرس کی نئی لہر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی معاشی صورتحال کو شدید مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔اس سے پہلے جب کورونا وائرس کی پہلی لہر کی شروعات ہوئی تھیں تو رفتہ رفتہ ملک بھر منیں کاروبار زندگی اور معیشت کا پہیہ مکمل طور پر رک گیا تھا اس کے باوجود حکومت کی جانب سے نہایت مثبت اقدامات کے نتیجے میں انتہائی غریب گھرانوں کی نقد امداد کی گئی تھی تا کہ انھیں بھوک سے محفوط رکھا جا سکے لیکن ایسا ممکن نہیں کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک مکمل لاک دائون کی حالت میں چلا جائے اور حکومت عوام کو گھروں میں بٹھا کر ان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔ اب جبکہ کورونا وائرس کی دوسری لہر رفتہ رفتہ خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے تو لازم ہے کہ لوگ مکمل احتیاط اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ زندگی کے معاملات کو جاری رکھیں لیکن کسی بھی صورت اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی کو دائو پر نہ لگائیں۔ زیادہ رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کیا جائے۔لازمی ضرورت کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلا جائے۔بچوں کیلئے سنجیدگی اور سختی کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے کیونکہ اگر وائرس سے متاثرہ افرد کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کے ہسپتال ایسے نہیں ہیں کہ ہر کورونا کے ہر مریض کا علاج مکمل یکسوئی کے ساتھ کیا جا سکے۔خدانخواستہ ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ہسپتالوں پر دبائو بڑھ جائے گا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بیماری مزید خطرناک رخ اختیار کر جائے گی۔ہم دیکھتے ہیں کہ بے شمار اہم ترین افراد جن میں وفاقی و صوبائی وزرائ، اعلی سرکاری افسران ،سیاستدان،ڈاکٹرز،پیرا میڈیکل سٹاف اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ بعض اہم شخصیات وفات بھی پا چکی ہیں۔اس لیے احتیاط لازم ہے۔اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے۔عوام کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہئے کہ اب ہم نے کورونا کے ساتھ زندہ رہنا ہے۔اس کا علاج اگرچہ دریافت کیا جا رہا ہے لیکن ابھی یہ آزمائشی علاج ہے اور آسانی کے ساتھ دستیاب بھی نہیں ہے۔
وائرس کی موجودہ صورتحال صحت کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت کیلئے بھی سخت نقصان کا باعث بن رہی ہے۔اس بات کا اعتراف وفاقی حکومت نے بھی کیا ہے کہ پاکستان کی حالیہ معاشی بحالی کو ملک کے ساتھ ساتھ بڑے تجارتی شراکت داروں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث زوال پذیری کا خطرہ ہے تاہم مہنگائی کا دبائو کم ہوا ہے لیکن ابھی مہنگائی میں مزید کمی ضروری ہے تاکہ عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات تک رسائی میں آسانی ہو اور ہر گھر کا چولہا جلتا رہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ معاشی اعداد و شمار اور نومبر کی صورتحال کے تناظر میں کہا گیا ہے کہا اگر کورونا وائرس کے جاری اثرات کو دیکھیں تو زوال کے خدشات بہت نمایاں ہوگئے ہیں۔معاشی بحالی کا آغاز نئے مالی سال کے آغاز سے ہوا تھا جو اکتوبر تک جاری رہا لیکن معاشی منظرنامے کے اثرات معیشت کے کچھ شعبہ جات پر لگائی گئی پابندیوں کی شدت پر منحصر ہے۔وزات خزانہ کی جانب سے یہ نیاعتراف کیاگیا ہے کہ نومبر 2020 کے لیے مالی خسارہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے تقریبا 70 فیصد بڑھ گیا ہے حالانکہ ترقیاتی اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔کورونا کیسز کی تعداد میں حالیہ اضافہ حکومت کو محتاط پالیسی اپنانے پر مجبور کررہا ہے بالخصوص خدمات کے شعبے میں، اور باقی دنیا کی طرح پاکستان کے معاشی منظر نامے کے لیے بھی ملا جلا پیغام ہے۔وزارت نے کہا کہ اگر عوام ایس او پیز پر عمل کریں تو اثرات کم ہوسکتے ہیں اور معیشت طویل المدتی ترقی کے راستے پر لوٹ سکتی ہے۔وزارت کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا دبا کم ہوا ہے اور یہ لچک آئندہ آنے والے مہینوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔جولائی سے اکتوبر تک کے عرصے میں پاکستان میں مہنگائی کا سب سے بڑا سبب بین الاقوامی اور مقامی اشیا کی قیمتیں تھیں بالخصوص اشیائے خورونوش اور تیل کی مصنوعات کی قیمتیں جبکہ ایکسچینج ریٹ اور مالی پالیسیوں نے بھی اس میں کردار ادا کیا ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نومبر کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کووِڈ 19 انفیکشن میں حالیہ اضافہ اور ہسپتالوں پر دبا ئونے پاکستان کی اہم ترین مارکیٹس کو بہت نقصان پہنچایاہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 26.5 فیصد اضآفہ ہوا لیکن گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے برآمدات 10.3 فیصد ، درآمدات 4 فیصد اور غیر ملکی سرمایہ کاری 62 فیصد کم ہوئی ہے۔رپورٹ میں اسحقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ تجارتی خسارہ 4 فیصد اضافے کے بعد 6 ارب 70 کروڑ ڈالر ہوگیا اس کے ساتھ گزشتہ برس کے پہلے 4 ماہ میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ رواں برس سرپلس رہا۔اس کے علاوہ یہ بات بھی معاشی لحاظ سے تقویت کا باعث ہے کہ ملک کے مجموعی زرِ مبادلہ کے ذخائر 24 فیصد اضافے کے بعد نومبر میں 20 ارب 55 کروڑ ڈالر رہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ایک بار پھر مکمل لاک ڈائون کے خدشات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہےاس کی بنیادی وجہ اس وقت ملک میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔اس اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈائون کے خدشات بھی نمایاں ہیں جس کے باعث کچھ روز پہلے سٹاک مارکیٹ میں ایک موقع پر انڈیکس میں 872 پوائنٹس تک کی کمی دیکھی گئی تھی۔کاروباری ہفتے کے پہلے روز کمرشل بنک، سیمنٹ اور تیل و گیس مارکیٹنگ کمپنیوں کو سب سے زیادہ نقصان کا سامنا رہا جبکہ ہسکول، یونٹی فوڈز اور ٹی آر جی پاکستان کے شیئرز کا سب سے زیادہ کاروبار ہوا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکمل لاک ڈائون کے خدشات اور خبریں سٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہورہے ہیں ۔ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ملک میں لاک ڈائون کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ملکی معیشت اور کارپوریٹ تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔امید ہے کہ حکومت مناسب حکمت عملی اور دانشمندی کے ساتھ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے وائرس کی اس دوسری لہرکا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت اور عوام کی صحت کیلئے ہر ممکن اور مناسب اقدامات کرے گی۔

займы без отказа https://credit-n.ru/order/zaim-microklad.html hairy woman https://credit-n.ru/order/zaim-mrzaim.html buy over the counter medicines https://credit-n.ru/order/zaymyi-creditplus-leads.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-denga-leads.html https://credit-n.ru/informacija/stavka-refinansirovanija/stavka-refinansirovanija.html займ на карту быстрые займы на карту займ платизазайм через систему контакт без отказовсрочный займ на киви кошелек от частных лиц займ на картезайм во все банкиджо мани займ займ на карту сразубелка займзайм пермь онлайн заявка на займзайм монезазайм экспресс на карту онлайн займ на карту сбербанкмгновенный займ на карту сбербанказайм онлайн на киви срочно займ великий новгородзайм на счет кивимоментальный займ без отказа займ сбербанк онлайнзаявка на займ по телефонузайм у частных лиц долгосрочный займ онлайн на картубыстрый займ на киви без отказаденьги через интернет займ займ под залог птс хабаровскфаст мани займзайм онлайн срочно на карту займ под залог автомобиля краснодарзайм 55000частный займ без предоплат и залога где взять займ 100 процентовзайм на 6 месяцев на картузайм на электронные кошельки займ взять на картузайм в интернете без паспортазайм до 30000

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں