اے وی ایم شفاف انتخابات کی ضمانت نہیں۔ احمد نعیم صدیقی

پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے جس الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں بڑے زور و شور سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اس مشین کے استعمال سے آئندہ عام انتخابات صاف شفاف اور دھاندلی سے پاک ہوں گے۔اس کے بارے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ملک اور قوم کیلئے اور زیادہ مسائل پیدا کرے گا۔ کیونکہ مشین کی شفافیت پر بہت سے سوال اٹھائے گئے ہیں۔یہ بات غور طلب ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کم و بیش آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر 37ٹھوس اعتراضات کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ اس مشین کے مسترد کئے جانے کے بعدلازم ہے کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ اس معاملے کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے سب سے پہلے اس کے نقائص کے بارے میں تکنیکی کعاونین اور سافٹ ویئر کے ماہرین سے بات کریں۔ مذکورہ سسٹم میں پائے جانے والے جن نقائص کا ذکر کیا گیا ہے لازم ہے کہ ان خرابیوں کو دور کرنے کی جانب غور کیا جائے۔ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے ملک کا سیاسی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس کا نقصان ملک اور قوم کو ہوتا ہے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور میں ووٹنگ مشین کی بابت جمع کرائی گئی الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ووٹنگ مشین میں چھیڑ چھاڑ کے علاوہ اس کا سافٹ وئیر بھی آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی بڑی تعداد میں خریداری اوراس کی تنصیب کے ساتھ اسے استعمال کرنے کیلئے چلانے والوں کی ایک کثیرتعداد کو تربیت دینے کے لئے زیادہ وقت بھی نہیں ہے، ایک ہی وقت میں ملک بھر میں ای وی ایم متعارف کرانا مناسب نہیں ۔الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں اس مشین کے استعمال سے جڑے ہوئے کئی دوسرے مسائل کا بھی ذکر کیاگیا ہے، جن میں ووٹ کی رازداری، اور سیکورٹی کو یقینی بنانے،ہر سطح پر صلاحیت کا فقدان شامل ہے اس کے علاوہ ان مشینوں کو بریک اور ٹرانسپورٹیشن کے دوران سنبھالنے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر کہیں انتخابی تنازع پیدا ہوتا ہے تو اس کے حل کیلئے کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوگا، بیلٹ پیپر میں تبدیلی کے حوالے سے آخری لمحات میں عدالتی احکامات کی وجہ سے ڈیٹا انٹیگریشن اور کنفیگریشن کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیںالیکشن کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین ایسی نہیں ہے کہ اس کے آ جانے سے ووٹ ڈالنے والوں کی کم تعداد، خواتین کا کم ٹرن آوٹ، ریاستی اختیارات کا غلط استعمال، انتخابی دھوکا دہی، الیکٹرانک بیلٹنگ، ووٹ خریدنے، پولنگ کا عملہ، بڑے پیمانے پر سیاسی اور انتخابی تشدد ختم ہو جائے گا۔بلکہ یہ تمام مسائل جوں کے توں رہیں گے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کی اپنی جگہ اہمیت ہے اور یہ سب حقائْ کو مد نظر رکھ کر کہا گیا ہے۔اس لیے ضروری ہے حکومت کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تفصیل کے ساتھ بحث کی جائے اور اگر یہ کام کرنا ہی ہے تو اس میں اداروں اور عوامی نمائندوں کی رائے اور تجاویز کا شامل ہونا ضروری ہے۔موجودہ صورتحال سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اے وی ایم کی بدولت شفاف انتخابات کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔اگر حکومت نے اپنی انا کا مسلہ بناتے ہوئے اس مشین کے ساتھ انتخابات منعقد کروانے کا فیصلہ کر لیا تو یہ ملک میں ایک نئے بحران کا سبب بن سکتا ہے اس لیے لازم ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور اہم ترین اداروں کے ذمہ داران مل بیٹھ کر اس مشین کے بارے میں دانشمندانہ فیصلہ کریں کہ اس کے استعمال سے ملک اور قوم کا بھلا ہوگا یا ملک کے اندرانتشارجنم لے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں