درہ خنجراب کی بندش سے گلگت بلتستان کے تاجروں کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو گیا،نعیم صدیقی

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ  پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات اور تعاون صرف سی پیک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ دونوں دوست ممالک کے درمیان تعاون سی پیک سے بڑھ کر دفاع اور دیگر شعبوں میں بھی آگے بڑھتا رہے گا۔ پاکستان اور چین مل کر دیگر شعبوں کے علاوہ امن و استحکام کے لیے بھی مربوط کوششیں کر رہے ہیں۔

 اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ درہ خنجراب کے راستے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اور سفر معطل ہونے کے بعد دونوں ممالک میں سرحدی تجارت سے وابستہ سیکڑوں افراد کو معاشی مشکلات  اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔ گلگت بلتستان کی تاجر برادری کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس بارے میں چین کی جانب سے تجارت کی اس بندش کو دور کرنے کیلئے  مستقل طور پرکوئی مناسب، پائیدار اور فوری حل تلاش کیا جائے گا تاکہ تجارت اور آمد ورفت کا سلسلہ آئندہ کسی رکاوٹ کے بغیر چلتا رہے  کیونکہ کورونا وائرس کے بعد دنیا بھر کی طرح پاکستان کی تاجر برادری کو بھی کاروبار میں بے شمار مشکلات کا سامنا ہے۔ تجارتی اداروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ سیزن سے تجارتی سرگرمیوں کے ہموار تسلسل کو یقینی بناتے ہوئے اپنے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایک طریقہ کار لازمی طور پروضع کریں۔ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں سرحد بند ہونے کے بعد سے پاک چین اقتصادی راہداری سی پیک سے متعلق جانے والے سامان کو رو کے جانے کی وجہ سے قومی خزانے کو 8 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان ہوا ہے جو کہ نہایت افسوسناک اور قومی نقصان کی بات ہے اس کے علاوہ تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو بھی بے پناہ مالی نقصانات اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
چین کے ساتھ معاہدے کے تحت درہ خنجراب کے درمیان موجود پاکستان چین سرحد اپریل سے نومبر تک کھلی رہتی ہے۔ایک مقامی تاجر شعبان علی نے ڈان کو بتایا کہ اس نے اخروٹ اور بادام سمیت 50 لاکھ روپے مالیت کا سامان چین کی مارکیٹوں سے 2019 میں خریدا تھا تاہم وہ انہیں پاکستان نہیں بھیج سکا کیونکہ نومبر 2019 میں خنجراب پاس کو کورونا وائرس کے پھیلا ئوکے بعد بند کردیا گیاتھا جس کی وجہ سے انھیں بے پناہ مالی نقسان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ سرحد کی بندش کے باعث پاکستانی تاجروں کا چین کے مختلف گوداموں میں سامان سے بھرے ہوئیکنٹینرز کو واپس اتارنا پڑاجو کہ بہت ہی مشکل صورتحال تھی اور ابھی تک معاشی سرگرمیوں میں ابتری دکھائی دیتی ہے۔ ‘چونکہ یہ سرحد گزشتہ سال بند رہی ہے اور پاکستانی روپے کے مقابلے میں چینی کرنسی کی قیمت میں اضافے اور مارکیٹ میں نئی اور تازہ مصنوعات کی آمد کی وجہ سے پہلے سے خریدے گئے سامان کی قیمتیں بھی ہماری مقامی منڈیوں میں گر گئی ہیں’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ اب چین میں سستے نرخوں پر مصنوعات فروخت کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے یہ ایسیحالات و واقعات ہیں جن کی وجہ سے تجارت پیشہ لوگوں کو مالی نقسانات کے علاوہ دیگر متعدد قسم کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس وقت ضروری ہے کہ حکومت ایسے مثبت اقدام اٹھائے جن کی بدولت معاشی سرگرمیوں کا سلسلہ نہ صرف بحال ہو بلکہ ہر ممکن حد تک معاشی سرگرمیوں کو جاری رہنا چاہئے۔
ایک اور تاجر حسین علی نے بتایا کہ سرحد بند ہونے سے انہیں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور جب تک یہ سرحد نہیں کھلے گی ان کینقصان میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ان کا کاروبار شدید متاثر ہوگا۔ ہنزہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر محبوب ربانی کا کہنا ہے کہ سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد بشمول تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور ہوٹل مالکان کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے تقریبا 30 فیصد افراد سرحدی تجارت پر منحصر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال زیورات، معدنیات، خشک میوہ جات اور چیری جیسے مقامی مصنوعات کی چین کو برآمد میں بھی کمی کا سامنا جس کی وجہ سے ہماری تاجر برادری کو نقسانات کا سامنا ہے اور بے شمار لوگوں کے لیے روزگار کے ذرائع بھی سکڑ گئے ہیں۔نگرچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر محمد ایوب وزیری کا کہنا تھاکہ ہر سال کم و بیش تین ہزارکنٹینر تجارتی سامان لیکر چین جاتے اور چین سے آتے تھے جس کی وجہ سے وسیع پیمانے پر تجارت ہوتی تھی لیکن سرحد کی بندش اور ان کنٹینرز کی معطلی کی وجہ سے گلگت بلتستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔تاجر براری اور معاشی سرگرمیون کو اس سورتھال نے بہت زیادہ مالی مشکلات اور پریشانیوں سے دوچارکیا ہے۔اس کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ چین کی مارکیٹوں میں اشیاء کی جو قیمتیں تھیں وہ بہت زیادہ نہ تھیں بلکہ انتہائی مناسب اور سستے نرخوں پر دستیاب تھیں لیکن اب موجودہ حالات کی وجہ سے ہماری مقامی مارکیٹوں میں ان ی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات واضع طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

https://credit-n.ru/offer/kreditnye-karty-bank-moskvyi.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-denga-leads.html

Leave a Reply

*