آئی پی پیز کی جانب سے بجلی واجبات کی ادائیگی کا حکومتی منصوبہ مسترد کیوں؟ نعیم صدیقی

بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں جنھیں آئی پی پیز کا نام دیا جاتا ہے ان کی جانب سے اپنے واجبات کے لیے حکومت کی پیش کردہ ادائیگی کا منصوبہ مسترد کردیا گیا ہے ان اداروں کی جانب سے محصولات میں چھوٹ کے باضابطہ معاہدوں پر دستخط کرنے سے پہلے 50 فیصد نقد ادائیگی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ایک عمل درآمد کمیٹی نے گزشتہ ہفتے آئی پی پیز کوآئندہ مہینے، جون اور دسمبر 2021 میں نقد اور تجارت کے قابل بانڈوں کے امتزاج کے ذریعے تین برابر اقساط تقریبا 450 ارب روپے کی ادائیگی کی پیش کش کی تھی، ان میںہر قسط ایک تہائی تقریبا 50 ارب روپے نقد اور دو تہائی تقریبا 100 ارب بانڈز پر مشتمل ہو گی۔آئی پی پیز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹیم کی طرف سے پیش کردہ ادائیگی کے منصوبے سے آغاز کرنا ناقابل قبول تھا، انہوں نے عمل درآمد کمیٹی کو بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت گزشتہ سال اگست میں دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوںکے پہلے سے طے شدہ شرائط و ضوابط پر ‘دوبارہ بات چیت’ چاہتی ہے جس میں ان کے اصل بجلی کی خریداری کے معاہدوںکے برخلاف تقریبا 836 ارب روپے کی چھوٹ شامل ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک طرح سے یہ مفاہمتی یادداشتوں کو دوبارہ کھولنے جیسا ہے۔
حکومتی ٹیم کو سمجھایا گیا کہ آئی پی پیز کو شدید لیکویڈیٹی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان کے جائز بقایاجات تقریبا 450 ارب روپے تھے جس کا حکومت نے اگست میں ادائیگی کے لیے معاوضہ ادا کیا تھا جس کے بعد آئی پی پیز خود مختار معاہدوں میں ٹیرف میں “غیر معمولی” چھوٹ دینے پر راضی ہوگئے تھے، آئی پی پیز نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم 450 ارب روپے کے واجبات نقد رقم کے عوض ادا کیے جائیں تاکہ ان کے لیکویڈیٹی چیلنجز کو کم کیا جا سکے، آئی ایم ایف کی ضروریات کے پیش نظر تنگ مالی جگہ کے بارے میں حکومت کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلی دو قسطیں نقد رقم اور بانڈوں کے امتزاج کے ذریعہ جون میں اور بعد میں بالترتیب 30 فیصد اور 20 فیصد کی ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے، یہ مذاکرات دراصل مفاہمتی یادداشتوں کو معاہدے کی شکل دینے کے لیے پچھلے ہفتے ہی شروع ہوئے ہیں اور وہ ہفتوں تک جاری رہیں گے۔ابھی حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ریونیو اسٹریم میں بہتری لانے کے لیے صارفین کے بجلی کے نرخوں کے بارے میں بھی کچھ فیصلے کرنے ہیں۔ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی کہ جوابی ادائیگی کا منصوبہ زیر غور ہے جو آئی پی پیز کی طرف سے 2002 کی پاور پالیسی کے تحت آیا تھا جبکہ 1994 کی پالیسی کے تحت آئی پی پیز اور حبکو کے ساتھ بات چیت ابھی تک پائپ لائن میں ہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ منشا گروپ کے زیرقیادت آئی پی پیز کا ایک گروپ ماضی میں ان کی طرف سے دعوی کردہ ‘زائد ادائیگیوں’ کے تصفیے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے کردار پر اتفاق کرنے سے گریزاں ہے، جیسا کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین محمد علی کی زیر قیادت تحقیقات میں سابقہ تحقیقاتی کمیٹی نے الزام لگایا تھا۔پانچ، چھ آئی پی پیز کے اس گروہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے پاس کسی بھی متنازع رقم کو حل کرنے کے لیے ثالثی کا قانونی فریم ورک ہے اور وہ نیپرا واپس جانے پر راضی نہیں ہوسکتے ہیں، اس “اضافی ادائیگی کے زمرے” میں شامل رقم تقریبا 52 ارب روپے ہے اور آئی پی پیز نے اسے اعلی عدالتوں میں چیلنج کیا ہے۔آئی پی پیز کو بجلی کی خریداری کے معاہدوں میں ترمیم یا اضافے میں ایم او یوز کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے مشترکہ رسمی معاہدوں کی زبان پر بھی کچھ اعتراضات ہیں، حکومتی فریق نے آئی پی پیز سے معاہدوں کے مسودوں میں تبدیلی لانے کی تجویز پیش کی ہے۔ عمل درآمد کمیٹی نے مفاہمتی یادداشت کو معاہدے کی شکل دینے میں کافی وقت ضائع کردیا تھا اور تقریبا تین ماہ کے وقفے کے بعد مکمل رفتار کے ساتھ کام شروع کیا تھا۔ ونڈ پاور پراجیکٹس کرنے والوں کی جانب سے یہ بھی شکایت کی ہے کہ حکومت نے اگست میں ایم او یوز کے حصص کے حصے کے طور پر قرض دینے والوں سے مارک اپ، انشورنس وغیرہ پر مراعات کو یقینی بنانے کے لیے خود کام کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں اور معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ایم او یوز کا اختتام 12 فروری کو ہوگا۔ تھرمل، ونڈ، سولر اور بیگسی سمیت آئی پی پیز کی چار درجن مفاہمتی یادداشتوں کے لیے فوری 425 ارب کی ادائیگی درکار تھی جو بجلی کی خریداری اور چھ ماہ میں عمل درآمد کے معاہدوں کا حصہ بننے کے باضابطہ معاہدے کے لیے 13 کھرب روپے کے گردشی قرضوں میں پھنس گئے تھے، جون 2020 تک سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والے آئی پی پیز کا تخمینہ لگ بھگ 15کھرب روپے لگایا گیا ہے۔10 اکتوبر کو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزیر توانائی عمر ایوب خان کو عمل درآمد کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا تھا جبکہ تابش گوہر نے کمیٹی میں شہزاد قاسم کی جگہ لی تھی، کمیٹی کے دیگر تمام ممبران میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی جس میں بابر یعقوب فتح محمد بھی شامل تھے جنہوں نے آئی پی پیز، پاور اینڈ فنانس کے سیکریٹریز، بیرسٹر قاسم داد اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ آئی پی پیز سے ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی۔

https://credit-n.ru/order/zaymyi-mig-kredit.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-yazaymu-leads.html

Leave a Reply

*