راست پروگرام،سٹیٹ بنک کا نیا ڈیجیٹل نظام معیشت کی بہتری کی جانب اہم قدم، نعیم صدیقی

سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے ادائیگی کا ایک نیا نطام متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ مکمل طور پرخود کار ہوگا۔راست کے نام سے یہ جدید ترین ڈیجیٹل طریقہ کار ہوگا جس کی مدد سے سے لین دین کیلئے ادائیگیاں کیجاسکیں گی۔اس نظام سے وقت کی بچت اور تجارتی معاملات پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہو جائیں گے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹیل ادائیگی کے نئے نظام کو پسند کیاگیا ہے انھوں نے راست کے نام سے شروع کیے جانے والے اس جدید ترین طریقہ کار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دنیا میں تقریبا سب سے کم ٹیکس اکٹھا کرتا ہے۔دیکھا جائے تو پاکستان میں ٹیکس کے نظام میں بہت زیادہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں موجودہ حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ‘راست’ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘اسٹیٹ بینک کو راست پروگرام پر اور پاکستان کو اپنا پورا پوٹینشل کا احساس دلانے پر مبارک دیتا ہوں، ہماری 22 کروڑ کی آبادی ہے لیکن ہم اس کا پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکتے’۔ عمران کان کی جانب سے ٹیکس دہندگان کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جو لوگ ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں وہ پاکستان کے محسن ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو خراج تحسین کے حقیقی معنوں میں حقدار ہیں۔ ہمیں امید کی جانے چاہئے کہ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس دیں گے اور ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ کیش اکانومی 22 کروڑ کے ملک کو فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ ہے، کیش اکانومی کا سب سے بڑا نقصان ٹیکس کی وصولی میں ہے پاکستان دنیا میں تقریبا سب سے کم ٹیکس اکٹھا کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری 22 کروڑ کی آبادی میں تقریبا 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور 20 لاکھ میں سے 70 فیصد ٹیکس دینے والے صرف 3 ہزار پاکستانی ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ رکاوٹ اس لیے ہے کیونکہ ہم اپنا انفرااسٹرکچر نہیں بنا سکتے، بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے، ہسپتالوں کو بہتر نہیں کرسکتے ہیں، 50 سال پہلے خطے میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک آگے اس لیے نہیں جاسکتا کیونکہ اس کے پاس ملک کی ترقی کے لیے اتنا پیسہ نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ اپنے عوام پر جتنا پیسہ خرچ کرنا چاہیے وہ ہم نہیں کر سکتے، یہ ڈیجیٹل پاکستان کی طرف بہت بڑا قدم ہے، یہ ہمیں جس طرح کسی کو نشے سے دور کرتے ہیں اسی طرح ہم کیش اکانومی سے آہستہ آہستہ دور ادھر جار ہے ہیں جہاں ہم اپنے 22 کروڑ عوام کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ‘راست پروگرام کے ذریعے نچلے طبقے کو بھی ہم اپنی ترقی میں شامل کرسکتے ہیں، احساس پروگرام میں غربت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، موبائل والٹ استعمال کر رہے ہیں اور خواتین کے بینک اکائونٹس کی بات کر رہے ہیں، راست پروگرام اس کو آگے بڑھائے گا’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘اسٹیٹ بینک نے جس طرح ہمارے سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق اقدامات اٹھائے اس پر مبارک دیتا ہوں، ہمارے سرمائے میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا اضافہ نہیں ہوا’۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بیرون ملک پاکستانیوں نے آفیشل طریقے سے پیسہ بھجوایا جس کے باعث برسوں سے جاری کرنٹ اکائونٹ خسارہ پانچ مہینے سرپلس میں چلا گیا اور اس سے کتنا فائدہ ہوا اس کی لوگوں کو اہمیت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ہمارے روپے پر دبا کم ہوا کیونکہ جب کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ ہوتا ہے تو روپے پر دبائو پڑتا ہے جس سے خاص کر غریب لوگوں پر اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکانٹ سرپلس ہونے سے ہمارے روپے سے بڑا دبا اترا ہے اور پاکستانیوں کو باقاعدہ ذرائع سے پیسے بھیجنے کی ترغیب دی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ راست کی اصل کوشش ہماری معیشت کو بہتر کرنے کی ہے، ہمیں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری انفارمل معیشت بہت بڑی ہے جس کی وجہ سے ٹیکس جمع نہیں کرسکتے اور ملک ترقی بھی نہیں کرسکتا۔امید کی جانی چاہئے کہ حکومت کی موجودہ کوششوں کی بدولت نہ صرف تجارت سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ٹیکس نیٹ ورک کا حصہ بنے گی اوراس کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات کا دائرہ بھی مزید وسعت اختیار کرے گا۔اگر حکومت کو ٹیکس زیادہ حاصل ہوں گے تو ہمارے ہاں علاج کی سہولیات بہتر ہوں گی۔تعلیم کا معیار سب کیلئے اچھا ہوگا۔روزگار کے مواقع اور ذرائع بڑھیں گے۔ملک کا انفراسٹرکچر مضبوط اور موثر ہوگا۔ ملک تعمیر و ترقی کی جانب سفر کرے گا۔ ہمارے ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کیلئے حکومت کو ہر ممکن اور مثبت اقدامات کرنا ہوں گے۔جو لوگ پہلے ہی حکومت کو بہت زیادہ ٹیکس دے رہے ہیں ان کو معاشرے کے اہم ترین افراد میں شامل کر کے انھیں ایک مثال کے طور پر پیش کرنا ہوگا تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہو کر سن کی تقلید کریں اورٹیکس دینے میں فخر محسوس کریں۔

https://credit-n.ru/order/kreditnye-karty-vostok-bank-card.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-lime-zaim-leads.html займы на карту срочно unshaven girl займ под птс екатеринбургзайм онлайн без снилсалайм займ онлайн заявка взять микро займзайм на карту 15000займ по паспорту москва экспресс займ на киви кошелеклегкий займбыстрый займ на карту с 18 лет займ до получкизайм до зарплаты без процентовзайм на карту без фото pay ps займзайм простосрочный займ на карту на длительный срок займ под птс екатеринбургзайм онлайн без снилсалайм займ онлайн заявка квику займзайм на телефонзайм быстро на карту займ на карту без проверок срочнозайм онлайн без проверки кредитной историизайм онлайн с любой кредитной историей займ экспресс ступинозайм на кошелек срочноwebmoney кошелек займ быстрый займ на картузайм на карту мгновенно с плохой кредитной историеймонеза займ взять займ под залог автомобилязайм через интернет на банковский счетвозьму займ деньги срочно займзайм на социальную карту сбербанказайм под залог птс новосибирск

حکومت معاشرتی تحفظ کے نظام میں بہتری کیلئے عالمی بنک سے60 کروڑ ڈالر قرض لے گی، نعیم صدیقی

پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے ورلڈ بنک سے ایک جدید ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن اسکیم نافذ کرنے کے لیے ساٹھ کروڑ ڈالر کے قرض کی درخواست کی گئی ہے جس کا بنیادی مقصد معاشرتی تحفظ کے نظام میں بہتری لانا اور اس کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ قرض کی یہ رقم خطرات کے خاتمے،غریب اور غیر رسمی ورکرز کی مالی شمولیت سے متعلق ان کی امداد کیلئے استعمال کی جا سکے گی۔سادہ ترین لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے کے وہ لوگ جو کسی بھی قسم کی باقاعدہ سماجی امداد کے زمرے میں نہیں آتے اور نہ ہی ان کی رسائی ایسے اداروں تک ہوتی ہے جووفاقی حکومت کے ماتحت مستحق و نادار لوگوں کی امداد کیلئے کام کرتے ہیں ایسے کمزور اور پسماندہ ترین طبقے کے لوگوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے یہ پروگرام شروع کیا جا ئے گا۔  ورلڈ بینک کی ایک نئی دستاویز میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کو بحران سے بچانے والے معاشرتی تحفظ پروگرام کے تحت درمیانے طبقے کو نقصان پہنچانے والے خطرے کو کم کرنے میں مدد کے لیے اور معاشرتی رسک کو کم کرنے والے عناصر کے ساتھ معاشرتی مدد کا امتزاج کرے گا۔ اس امداد کا بنیادی ماڈل، امدادی بچت اسکیم ہو گا جس میں مراعات کو بھی شامل کیاجائے گا اور قرض کی واپسی کے لیے مختصر سے عرصے پر محیط درمیانی مدت ہوگی، اس طرح کے پروگرام دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی جاری ہیں ۔پاکستان بھی ان ممالک کے اسی طرح کے پروگراموں سیرہنمائی اور مدد لیتے ہوئے اس پر عمل درآمد کرے گا۔جو لوگ انفرادی طور پرقرض لیں گے ان میں سے کسی سے بھی اس کی اپنی بچت کو جلد واپس لینے پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا تاہم کم سے کم وقت کی مدت تک پہنچنے سے قبل شراکت تک ان کی رسائی نہیں ہوگی۔بنیادی طور پر دیکھا جائے تو یہ پاکستان میں ایک بالکل نئی اسکیم ہے اس لیے یہ طے کیا گیا ہے کہ ورلڈ بینک کے تکنیکی معاون ادارے کی مدد سے پہلے مرحلے کے دوران ڈیزائن کے پیرامیٹرز کا سختی سے تجربہ کیا جائے گا۔
اس پروگرام کے مطابق پہلے مرحلے کے دوران ہائبرڈ اسکیم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے موجودہ افراد کے ایک ذیلی سیٹ کے لیے کھولی جائے گی اور اس میں کامیابی ہوئی تو اس اسکیمکا دائرہ کار آہستہ آہستہ زیادہ سے زیادہ آبادی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔کورونا وائرس بحران نے غریب ترین افرادکو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیںجو موجودہ حفاظتی نیٹ ورک سے باہر ہیں اور انہیں ملک میں موجود محدود رسمی نظاموں سے خارج کردیا گیا ہے۔ایسے لوگ نہایت بے کسی اور بے بسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ان کی امداد کیلئے باقاعدہ ادارے مدد نہیں کرتے اور نہ ہی وہ سرکاری امداد سے مستفید ہوتے ہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ جو بھی بنیادی ضروریات اور طریقہ کار ہو سکتا ہے اس پر کام کیا جائے اور اس نئے نظام کومتعارف کرانے کی ضرورت ہے جو معاشرتی مدد سے آگے بڑھایا جا سکے اور معاشرتی تحفظ کی چھتری کے تحت نادار و غریب اورکمزور آبادی کے ایک بڑے طبقے کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی تحفظ کی فراہمی کے موجودہ نظام کو مستحکم کرنے اور آگے بڑھانے کے قابلبنایا جائے تاکہ ان کو معاشی و سماجی بحرانوں کی صورتحال کے لیے زیادہ جوابدہ بنایا جاسکے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور طبقات کی بہتر طریقے کے ساتھ داد رسی کی جا سکے تاکہ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے مستفید ہو سکیں۔
ورلڈ بینک کے دستاویز میں کہا گیا کہ یہ پروگرام معاشرتی تحفظ کی فراہمی کے نظام کو بڑھانے کی حمایت کرے گا، سوشل رجسٹری اور بائیو میٹرک طریقے سے رقوم کی ادائیگی کے نظام سمیت دونوں معاشروں کے دوران آبادی کی ضروریات کو اپنانا، معاشرتی تحفظ کے نظام کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اس کا مقصد ہائبرڈ سماجی تحفظ اسکیم کے ذریعے مشروط نقد رقم کی منتقلی اور گھریلو بچت کے ذریعے انسانی سرمائے کے تحفظ کو فروغ دے کر غریب اور کمزور گھرانوں میں بحران کے خلاف لچک پیدا کرنا ہے۔پاکستان نے ایک دہائی کے دوران اپنے معاشرتی تحفظ کے نظام میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے اور اس کا نتیجہ ہے کہ غربت میں کمی آ رہی ہے۔
پاکستان کا معاشرتی تحفظ کا نظام، جو 2008 میں قائم کیا گیا تھا، بہت سے بڑے معاشرتی امدادی پروگراموں پر مشتمل ہے جو غریبوں اور کمزوروں کی ضروریات پر رد عمل دینے کی کوشش کرتا ہے موجودہ حکومت کی جانب سے اس پروگرام کو احساس’ کے ایجنڈے میں نمایاں کیا گیا ہے۔یہ پروگرام وفاقی سطح پر چلائے جاتے ہیں تاہم صوبوں نے احساس کے مقاصد کی تکمیل کے لیے متوازی سماجی تحفظ کے پروگرام بھی شروع کیے ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے اوراس قسم کے سماجی منصوبے اور پروگرام معاشرے میں غربت کم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوں گے۔

https://credit-n.ru/order/zaim-migone.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-myzaim-leads.html hairy woman микрозайм онлайн взять займ в екатеринбургезайм на 30 днейзайм с плохой кредитной историей самара быстро деньги займбыстрый займ наличнымизайм наличными в день обращения частный займ нижний новгородзайм под залог имуществазайм 3000 на карту займ сто процентовбыстро займ нижний новгородзайм робот на карту срочный займ на длительный срокзайм онлайн заявказайм срочно без отказов и проверок на карту займ без отказа на банковский счетзайм онлайн мфозайм 250 000 займ наличнымивеб займ личный кабинетонлайн займ на киви без отказа займ онлайн 50000быстрый займ в хабаровскемини займ на банковскую карту до зарплаты займзайм на карту с плохой кредитной историейоформить займ онлайн займ на карту москвабыстрый займ через интернетвзять быстро займ оформить займ на карту сбербанка онлайнзайм денег в интернетевзять займ без проверки кредитной истории

پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ گیا،وزیراعظم کی وزارت تجارت اور برآمد کنندگان کو مبارکباد، نعیم صدیقی

ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری حالیہ اعداد و شمات کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ 32.04 فیصد بڑھ کر 2 ارب 63 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال میں اس ماہ تک 2 ارب 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھا۔ملکی درآمدات ماہ ستمبر سے ہی اضافے کی جانب تھی تاہم برآمدات میں کمی کے باوجود درآمدات میں کمی کی وجہ سے حکومت کو بیرونی اکائونٹس سنبھالنے میں سکون کا سانس ملا تھا۔تاہم اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں آنے والے چند ماہ کے دوران خام مال اور نیم تیار مصنوعات کی درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے کے بعد اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران ملکی تجارتی خسارے میں 6.44 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 11 ارب 67 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 12 ارب 42 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک نہیں گیا۔گزشتہ مالی سال کے دوران تجارتی خسارہ 31 ارب 82 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر 23 ارب 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگیا تھا۔
اسی طرح دسمبر میں درآمدات میں سالانہ بنیاد پر 25.25 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ برس کے 4 ارب 2 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر اب 5 ارب 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ جون 2018 کے بعد اسے یہ پاکستانی برآمدات میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے جبکہ اگر صرف ماہانہ بنیاد پر بات کی جائے تو نومبر کے مقابلے میں دسمبر کے دوران درآمدات میں 16.69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کی بات کی جائے تو پاکستان کی درآمدات میں 5.72 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے 23 ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 24 ارب 52 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔اسی طرح اگر مالی سال 20-2019 کی بات کی جائے تو اس سے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اِس سال درآمدات میں 18.78 فیصد حوصلہ افزا کمی دیکھنے میں آئی تو جو 54 ارب 79 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 44 ارب 50 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئی تھی۔اس تمام تر صورتحال کے باوجود وزارت تجارت یا وزارت خزانہ کی جانب سے اب تک اس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں خطے کے دیگر ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کی برآمدات سے متعلق بیان دیا جس میں کہا گیا کہ ان ممالک کی نومبر اور دسمبر 2020 میں برآمدات کی شرح منفی رہی۔پاکستان کی برآمدات میں 18.30 فیصد اضافے کے مقابلے میں بھارت کی منفی 0.8 فیصد اور بنگلہ دیش کی 6.11 فیصد برآمدات رہیں، جس پر وزیراعظم نے وزارتِ تجارت اور برآمد کنندگان کو مبارکباد بھی دی ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی رسائی کے اجلاس میں اراکین کو بریفنگ دی۔اس اجلاس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان نے کی تھی۔ڈاکٹر معید یوسف نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ متعلقہ سرکاری وزارتوں، صوبوں اور نجی شعبے کے مشورے سے سامان اور خدمات کی برآمدی صلاحیت کے بارے میں وسیع پیمانے پر نقشہ سازی کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، زراعت، گوشت، چمڑے، مٹی اور سیرامکس کے برتن، مشینری اور آٹو پارٹس، دھاتیں اور سرجیکل آلات 31 ارب ڈالر کی اضافی برآمدی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ طبی اور مذہبی سیاحت، نقل و حمل خدمات، افرادی قوت، دواسازی، ماربل اور گرینائٹ اور نمک کی مصنوعات سے اضافی 2 ارب ڈالر حاصل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات، امریکا، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس، انڈونیشیا، اسپین، الجزائر اور ملائیشیا کو 16 ارب 70 کروڑ امریکی ڈالر کی اضافی برآمدات کا امکان ہے۔

https://credit-n.ru/order/zaymyi-creditplus-leads.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-srochno-dengi-leads.html payday loan займ онлайн займ онлайн безработнымзайм ижевсккак получить займ через систему контакт займ 1000 рублей онлайнзайм онлайн на карту кукурузазайм webbankir займ онлайн быстрокиви займ без паспортазайм без комиссии виваденьги займмиг кредит оформить займлегкий займ онлайн займ под залог земельного участказайм на карту круглосуточно с открытыми просрочкамизайм 24 часа займ без отказа оренбургзайм онлайн с 19 летзайм 50 тысяч на карту онлайн займ на карту без отказазайм микрокладзайм контакт взять займ на карту на 1 годзайм 365 днейцентр инвест займ займ от учредителябиг займзайм переводом контакт займ онлайн омскдомашний займсрочный займ спб займ монистоvivus займ отзывызайм без паспорта онлайн

آئی پی پیز کی جانب سے بجلی واجبات کی ادائیگی کا حکومتی منصوبہ مسترد کیوں؟ نعیم صدیقی

بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں جنھیں آئی پی پیز کا نام دیا جاتا ہے ان کی جانب سے اپنے واجبات کے لیے حکومت کی پیش کردہ ادائیگی کا منصوبہ مسترد کردیا گیا ہے ان اداروں کی جانب سے محصولات میں چھوٹ کے باضابطہ معاہدوں پر دستخط کرنے سے پہلے 50 فیصد نقد ادائیگی کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ایک عمل درآمد کمیٹی نے گزشتہ ہفتے آئی پی پیز کوآئندہ مہینے، جون اور دسمبر 2021 میں نقد اور تجارت کے قابل بانڈوں کے امتزاج کے ذریعے تین برابر اقساط تقریبا 450 ارب روپے کی ادائیگی کی پیش کش کی تھی، ان میںہر قسط ایک تہائی تقریبا 50 ارب روپے نقد اور دو تہائی تقریبا 100 ارب بانڈز پر مشتمل ہو گی۔آئی پی پیز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹیم کی طرف سے پیش کردہ ادائیگی کے منصوبے سے آغاز کرنا ناقابل قبول تھا، انہوں نے عمل درآمد کمیٹی کو بتایا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت گزشتہ سال اگست میں دستخط شدہ مفاہمتی یادداشتوںکے پہلے سے طے شدہ شرائط و ضوابط پر ‘دوبارہ بات چیت’ چاہتی ہے جس میں ان کے اصل بجلی کی خریداری کے معاہدوںکے برخلاف تقریبا 836 ارب روپے کی چھوٹ شامل ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک طرح سے یہ مفاہمتی یادداشتوں کو دوبارہ کھولنے جیسا ہے۔
حکومتی ٹیم کو سمجھایا گیا کہ آئی پی پیز کو شدید لیکویڈیٹی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان کے جائز بقایاجات تقریبا 450 ارب روپے تھے جس کا حکومت نے اگست میں ادائیگی کے لیے معاوضہ ادا کیا تھا جس کے بعد آئی پی پیز خود مختار معاہدوں میں ٹیرف میں “غیر معمولی” چھوٹ دینے پر راضی ہوگئے تھے، آئی پی پیز نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم 450 ارب روپے کے واجبات نقد رقم کے عوض ادا کیے جائیں تاکہ ان کے لیکویڈیٹی چیلنجز کو کم کیا جا سکے، آئی ایم ایف کی ضروریات کے پیش نظر تنگ مالی جگہ کے بارے میں حکومت کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلی دو قسطیں نقد رقم اور بانڈوں کے امتزاج کے ذریعہ جون میں اور بعد میں بالترتیب 30 فیصد اور 20 فیصد کی ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے، یہ مذاکرات دراصل مفاہمتی یادداشتوں کو معاہدے کی شکل دینے کے لیے پچھلے ہفتے ہی شروع ہوئے ہیں اور وہ ہفتوں تک جاری رہیں گے۔ابھی حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ریونیو اسٹریم میں بہتری لانے کے لیے صارفین کے بجلی کے نرخوں کے بارے میں بھی کچھ فیصلے کرنے ہیں۔ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے تصدیق کی کہ جوابی ادائیگی کا منصوبہ زیر غور ہے جو آئی پی پیز کی طرف سے 2002 کی پاور پالیسی کے تحت آیا تھا جبکہ 1994 کی پالیسی کے تحت آئی پی پیز اور حبکو کے ساتھ بات چیت ابھی تک پائپ لائن میں ہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ منشا گروپ کے زیرقیادت آئی پی پیز کا ایک گروپ ماضی میں ان کی طرف سے دعوی کردہ ‘زائد ادائیگیوں’ کے تصفیے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے کردار پر اتفاق کرنے سے گریزاں ہے، جیسا کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین محمد علی کی زیر قیادت تحقیقات میں سابقہ تحقیقاتی کمیٹی نے الزام لگایا تھا۔پانچ، چھ آئی پی پیز کے اس گروہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے پاس کسی بھی متنازع رقم کو حل کرنے کے لیے ثالثی کا قانونی فریم ورک ہے اور وہ نیپرا واپس جانے پر راضی نہیں ہوسکتے ہیں، اس “اضافی ادائیگی کے زمرے” میں شامل رقم تقریبا 52 ارب روپے ہے اور آئی پی پیز نے اسے اعلی عدالتوں میں چیلنج کیا ہے۔آئی پی پیز کو بجلی کی خریداری کے معاہدوں میں ترمیم یا اضافے میں ایم او یوز کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے مشترکہ رسمی معاہدوں کی زبان پر بھی کچھ اعتراضات ہیں، حکومتی فریق نے آئی پی پیز سے معاہدوں کے مسودوں میں تبدیلی لانے کی تجویز پیش کی ہے۔ عمل درآمد کمیٹی نے مفاہمتی یادداشت کو معاہدے کی شکل دینے میں کافی وقت ضائع کردیا تھا اور تقریبا تین ماہ کے وقفے کے بعد مکمل رفتار کے ساتھ کام شروع کیا تھا۔ ونڈ پاور پراجیکٹس کرنے والوں کی جانب سے یہ بھی شکایت کی ہے کہ حکومت نے اگست میں ایم او یوز کے حصص کے حصے کے طور پر قرض دینے والوں سے مارک اپ، انشورنس وغیرہ پر مراعات کو یقینی بنانے کے لیے خود کام کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں اور معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ایم او یوز کا اختتام 12 فروری کو ہوگا۔ تھرمل، ونڈ، سولر اور بیگسی سمیت آئی پی پیز کی چار درجن مفاہمتی یادداشتوں کے لیے فوری 425 ارب کی ادائیگی درکار تھی جو بجلی کی خریداری اور چھ ماہ میں عمل درآمد کے معاہدوں کا حصہ بننے کے باضابطہ معاہدے کے لیے 13 کھرب روپے کے گردشی قرضوں میں پھنس گئے تھے، جون 2020 تک سرکاری اداروں سے حاصل ہونے والے آئی پی پیز کا تخمینہ لگ بھگ 15کھرب روپے لگایا گیا ہے۔10 اکتوبر کو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزیر توانائی عمر ایوب خان کو عمل درآمد کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا تھا جبکہ تابش گوہر نے کمیٹی میں شہزاد قاسم کی جگہ لی تھی، کمیٹی کے دیگر تمام ممبران میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی جس میں بابر یعقوب فتح محمد بھی شامل تھے جنہوں نے آئی پی پیز، پاور اینڈ فنانس کے سیکریٹریز، بیرسٹر قاسم داد اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ آئی پی پیز سے ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی۔

https://credit-n.ru/order/zaymyi-mig-kredit.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-yazaymu-leads.html hairy women займ на карту без отказов круглосуточно займ на карту под 0%займ не выходя из дома на картузайм 20000 рублей на карту электронный займзайм без залога красноярсксрочно займ на киви срочный займ наличнымионе клик займсрочно займ онлайн онлайн займ на карту 30000займ на visaзайм экспресс златоуст займ с 18 лет без отказазайм 30000 на картуна карту займ где взять беспроцентный займзайм без отказа спбманго займ онлайн конга займ личный кабинетмфк лайм займ личный кабинетпайпс займ личный кабинет займ на кививеб займзайм на карту срочно без отказа оформить займ до зарплатые займ без процентовзайм онлайн быстро деньги взять займ без отказазайм по системе контактзайм от учредителя проводки займ 30000 на карту срочнозайм 100 рублей на кивичастный займ без залога займ 30000 на годчастный займ в челябинскекредит плюс первый займ без процентов

ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ خوش آئند لیکن دیگر مصنوعات پر توجہ کی ضرورت ہے؟ نعیم صدیقی

رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل کے سوا دیگر اشیا کی برآمدات سالانہ بنیادوں پر 1.85 فیصد سکڑ کر 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کووڈ 19 سے متعلق اقدامات کی وجہ سے بڑی برآمدی مارکیٹوں کے بند ہونے کے باعث آرڈرز کی تاخیر سے ٹیکسٹائل کے سوا دیگر اشیا کی برآمدات پر اثر پڑا ہے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے کیونکہ کورونا وائرس کی دسری لہر نے ایک بار پبر دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔
کووڈ 19 کی پہلی لہر کے بعد نان ٹیکسٹائل سیکٹر کو ابھی تک برآمدی آرڈرز موصول نہیں ہوئے تاہم مالی سال 21-2020 کے جولائی سے نومبر کے دوران ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ پاکستان کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں مفید کہا جا سکتا ہے۔ برآمدات سے متعلقہ تین شعبے جن میںلیدر گارمنٹس،سرجیکل انسٹرومنٹس اور انجینئرنگ کا سامان شامل ہے ان شعبوں نے دنیا کے مختلف ممالک میں لاک ڈائون کے باوجود برآمدی عمل میں اضافے کو برقرار رکھا ہے جس کی بدولتپاکستان کو زر مبادلہ کے ذکائر میسر آ رہے ہیں۔پاکستان ادارہ شماریات کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے نومبر کے دوران فوڈ باسکٹ ایک سال قبل کے مقابلے میں 12.44 فیصد سکڑ گئی ہے، اس کٹیگری میں چاول کی برآمدات 12.58 فیصد کم ہوئی ہیںجبکہ دوسری طرف باسمتی برآمدات مالیت میں 24.46 فیصد اور حجم میں 28.41 فیصد کم ہوگئیں ہیں جس کی وجہ سے ہماری معیشیت و تجارت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اسی طرح مچھلی اور اس سے بنی مصنوعات میں 9.72 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ پھلوں کی برآمدات 9.62 فیصد کم ہوئی، سبزیوں کی غیرملکی خرید میں بھی 5.91 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ مرچوں کی برآمدات بھی 1.62 کم ہوگئی۔تاہم تمباکو کی برآمدات 9.7 فیصد اور گوشت کی مصنوعات کی برآمدات 6.34 فیصد بڑھیں۔مزید یہ کہ مارچ سے ملک میں گندم، چینی اور دالوں پر پابندی کے باعث ان کی برآمدات نہیں ہوئیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طویل عرصے بعد چمڑے کی برآمدات میں بہتری دیکھی گئی اور یہ 5.66 فیصد تک بڑھی جس میں دیگر مصنوعات کے ساتھ ساتھ زیادہ تر چمڑے کے کپڑے اور دستانے کی فروخت شامل رہی، انجینئرنگ سامان کی برآمدات 17.71 فیصد جبکہ جریحی آلات کی برآمدات اس عرصے میں 1.84 فیصد بڑھ گئیں۔تاہم چمڑے کے جوتوں کی برآمدات میں 8.66 فیصد کمی ہوئی لیکن کینوس کے جوتوں کی برآمدات 63.39 فیصد بڑھ گئی۔اس کے برعکس رواں مالی سال کے 5 ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کارپیٹس اور رگس کے برآمدات مالیت میں 2.58 فیصد جبکہ حجم میں 19.92 فیصد تک کم ہوئیں تاہم جن کھیلوں کے سامان کی برآمدات 14.03 فیصد کم ہوئیں تاہم فٹ بال کی برآمدات پر یہ اثر 23.91 فیصد تک پڑا، اس کے علاوہ ٹینڈ لیدر برآمدات بھی 34.95 فیصد تک سکڑ گئیں۔مزید برآں سالانہ بنیادوں پر جیولری کی برآمدات 85.96 فیصد اور ہینڈی کرافٹ کی برآمدات 100 فیصد تک بڑھ گئیں تاہم جواہرات کی برآمدات 2.61 فیصد، فرنیچر 10.66 فیصد، شیرہ 73.08 فیصد اور گڑ 0.4 فیصد کم ہوگئی ہیں ان تمام عوامل کے منفی اثرات پورے ملک کی معیشت پر دیکھے جا رہے ہیں۔حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں ہر ممکن حد تک اضافہ کیا جائے اور اس کیلئے حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان تاجر برادری کو بھرپور تعاون اور رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں امید کی جا سکتی ہے عالمی سطح پر مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود پاکستان کی معیشت ترقی اور بہتری کی جانب اپناسفر جاری رکھے گی۔

hairy woman https://credit-n.ru/order/zaymyi-joymoney.html https://credit-n.ru/offers-credit-card/ren-drive-365-credit-card.html credit-n.ru займы на карту hairy girls онлайн займ на карту maestroвзять займ онлайн без процентовзайм 25000 вивус займ онлайнвзять займ на карту сбербанкоформить займ на карту маэстро частный займ уфабыстрый займ челябинскполучить займ онлайн на карту повторный займ в екапустасрочный займ 70000как взять онлайн займ займ на карту мирзайм на длительный срок на картузайм на 2 месяца быстрый займ тольяттизайм на исправление кивзять крупный займ взять займ без отказазайм по системе контактзайм от учредителя проводки займ до зарплатывивус займзайм на киви кошелек без отказа взять займ быстро деньгизайм тверьонлайн займ контакт заявка на займзайм на киви кошелек без отказовпросто займ срочно займ с плохой кредитной историейзайм и кредитcash u займ займ срочно москвазайм на карту виза срочноденьги в займ без процентов

وزیراعظم کا تعمیراتی پیکیج، معاشی ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے، نعیم صدیقی

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے تعمیراتی صنعت کو جو پیکیج دیا گیا تھا اس پر بڑی تیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔ نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ انور علی حیدر کی نگرانی میں تعمیرات کا شعبہ کا م کرے گا۔حکومت کی جانب سے کنسٹرکشن انڈسٹری کو اٹھانے کے لیے ایک انتہائی اہم پیکج دیا گیا ہے کیونکہ حکومت اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بہت سنجیدہ ہے ۔ جس طرح کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی بنیاد رکھی گئی بالکل اسی طرح شعبہ تعمیرات کے فروغ اور تمام تر مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے۔آخری تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی تعمیراتی صنعت کے لیے وزیر اعظم کے پیکیج کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 121 ارب روپے کے 330 منصوبوں کے ساتھ ساتھ 88ارب سرمایہ کاری کے مزید 218 عارضی منصوبے رجسٹرڈ کرلیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 30 دسمبر تک 226ارب روپے کی اشاریاتی سرمایہ کاری کے ساتھ تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس مراعات حاصل کر کے 3ہزار 627 خریداروں نے ان پراپرٹیز کو خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ہر بلڈر اور ڈیولپر کو 31 دسمبر 2020 کو یا اس سے پہلے ایف بی آر کے کمپیوٹر پر مبنی آئی آر آئی ایس سافٹ ویئر پر اندراج اور منصوبوں کو 30 ستمبر 2022 سے پہلے مکمل کرنا ضروری ہے۔یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اپریل 2019 میں تعمیراتی صنعت کے لیے پیکیج کا اعلان کیا تھا۔
ٹیکس عہدیداروں کا خیال ہے کہ بلڈر زاور ڈیولپرز کے متعدد اشاریے والے منصوبے ہیں جن کی تیاری کا عمل ابھی باقی ہے، لہذا اسکیم میں منصوبوں کو مخصوص توسیع یا عام توسیع دینا ضروری ہوگا۔ادھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پہلے ہی حکومت کو کووڈ-19 کے اثرات کی وجہ سے ٹیکسوں کے دیگر اقدامات پر چھوٹ دے دی ہے، عہدیداروں کا خیال ہے کہ جون 2021 تک مزید توسیع حکومت کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگی کیونکہ اس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔دوسری جانب 30 دسمبر تک کے بریک-اپ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ صرف 183 منصوبے مستقل بنیادوں پر ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کیے گئے تھے جو ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن سمیت تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں، اس کے علاوہ 147 منصوبے ایسے ہیں جنہیں ایف بی آر کے ساتھ عارضی طور پر 25 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ایک ٹیکس عہدیدار کے مطابق عارضی طور پر پیش کردہ منصوبے کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس دہندہ ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہے لیکن سرمایہ کاری کی جانے والی رقم یا منظوری کے منصوبوں سمیت کچھ تفصیلات باقی رہ جاتی ہیں، عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ تاہم ٹیکس دہندہ نے اندراج کروانے کے لیے خود سے عہد کیا ہے۔وہیں 218 منصوبوں کی ایک بڑی تعداد 88ارب کی اشاریاتی سرمایہ کاری کے مسودے کے مراحل میں ہے، عہدیدار کے مطابق یہ محض ڈرافٹ ہیں جو تیاری اور منظوری کے مختلف مراحل پر ہیں، ان منصوبوں کی مکمل رجسٹریشن کے لیے اسکیم میں توسیع کی ضرورت ہوسکتی ہے اور اس دکھائی دیتا ہے کہ اس میں تو سیع کر دی جائے گی اس حوالے سے کچھ عرصہ سے پیش رفت جاری تھی۔
خریداروں کی کیٹیگری کا بریک اپ ظاہر کرتا ہے کہ 126ارب روپے کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف 73 افراد نے ایف بی آر کے ساتھ اندراج کرتے ہوئے بلڈرز اور ڈیولپرز سے پراپرٹی خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی، 10دسمبر 2020 تک 100ارب کی سرمایہ کاری کے ساتھ اپنے ڈرافٹ تیار کرنے والے افراد تیاریوں کے مختلف مراحل پر ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق وزیر اعظم کا بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے تعمیراتی پیکیج زوروشور سے جاری ہے، اس پیکیج کو ٹیکس قوانین (ترمیمی) آرڈیننس، 2020 کے ذریعے نافذ کیا گیا جس کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ایک نیا سیکشن 100ڈی اور گیارہواں شیڈول داخل کیا گیا، یہ پیکیج دائرہ کار میں بہت وسیع ہے اور خوبصورت ٹیکس مراعات کی پیش کش کرتا ہے۔پیکیج کا اطلاق زمین کے بلڈرز اور ڈیولپرز دونوں پر ہو گا اور اس میں دونوں تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، بلڈرز اور ڈیولپرز رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے سلسلے میں پیکج کے ٹیکس فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔اس کا فائدہ افراد اپنی حیثیت سے قطع نظر اٹھا سکتے ہیں، اس میں بلڈروں اور ڈیولپروں کے لیے بالترتیب فی مربع فٹ اور فی مربع یارڈ کی بنیاد پر ٹیکس کے نرخ مقرر ہیں۔کم لاگت والے رہائشی منصوبوں کے معاملات میں اس حساب سے ٹیکس میں 90 فیصد کمی کی گئی ہے، مزید یہ کہ لمیٹڈ کمپنیوں کے شیئر ہولڈر کی سہولت کے لیے ان کے ڈیویڈنڈ کی آمدنی کو ٹیکس سے پاک بنا دیا گیا ہے، اس پیکیج میں ود ہولڈنگ ٹیکس سے بھی بہت سی مراعات کی فراہمی کی گئی ہے۔سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے بلڈر/ڈیولپرز اور اس طرح کے منصوبوں کی جائیدادیں خریدنے والوں کو سرمایہ کاری کے ذرائع کے بارے میں تحقیقات سے مکمل استثنی فراہم کیا گیا ہے جو کچھ شرائط کی تکمیل سے مشروط ہیں۔

займ срочно без отказов и проверок https://credit-n.ru/order/zaymyi-mili-leads.html https://credit-n.ru/offer/kreditnye-karty-bank_tinkoff-all-airlines.html https://credit-n.ru/kreditnye-karty.html займы онлайн на карту срочно hairy girl займ онлайн моментальновзять займ 30000 на 365 днейвзять займ екапуста займ под расписку в москвезайм моментальныйзайм оформить займ от частного лица краснодарбыстрый займ на киви без паспортакак взять займ на карту получить займ онлайн на киви1 займ бесплатнозайм наличными в офисе первый займ бесплатно на картузайм на карту от 25000 на длительный срокзайм на дом займ под высокий процентзайм под птс казаньоформить займ на яндекс деньги мгновенный займ на картуе займ личный кабинетзайм в москве займ 911займ круглосуточнозайм онлайн на карту срочно без отказа монеза взять займонлайн займ метрокредитмикро займ екапуста ферратум займзайм под недвижимостьзайм на карту круглосуточно без отказа оставить заявку на займсрочно нужен займ на картусмс займ на карту с плохой кредитной историей быстрый займ на qiwi кошелекзайм под залог автомобиля красноярскбыстрый займ владивосток

پاکستان میں گیس کی قلت برآمدات میں رکاوٹ بن سکتی ہے،نعیم صدیقی

ملک بھر میں گیس کی قلت دیکھی جا رہی ہے۔گیس کے، پریشر میں کمی سے توانائی کے شعبے کو فراہمی متاثر ہو رہی جس کی وجہ سے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت شدید متاثر ہو رہی ہے۔گیس کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کو دیکھتے ہوئے صنعت کاروں نے وزیر اعظم عمران خان پر زور دیا ہے کہ تاجر برادری کو بلا تعطل گیس کی فراہمی کے وعدہ کو من و عن پورا کرنے کو یقینی بنایا جائے تا کہ صنعت کا پہیہ چلتا رہے۔ چیئرمین بزنس مین گروپ زبیر موتی والا اور صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ایم شارق وہرا کا یہ کہنا ہے کہ جنوری میں گیس کی قلت کی افواہیں حکومت کے وعدے کے منافی ہیں۔
تاجر برادری نے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کی جانب سے ایک نیوز کانفرنس میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے سندھ حکومت پر صوبے میں تقریبا 2 ہزار 500 سے 2 ہزار 600 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی پیداوار کے گمراہ کن اعداد و شمار دینے پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ جون کے اعداد و شمار کے مطابق اس صوبے میں 2 ہزار 25 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی پیدا کی گئی تھی۔
کاروباری برادری کے نمائندوں نے بتایا کہ صنعتکار ایک سنجیدہ مسئلے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان غیر ضروری اختلاف سے الجھن کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے کہ سندھ سے نکلنے والی گیس میں سے جو مقدار صنعتوں کو فراہم کی جانی تھی وہ کراچی کی صنعتوں کو فراہم نہیں کی جارہی۔زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے طویل بحث و مباحثے کے بعد وزارت توانائی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس میں ہم نے آر ایل این جی اور مقامی گیس کے فرق کے طور پر گیس کے نرخوں کو 786 روپے سے بڑھا کر 930 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے پر اتفاق کیا تاہم ہم نے یہ معاہدہ اس وقت کیا جب حکومت کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ صنعتوں کو گیس مناسب پریشر پر فراہم کی جائے گی اور تعطل نہیں ہوگا’۔چیئرمین بی ایم جی نے کہا کہ ‘اب اعلان کیا گیا ہے کہ انہوں نے بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی معطل کردی ہے جسے صنعت کار سمجھنے میں ناکام ہیں کیونکہ زیرو ریٹڈ سیکٹر، عام صنعت یا ٹیکسٹائل کے شعبے کے مقابلے میں سارا فرق ادا کرنے پر راضی تھے، اس سب کے باوجود صنعتیں فعال نہیں ہیں، گزشتہ 15 دنوں سے جب حکومت نے دعوی کیا تھا کہ وہ آر ایل این جی کی 200 ایم ایم سی ایف ڈی سے زیادہ گیس فراہم کررہی ہے، گیس کی قلت برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم مشیر پیٹرولیم کے اس اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں جس کے تحت جنوری 2021 سے کراچی میں آر ایل این جی کی شمولیت 200 ایم ایم سی ایف ڈی کے بجائے 50 ایم ایم سی ایف ڈی ہوگی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی فرٹیلائزر تبدیل ہونے جارہی ہے جس سے 60 ایم ایم سی ایف ڈی کی بچت ہوگی اور کے الیکٹرک کے لیے بھی 70 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہوجائے گی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے ہموار پیداوار کے لیے قیمت ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ پیداوار میں کمی اور بے روزگاری کے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا، ایسی صورتحال پیدا کرنے کا ذمہ دار کون ہوگا جس میں ہم خریداروں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔
کراچی چیمبر کے صدرشارق وہرا کا کہنا تھا کہ زیرو ریٹیڈ سیکٹر نرخوں کو 786 روپے سے 930 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک اضافے پر سوال اٹھا رہا ہے کیونکہ صنعتوں کو گیس نہیں مل رہی۔کے سی سی آئی کے سربراہ نے سوال کیا کہ اگر اس معاہدے کی حکومت پاسداری نہیں کر رہی تو کیا یہ ضروری ہے کہ صنعت کار بھی اس کی پاسداری کرتے رہیں؟انہوں نے مزید کہا کہ صنعتکاروں کو وقت کے لحاظ سے معاوضہ دیا جانا چاہیے جو گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ضائع ہوا اور ان دنوں جب گیس دستیاب نہیں تھی، انہیں اس کے حساب سے معاوضہ دیا جانا چاہیے۔
گیس کی قلت اور پریشر کی کمی نے صارفین خصوصا پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صارفین کو پریشان کردیا ہے جس کی وجہ سے بجلی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں اور صنعتوں کے پلانٹس کو سپلائی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی ہوئی ہے۔ دسمبر میں درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے رہائشی سیکٹر میں گیس کی طلب میں اضافے کے علاوہ شیڈول ایل این جی درآمدی جہاز کی آمد میں تاخیر اور کے الیکٹرک کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو زیادہ گیس کی فراہمی کی وجہ سے یہ صورتحال رونما ہوئی ہے۔اس کے علاوہ سالانہ مرمت کے لیے شروع ہونے والی کینالز کی بندش بھی ہوگی۔تاجر برادری اس بات پر شدید پریشان ہے کہ اگر گیس کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ملک بھر میں صنعتی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے جس کا نقصان یہ ہوگا کہ ہماری برآمدات میں بھی رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور ذرائع روزگار پر بھی اس کا منفی اثر پڑے گا جبکہ تاجر برادری کو الگ سے معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

hairy women https://credit-n.ru/order/zaymyi-platiza-leads.html https://credit-n.ru/kredit/kredit-vostok.html https://credit-n.ru/zaymyi-v-ukraine.html займы на карту займы на карту займ экспресс ступинозайм на кошелек срочноwebmoney кошелек займ взять займ с плохой кредитной историей и просрочкамисрочный займ без проверки кредитной историизайм без предоплат займ денег москвасрочный займ на киви без отказамтс займ денег займ на улучшение кредитной историиёкапуста займзайм на карту быстроденьги лайм займ личный кабинет входзайм екапуста личный кабинетзайм на киви без регистрации карты займ в псковебыстрый онлайн займ на кивиone click займ онлайн займ на карту с 18 леткредит 24 займзайм онлайн на киви кошелек срочно долгосрочный займ на картусмсфинанс займчто такое займ взять займ на долгий срокбыстрый займ первый без процентовзайм без отказа всем займ онлайн через систему контактзайм мигомзайм у частного лица краснодар он лайн займзайм 300000быстро займ москва первый займ 0%‎срочный займ онлайн круглосуточнозайм через смс

چیئر مین ایف بی آر جاوید غنی کی مستقل تعیناتی حکومت کا احسن اقدام، نعیم صدیقی

پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے ایک طویل عرصے کے بعد ایف بی آر کے مستقل چئیرمین کا تقرر کر دیا گیا ہے جو کہ خوش آئند اقدام ہے اور پاکستان کی تاجر برادری نے اس فیصلے کو پاکستان کی معیشت کیلئے ایک شاندار اقدام قرار دیا ہے۔ اگرچہ اس عہدے پر مستقل تعیناتی کی بہت پہلے ضرورت تھی۔ وفاقی کابینہ کی جانب سے محمد جاوید غنی کو تقریبا 5 ماہ کے وقفے کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیوکا مستقل چیئرمین مقرر کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں یہ منصب خالی ہوا تھا جب اس وقت کی ایف بی آر کی چیئرپرسن نوشین امجد کا تبادلہ کرکے انھیں وفاقی سیکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔اس کے بعد سے جاوید غنی کو ایف بی آر کے چیئرپرسن کا اضافی چارج سونپا گیا تھا۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اگست 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک اس عہدے پر چوتھی تعیناتی کی ہے۔پہلے مرحلے میں جاوید غنی کو 3 ماہ کی مدت کے لیے اضافی چارج دیا گیا تھا جو اکتوبر میں مزید 3 ماہ بڑھا دیا گیا تھا۔جاوید غنی پاکستان کسٹم سروس کے 22 گریڈ کے آفیسر ہیں جو ایف بی آر ممبر پالیسی کسٹم کے عہدے پر تعینات ہیں۔ان کی ٹوئٹر پروفائل کے مطابق جاوید غنی نے واروک یونیورسٹی سے بین الاقوامی معاشی قانون میں ایل ایل ایم یعنی ماسٹر آف لاکی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔ایف بی آر کے چیف کے عہدے پر جاوید غنی کی مستقل تعیناتی کی منظوری کی سمری وفاقی کابینہ نے منظور کی جس کی سربراہی وزیر اعظم عمران خان کر رہے تھے۔دوسری جانب ٹیکس عہدیداروں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوسرے سال میں ایف بی آر کو ریونیو کی وصولی میں بڑے شارٹ فال کا سامنا رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق جون 2021 تک ریونیو شارٹ فال 400 سے 600 ارب روپے تک رہا۔مزید یہ کہ موجودہ 5 مہینوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں ریونیو وصولی میں صرف 4 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا۔
ایف بی آر نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ رواں مالی سال کے لیے 24 فیصد سے زیادہ اضافے کا ریونیو ہدف حاصل کرے گا۔تاہم ایف بی آر نے ملک میں سنگل سیلز ٹیکس سمیت مطلوبہ اصلاحات لانے کے لیے ورلڈ بینک کے فنڈ سے چلنے والے منصوبوں کی ڈیڈ لائن کو بھی پورا نہیں کیا ہے۔یاد رہے کہ 6 اپریل 2020 کو حکومت نے نوشین امجد کو ایف بی آر سربراہ نامزد کیا تھا۔تاہم تین مہینوں کے بعد ہی انہیں تبدیل کردیا گیا تھا اور کابینہ نے بعد میں شبر زیدی کی اعزازی / پرو بونو تعیناتی ختم کردی تھی جو دو سال تک رہنی تھی۔فروری میں یہ عہدہ خالی ہوا تھا جب شبر زیدی 21 جنوری کو دفتر میں شمولیت حاصل کرنے کے چند روز بعد ہی غیر معینہ مدت کے لیے طبیعت کی خرابی کی وجہ سے چھٹی پر چلے گئے تھے۔ان کی غیر موجودگی میں ایف بی آر ممبر کے عہدے پر تعینات نوشین امجد نگراں چیئرپرسن تھیں۔ یہ بھی مدنظر رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مئی 2019 میں شبر زیدی کو ایف بی آر کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات کیا تھا تاکہ وہ مطلوبہ اصلاحات لائیں اور 20-2019 کے 55 کھرب روپے کے ریونیو جمع کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کام کریں۔ قبل ازیں شبر زیدی نے محمد جہانزیب خان کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا جنہیں اگست 2018 میں ایف بی آر سربراہ کا چارج سونپا گیا تھا۔تاجر برادری کی جانب سے حکومت کے اس اقدام کو ملک کی معیشت کیلئے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ایف بی آر کا مستقل چیئر مین ہی ٹیکس اور پاکستان کی معیشت سے وابستہ دیگر معاملات کو پوری ذمہ داری کے ساتھ دیکھنے کے علاوہ فوری اور ضروری اقدامات اٹھا سکتا ہے۔

https://credit-n.ru/kredit/kredit-vostok.html buy over the counter medicines https://credit-n.ru/order/zaymyi-vivus-leads.html https://credit-n.ru/offer/ipoteka-bank-otkritie.html https://credit-n.ru/order/kreditnye-karty-bank_tinkoff-airlines.html https://credit-n.ru/offers-zaim/zaymer/ срочный займ на карту онлайн buy over the counter medicines центрофинанс займ онлайнбыстрый займ ногинскмфо займ-онлайн деньги в займ онлайн на картузайм на вебмани с формальным аттестатомполучить быстрый займ на карту взять займ онлайн на карту сбербанказайм в калининградезайм вебмани с формальным аттестатом займ на карту круглосуточно с плохой кредитной историейденьги займ москвазайм без данных о работе займ без звонковзайм 50000екапуста займ онлайн займ онлайн без работызайм онлайн без кизайм экспресс екатеринбург займ под расписку челябинскзайм студентамденьги займ онлайн займ на банковский счетчастный займ под расписку у нотариусасмарт займ взять займ для исправления кредитной историизайм лобнязайм за час мтс займполучить займ на киви кошелекзайм 1000 рублей на карту онлайн займ 100000 на картузайм онлайн без проверки киденьги в долг займ займ 5000 рублей на картубеспроцентный займ работникубез процентный займ

ٹیکس اقدامات میں تا خیر کیلئے آئی ایم ایف کی رضامندی معیشت کیلئے احسن اقدام ،نعیم صدیقی

پاکستان کے معاشی حالات اس سال کے آغاز سے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے غیر یقینی کا شکار چلے آ رہے ہیں۔ایسے وقت میں کہ جب معیشت کووِڈ 19 کی دوسری لہر سے جکڑی ہوئی ہے عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی جانب سے ٹیکس کے کچھ اہم اقدامات پر عمل درآمد میں 6 ماہ کی تاخیر کی درخواست منظور کرلی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے ذرائع نے بتایا کہ یہ سمجھوتہ سیلز ٹیکس ایکٹ میں ٹیکس اقدامات کی تاخیر اور ذاتی انکم ٹیکس کے سلیبز پر ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں طے پایا ہے۔تاہم کارپوریٹ انکم ٹیکس جو زیادہ تر استثنی واپس لینے سے منسلک ہے اس پر ورچوئل مذاکرات کرسمس کی تعطیلات کے بعد جنوری 2021 کے پہلے ہفتے میں ہوں گے۔اب تک آئندہ 6 ماہ کے لیے ریونیو کلیکشن کے اہداف اور اضافی ریونیو کے اقدامات کو نظرِ ثانی کر کے کم کرنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا۔
حکومت نے گزشتہ بجٹ پلان میں 47 کھرب روپے کا ہدف پانے کے لیے ایف بی آر کی ریونیو کلیکشن میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا لیکن ابتدائی 5 ماہ میں ریونیو کلیکشن میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوسکا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ کووِڈ 19 کے دوران دوسرا اور تیسرا سہ ماہی جائزہ نہیں ہوسکا اور اس میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔اس سلسلے میں پاکستان میں آئی ایم ایف کی ریزیڈنٹ چیف ٹریسا ڈبن کا کہنا ہے کہ ‘بدقسمتی سے میں جاری مذاکرات کے حوالے سے کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتی’۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی پالیسی ہے کہ مذاکرات کے ‘دوران’ پریس سے کوئی رابطہ نہ کیا جائے اور اس وقت صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی ٹیم بات چیت کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف اور پاکستان، جولائی 2021 میں سیلز ٹیکس استثنی پر دوبارہ بات چیت کرنے پر متفق ہیں اور یہ سلسلہ اب نئے سال میں ہی کسی نتیجے پر پہنچے گا۔
آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان اشیائے خورو نوش پر سیلز ٹیکس واپس لے تاہم ایف بی آر نے اسٹیٹ بینک پاکستان کے ساتھ ان استثنی کا تجزیہ کیا تا کہ اس کے مہنگائی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس کام کے بعد آئی ایم ایف جولائی 2021 تک سیلز ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہ کرنے پر رضامند ہے۔ تنخواہوں کے سلیب کے بارے میں جو تجویز دی گئی ہے اس کے مطابق انکم ٹیکس میں آئی ایم ایف کی خواہش اور مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان ذاتی انکم ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کرے اور یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ٹیکس کی شرح میں اضافے کے ساتھ تنخواہوں کے سلیبز کو 20 سے کم کر کے 8 کر دیا جائے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم نے مجوزہ ذاتی انکم ٹیکس کی شرح پر جون 2021 میں مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اسے موخرکرنے سے پہلے ان کی ذاتی انکم ٹیکس کی شرح پر طویل بات چیت ہو ئی ہے۔امید کی جاتی ہے کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور پاکستانی قوم کے مفادات کو مد نظر رکھ کر ایسے فیصلے کیے جائیں گے جس کا فائدہ عوام کو ہوگا اور ملک کی معیشت میں بہتری آئے گی۔

https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-alfa-card.html займ срочно без отказов и проверок https://credit-n.ru/order/zaymyi-lime-zaim.html https://credit-n.ru/order/zaim-cash-u.html https://credit-n.ru/offers-zaim/platiza-mgnovenniy-zaim-online.html займы на карту без отказа срочный займ займ на карту сбербанка визазайм экспесслайме займ квику займ на картузайм онлайн на 6 месяцевзайм 1000 рублей на яндекс деньги заявка на займ онлайнзайм от 18 лет на картуглавный займ красноярск займ мигом на картузайм без телефонаонлайн займ на карту до 200000 частный займ в москвебеспроцентный займ онлайнзайм с плохой кредитной историей онлайн быстрый займ в ставрополезайм онлайн первый займ без процентовтурбозайм займ webbankir займ личный кабинетзайм от частного инвестораманго мани займ займ у петровича отзывыпервый займ беспроцентныйбыстро займ на карту займ по смс срочноонлайн займ на годзайм на год краткосрочный или долгосрочный займ на яндекс деньги онлайн срочнодаем займманимен оформить займ метрофинанс займденежный займ срочнобыстрый займ на банковскую карту срочно займ на карту с плохой кизайм без проверки кредитной истории онлайнзайм на карту мир сбербанк

چار ماہ کے دوران پاکستان کا مالی خسارہ 189 ارب روپے ہو گیا،نعیم صدیقی

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال کے ابتدائی مہینوں میں ہی معیشت کی صورتحال بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔ساری دنیا کو کورونا وائرس نے ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے نتیجے میں دنیا کی معیشت ایک حد تک سکڑ گئی تھی۔لوگوں کی زندگی میں بہت سی نئی مشکلات در آئی تھیں۔ابھی کورونا وائرس کا علاج دریافت ہو رہا تھا کہ اچانک اس وائرس نے دوسری مرتبہ دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس وقت یورپ اور امریکہ اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے ابتدا میں بھی اور اب دوبارہ وائرس کی روک تھام کیلئے انتہائی موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔تاہم جہاں تک پاکستان کی معاشی صورتحال کا تعلق ہے تو بلا شبہ ہماری معیشت کو کورونا وائرس نے شدید دھچکا لگایا ہے۔ جب ہم وطن عزیز کی معاشی صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقائق سامنے آتے ہیں کہ  رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں پاکستان کا مالی خسارہ جی ڈی پی کے 1.7 فیصد 753 ارب روپے پر رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت   نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جاری معاشی بحالی کووڈ 19 کے نئے کیسز کے آنے سے متاثر ہوسکتی ہے۔ وزارت خزانہ کے اقتصادی امور کے ونگ نے اپنی ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اور آئوٹ لک ایم ای یو او کو جاری کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے نئے کیسز کی بحالی کے ساتھ سروسز میں رکی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے سست معاشی کارکردگی کا خطرہ موجود ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 2021 میں جولائی سے اکتوبر کے دوران مالی خسارہ جی ڈی پی کے 1.7 فیصد 753 ارب روپے پر رہا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ جی ڈی پی کے 1.4 فیصد 564 ارب روپے تھا، جو اس میں 33.5 فیصد یا 189 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔دوسری جانب آئوٹ لک میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2021 کے جولائی سے اکتوبر کے دوران پرائمری بیلنس 178 ارب روپے 0.4 فیصدسرپلس رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 130 ارب روپے جی ڈی پی کا 0.3 فیصد سرپلس تھا، جو تقریبا 37 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
ایم ای یو او میں بتایا گیا کہ معاشی بحالی جو رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں شروع ہوگئی تھی وہ اپنی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے تاہم صورتحال کے لیے مرکزی خطرہ حال ہی میں دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی نئی لہروں کی دوبارہ آمد کا ہے، عوام کیلئے خطرات میں اضافہ ہو گہا ہے اس سے بچنے کیلئے سماجی رابطوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے اور دیگر ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی اس طرح کے اقدامات معاشی پھیلا ئوپر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاشی حالات پر جو اثرات مرتب ہوں گے ان کا انحصار کورونا وائرس کی شدت اور اس کے پھیلائو پر ہوگا کہ یہ کتنے عرصے تک رہے گا اور اس کے نتیجے میں مختلف قسم کی پابندیوں کی ضرورت کتنی مدت تک جاری رہے گی۔
آئوٹ لک رپورٹ میں کہا گیا کہ معیشت اس وقت 2 لگاتار بحرانوں سے بحال ہورہی ہے، جس میں پہلا زیادہ تر 2018 اور 2019 میں جاری رہا جس نے ادائیگی کے خسارے کے جمع شدہ غیرمستحکم بیرونی توازن کو درست کرنے کے لیے ضروری مائیکرو اکمانک ایڈجسمنٹ پر مجبور کیا، دوسرا بحران کووڈ 19 کے باعث فروری سے اگست کے دوران پاکستان سمیت عالمی لاک ڈائون برداشت کرنے سے متعلق تھا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان دونوں بحرانوں کا مقابلہ کرنے اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا سلسلہ جاری ہے اور رواں مالی سال کے بارے کہا گیا ہے کہ اس میں پائیدار ترقی کیلئے بھرپور کوششیں اور اقداات کیے جائیں گے۔ادھر نومبر 2020 میں مسلسل پانچویں مہینے کرنٹ اکائونٹ 447 ملین 44 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سرپلس رہا ہے، اسی طرح مالی سال 2021 کے جولائی سے نومبر کے دوران کرنٹ اکائونٹ 1.6 ارب ڈالر جو کہ جی ڈی پی کا 1.4 فیصد بنتا ہے وہ سرپلس رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.7 ارب ڈالر یعنی جی ڈی پی کا منفی 1.6 کے خسارے میں تھا۔اشیا اور خدمات کے لیے درآمدگی ادائیگیوں میں کمی کے بنیادی عوامل سمیت ورکرز کی ترسیلات زر میں واضح اضافے کا نتیجہ کرنٹ اکائونٹ کے سرپلس ہونے کی صورت میں سامنے آیا ہے جوکہ پاکستان کی معیشت کیلئے خوش آئند بات ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ انڈیکس کے ذریعے ماپی جانے والی صنعتی سرگرمی کے مطابق یہ وہ شعبہ تھا جس نے بیرونی حالات کا زیادہ فائدہ اٹھایا اور جولائی 2020 سے ہر ماہ ایل ایس ایم کی ترقی کی شرح مثبت چلی آ رہی ہے۔اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ صنعتی سرگرمیاں ادائیگی کے بحرانوں کی سابقہ بیلنس کے بعد گرنے والی صنعتی سرگرمیاں اب مکمل طور پر بحال ہوگئی ہیں اور ہزاروں افراد دوبارہ اپنے روزگار پر لگ گئے ہیں جو کہ پاکستانی معیشت کی بہتری کی عکاس ہے۔

https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-alfa-cashback.html займ онлайн на карту без отказа https://credit-n.ru/order/zaymyi-oneza1m-leads.html https://credit-n.ru/order/zaim-hot-zaim.html https://credit-n.ru/offer/ipoteka-bank-moskvyi.html hairy girl hairy girls быстрый займ в домодедовозайм онлайн на карту безработнымзайм чебоксары займ на карту 0 процентовденьга онлайн займ на картувзять займ у робота срочный займ на карту онлайн без отказазайм под птс иркутскзайм на карту без электроной почты займ под залог омскзайм от 30000займ взять срочно взять займ на карту без отказаонлайн займ на карту без отказа без проверки мгновеннозайм на карту онлайн срочно займ манго манибыстрый займ экспрессзайм онлайн 24 отзывы быстрый займ на кивизайм онлайн на яндекс деньгизайм без кредитной истории быстрый займ на кивизайм онлайн на яндекс деньгизайм без кредитной истории займ под залог птс хабаровскфаст мани займзайм онлайн срочно на карту pay ps займ личный кабинетонлайн займ от 18 летмомент займ отзывы займ от частного лица под расписку челябинсксрочный займ денег хабаровскманимо займ отзывы