ٹیکس اقدامات میں تا خیر کیلئے آئی ایم ایف کی رضامندی معیشت کیلئے احسن اقدام ،نعیم صدیقی

پاکستان کے معاشی حالات اس سال کے آغاز سے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے غیر یقینی کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ایسے وقت میں کہ جب معیشت کووِڈ 19 کی دوسری لہر سے جکڑی ہوئی ہے عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی جانب سے ٹیکس کے کچھ اہم اقدامات پر عمل درآمد میں 6 ماہ کی تاخیر کی درخواست منظور کرلی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے ذرائع نے بتایا کہ یہ سمجھوتہ سیلز ٹیکس ایکٹ میں ٹیکس اقدامات کی تاخیر اور ذاتی انکم ٹیکس کے سلیبز پر ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں طے پایا ہے۔تاہم کارپوریٹ انکم ٹیکس جو زیادہ تر استثنی واپس لینے سے منسلک ہے اس پر ورچوئل مذاکرات کرسمس کی تعطیلات کے بعد جنوری 2021 کے پہلے ہفتے میں ہوں گے۔اب تک آئندہ 6 ماہ کے لیے ریونیو کلیکشن کے اہداف اور اضافی ریونیو کے اقدامات کو نظرِ ثانی کر کے کم کرنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا۔
حکومت نے گزشتہ بجٹ پلان میں 47 کھرب روپے کا ہدف پانے کے لیے ایف بی آر کی ریونیو کلیکشن میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا لیکن ابتدائی 5 ماہ میں ریونیو کلیکشن میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوسکا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ کووِڈ 19 کے دوران دوسرا اور تیسرا سہ ماہی جائزہ نہیں ہوسکا اور اس میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔اس سلسلے میں پاکستان میں آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ چیف ٹریسا ڈبن کا کہنا ہے کہ ‘بدقسمتی سے میں جاری مذاکرات کے حوالے سے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتی’۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی پالیسی ہے کہ مذاکرات کے ‘دوران’ پریس سے کوئی رابطہ نہ کیا جائے اور اس وقت صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی ٹیم بات چیت کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف اور پاکستان، جولائی 2021 میں سیلز ٹیکس استثنی پر دوبارہ بات چیت کرنے پر متفق ہیں اور یہ سلسلہ اب نئے سال میں ہی کسی نتیجے پر پہنچے گا۔
آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان اشیائے خورو نوش پر سیلز ٹیکس واپس لے تاہم ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک پاکستان کے ساتھ ان استثنی کا تجزیہ کیا تا کہ اس کے مہنگائی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس کام کے بعد آئی ایم ایف جولائی 2021 تک سیلز ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہ کرنے پر رضامند ہے۔ تنخواہوں کے سلیب کے بارے میں جو تجویز دی گئی ہے اس کے مطابق انکم ٹیکس میں آئی ایم ایف کی خواہش اور مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان ذاتی انکم ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کرے اور یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ٹیکس کی شرح میں اضافے کے ساتھ تنخواہوں کے سلیبز کو 20 سے کم کر کے 8 کر دیا جائے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم نے مجوزہ ذاتی انکم ٹیکس کی شرح پر جون 2021 میں مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اسے موخرکرنے سے پہلے ان کی ذاتی انکم ٹیکس کی شرح پر طویل بات چیت ہو ئی ہے۔امید کی جاتی ہے کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور پاکستانی قوم کے مفادات کو مد نظر رکھ کر ایسے فیصلے کیے جائیں گے جس کا فائدہ عوام کو ہوگا اور ملک کی معیشت میں بہتری آئے گی۔

https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-alfa-card.html займ срочно без отказов и проверок https://credit-n.ru/order/zaymyi-lime-zaim.html https://credit-n.ru/order/zaim-cash-u.html https://credit-n.ru/offers-zaim/platiza-mgnovenniy-zaim-online.html займы на карту без отказа срочный займ займ на карту сбербанка визазайм экспесслайме займ квику займ на картузайм онлайн на 6 месяцевзайм 1000 рублей на яндекс деньги заявка на займ онлайнзайм от 18 лет на картуглавный займ красноярск займ мигом на картузайм без телефонаонлайн займ на карту до 200000 частный займ в москвебеспроцентный займ онлайнзайм с плохой кредитной историей онлайн быстрый займ в ставрополезайм онлайн первый займ без процентовтурбозайм займ webbankir займ личный кабинетзайм от частного инвестораманго мани займ займ у петровича отзывыпервый займ беспроцентныйбыстро займ на карту займ по смс срочноонлайн займ на годзайм на год краткосрочный или долгосрочный займ на яндекс деньги онлайн срочнодаем займманимен оформить займ метрофинанс займденежный займ срочнобыстрый займ на банковскую карту срочно займ на карту с плохой кизайм без проверки кредитной истории онлайнзайм на карту мир сбербанк

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں