مہنگائی میں معمولی کمی لیکن عوام مطمئن نہیں ہیں،نعیم صدیقی

گذشتہ چند ماہ سے پاکستان میں ضروریات زندگی کی عام اشیاء کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی بے پناہ مسائل کا شکار دکھائی دیتی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت کا پہیہ پہلے ہی جام چلا آ رہا ہے ۔لوگوں کا روزگار اور کاروبار مسلسل متاثر ہورہا ہے جس کے منفی اثرات قومی معیشت پرمرتب ہو رہے ہیں۔ایسے حالات میں لوگوں کیلئے ضروریات زندگی کی لازمی اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ معاشی اور سماجی مسائل کا باعث بن رہاہے جن پر قابو پانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔گذشتہ چند ماہ سے چینی،آٹے،دال، چاول،چکن،انڈے اور سبزیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے پہلے سے معاشی مسائل کا شکارعوام کے لئے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ایک طرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ عوام کے ذرائع آمدن میں اضافہ تو تو نہیں ہوا لیکن ان کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔مارکیٹ اور بازاروں میں صرف ایسے خریدار دکھائی دیتے ہیں جن کو زندگی کی لازمی اور بنیادی ضروریات کی اشیاء بحر حال خریدنی ہوتی ہیں۔ ماہ نومبر میں کچھ اشیا کی قیمتوں میں معمولی کمی کے بعد افراط زر یعنی مہنگائی اکتوبر میں 8.9 فیصد سے کم ہوکر  8.3 فیصد رہی۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلسل دوسرے ماہ بھی مہنگائی میں معمولی کمی آئی تاہم اس کے برعکس حقیقت میں ضروری اشیا کی قیمتیں اوپر کی طرف جارہی ہیں۔غذائی اشیا کی مہنگائی اب بھی زیادہ  ہے اور گزرنے والے مہینے میں اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔شہری علاقوں میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی بڑھنے کا دبائو جاری رہا ۔ نومبر میں غذائی اشیا کے گروپ کی قیمتیں سالانہ بنیادوں پر 13 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 1.6 فیصد بڑھیں تاہم دیہی علاقوں میں یہ صورتحال مزید خراب دکھائی دی جہاں نومبر میں اس میں سالانہ بنیادوں پر 16.1 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے
ہم دیکھتے ہیں کہ بنیادی غذائی اشیا ٹماٹر، پیاز، مرغی، انڈے، چینی اور آٹے کی قیمتیوں میں گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور روزمرہ استعمال ہونے والی ان اشیا کی قیتموں میں معمولی اضافہ بھی مجموعی مہنگائی پر کافی حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔نومبر میں سالانہ بنیادوں پر گندم کی قیمت 36.6 فیصد، گندم کے آٹے کی قیمت 13.28 فیصد، چاول 7.3 فیصد، انڈے 48.67 فیصد اور چینی 35.78 فیصد بڑھی۔
پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے شارٹ فال کو پورا کرنے اور مارکیٹ میں سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے گندم اور چینی درآمد کی گئی ہے، مزید یہ کہ سبزیوں کی نئی فصلوں، گنے کی کرشنگ کے سیزن اور پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کے ساتھ ہی مہنگائی میں مزید کمی متوقع ہے لیکن ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ جب قیمتیں ایک مرتبہ اوپر چلی جاتی ہیں تو پھر ان میں کمی کا رجحان کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔درآمد کردہ چینی کی قیمت بھی اس کی اصل قیمت سے زائد وصول کی جارہی ہے۔پورے ملک کا اگر سروے کیا جائے تو کہیں بھی یکساں قیمتیں نہیں ہوں گی بلکہ دوکاندار اپنی مرضی کی قیمت پر چینی کے ساتھ ساتھ آٹا بھی فروخت کر رہے ہیں۔اگر ملک میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے والیٰاتھارٹی ہے تو اس کا جاندار کردار تسلسل کے ساتھ نظر آنا چاہئے۔ایسا کرنا مناسب نہیں ہے کہ عوام کو کھلی مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
وطن عزیز میںمقامی پیداوار میں کمی کے ساتھ رواں مالی سال کا آغاز جولائی میں 9.3 فیصد کی مہنگائی سے ہوا، جس کے بعد اگست میں اس میں کمی آئی اور یہ 8.2 فیصد رہی جس کے بعد ستمبر میں یہ ایک مرتبہ پھر 9 فیصد تک پہنچ گئی۔جولائی سے نومبر کے دوران اوسط سی پی آئی گزشتہ سال کے 10.8 فیصد سے کم ہوکر 8.76 فیصد ہوگیا۔واضح رہے کہ مالی سال 2020 میں سی پی آئی اس سے پہلے سال کے 6.8 فیصد سے بڑھ کر 10.74 فیصد تک پہنچ گیا تھا جو 12-2011 کے بعد سب سے زیادہ تھا۔شہری علاقوں میں نومبر میں جن اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ان میں مرغی 21.36 فیصد، ٹماٹر 15.68 فیصد، آلو 8.79 فیصد، پیاز 5.81 فیصد، سبزیاں 5.63 فیصد، خشک میوہ جات 4.38 فیصد، انڈے 2.83 فیصد، مکھن 2.61 فیصد، مصالحہ جات اور مرچیں 2.6 فیصد اور مچھلی 1.89 فیصد بڑھی۔تاہم شہری علاقوں میں جن علاقوں کی قیمتوں میں کمی آئی ان میں گندم کا آٹا 4.83 فیصد، گندم 431 فیصد، دال مونگ 3.54 فیصد اور دال چنا 1.94 فیصد کم ہوئی۔دیہی علاقوں میں مرغی 20.76 فیصد، آلو 15.8 فیصد، ٹماٹر 9.29 فیصد، پیاز 6.56 فیصد، چینی 5.39 فیصد، انڈے 5.23 فیصد، مصالحہ جات اور مرچیں 3.05 فیصد اور مکھن 1.46 فیصد تک مہنگی ہوئیں۔دوسری جانب جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی ان میں گڑ 5.06 فیصد، بیسن 2.28 فیصد، دال مونگ 2.26 فیصد، پھل 2.21 فیصد، گندم کا آٹا 1.92 فیصد، دال ماش 1.82 فیصد، دال چنا 1.76 فیصد، پھیلیاں 1.17 فیصد، مچھلی 1.12 فیصد کم ہوئی۔علاوہ ازیں شہری مراکز میں غیر غذائی افراط زر سالانہ بنیادوں پر 3.4 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 0.1 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ کر بالترتیب 5.5 فیصد اور 0.2 تک بڑھ گئی۔حکومت پر لازم ہے کہ ملک بھر میں قیمتوں کے استحکام پر بھر پور توجہ دے اور ناجائز منافع خوری کا راستہ سختی کے ساتھ بند کیا جائے کیونکہ ناجائز منافع کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگی پر بڑے گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔غریب لوگ مہنگائی کی وجہ سے اپنے خاندان کیلئے کھانے پینے کا مناسب انتظام نہیں کر سکتے۔جب افراد کو لازمی اور ضروری غذا ہی میسر نہیں ہوگی تو ہمارا معاشرہ صحت مند کیونکر ہوگا اور ان حالات میں قوم کب تک اچھے دنوں کا انتظار کرتی رہے گی؟

займ на карту https://credit-n.ru/order/zaim-creditkin.html быстрые займы онлайн https://credit-n.ru/order/zaim-moneza.html займы онлайн на карту срочно https://credit-n.ru/order/zaim-ryabina.html https://credit-n.ru/order/zaim-microklad.html https://credit-n.ru/zakony/up-o-gk/o-gk-1.html hairy woman займ на карту срочно без отказа частный займ в москве личная встречаслова займбыстро займ займ на карту под 0%займ не выходя из дома на картузайм 20000 рублей на карту займ без подтверждения картызайм на карту срочно без отказов и проверокзайм онлайн без отказа на карту мфк займ онлайн100 займ на карту без отказазайм гк первый займ 0 процентовчестное слово займ на картубыстрый займ без электронной почты центрофинанс займ онлайнбыстрый займ ногинскмфо займ-онлайн займ на сбербанковскую картузайм на карту до 100 тысячзайм экспресс отзывы сотрудников где лучше взять займзайм пенсионерам до 80 летзайм 20000 микро займ на картуонлайн заявка на займ на картуэкспресс займ онлайн заявка займ веббанкирзайм неработающимзайм без % займ уфа срочнопервый займ под 0%быстро займ без отказа займ переводом на картузайм на карту 50000 на годпетрозаводск займ

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں