پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے،موڈیز کا اعتراف ،نعیم صدیقی

اگرچہ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے پاکستان میں عام زندگی اور تجارت کو ایک مرتبہ پھر شدید متاثر کیا ہے لیکن حکومت کے بروقت،فوری اور مثبت اقدامات کی بدولت پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔کاروبار اور روزگار کی صورتحال بہت اچھی تو نہیں لیکن دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن کہیں زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے۔موڈیز کی انویسٹر سروس کی جانب سے کہا گیاہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت میں 1.5 فیصد اضافہ ہوگا اور اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ حکومت کے تعاون کی  بدولت پاکستانی بینک مستحکم ہیں تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے بینکاری کے شعبے کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ موڈیز کی جانب سے پاکستانی بینکاری کے شعبے کے بارے میں ایک آئوٹ لک میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی سرگرمیاں کورونا وائرس کے پھیلائو سے قبل کی سطح سے نیچے رہیں گی جبکہ مالی سال 2021 میں معیشت کو 1.5 فیصد معمولی نمو کی طرف لوٹنا چاہیے۔ اگر دیکھا جائے تورواں مالی سال کے لیے عالمی بینک کی جانب سے 0.5 فیصد جی ڈی پی شرح نمو کا بتایا گیا تھا لیکن اس کے مقابلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جی ڈی پی کے لیے 1.5-2.5 فیصد نمو کی پیش گوئی کو دیکھا جائے تو یہ اس سے مطابقت رکھتا ہے۔موڈیز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی بینکاری نظام بہت مستحکم ہے اور اس میں طویل المدتی قرضوں میں اضافے کی صلاحیت مضبوط ہے۔مستحکم نقطہ نظر بینکوں کی ٹھوس فنڈنگ اور لیکوئڈیٹی کی عکاسی کرتا ہے حالانکہ ایک مشکل صورتحال مگر بہتر بنانے والا عمل پسند ماحول اثاثوں کے معیار اور منافع پراثرات مرتب کرے گا۔ تاہم ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کا بینکاری نظام ملک اور قوم کیلئے اس لحاط سے بہتر ہے کہ اس کی بدولت کاروبار سے لے کر عام لوگوں تک سب کو جدید دور کے مطابق مالی لین دین کی سہولیات اور تجارت کرنے کے مواقع میسر ہیں۔
موڈیز کے سینئر نائب صدر نے کہا کہ ‘مشکل ماحول کے باوجود جاری اصلاحات اور پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کا قرضوں کا پروفائل مستحکم ہے جو بینکوں کے لیے مثبت ہے’۔ایجنسی کو توقع ہے کہ سست معاشی بحالی سے قرض کے معیار پر اثر پڑے گا، نان پرفارمنگ لون کے آنے والے مہینوں میں، ستمبر 2020 میں مجموعی قرضوں کی 9.9 فیصد کی سطح سے اضافے کی توقع کی جا رہی ہے اور سرکاری ادائیگیوں اور سبسڈیز پر انحصار کرنے والی کمپنیاں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی تاہم قرض کی ادائیگی میں تعطل اور حکومت کی امداد کے دوسرے اقدامات میں کچھ خطرات پیدا کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔دریں اثنا بینکوں کا منافع، جو 2020 کے دوران بڑھ چکا ہے، کم مارجن، کی وجہ سے دبا ئومیں آئے گا۔ پھر بھی مالی سال 2021 میں پاکستان کی معیشت کو 1.5 فیصد کی معمولی نمو کی طرف لوٹنا چاہیے جبکہ حکومت اور مرکزی بینک کے ردعمل اور اصلاحات سے کورونا وائرس کے اثرات کو جزوی طور پر کم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈپازٹ پر مبنی فنڈز اور اچھے لیکوئڈیٹی بفرز بھی طاقت بنے ہوئے ہیں جب کہ بحران میں حکومت کی مدد کا امکان زیادہ ہے چاہے اس کی صلاحیت معاشی چیلنجز کی وجہ سے محدود ہو۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے بنگلہ دیش کی معاشی نمو کے تخمینے کو پرانے اندازے 8 فیصد سے کم کر کے 6.8 فیصد کردیا ہے جبکہ افغانستان کی شرح نمو بھی جون کے تخمینے 4 فیصد سے کم کر کے ڈیڑھ فیصد کردی ہے۔ مالی سال 2021 کے لیے پاکستان کی شرح نمو دو فیصد اس بات پر منحصر کہ 2020 کے اختتام تک کووِڈ 19 کا اثر کس قدر کم ہو گیا تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر نے معاشی حالات کو دوبارہ غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی صورتحال معمول پر نہیں آ رہی ہے اور یورپ میں وائرس کی دوسری لہر مزید خطرناک بنتی جا رہی ہے۔ایسے حالات میں معاشی اشاریے بہتر ہونا ممکن نہیں ہے۔معیشت میں بہتری آئی ایم ایف کی ایکسٹینٹڈ فنڈ فیسیلیٹی پروگرام کے تحت معاشی ناہمواری کو متوازن رکھنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی منحصر ہے۔پاکستان میں سپلائی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو زراعت سے مجموعی ملکی پیدوار میں نمو کے بڑھنے کی توقع ہے، مالی سال 2021 میں زراعت کے علاوہ صنعتی نمو بھی بہتر ہونے کی امید ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زراعت اور صنعت کی نمو میں بہتری کے ساتھ مجموعی طور پر مقامی طلب میں متوقع اضافہ اور سروسز مالی سال 2021 کی نمو میں کردار ادا کریں گی۔اس کے علاوہ مالی سال 2021 میں مہنگائی کی شرح 7.5 فیصد تک  ہونے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے جو متوقع معاشی بحالی سے اندازہ کی گئی پرانی پیش گوئی سے کم ہے۔ اس کے علاوہ رواں مالی سال میں مالی خسارہ بھی کم ہو کر جی ڈی پی کے 7 فیصد کے برابر ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس پیش گوئی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کووڈ 19 کا خطرہ کم ہونے اور وبا سے پہلے کی جو معاشی صورتحال تھی اس کی جانب تیزی کے ساتھ معاشی بحالی پر منحصر ہے لیکن ابھی بھی صورتحال غیر یقینی ہے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر پہلے سے زیادہ خطرناک دکھائی دیتی ہے اس کے باوجود پاکستان میں کاروبار زندگی بہترین حکمت عملی کے ساتھ جاری ہے جس کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بنیادی ایس او پیز کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں اس کا فائدہ یہ ہے کہ عوام کی اکثریت بالکل بیکار ہو کر نہیں رہ گئی بلکہ لوگوں کا روزگار چل رہا ہے۔صرف تعلیمی اداروں کی بندش ہے لیکن امید ہے کہ تعلیمی سلسلہ بھی بہت جلد فعال ہو جائے گا۔ مالی سال 2021 میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ بھی جی ڈی پی کے 2.4 فیصد پر برقرار رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پاکستان کی معیشت کس حد تک بہتری کی جانب اپنا سفر جاری رکھتی ہے اور عوام کیلئے زندگی اور روزگار کے سلسلے معمول کے مطابق جاری رکھنا کتنا آسان ثابت ہوتا ہے۔امید ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود حکومت معیشت کی بہتری اورعوام کی بھلائی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

онлайн займ займ срочно без отказов и проверок онлайн займ на киви без паспортакак взять займ в вебманикиви займ без процентов займ на банковскую карту без отказавзять займ в спбзайм онлайн по всей россии 1 займ без процентовзайм исправление кредитной историибеспроцентный займ между юридическим и физическим лицом займ на киви кошелек с 18 летзайм до 200 000гудмани займ займ онлайн на банковский счетзайм на карту без проверокзайм онлайн на карту без отказа где взять займ 100 процентовзайм на 6 месяцев на картузайм на электронные кошельки займ с 18 летвкармане займоблигационный займ займ в удомлезайм сыктывкармфо даем займ займ в благовещенскезайм 6000 рублейзайм 150 000 займ ставропольфинансовый займзайм вива оформить займ срочнозайм под залог недвижимости волгоградзайм долгосрочный займ на карту сбербанка срочно без отказавзять займ онлайн на киви кошелекденежный займ онлайн

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں