پاکستان میں گیس کی قلت برآمدات میں رکاوٹ بن سکتی ہے،نعیم صدیقی

ملک بھر میں گیس کی قلت دیکھی جا رہی ہے۔گیس کے، پریشر میں کمی سے توانائی کے شعبے کو فراہمی متاثر ہو رہی جس کی وجہ سے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت شدید متاثر ہو رہی ہے۔گیس کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کو دیکھتے ہوئے صنعت کاروں نے وزیر اعظم عمران خان پر زور دیا ہے کہ تاجر برادری کو بلا تعطل گیس کی فراہمی کے وعدہ کو من و عن پورا کرنے کو یقینی بنایا جائے تا کہ صنعت کا پہیہ چلتا رہے۔ چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا اور صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایم شارق وہرا کا یہ کہنا ہے کہ جنوری میں گیس کی قلت کی افواہیں حکومت کے وعدے کے منافی ہیں۔
تاجر برادری نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کی جانب سے ایک نیوز کانفرنس میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے سندھ حکومت پر صوبے میں تقریبا 2 ہزار 500 سے 2 ہزار 600 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی پیداوار کے گمراہ کن اعداد و شمار دینے پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ جون کے اعداد و شمار کے مطابق اس صوبے میں 2 ہزار 25 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی پیدا کی گئی تھی۔
کاروباری برادری کے نمائندوں نے بتایا کہ صنعتکار ایک سنجیدہ مسئلے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان غیر ضروری اختلاف سے الجھن کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے کہ سندھ سے نکلنے والی گیس میں سے جو مقدار صنعتوں کو فراہم کی جانی تھی وہ کراچی کی صنعتوں کو فراہم نہیں کی جارہی۔زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے طویل بحث و مباحثے کے بعد وزارت توانائی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں ہم نے آر ایل این جی اور مقامی گیس کے فرق کے طور پر گیس کے نرخوں کو 786 روپے سے بڑھا کر 930 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے پر اتفاق کیا تاہم ہم نے یہ معاہدہ اس وقت کیا جب حکومت کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ صنعتوں کو گیس مناسب پریشر پر فراہم کی جائے گی اور تعطل نہیں ہوگا’۔چیئرمین بی ایم جی نے کہا کہ ‘اب اعلان کیا گیا ہے کہ انہوں نے بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی معطل کردی ہے جسے صنعت کار سمجھنے میں ناکام ہیں کیونکہ زیرو ریٹڈ سیکٹر، عام صنعت یا ٹیکسٹائل کے شعبے کے مقابلے میں سارا فرق ادا کرنے پر راضی تھے، اس سب کے باوجود صنعتیں فعال نہیں ہیں، گزشتہ 15 دنوں سے جب حکومت نے دعوی کیا تھا کہ وہ آر ایل این جی کی 200 ایم ایم سی ایف ڈی سے زیادہ گیس فراہم کررہی ہے، گیس کی قلت برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم مشیر پیٹرولیم کے اس اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں جس کے تحت جنوری 2021 سے کراچی میں آر ایل این جی کی شمولیت 200 ایم ایم سی ایف ڈی کے بجائے 50 ایم ایم سی ایف ڈی ہوگی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی فرٹیلائزر تبدیل ہونے جارہی ہے جس سے 60 ایم ایم سی ایف ڈی کی بچت ہوگی اور کے الیکٹرک کے لیے بھی 70 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہوجائے گی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے ہموار پیداوار کے لیے قیمت ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ پیداوار میں کمی اور بے روزگاری کے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا، ایسی صورتحال پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہوگا جس میں ہم خریداروں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔
کراچی چیمبر کے صدرشارق وہرا کا کہنا تھا کہ زیرو ریٹیڈ سیکٹر نرخوں کو 786 روپے سے 930 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافے پر سوال اٹھا رہا ہے کیونکہ صنعتوں کو گیس نہیں مل رہی۔کے سی سی آئی کے سربراہ نے سوال کیا کہ اگر اس معاہدے کی حکومت پاسداری نہیں کر رہی تو کیا یہ ضروری ہے کہ صنعت کار بھی اس کی پاسداری کرتے رہیں؟انہوں نے مزید کہا کہ صنعتکاروں کو وقت کے لحاظ سے معاوضہ دیا جانا چاہیے جو گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ضائع ہوا اور ان دنوں جب گیس دستیاب نہیں تھی، انہیں اس کے حساب سے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔
گیس کی قلت اور پریشر کی کمی نے صارفین خصوصا پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صارفین کو پریشان کردیا ہے جس کی وجہ سے بجلی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں اور صنعتوں کے پلانٹس کو سپلائی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی ہوئی ہے۔ دسمبر میں درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے رہائشی سیکٹر میں گیس کی طلب میں اضافے کے علاوہ شیڈول ایل این جی درآمدی جہاز کی آمد میں تاخیر اور کے الیکٹرک کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو زیادہ گیس کی فراہمی کی وجہ سے یہ صورتحال رونما ہوئی ہے۔اس کے علاوہ سالانہ مرمت کے لیے شروع ہونے والی کینالز کی بندش بھی ہوگی۔تاجر برادری اس بات پر شدید پریشان ہے کہ اگر گیس کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ملک بھر میں صنعتی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے جس کا نقصان یہ ہوگا کہ ہماری برآمدات میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور ذرائع روزگار پر بھی اس کا منفی اثر پڑے گا جبکہ تاجر برادری کو الگ سے معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

hairy women https://credit-n.ru/order/zaymyi-platiza-leads.html https://credit-n.ru/kredit/kredit-vostok.html https://credit-n.ru/zaymyi-v-ukraine.html займы на карту займы на карту займ экспресс ступинозайм на кошелек срочноwebmoney кошелек займ взять займ с плохой кредитной историей и просрочкамисрочный займ без проверки кредитной историизайм без предоплат займ денег москвасрочный займ на киви без отказамтс займ денег займ на улучшение кредитной историиёкапуста займзайм на карту быстроденьги лайм займ личный кабинет входзайм екапуста личный кабинетзайм на киви без регистрации карты займ в псковебыстрый онлайн займ на кивиone click займ онлайн займ на карту с 18 леткредит 24 займзайм онлайн на киви кошелек срочно долгосрочный займ на картусмсфинанс займчто такое займ взять займ на долгий срокбыстрый займ первый без процентовзайм без отказа всем займ онлайн через систему контактзайм мигомзайм у частного лица краснодар он лайн займзайм 300000быстро займ москва первый займ 0%‎срочный займ онлайн круглосуточнозайм через смс

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں