ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ خوش آئند لیکن دیگر مصنوعات پر توجہ کی ضرورت ہے؟ نعیم صدیقی

رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل کے سوا دیگر اشیا کی برآمدات سالانہ بنیادوں پر 1.85 فیصد سکڑ کر 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کووڈ 19 سے متعلق اقدامات کی وجہ سے بڑی برآمدی مارکیٹوں کے بند ہونے کے باعث آرڈرز کی تاخیر سے ٹیکسٹائل کے سوا دیگر اشیا کی برآمدات پر اثر پڑا ہے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے کیونکہ کورونا وائرس کی دسری لہر نے ایک بار پبر دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔
کووڈ 19 کی پہلی لہر کے بعد نان ٹیکسٹائل سیکٹر کو ابھی تک برآمدی آرڈرز موصول نہیں ہوئے تاہم مالی سال 21-2020 کے جولائی سے نومبر کے دوران ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں مفید کہا جا سکتا ہے۔ برآمدات سے متعلقہ تین شعبے جن میںلیدر گارمنٹس،سرجیکل انسٹرومنٹس اور انجینئرنگ کا سامان شامل ہے ان شعبوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں لاک ڈائون کے باوجود برآمدی عمل میں اضافے کو برقرار رکھا ہے جس کی بدولتپاکستان کو زر مبادلہ کے ذکائر میسر آ رہے ہیں۔پاکستان ادارہ شماریات کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے نومبر کے دوران فوڈ باسکٹ ایک سال قبل کے مقابلے میں 12.44 فیصد سکڑ گئی ہے، اس کٹیگری میں چاول کی برآمدات 12.58 فیصد کم ہوئی ہیںجبکہ دوسری طرف باسمتی برآمدات مالیت میں 24.46 فیصد اور حجم میں 28.41 فیصد کم ہوگئیں ہیں جس کی وجہ سے ہماری معیشیت و تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اسی طرح مچھلی اور اس سے بنی مصنوعات میں 9.72 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ پھلوں کی برآمدات 9.62 فیصد کم ہوئی، سبزیوں کی غیرملکی خرید میں بھی 5.91 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ مرچوں کی برآمدات بھی 1.62 کم ہوگئی۔تاہم تمباکو کی برآمدات 9.7 فیصد اور گوشت کی مصنوعات کی برآمدات 6.34 فیصد بڑھیں۔مزید یہ کہ مارچ سے ملک میں گندم، چینی اور دالوں پر پابندی کے باعث ان کی برآمدات نہیں ہوئیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طویل عرصے بعد چمڑے کی برآمدات میں بہتری دیکھی گئی اور یہ 5.66 فیصد تک بڑھی جس میں دیگر مصنوعات کے ساتھ ساتھ زیادہ تر چمڑے کے کپڑے اور دستانے کی فروخت شامل رہی، انجینئرنگ سامان کی برآمدات 17.71 فیصد جبکہ جریحی آلات کی برآمدات اس عرصے میں 1.84 فیصد بڑھ گئیں۔تاہم چمڑے کے جوتوں کی برآمدات میں 8.66 فیصد کمی ہوئی لیکن کینوس کے جوتوں کی برآمدات 63.39 فیصد بڑھ گئی۔اس کے برعکس رواں مالی سال کے 5 ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کارپیٹس اور رگس کے برآمدات مالیت میں 2.58 فیصد جبکہ حجم میں 19.92 فیصد تک کم ہوئیں تاہم جن کھیلوں کے سامان کی برآمدات 14.03 فیصد کم ہوئیں تاہم فٹ بال کی برآمدات پر یہ اثر 23.91 فیصد تک پڑا، اس کے علاوہ ٹینڈ لیدر برآمدات بھی 34.95 فیصد تک سکڑ گئیں۔مزید برآں سالانہ بنیادوں پر جیولری کی برآمدات 85.96 فیصد اور ہینڈی کرافٹ کی برآمدات 100 فیصد تک بڑھ گئیں تاہم جواہرات کی برآمدات 2.61 فیصد، فرنیچر 10.66 فیصد، شیرہ 73.08 فیصد اور گڑ 0.4 فیصد کم ہوگئی ہیں ان تمام عوامل کے منفی اثرات پورے ملک کی معیشت پر دیکھے جا رہے ہیں۔حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں ہر ممکن حد تک اضافہ کیا جائے اور اس کیلئے حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان تاجر برادری کو بھرپور تعاون اور رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں امید کی جا سکتی ہے عالمی سطح پر مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود پاکستان کی معیشت ترقی اور بہتری کی جانب اپناسفر جاری رکھے گی۔

hairy woman https://credit-n.ru/order/zaymyi-joymoney.html https://credit-n.ru/offers-credit-card/ren-drive-365-credit-card.html credit-n.ru

Leave a Reply

*