پاکستان کی معیشت اور مقامی قرضوں میں اضافہ، نعیم صدیقی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے مقامی قرضوں میں فروری 2020 سے فروری 2021 تک 11.7 فیصد اضافہ ہوا تھاجس کے بعد مجموعی قرضہ 24 ہزار 780 ارب روپے ہو گیا۔اپریل 2021 تک پاکستان کا گھریلو قرض اور واجبات کا حجم 58 ارب روپے تھا -رواں مالی سال کے دوران ملک کا مقامی قرضہ 20 کھرب روپے سے زائد ہوچکا ہے تاہم یہ قرضہ مالی سال 2020 کے اسی عرصے میں لیے جانے والی رقوم سے کم ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 21 کے دوران حکومت کے قرضے میں قدرے کمی آئی ہے۔
اگر غور کیا جائے تو اس پیشرفت کی بنیادی وجہ ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد اور بیرونی ذرائع سے زیادہ قرض لیا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کی بدولت ملک کی معیشت کو کیسے بہتری کی جانب لے کر جاتی ہے۔ملک کے طول و عرض میں عوام کو جس بات نے سب سے زیادہ پریشان کر رکھا ہے وہ مہنگائی کا نہ رکنے والا طوفان ہے۔مہنگائی ذرائع روزگار و کاروبار سکڑنے کی وجہ سے متوسط طبقہ بہت زیادہ مسائل کا شکار ہو گیا ہے جس مداوا کرنا حکومت کیلئے سب سے برا چیلنج ہے۔
اپریل 2021 تک پاکستان کا مقامی قرض اور واجبات کا حجم 580 روپے تھا جو جون 2020 کے آخر تک 230 کھرب 875 ارب روپے کے مقابلے میں 259 کھرب 250 ارب روپے تک پہنچ گیا۔رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران 20 کھرب 49 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔مالی سال 20 میں اسی عرصے کے دوران 231 کھرب 50 ارب روپے تھا اس طرح مالی سال 2021 میں قرض میں تنزلی دیکھی گئی۔گزشتہ 12 ماہ اپریل 2020 سے اپریل 2021 کے دوران قرض میں 23 کھرب 50 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔یہ قرض لینے کی مدت میں کووڈ 19 وبائی مرض کی لہر عروج پر تھی جس سے معیشت کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔کورونا سے پڑنے والے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سمیت دیگر پالیسیوں کے ذریعے کم کیا گیا۔
ارباب حکومت کی جانب سے مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت گھریلو قرضوں کو کم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ہر سال حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈآئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے مطابق مالی خسارے کو حد میں رکھنے کے لیے اپنے ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنی پڑتی ہے۔تاہم ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی معاشی نمو کو بہت متاثر کرتی ہے اور ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ حکومت ملک میں روزگار اور کاروبار کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کو کس طرح بہتری کی جانب لیکر جاتی ہے کیونکہ اگر معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں تو پھر لازم ہے کہ عام لوگوں کی زندگی میں اس کے ثمرات نظر آئیں۔حکومت کی جانب سے مسلسل یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ معیشت کو بہتری کی جانب لے جا رہے ہیں لیکن عام آدمی کی زندگی پر اس کے اچھے اثرات دکھائی دینے کی بجائے زندگی کے تقریبا ہر شعبے میں مشکلات واضع دکھائی دیتی ہیں۔
حال ہی میں پاکستان نے بین الاقوامی منڈی میں یورو بونڈ کی مد میں ڈھائی ارب ڈالر قرض بھی لیا ہے۔میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت آئندہ مالی سال 2022 کے لیے وفاقی ترقیاتی اخراجات کو 900 ارب روپے تک بڑھانے کا خواہش مند ہے۔مالی سال 2022 کے ترقیاتی اخراجات کو برقرار رکھنے اور ان میں بہتری لانے کیلئے لازم ہے کہ حکومت مکمل سنجیدگی کے ساتھ معاشیحالات کو بہتر بنانت پر توجہ دے اور ٹیکس وغیرہ کی وصولی کے ساتھ اس میں اضافیکے لییہر ممکن اور مثبت کوشش کی جائے۔حکومت محصولات میں اضافے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی تو اس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو گی اور عام آدمی کی زندگی میں بہتری عملی سطح پر نظر آئے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں