ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کی جائے, نعیم صدیقی

ٹیکس ریٹرن برائے سال 2020 جمع کروانے کی حتمی تاریخ آج یعنی آٹھ دسمبر مقرر کی گئی تھی اور وزارت خزانہ کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ اس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔تاہم دیکھا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے منفی اثرات کی وجہ سے پاکستان کی تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کاروباری حالات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں اسی وجہ سے تاجر برادری کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی ادائیگی کرنے والوں کو ابھی مزید وقت درکار ہوگا۔حکومت کو چاہئے ٹیکس ریٹرن کی تاریخ میں فوری توسیع کا اعلان کرے تاکہ تاجر برادی کو اطمینان ہو۔ ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع  کا مطالبہ تاجر برادری  کی جانب سے کیا جا رہا ہے،گذشتہ روز تک جو گوشوارے جمع کرائے جا چکے ہیں ان میں ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد میں 23 فیصد کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔اس لیے لازم ہے کہ اس تاریخ میں توسیع کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 8 دسمبر کی آخری تاریخ سے قبل ٹیکس سال 2020 کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا 23 فیصد کم انکم ٹیکس گوشوارے موصول کیے ہیں۔ بورڈ کو 5 دسمبر تک 13 لاکھ 10 ہزار ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے جب کہ ٹیکس سال 2019 میں 16 لاکھ 90 ہزار ریٹرنز جمع کرائے گئے تھے۔ان میں تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد، افرادی و کمپنیوں کی ایسوسی ایشنز دونوں شامل ہیں۔
جائزے کے دوران اس عرصے میں گوشواروں کے ساتھ وصول کیا گیا ٹیکس 6 ارب 50 کروڑ روپے رہا جب کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 12 ارب 80 کروڑ روپے وصول کیا گیا تھا جو 49.2 فیصد کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ٹیکس سال 2020 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں ستمبر کے بعد سے توسیع کی گئی تھی تاکہ عوام کو اپنا ریٹرن فائل کرنے میں آسانی ہو۔
ٹیکس سال 2019 کے لیے ایف بی آر کو 29 لاکھ ریٹرنز ملے تھے جو ایف بی آر کی تاریخ میں سب سے زیادہ تھے۔بھارت میں آبادی کے مقابلے میں ریٹرن فائل کرنے کا تناسب 5 فیصد، فرانس میں 58 فیصد اور کینیڈا میں 80 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ تقریبا 0.02 فیصد پر موجود ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا ہے کہ آخری تاریخ میں مزید توسیع نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریٹرن فائلنگ میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ڈاکٹر وقار نے کہا کہ فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان افراد کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے لیے وقت میں توسیع کریں جو ڈیڈ لائن سے قبل ان کو فائل کرنے کے قابل نہیں تھے۔
نان فائلرز کو ریٹرن فائل کرنے کے لیے اضافی وقت طلب کرنے کے لیے متعلقہ ٹیکس آفس میں درخواست جمع کرانا ہوگی۔اسی طرح، معاون خصوصی نے بتایا کہ ٹیکس پریکٹیشنرز کو بھی اپنے کلائنٹ کے لیے توسیع حاصل کرنے کی اجازت ہے۔تاہم معاون خصوصی نے بتایا کہ سب کے لیے کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔
واضع رہے کہ ان لوگوں کے لیے کوئی جرمانہ نہیں ہوگا جنہوں نے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے لیے توسیع مانگی ہے۔ریٹرن کی تاریخ میں مزید توسیع نہ کرنے کے حوالے سے سرکاری موقف یہ ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ملک میں ٹیکس کے نظام میں نظم و ضبط لانا ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہوگا کیا پاکستان کے لوگون نے اپنی قومی ذمہ داریوں کو سنجیدگی کے ساتھ دا کرنا شروع کر دیا ہے۔ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے۔حکومت کو اس جانب سنجیدگی سےاقدامات کرنا ہوں گے لوگوں کو سہولت دینا ہوگی۔۔ٹیکس نطام میں بہتری اور جدت لانا ہوگی۔ ۔ملک بھر سے تاجر برادری نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کی جائے تا کہ جو لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے اپنے ٹیکس گوشوارے تاحال جمع نہیں کروا سکے ان وقت مل جائے اور وہ اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروا سکیں۔۔

займы на карту без отказа https://credit-n.ru/offer/ipoteka-bank-otkritie.html займы на карту https://credit-n.ru/order/zaim-finterra.html hairy girl https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-home.html https://credit-n.ru/offer/kreditnye-karty-bank-moskvyi.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-e_zayom-leads.html

Leave a Reply

*