حکومت نے بے قابومہنگائی کا نوٹس لے لیا لیکن عوام ریلیف کے منتظر، نعیم صدیقی

کورونا کے کی دوسری لہر کی وجہ سے ملک میں حالات ایک مرتبہ پھر غیر یقینی کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں۔کوروناوبا کی وجہ سے عالمی صورتحال میں ہونے والی تیزی سے تبدیلی کے بعد پاکستان کی معیشت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔عوام کا معیار زندگی گرتا جا رہا ہے۔حکومت اپنی جگہ مثبت کوششیں کر رہی ہے لیکن عام لوگوں تک اس کے اثرات نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔حال ہی میں حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت سخت اقدامات کر رہی ہے۔سردیوں کے موسم میں چکن اور انڈوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا کہ قیمتیں بہت زیادہ بڑھا دی گئی ہوں۔’وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بڑھتے ہوئے انڈوں اور بناسپتی گھی کے نرخوں کو کنٹرول کرنے کے لیے وزارت تجارت کو اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ خصوصی اجلاس کرنے کی ہدایت کی ہے تا کہ قیمتوں کو مناب سطح پر لایا جا سکے۔
پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومتوں کو انڈوں اور گھی کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے سیکریٹری تجارت کو صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور ایف بی آر سے میٹنگ کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ دونوں اشیا کی قیمتوں میں کمی کے لیے مزید اقدامات کیے جاسکیں۔وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے سیکریٹری غفران میمن نے اجلاس کے شرکا کو ملک میں گندم اور چینی کے ذخائر کی صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں اشیا کی فراہمی اور دستیابی میں اضافے سے صارفین کے لیے ان اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔یادرہے کہ گزشتہ ہفتے پورے ملک میں انڈوں کی قیمتیں 200 سے 240 روپے فی درجن کی بلند ترین سطح پر آگئی تھیں جس کی وجہ سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہوئے تھے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ قیمتوں میں من مانے اضافے کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے معمول اور ضرورت کے مطابق انڈے خریدنے چھوڑ دیے تھے۔
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں انڈوں کی قیمتیں 240 روپے فی درجن بتائی گئیں جبکہ کراچی اور لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں اس کی قیمت 200 روپے فی درجن بتائی جاتی ہے۔
صارفین کا کہنا تھا کہ حکومت انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جس سے وہ پولٹری فارمز مالکان اور خوردہ فروشوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 2020 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا میں بلند ترین نہیں رہی ہے بلکہ دنیا کے دیگر کئی ملکوں میں پاکستان کی نسبت مہنگائی زیادہ ہے۔لیکن یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ لوگوں کی آمدن کی اوسط کیا ہے۔پاکستان میں غریب عوام کا بنیادی مسئلہ آمدنی کم اور لازمی اخراجات زیادہ ہیں جس کی وجہ سے بنیادی ضروریات کی اشیاء جن میں اشیا ئے خوردو نوش اور دوائیں بھی شامل ہیں ان کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ عام لوگوں کیلئے دو وقت کا کھانا پورا کرنا مشکل ترین ہو گیا ہے۔
ملک بھر کے شہری علاقوں میں ایک بڑی تعداد اخراجات میں کمی کے لیے ایک بار میں درجن یا اس سے زائد انڈوں کی بجائے 2 سے 6 انڈے خرید رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید کس قدر متاثر ہوئی ہے۔اس جانب حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہو رہا اور زندگی کی لازمی ضروریات کی اشیا کی قیمتیں عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔اگرچہ حکومت کے ادارے موجود ہیں اور این پی ایم سی نے اشیائے ضروریات کی قیمتوں کے رجحان کا جائزہ بھی لیا ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ عام زندگی میں قیمتوں کی صورتحال کیا ہے اور حکومتی ادارے گرانی کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔سیکریٹری خزانہ نوید کامران نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ہفتہ وار حساس قیمت انڈیکس میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہ کمی ایسی نہیں کہ اسے عوام کے حق میں بہتر قرار دیا جائے۔ابھی ان تمام اشیا کی قیمتوں میں مناسب کمی ہونا ضروری ہے جن کے بغیر کسی بھی گھر کا گذارہ نہیں ہو سکتا ۔ان میں آٹا،چینی،دالیں،پیاز ،آلو،چاول،چکن،انڈے، اور سبزیاں شامل ہیں۔دوائوں کی قیمت کا حال بہت ہی تکلیف دہ ہے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ بیمار پڑ جائیں تو مہنگی دوا خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران افراط زر کی شرح میں 0.22 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے لیکن ابھی اس میں بہت زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔ گندم، ٹماٹر، پیاز، آلو، اورچکن سمیت کئی ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن یہ کمی ابھی اور بھی ہونی چاہئے تاکہ پاکستان کے عام لوگوں کے گھر کا چولہا جل سکے۔ابھی تک حالات میں ایسی اطمینان بخش تبدیلی نہیں دیکھی جا رہی جسے دیکھ کر یہ کہا جا سکے کہ پاکستان میں عام لوگوں کی آمدن اور اخراجات میں توازن آ گیا ہے۔امید ہے کہ حکومت عام لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے ٹھوس اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کرے گی۔

https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-bank-tinkoff.html микрозаймы онлайн https://credit-n.ru/order/zaymyi-vivus.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-4slovo-leads.html https://credit-n.ru/offer/kredit-nalichnymi-otp-bank.html

Leave a Reply

*