نئے اقتصادی زونزکا قیام اور جاپان کی جانب سے سرمایہ کاری میں دلچسپی ، نعیم صدیقی

حکومت کی جانب سے پاکستان میں تین نئے خصوصی اقتصادی زونز کی منظوری دے دی گئی ہے۔خصوصی اقتصادی زونز کے بورڈ آف اپروولزبی او اے کے اجلاس میں باقاعدہ یہ منظوری دی گئی، جس کے بعد ملک میں ان زونز کی مجموعی تعداد 20 ہوگئی ہے۔مذکورہ اجلاس کی سربراہی وزیراعظم عمران خان نے کی جس کے حوالے سے جاری ہونے والے باضابطہ اعلان کے مطابق یہ نئے زونز اسلام آباد میں نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک، پنجاب میں جے ڈبلیو-ایس ای زی چائنا-پاکستان ایس ای زی رائیونڈ اور سندھ میں دھابیجی ایس ای زی ہیں۔ یہ بورڈ آف اپرو ولز کا چھٹا اجلاس تھا جس میں تمام وزرائے اعلی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے تھے۔
اس اجلاس میں وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، مشیر تجارت عبدالرزاق داد، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین عاطف بخاری اور متعلقہ وفاقی اور صوبائی افسران نے بھی شرکت کی تھی۔ اس اجلاس کے دوران ڈیولپرز، شریک ڈیولپرز اور زونز انٹرپرایزز کے لیے خصوصی اقتصادی زونز میں موجود متعدد مراعات سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایس ای زی زون میں انٹرپرائز کے داخلے اور پلاٹس کی فروخت کے قواعد 2020 پر مشاورت کو ایک ماہ میں مکمل کر کے آئندہ اجلاس میں تجاویز پیش کی جائیں گی۔اجلاس کے دوران اپروولز کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے نجی شعبے سے دو اراکین کے انتخاب اور خصوصی اقتصادی زونز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل میں نجی شعبے سے دو ارکان کے تقرر کی تجویز بھی منظور کی گئی۔وزیراعظم کی جانب سے متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایس ای زیز میں گیس بجلی اور اس جیسی دوسری سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح دیں۔اجلاس میں انہوں نے ہدایت کی کہ خصوصی اقتصادی زون میں مطلوبہ سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر ایک رپورٹ پیش کی جائے۔ گزشتہ ماہ رشکئی اکنامک زون کے افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے دعوی کیا تھا کہ Emergency support by the Japanese NGO for COVID-19 affected districts in KPK | International Newsپاکستان صنعتی دور میں داخل ہوچکا ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک اس کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرے گا۔
جاپان کی جانب سے پاکستان میں صنعتکاری کیلئے سرمایہ کاری کرنے کی خبر پاکستان کی معیشت کیلئے بہت ہی مفید اور امید افزا کہی جا سکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جانب سیجیدگی کے ساتھ توجہ دی جائے تاکہ جاپان کی جانب سے سرمایہ کاری کا آغاز فوری طور پر ہو سکے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین عاطف بخاری نے جاپان کے سفیر کونینوری میٹسودا سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک اور خصوصی اقتصادی زون ایس ای زیڈترقی اور سرمایہ کاری کے لیے ممالک کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے جاپانی سفیر کو سندھ میں دھابیجی خصوصی اقتصادی زون کے لیے جاپانی مقیم ڈویلپر کے امکان کے بارے میں آگاہ کیا اور کاروباری اداروں کو معاشی زون میں یونٹ قائم کرنے کی دعوت بھی دی۔انہوں نے روشنی ڈالی کہ دھابیجی اقتصادی زون کا مقام کراچی بندرگاہ کے قریب ہونے کی وجہ سے بہت بہتر ہے۔
جاپانی سفیر نے تجویز دی ہے کہ اسلام آباد کو اوساکا میں ایک تجارتی قونصل خانہ یا رابطہ ادارہ قائم کرنا چاہیے جو جاپان میں کاروباری گروہوں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کاروں کا ایک مرکز ہے اور اس سے دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔2 کروڑ سے زائد کی آبادی کے ساتھ اوساکا ایک اہم مالیاتی مرکز ہے اور یہ دنیا کے سب سے بڑے شہری علاقوں میں شامل ہے۔سفیر کی تجویز کا جواب دیتے ہوئے عاطف بخاری نے کہا کہ اوساکا میں تجارتی قونصل خانے کے افتتاح کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ وزارت خارجہ سے رابطہ کرے گا۔واضح رہے کہ اوساکا میں پاکستان کا قونصل خانہ ہے تاہم اس میں کوئی عملہ نہیں اور اس کی نگرانی ٹوکیو میں قائم سفارتخانہ کرتا ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق جاپان میں پاکستان کے تجارت اور سرمایہ کاری کے قونصلر ٹوکیو میں واقع سفارت خانے میں مقیم ہیں۔بی او آئی کے چیئرمین نے کراچی کے لیے حکومت کے ترقیاتی منصوبے میں جاپان کی شمولیت کی بھی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی کے موجودہ نظام کی اپ گریڈیشن، کراچی سرکلر ریلوے اور کیماڑی تا پپری ریل لائن سمیت ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں بہترین سرمایہ کاری کے مواقع ہیں۔ جاپانی سفیر کا کہنا ہے کہ جاپان فیصل آباد میں پانی کی فراہمی کے نظام کی بہتری میں پہلے ہی مدد کر رہا ہے اور وہ کراچی پر بھی غور کرسکتا ہے۔ملاقات میں پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔جاپانی سفیر نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبوں پر زور دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کی ماہی گیری کی صنعت میں سرمایہ کاری کریں، جاپانی پہلے ہی کورنگی فش ہاربر پروجیکٹ جیسے فشریز کے منصوبوں میں مشغول ہیں۔جاپانی سفیر نے ملک میں جاپانی آٹو انڈسٹری اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کی بھی بات کی ہے جس سے طاہر ہوتا ہے کہ جاپان پاکستان میں سرمایہ کاری اور صنعت سازی میں سنجیدہ ہے اس لیے حکومت کی جانب سے ہر سطح پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینا ہوگی اور اس کام کو تیزی کے ساتھ عملی اقدامات کی طرف لے جانا ہوگا اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان میں عالمی معیار کی مصنعات تیار ہوں گی اور لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس کی پاکستان کو شدید ضرورت ہے۔

unshaven girl https://credit-n.ru/kredit/kredit-sfera.html buy over the counter medicines https://credit-n.ru/order/zaim-konga.html hairy woman https://credit-n.ru/order/zaim-creditkin.html https://credit-n.ru/order/kreditnye-karty-bank_tinkoff-airlines.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-oneclickmoney-leads.html займ срочно без отказов и проверок payday loan долгосрочный займзайм на киви кошелек мгновеннозайм под 0 процентов онлайн займ е заеммоментальный займ онлайн на киви кошелеконлайн займ на длительный срок миг кредит оплатить займзайм онлайн на карту без паспортазайм веб займ долгосрочный займзайм на киви кошелек мгновеннозайм под 0 процентов до зарплаты займ личный кабинетбеспроцентный займ на 3 месяцазайм на карту 100000 смс финанс займ на картувзять займ кивизайм в самаре где взять займ если везде отказываютзайм быстроденьгионлайн займ без паспорта займ под залог авто красноярскзайм деньга номер телефонавзять займ на qiwi кошелек онлайн займ с плохой кредитной историейзайм без электронной почтыоформить займ на карту срочно срочный займ на банковский счетзайм на кошелек кивизайм на карту с 20 лет 100000 займзайм на карту онлайн 24 часазаймы первый займ бесплатно займ онлайн 50000быстрый займ в хабаровскемини займ на банковскую карту

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں