اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ وزیراعظم کے نظریے کے خلاف ہے، نعیم صدیقی

امریلی اسٹیلز لمیٹڈ کی طرف سے ایک پیغام  میں کہا گیا کہ 19 دسمبر 2020 سے ایکس ٹریم ریبارز کی ملک بھر میں فروخت کی بکنگ بند کی جارہی ہے جس کے بعد  پاکستان میں سٹیل بارز کے ساتھ ساتھ تعمیرات سے متعلقہ دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضاافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ان میں سیمنٹ بھی شامل ہے۔۔ملک بھر کے معروف بلڈرز اور تنظیموں کی جانب سے کی جانب سے سیمنٹ اور اسٹیل کی قیمتوں میں اضافے کو وزیر اعظم کے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم (این ایچ پی ایس) کے خواب اور قومی معیشت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔  تعمیراتی اداروں سے وابستہ اہم شخصیات کی جانب سے وفاقی حکومت سے اپیل کی  کہ وہ ان ’بدعنوان عناصر‘ کے خلاف سخت کارروائی کریں جو قومی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 سٹیل بار کی قیمت 7000 روپے اضافے کے بعد ایک لاکھ 39 ہزار 500 سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تعمیراتی لاگت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ دسمبر 2020 کے آخری ہفتے کے بعد یہ دوسرا اسٹیل بار کی قیمتوں میں اتنا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ عالمی سطح پر لوہے اور اسٹیل کے اسکریپ کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کو عالمی مارکیٹ میں انتہائی قلت اور خام مال کی قیمت میں اضافہ بتاتے ہوئے اسٹیل بار کے متعدد مینوفیکچرز نے بلڈرز کو نئے بڑھے ہوئے نرخوں کا حوالہ دیا ہے۔امریلی اسٹیلز لمیٹڈ نے اپنے ڈی فارمڈ اور ایکسٹریم بارز کی بکنگ کے نرخ ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن بتائی ہے۔
آغا اسٹیل انڈسٹریز نے اپنی 10 ملی میٹر اور 12-32 ملی میٹر بارز کی قیمتوں میں تبدیلی کرکے ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے سے ایک لاکھ 42 ہزار 500 روپے فی ٹن کردی۔نوینا اسٹیل ملز نے اپنے 10 ملی میٹر بارز کی قیمتیں بڑھا کر ایک لاکھ 40 ہزار 500 اور 12-32 ملی میٹر کے ڈی فارمڈ گریڈ-60 کے بارز کے لیے ایک لاکھ 39 ہزار 500 روپے کردیا۔
فیضان اسٹیل نے 12-32 ملی میٹر بارز کی قیمت ایک لاکھ 40 ہزار 500 روپے اور 10 ملی میٹر بارز کے لیے ایک لاکھ 41 ہزار 500 روپے تک بڑھا دی۔ بلڈرز اینڈ ڈویلپرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین حسن بخشی نے الزام لگایا ہے کہ اسٹیل بار بنانے والے وزیر اعظم عمران خان کے کم لاگت والے مکانات کے نظریہ کو برباد کرنے کے لیے مافیا کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ہمیں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کچھ لوگ وزیراعظم کے کم لاگت والے چھوٹے مکانات کے نظریے کو ناکام بنا رہے ہیں۔کیونکہ اگر قیمتوں میں اس طرح اضافہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں غریب عوام کیلئے کم لاگت گھر کی تعمیر مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گی۔ قیمتوں میں اضافے سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پر بھی منفی اثرات مرتب ہو ں گے۔ ایک بائی رائز منصوبے پر تعمیراتی لاگت میں نومبر 2020 سے لے کر اب تک اسٹیل بار کی قیمتوں میں 30 ہزار روپے فی ٹن اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 سے 9 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ہائی رائز منصوبے کی کل تعمیراتی لاگت میں اسٹیل بارز کا 40 سے 45 فیصد حصہ ہوتا ہے۔رہائشی منصوبوں میں تعمیراتی لاگت میں بھی 4 سے 6 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے کیونکہ اسٹیل بارز کا حصہ مجموعی اخراجات میں 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہوتا ہے جو کہ مہنگا ہونے کی وجہ سے کم لاگت گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلئے مشکلات پیدا کرے گا۔
پاکستان کے اعدادوشمار بیورو پی بی ایس کے ڈیٹا کے مطابق مالی سال 2021 کے جولائی تا دسمبر کے دوران لوہے اور اسٹیل اسکریپ یعنی اسٹیل بارز بنانے کے لیے خام مال کی درآمد 26 لاکھ 80 ہزار ٹن رہی جبکہ اس میں 94 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی لاگت آئی ہے جس کی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں میں 20 لاکھ 60 لاکھ ٹن درآمد کی گئی تھی۔اوسطا فی ٹن لاگت مالی سال 2020 میں 391 ڈالر فی ٹن کے مقابلے میں مالی سال 2021 میں اسی مدت کے دوران قیمت کم ہوکر 354 ڈالر فی ٹن ہوگئی جبکہ اسٹیل بارز بنانے والوں نے اسکریپ کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کا دعوی کیا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان سرکاری محکموں اور نجی شعبے کے ساتھ رہائش، تعمیر و ترقی سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔دسمبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی اجلاس میں وزیر اعظم نے اسٹیل بارز کی بڑھتی قیمتوں کا نوٹس لیتے ہوئے اسٹیل بار کی بڑھتی قیمتوں پر غور کرنے اور ایک قابل عمل حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔وزیر اعظم خان نے وزیر برائے صنعت حماد اظہر، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جاوید غنی، چیئرمین نیا پاکستان ہائوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی کو اسٹیل بارز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پیش کرنے کا کام سونپا تھا لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ کمیٹی سٹیل بارز کی قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے میں تاحال ناکام دکھائی دیتی ہے امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں گے اور قیمتوں میں کمی لانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔

быстрые займы онлайн доступный займзайм легкийзайм на карту по паспорту онлайн займ на карточку онлайнзайм на карту 30000оформить онлайн займ на карту займ под квартирузайм по номеру телефоназайм без предоплат и комиссий займ экспресс официальный сайтзайм 60000быстрый займ в петропавловске камчатском платиза займ личный кабинетзайм на киви без паспортагрин займ займ костромавзять займ на большую суммузайм на киви счет онлайн займ кредитзайм онлайн без отказа и провероквзять займ онлайн с просрочками микс займбобер займмонисто займ как получить займ на яндекс кошелеквзять займ в тюменизайм денег барнаул займ в великом новгородемфо электронный займзайм в надыме быстрый займ в люберцахзайм для студентовзайм на карту без поручителей мфо займсрочно взять займ с плохой кредитной историейзайм срочно без отказа на карту деньги в займ красноярскэкспресс деньги займподать заявку на займ

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں