صنعتی صارفین کیلئے بجلی پرسبسڈی اور گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ، نعیم صدیقی

یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت کی جانب سے صنعتی استعمال والی بجلی کیلئے یکساں ٹیرف کا اطلاق کر دیا گیا ہے اس سے پہلے رات کے اوقات میں بجلی کی قیمت معمول سے زیادہ وصول کی جاتی تھی جس کی وجہ سے ملک بھر میں بہت سی صنعتیں اپنی رات کی شفٹ بند کر دیتی تھیں جس کے منفی اثرات پیداوار اور روزگار دونوں پرمرتب ہو رہے تھے۔ حکومت کے اس اہم اقدام کے بعد اب ہماری معیشت کا پہیہ کسی تعطل کے بغیر چلتا رہے گا اور لوگوں کو روزگار کی سہولت بھی مہیا ہوگی۔ ملکی مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں ہماری ایکسپورٹ کا گراف اوپر جائے گا جس کی اس وقت پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔ ۔اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی) کے اجلاس میں وفاقی کابینہ اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے پیک آورز جن اوقات میں لوڈ زیادہ ہوتا ہے ،کے خاتمے سے پیدا ہونے والی خلا پر ایک غیر طے شدہ سبسڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کی درخواست پر بلائے گئے واحد نکاتی اجلاس نے چیئرمین ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سمیت ای سی سی ممبران کو حیرت میں ڈال دیا۔اراکین کا کہنا ہے کہ پاور ڈویژن کی جانب سے کراچی سمیت ملک بھر میں صنعتی صارفین کے لیے استعمال کے اوقات  جن کو پیک آورز کہا جاتا تھا اس ٹیرف کے خاتمے سے متعلق سمری کو ای سی سی، کابینہ کمیٹی برائے توانائی  اور وفاقی کابینہ نے نومبر کے پہلے ہفتے  سے منظور کرلیا ہے جسے بعد ازاں نیپرا نے نوٹیفکیشن کے لیے منظور کرلیا تھا۔ان کا خیال تھا کہ تمام رسمی کارروائیوں کی تکمیل کے بعد ای سی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
پاور ڈویژن نے ای سی سی کو بتایا کہ  نیپرا نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ جہاں صنعتی سپورٹ پیکیج کو منظور کرنے کے ساتھ ساتھ 21 ارب روپے کی سبسڈی مختص کردی گئی ہے وہیں ٹی او یو اسکیم کے خاتمے سے بھی کچھ سبسڈی پیدا ہوگی یا گردشی قرضے میں اضافہ ہوگا جس کا حساب نہیں لگایا گیا ہے۔ ٹی او یو اسکیم کے تحت صارفین سے تقریبا 18 گھنٹوں کے لیے 15 روپے فی یونٹ آف پیک نرخ وصول کیا جاتا ہے جبکہ شام کے 5 پیک آورز میں تقریبا 21 روپے فی یونٹ لیا جاتا تھا۔ پیک آورز کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ صنعتیں 15 روپے فی یونٹ کے نرخ ہی ادا کریں گی۔ ای سی سی نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی استعمال کرنے کی اوقات کی بنیاد پر ٹیرف اسکیم کے خاتمے اور اس ضمن میں ایک واپڈا ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے لیے متعلقہ ایس آر اوز میں ترمیم کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔
ایس آر اوز کے تحت صنعتی صارفین پیک آورز میں آف پیک ریٹ سے ٹیرف یعنی معمول والے چارجز اداکریں گے۔سرکاری اعلامیہ کے مطابق پیک آورز اور آف پیک آورز ٹیرف کے خاتمہ کا اطلاق یکم نومبر2020 سے 30 اپریل 2021 تک کی مدت کے لیے ہوگا۔

دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں سوزوکی کاریں اور ٹویٹا کاریں بنانے والی دونوں کمپنیوں نے گاڑیوں کے مختلف ماڈلز کی قیمتوں میں ایک لاکھ روپے تک اضافہ کر دیا ہے حالانکہ پاکستان میں پہلے ہی گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔اس سے پہلے کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کی قیمت کو جواز بناکر گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا تھا۔مگر حالیہ مہینوں میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوا مگر پھر بھی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا جس کا اطلاق یکم دسمبر سے ہوگا۔ سوزوکی کی جانب سے کلٹس اور سوئفٹ کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیاہے۔ سوزوکی کلٹس وی ایکس ایل کی قیمت میں 70 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا اور اب یہ 19 لاکھ کی بجائے 19 لاکھ 70 ہزار روپے میں دستیاب ہوگی۔ کلٹس اے جی ایس ایک لاکھ روپے اضافے کے بعد اب 20 لاکھ 30 ہزار روپے کی بجائے 21 لاکھ 30 ہزار روپے میں فروخت کی جائے گی۔سوزوکی سوئفٹ آٹومیٹک نیوی گیشن کی قیمت میں 35 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے اب یہ 21 لاکھ 75 ہزار روپے کی بجائے 22 لاکھ 10 ہزار روپے میں دستیاب ہوگی۔اس سے قبل پاک سوزوکی نے اکتوبر میں گاڑیوں کی قیمتوں میں 42 ہزار روپے تک اضافہ کیا تھا۔کرولا 1.6 ایم ٹی کی قیمت میں 60 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کی قیمت 31 لاکھ 59 ہزار روپے سے بڑھ کر 21 لاکھ 19 ہزار روپے ہوگئی ہے۔کرولا 1.6 اے ٹی کی قیمت بھی 60 ہزار روپے اضافے سے 33 لاکھ 9 ہزار روپے کی جگہ 33 لاکھ 69 ہزار روپے ہوگئی ہے۔کرولا 1.8 ایم ٹی کی قیمت پہلے 43 لاکھ 79 ہزار روپے تھی جو 70 ہزار روپے اضافے سے 35 لاکھ 49 ہزار روپے ہوگئی ہے۔کرولا 1.8 سی وی ٹی کی قیمت میں بھی 70 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا جو اب 36 لاکھ 29 ہزار روپے کی بجائے 36 لاکھ 99 ہزار روپے کی ہوگئی ہے۔الٹس گرانڈی 1.8 سی وی ٹی (Beige Interior) اسی ہزار روپے اضافے کے بعد 38 لاکھ 99 ہزار روپے کی جگہ 39 لاکھ 79 ہزار روپے میں فروخت ہوگی۔الٹس گرانڈی 1.8 سی  کی قیمت ایک لاکھ روپے اضافے کے بعد 38 لاکھ 99 ہزار روپے کی جگہ 39 لاکھ 99 ہزار روپے ہوگئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب ڈالر کی قیمت میں کمی آ رہی ہے تو گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کمی ہونی چاہئے تھی۔حکومت کی جانب سے بجلی کے حوالے سے بھی صنعتی استعمال والی بجلی کیلئے آف پیک آورز کا فرق ختم کر دیا گیا ہے جس کا فائدہ ہمارے صنعتکاروں کو پہنچے گا اس لیے لازم ہے کہ ہمارے صنعتکار بھی اپنی مصنوعات کی قیمتوں کا ازسر نو تعین کریں اورقیمتوں میں کمی کر کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کریں۔

онлайн займ https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-unicredit-bank.html займ на карту срочно без отказа https://credit-n.ru/order/zaim-microklad.html срочный займ на карту онлайн https://credit-n.ru/order/zaim-givemoney.html https://credit-n.ru/order/zaim-cashtoyou.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-turbozaim-leads.html быстрые займы на карту займ онлайн займ с плохой кимоментальный займ на карту без проверокзайм на карту сбербанка мгновенно займ экспресс красногорскзайм экспресс серпуховбыстрый займ улан удэ займ от частного лица под расписку челябинсксрочный займ денег хабаровскманимо займ отзывы мой займполучить займ на карту911 займ честное слова займwebbankir погасить займэкспресс займ киров онлайн займ по паспорту на кивизайм онлайн под залог птс без посещения офисазайм на карту и киви займ под залог недвижимости от частного лицазайм на карту за 5 минутзайм денег под расписку взять займ быстрозайм 10000срочный займ онлайн на карту займ 500 рублейзайм на яндекс деньги без паспортагде взять займ под материнский капитал займ пенсионный на картузайм срочно с плохой кредитной историей на картузайм экспресс нижний тагил онлайн займ без загрузки документовгде реально получить займ на картузайм онлайн екатеринбург кредит плюс онлайн займзайм ночьюзайм который дают всем

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں