حکومت نے بے قابومہنگائی کا نوٹس لے لیا لیکن عوام ریلیف کے منتظر، نعیم صدیقی

کورونا کے کی دوسری لہر کی وجہ سے ملک میں حالات ایک مرتبہ پھر غیر یقینی کی جانب جاتے دکھائی دیتے ہیں۔کوروناوبا کی وجہ سے عالمی صورتحال میں ہونے والی تیزی سے تبدیلی کے بعد پاکستان کی معیشت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔عوام کا معیار زندگی گرتا جا رہا ہے۔حکومت اپنی جگہ مثبت کوششیں کر رہی ہے لیکن عام لوگوں تک اس کے اثرات نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔حال ہی میں حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت سخت اقدامات کر رہی ہے۔سردیوں کے موسم میں چکن اور انڈوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا کہ قیمتیں بہت زیادہ بڑھا دی گئی ہوں۔’وفاقی وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بڑھتے ہوئے انڈوں اور بناسپتی گھی کے نرخوں کو کنٹرول کرنے کے لیے وزارت تجارت کو اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ خصوصی اجلاس کرنے کی ہدایت کی ہے تا کہ قیمتوں کو مناب سطح پر لایا جا سکے۔
پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی حکومتوں کو انڈوں اور گھی کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے سیکریٹری تجارت کو صوبائی حکومتوں کے نمائندوں اور ایف بی آر سے میٹنگ کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ دونوں اشیا کی قیمتوں میں کمی کے لیے مزید اقدامات کیے جاسکیں۔وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے سیکریٹری غفران میمن نے اجلاس کے شرکا کو ملک میں گندم اور چینی کے ذخائر کی صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں اشیا کی فراہمی اور دستیابی میں اضافے سے صارفین کے لیے ان اشیا کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔یادرہے کہ گزشتہ ہفتے پورے ملک میں انڈوں کی قیمتیں 200 سے 240 روپے فی درجن کی بلند ترین سطح پر آگئی تھیں جس کی وجہ سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہوئے تھے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ قیمتوں میں من مانے اضافے کیے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے معمول اور ضرورت کے مطابق انڈے خریدنے چھوڑ دیے تھے۔
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں انڈوں کی قیمتیں 240 روپے فی درجن بتائی گئیں جبکہ کراچی اور لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں اس کی قیمت 200 روپے فی درجن بتائی جاتی ہے۔
صارفین کا کہنا تھا کہ حکومت انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جس سے وہ پولٹری فارمز مالکان اور خوردہ فروشوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 2020 میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا میں بلند ترین نہیں رہی ہے بلکہ دنیا کے دیگر کئی ملکوں میں پاکستان کی نسبت مہنگائی زیادہ ہے۔لیکن یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ لوگوں کی آمدن کی اوسط کیا ہے۔پاکستان میں غریب عوام کا بنیادی مسئلہ آمدنی کم اور لازمی اخراجات زیادہ ہیں جس کی وجہ سے بنیادی ضروریات کی اشیاء جن میں اشیا ئے خوردو نوش اور دوائیں بھی شامل ہیں ان کی قیمتیں اتنی زیادہ ہیں کہ عام لوگوں کیلئے دو وقت کا کھانا پورا کرنا مشکل ترین ہو گیا ہے۔
ملک بھر کے شہری علاقوں میں ایک بڑی تعداد اخراجات میں کمی کے لیے ایک بار میں درجن یا اس سے زائد انڈوں کی بجائے 2 سے 6 انڈے خرید رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید کس قدر متاثر ہوئی ہے۔اس جانب حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہو رہا اور زندگی کی لازمی ضروریات کی اشیا کی قیمتیں عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔اگرچہ حکومت کے ادارے موجود ہیں اور این پی ایم سی نے اشیائے ضروریات کی قیمتوں کے رجحان کا جائزہ بھی لیا ہے لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ عام زندگی میں قیمتوں کی صورتحال کیا ہے اور حکومتی ادارے گرانی کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔سیکریٹری خزانہ نوید کامران نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ہفتہ وار حساس قیمت انڈیکس میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہ کمی ایسی نہیں کہ اسے عوام کے حق میں بہتر قرار دیا جائے۔ابھی ان تمام اشیا کی قیمتوں میں مناسب کمی ہونا ضروری ہے جن کے بغیر کسی بھی گھر کا گذارہ نہیں ہو سکتا ۔ان میں آٹا،چینی،دالیں،پیاز ،آلو،چاول،چکن،انڈے، اور سبزیاں شامل ہیں۔دوائوں کی قیمت کا حال بہت ہی تکلیف دہ ہے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ بیمار پڑ جائیں تو مہنگی دوا خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران افراط زر کی شرح میں 0.22 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے لیکن ابھی اس میں بہت زیادہ بہتری کی ضرورت ہے۔ گندم، ٹماٹر، پیاز، آلو، اورچکن سمیت کئی ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے لیکن یہ کمی ابھی اور بھی ہونی چاہئے تاکہ پاکستان کے عام لوگوں کے گھر کا چولہا جل سکے۔ابھی تک حالات میں ایسی اطمینان بخش تبدیلی نہیں دیکھی جا رہی جسے دیکھ کر یہ کہا جا سکے کہ پاکستان میں عام لوگوں کی آمدن اور اخراجات میں توازن آ گیا ہے۔امید ہے کہ حکومت عام لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے ٹھوس اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کرے گی۔

https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-bank-tinkoff.html микрозаймы онлайн https://credit-n.ru/order/zaymyi-vivus.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-4slovo-leads.html https://credit-n.ru/offer/kredit-nalichnymi-otp-bank.html микрозаймы онлайн unshaven girl займ в тулеонлайн займ на карту без электронной почтызайм на карту конга ваш займ 24первый займвеб займ телефон горячей линии оформить заявку на займзайм 50 тысячзайм 100 000 рублей займ с просрочками на картубеспроцентный первый займзайм онлайн новые мфо главфинанс займ личный кабинетмфк лайм займлайм займ просрочка joymoney займ личный кабинетзайм онлайн 0%займ для пенсионеров частный займ под расписку в спб срочнозайм без проверки кизайм на карту спб манимен займ личный кабинетбезотказный займзайм на банковский счет без отказа займ на карту мгновенноонлайн займ на кивизайм на карту без процентов срочный займ на карту сбербанказайм онлайн москвазайм онлайн 24 часа займ срочно без отказов и проверок на кивие капуста займзайм без процентов с 18 лет онлайн займ у петровичабольшой займ на долгий срокзайм 1000 без отказа

فنڈز کے اجرا میں تیزی پلاننگ کمیشن کا احسن اقدام ہے، نعیم صدیقی

پلاننگ کمیشن نے قرض دینے والی بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ معاہدوں کے تحت گزشتہ سال متعارف کرائے گئے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام(پی ایس ڈی پی) کے لیے فنڈز کی اجازت دینے کی رفتار تیز کردی ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی مجموعی منظوری 320.24 ارب روپے رکھی گئی ہے جو سالانہ بجٹ میں مختص کیے گئے 650 ارب روپے کا 49 فیصد سے زیادہ بنتی ہے۔پچھلے سال اسی عرصے کے دوران پلاننگ کمیشن نے سالانہ بنیادوں پر مختص 551ارب میں سے 257ارب یا 46.6فیصد مختص کرنے کا اختیار دیا تھا۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ ایک تبدیل شدہ اور نئی حکمت عملی کے تحت کمیشن نے اب اس مختص بلاک کو خارج کردیا ہے جس کا انتظام وزارت خزانہ یا کابینہ ڈویژن زیادہ تر سیاسی وجوہات کی بنا پر کیا کرتا تھا اور اسے پی ایس ڈی پی کے ایک حصے کے طور پر دکھایا جاتا تھا۔اس طرح قبائلی علاقے کے اضلاع کے لیے خصوصی منصوبے خیبر پختونخوا میں ضم ہوگئے ، بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری اور خصوصی ترقیاتی اہداف کے لیے سیاسی طور پر مبنی فنڈز اب پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ تکنیکی اضافی گرانٹ کے ذریعے سیکیورٹی بڑھانے کے لیے ان فنڈز کے بڑے حصے کا رخ موڑنے کی وجہ سے سیاسی تنازعات پیدا ہورہے تھے۔امید ہے کہ اب ساری توجہ ترقیاتی کامون پر رہے گی اور سارا کام ماہرانہ انداز میں کیا جا ئے گا۔
پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت وزارت خزانہ نے اب ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں فنڈز کے اجرا کے لیے ایک نئی حکمت عملی بنائی ہے، اس کے لیے وزارت خزانہ کو پہلی سہ ماہی میں 20فیصد اور مالی سال کی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں 30فیصد کی شرح سے ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی ضرورت ہے، باقی 20 فیصد کو آخری سہ ماہی میں جاری کیا جانا ہے۔
منصوبہ بندی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے وفاقی وزارتوں کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر مختص کل 366ارب میں سے 56.5فیصد207ارب کی اجازت دی ہے، اس کے مقابلے میں پچھلے سال وزارتوں کے لیے کل 304 ارب میں سے 134ارب یا 44.2فیصد رقم مختص کی گئی تھی۔اسی طرح کمیشن نے جمعہ کے روز تک دو اہم اداروں نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور بجلی کے شعبے کو تقریبا 87 ارب روپے دینے کی رہائی کی اجازت دی ہے جو کل مختص رقم 158ارب روپے کا 55فیصد بنتا ہے۔پچھلے سال اسی مدت کے دوران سالانہ بنیادوں پر مختص کل 198ارب کے مقابلے میں 100.5ارب(51فیصد) فنڈز جاری کیے گئے تھے۔تاہم آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ترقی کے لیے فنڈز دینے کا عمل گزشتہ دونوں سالوں میں 18دسمبر تک طرح 48فیصد پر برقرار ہے، رواں سال کے دوران اب تک مختص کردہ 52 ارب میں سے 25 ارب کے استعمال کی اجازت دی جا چکی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 45 ارب روپے میں سے 21.5 ارب روپے کی رقم تقسیم کی گئی تھی۔
اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وزارت خزانہ نے پورے سال کے لیے مختص 66.7 ارب روپے میں سے چند روز پہلے تک صرف 33 ارب روپے سے تھوڑا زیادہ استعمال کیے ہیں جبکہ باقی رقم استعمال ہی نہیں کی گئی۔، گزشتہ سال اسی عرصے سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو وزارت نے مختص کردہ 12.8ارب روپے میں سے 5ارب روپے استعمال کیے تھے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لیے فنڈز کی اجازت بھی دونوں سالوں میں مجموعی طور پر مختص رقم 29 ارب روپے کے مقابلے میں 14 ارب روپے پر برقرار ہے۔واٹر ریسورس ڈویژن نے اس سال اب تک تقریبا 45 ارب روپے وصول کیے ہیں جبکہ اس سے پچھلے سال کی اسی مدت میں 38 ارب روپے وصول کیے تھے حالانکہ موجودہ سال کے لیے کل مختص 81ارب روپے گزشتہ سال کے 86 ارب روپے سے کم ہیں۔ https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-opencard.html срочный займ https://credit-n.ru/zakony/uzb-polnaja-stoimost-credita/uzb-1.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-ligadeneg-leads.html https://credit-n.ru/offer/kreditnye-karty-bank_tinkoff-all-airlines.html займ онлайн микрозайм онлайн подобрать займзайм под расписку новочеркасскзайм на неименную карту сбербанка срочный займ на киви кошелек без отказазайм на длительный срок онлайнзайм под залог авто кемерово займ быстро через интернетпервый займ на кививзять займ без кредитной истории займ в тамбовезайм на 100000займ на карту честное слово займ на долгий срокзайм со 100 одобрениемчастный займ без залога москва займ срочно на карту без проверокоформить займ без процентовзайм в казани конвертируемый займчастный займ без предоплат и комиссийзайм без проверки кредитной истории онлайн займ на банковскую картуонлайн займ на карту срочнозайм на карту мгновенно без отказа платиза займмикроклад займманимен займ екапуста займ на картузайм под материнский капитал челябинскзайм 1000 рублей на киви как получить быстрый займ онлайнзайм омскекапуста как оплатить займ онлайн займ на карту мгновеннозайм с исправлением кизайм в омск

سونے اور جواہرات کے شعبے میں ٹیکس کی عدم ادائیگی ،قومی خزانے کو بھاری نقصان، نعیم صدیقی

پاکستان میں سونے اور قیمتی پتھر جواہرات وغیرہ کے شعبے میں ٹیکس کی ناقص تعمیل کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں کیونکہ پہلے ہی ملک کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔کورونا وائرس نے رہتی کسر بھی نکال دی ہے۔عوام کے حالات میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے کیونکہ ملک کی معیشت کا انحصار قرضوں پر ہے۔سونے اور جواہرات ملک کے اندر بہت بڑی دولت ہے لیکن اس میں ٹیکس کی ہیرا پھیری سے قومی خزانے کو جو نقصان پہنچتا ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔اس اہم ترین شعبے میں ٹیکس کی عدم ادائیگی کی بابت ایف بی آر کی جاری کردہ رپورٹ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے اندر سونے کی تجارت میں بہت سے حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔
اس بات کا انکشاف وفاقی بورڈ آف ریونیو کے ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ یہ نتائج اس وقت سامنے آئے جب ایف بی آر کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات کی تعمیل کے سلسلے میں ریئل اسٹیٹ، جواہرات اور زیورات کے شعبوں میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر پابندی کے لیے قواعد نافذ کیے گئے۔اگرچہ وزارت تجارت کی جانب سے سونے کی درآمدات اور برآمدات کی نگرانی کی جاتی ہے تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تعداد ملک میں سونے کی اصل تجارت کی عکاسی نہیں کرتی۔ ڈائریکٹریٹرجنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے متعدد گرے ایریاز کی نشاندہی بھی کی جہاں ٹیکسز تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس جانب خصوصی توجہ بھی نہیں دی جاتی۔
دواکتوبر 2019 کی ایشیا پیسیفک گروپ کی میوچل ایوالیوایشن رپورٹ کے مطابق مالیاتی جرائم مقامی طور پر زیادہ تر ریئل اسٹیٹ سیکٹر، قیمتی دھاتوں اور جواہرات کے ذریعے شروع کیے جاتے ہیں جبکہ نگرانی اور ضابطے کی عدم موجودگی کے باعث دونوں  شعبوں یعنی ریئل اسٹیٹ اور قیمتی جواہرات اور زیورات کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت میں درمیانے سے اونچے درجے تک خطرناک قرار دیا گیا ہے۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک بھر میں 60 ہزار جیولرز ہیں، جس میں سے صرف 21 ہزار 396 ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، ان  میں سے صرف 10 ہزار 524 نے 2019 میں اپنے ٹیکس ریٹرنز فائل کیے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مختلف ود ہولڈنگ ریجیم کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد اوسطا 9 ہزار ریٹرن فائلرز نے انکم ٹیکس کی ادائیگی نہیں کی۔اگر فی ریٹرن فائلر کا اوسطا سالانہ انکم ٹیکس کا تخمینہ لگائیں تو وہ 5 ہزار 964 روپے بنتا ہے جبکہ اس طرح کی دھاتوں کا کام کرنے والے جیولرز بہت زیادہ دولت کماتے ہیں  جس کیلئے ٹیکس کی مد میں ایک معقول رقم ادا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
گزشتہ 5 برسوں  کے دوران ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں 180 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔  یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ بڑی تعداد میں جیولرز نے اپنی آمدنی کو ٹیکس ادا کرنے کی حد سے نیچے دکھایا ہے، جو ایسے ٹیکس دہندگان کے ڈ یکلیریشن کو شبہات میں ڈال دیتا ہے۔اس شعبے میں ٹیکس کی تعمیل اتنی کم ہے کہ ٹیکس سال 2015 سے 2019 کے درمیان 56.56 فیصد رجسٹرڈ افراد نے گوشوارے جمع نہیں کروائے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان انکم ٹیکس قوانین کی تعمیل نہیں کر رہے۔وہیں موجودہ قوانین مقامی فروخت کی مقدار، جیولرز کے پاس موجود اسٹاک، مینوفیکچرنگ کی سہولیات اور کسٹم پروفائلنگ کو دیکھنے کے لیے مناسب طریقہ کار یا دستاویزات فراہم نہیں کرتے۔اسی طرح اس شعبے میں سیلز ٹیکس کی تعمیل بھی بہت حیران کن ہے، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 21 ہزار 396 قومی ٹیکس نمبر ہولڈرز میں سے صرف ایک ہزار 80 سیلز ٹیکس کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے اوسطا 157 رجسٹرڈ افراد سیلز ٹیکس ریٹرن فائلرز ہیں جبکہ باقی اپنے سیلز ٹیکس ریٹرنز فائل نہیں کرتے۔اس میں تجویز دی گئی ہے کہ وزارت تجارت، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کو سونے اور اس سے منسلک اشیا کی تجارت میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے موجودہ قوانین کا جائزہ لینا چاہیے، ساتھ ہی یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اس شعبے کو صنعت کا درجہ دینا چاہیے تاکہ ہمارا یہ اہم ترین تجارتی شعبہ  بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکے۔

https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-unicredit-bank.html hairy woman https://credit-n.ru/ https://credit-n.ru/order/zaymyi-optimoney-leads.html https://credit-n.ru/kredit/kredit-otp.html займы онлайн на карту срочно займ на карту займ в красноярске с плохой кредитной историейсрочный займ калининградвзять онлайн займ на карту без отказа конга онлайн займзайм онлайн с текущими просрочкамибыстрый займ сочи взять срочный займ на картуbanando займмоментальный займ онлайн на карту займ круглосуточно на карту без отказаонлайн займ без документовзайм на webmoney с формальным аттестатом взять онлайн займ на картумгновенный займзайм на 3 месяца займ 30000 на карту без процентовзайм без обеспечениязайм магнитогорск быстро займ онлайнполучить займисправить кредитную историю займ займ под птс новосибирсксправедливый займвзять займ у частного лица быстрый займ на карту без проверокмани мен займзайм по телефону частный займ под расписку москвазайм vivusзайм у частного лица онлайн быстрый займ на карту сбербанкмикроклад взять займметро кредит займ займ в хабаровске100% займзайм онлайн киви

نیب کی جانب سے تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کی یقین دھانی،نعیم صدیقی

گذشتہ دنوں ایف پی سی سی آئی کے وفد کی جانب سے نیب کے چئیر مین سے ملاقات کی گئی جس کا مقصد تاجر برادری کو درپیش مسائل پر گفتگو اور ان کے حل کیلئے تجاویز پیش کرنا تھا۔ تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کاکہنا تھاکہ نیب نے تاجر برادری کے ‘انڈر انوائسنگ’ کے کیسز فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس نیب نے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے کیسز ایف بی آر کو بھجوائے تھے۔نیب ہیڈ کوارٹر میں پاکستان ایوان صنعت و تجارت کی فیڈریشن FPCCIکے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے نیب چئیر مین کا کہنا تھا کہ تاجر برادری کے مسائل حل کرنا احتساب بیورو کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ ایسی جعلی ہاسنگ اسکیموں کے مالکان اور انتظامیہ کے خلاف سخت ترین کاروائی کرے گا جن کے پاس دینے کے لیے کوئی زمین ہی نہیں ہے۔ ان میں دھوکا دینے والے افراد کو گرفت میں لایا جائے گا اور سرمایہ کاروں کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کریں گے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق نیب منی لانڈرنگ کے کیسز اور وہ افراد جو فراڈ کر کے کروڑوں روپے کھانے کے بعد پاکستان سے فرار ہوگئے ہیں ان کے کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب ہیڈ کوارٹرز اور علاقائی دفاتر میں متعلقہ ڈائریکٹر کی سربراہی میں خصوصی شکایتی سیلز بنائے گئے ہیں تا کہ تاجر برادری کی شکایتیں سنی جاسکیں اور ان کا ہر ممکن اور فوری طور پر ازالہ کیا جا سکے۔
نیب کے سربراہ نے بتایا کہ کاروباری طبقے کے مسائل کا ہمیںادراک ہے یہی وجہ ہے کہ تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے اعلی کی سطح کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اجلاس اسی ماہ کے دوران منعقد کیا جا ئیگا۔ ایف پی سی سی آئی وفد کے اراکین کا کہنا تھا کہ نیب ایک کاروبار دوست ادارہ ہے جو ملک سے مالی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے شاندار کردار ادا ادا کر رہا ہے۔وطن عزیز کا ہر فرد یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کرپشن سے پاک ہو اور مالی جرائم میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہئے۔ یہی موجودہ وقت کی ضروت اور ہر پاکستانی کا مقصد ہے۔تاجر برادری کی جانب سے نیب کو ہر قسم کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی اور ملک بھر کی تاجروں پر زور دیا کہ انہیں نیب کے اقدامات کے حوالے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نیم کسی بھی تاجر کو بلا وجہ تنگ نہیں کرے گا بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرے گا۔
ایف پی سی سی آئی کے وفد کا کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے ایف بی آر اور نجی معاہدوں کے بارے میں انڈر انوائسنگ کے نوٹسز تجارت اور صنعت کی موجودہ صورتحال میں خدشات اور خوف پیدا کررہے ہیں۔وفد کا مزید کہنا تھا کہ نیب احتساب ضرور کرے لیکن تاجر برداری، صنعت اور تجارت سے منسلک نجی افراد کو نوٹسز جاری کرنا کاروباری برادری میں سرمایہ کاری روکنے کے مترادف ہے اور خدشات اور خوف کو جنم دے رہا ہے۔دوسری جانب ایف پی سی سی آئی کی جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں دعوی کیا گیا کہ چیئرمین نیب نے وفد کی شکایت پر اسی وقت ہدایات جاری کیں اور نجی کیسز میں جاری نوٹسز اور انڈر انواسنگ ختم کردیے۔چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ اگر ایف پی سی سی آئی کے پاس اس طرح کے نوٹس ہوں تو وہ ان کے علم میں لائیں تا کہ انہیں ختم کیا جاسکے۔
یہ خبر بھی پاکستان کی معیشت بالخصوص پنجاب کیلئے بہت اہم اور خوش آئند ہے کہ ورلڈ بینک نے اقتصادی امور ڈویژن میں پنجاب ریسورس امپروومنٹ اور ڈیجیٹل افیکٹونس پروگرام کے لیے 30 کروڑ 40 لاکھ ڈالر (جو تقریبا 48 ارب 67 کروڑ پاکستانی روپے بنتے ہیں )کے قرض کے لیے پاکستان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد پنجاب حکومت کی آمدنی میں اضافہ اور وسائل مختص کرنے میں بہتری لانا اور صوبے میں ڈیجیٹل خدمات تک عوام اور اداروں کی رسائی ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ پرائیڈ مداخلت بنیادی طور پر تین چیلنجز سے نمٹے گی جن میں مالی خطرات کا انتظام، محصولات کو متحرک کرنا اور اخراجات کا انتظام انفارمیشن سسٹم کے بہتر استعمال کے ذریعے حل کرنا شامل ہے۔معاشی امور ڈویژن کے سیکریٹری نور احمد نے حکومت پاکستان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے جبکہ حکومت پنجاب کے نمائندے نے آپریشنل معاہدے پر دستخط کیے۔ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بنہاسین نے ورلڈ بینک کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے۔ وزیر اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار کہنا ہے کہ یہ رقم مقامی سطح پر ریونیو میں اضافے اور عوام کے لیے ترقی کیلئے یہ رقم استعمال کی جائے گی۔امید کی جاتی ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بہترین معاشی پالیسیاں ترتیب دیتے ہوئے اس قرضے کو عوام کے بہترین مفاد اور میگا پروجیکٹ کیلئے استعمال کیا جائے گا۔

срочный займ на карту https://credit-n.ru/kredit/kredit-raiffeisen.html онлайн займ https://credit-n.ru/order/zaim-cash-u.html займ на карту https://credit-n.ru/informacija.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-viva-dengi-leads.html https://credit-n.ru/order/cash-u.html онлайн займы займы на карту без отказа быстрый займ новый уренгойзайм онлайн тюменьденьги займ чебоксары 100% займ на картузайм на киви быстрозайм у петровича онлайн срочный займ денегзайм до зарплаты черкесскзайм до 100000 займ на карту без проверок срочнозайм онлайн без проверки кредитной историизайм онлайн с любой кредитной историей займ для улучшения кредитной историизайм под материнский капитал красноярскзайм на карту без проверки займ в благовещенскезайм 6000 рублейзайм 150 000 оформить займ по телефонузайм для безработныхзайм кредито24 частный займ в москвебеспроцентный займ онлайнзайм с плохой кредитной историей онлайн займ наличнымивеб займ личный кабинетонлайн займ на киви без отказа частный займ волгоградзайм на карту без проверок и звонковзайм под маткапитал займ с исправлением кредитной историизайм с просрочками онлайнзайм на карту первый займ без процентов пай пс займ личный кабинетзайм экспресс москва адресазайм якутск

سعودی عرب کا قرض واپس لیکن پانچ ماہ میں غیر ملکی قرضوں میں 45 فیصد اضافہ، نعیم صدیقی

پاکستان کے ذمہ سعودی عرب کا تیل کی مد میں تین ارب ڈالر کا قرض تھا جس میں ایک ارب پہلے  ڈالر ادا کر دئے گئے تھے اور مزید ایک ارب ڈالر حال ہی میں قرض واپس کردیا گیا ہے جبکہ ابھی ایک ارب ڈالر کا قرض ادا کرنا باقی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کو قرض کی دوسری قسط کے طور پر ایک ارب ڈالر ادا کر دیے اور اگلے ماہ مزید ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کے لیے چین سے قرض حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا گیاہے۔ رقم کی واپسی کے لیے سعودی عرب کی طرف سے دبا ئوڈالنا غیر معمولی ہے، تاہم تاریخی طور پر قریبی دوست ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ کچھ عرصہ میں تعلقات میں سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔سعودی ارب کوایک ارب ڈالر کی ادائیگی کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13.3 ارب ڈالر رہ گئے ہیں اور آئندہ ماہ سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کی ایک اور قسط کی ادائیگی کے بعد پاکستان کو ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے جس کے لیے فوری طور پر معاشی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ جولائی تا نومبرمیں پاکستان کا غیر ملکی قرضہ تقریبا 45 فیصد اضافے کے ساتھ تقریبا 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے۔وزارت اقتصادی امور کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ پانچ ماہ میں لئے گئے قرضوں کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت (یکم جولائی 2018 سے) مجموعی طور پر 23 ارب 60 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضے حاصل کرچکی ہے۔
وزارت کا کہنا تھا کہ ‘مالی سال 2020-21 کے جولائی تا نومبر کے دوران حکومت کو متعدد فنانسنگ ذرائع سے 4 ارب 49 کروڑ ڈالر کی بیرونی آمدنی موصول ہوئی ہے’۔
یہ پورے مالی سال 2020-21 کے لیے 12 ارب 23 کروڑ ڈالر کے سالانہ بجٹ کے تخمینے کا 37 فیصد تھا۔
مالی سال 2019۔20 کے اسی عرصے میں بیرونی آمدنی 3 ارب 10 کروڑ رہی تھی جو سالانہ بجٹ کے تخمینے کا 24 فیصد 12 ارب 95 کروڑ ڈالر تھی۔
گزشتہ ہفتے وزارت نے اطلاع دی تھی کہ پاکستان کو مالی سال 2019-20 کے دوران مجموعی طور پر 10 ارب 70 کروڑ ڈالر اور مالی سال 2018-19 کے دوران 8 ارب 40 کروڑ ڈالر وصول ہوئے ہیں۔وزارت کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد سے ترقیاتی شراکت داروں سے منصوبے کے لیے مالی اعانت کے عمل میں کمی آئی ہے، وبائی بیماری کے نتیجے میں بیشتر معاشی سرگرمیاں، بشمول ترقیاتی منصوبوں پر کام رک گیا تھا۔تاہم حکومت کی طرف سے وبائی مرض سے متعلقہ پابندیوں میں نرمی کے بعد معاشی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے رواں مالی سال میں منصوبے کی مالی اعانت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔وزارت نے 4 ارب 49 کروڑ ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے بتایا کہ ایک ارب 30 کروڑ روپے یا 29 فیصد پاکستان کی معیشت کی تشکیل نو میں مدد کے لیے قرض دہندگان کی جانب سے زیادہ تر قرض یعنی بجٹ کی حمایت سے متعلق پروگرام تھے۔ان کا کہنا تھا کہ تقریبا ایک ارن 62 کروڑ ڈالر یا 36 فیصد غیرملکی تجارتی قرض تھا جو پرانے غیر ملکی تجارتی قرضوں کی ادائیگی کے لیے تھا۔
اس کے علاوہ ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے منصوبے کی مالی اعانت کے طور پر 51 کروڑ 80 لاکھ یا 12 فیصد، جو ملک کی معاشی ترقی کو بہتر بنانے اور اثاثوں کی تخلیق کے لیے وصول کیا گیا۔چھ کروڑ ڈالر یا ایک فیصد قلیل المدتی کریڈٹ تھا جبکہ رواں مالی سال کے دوران محفوظ رقم کے ذخائر کے حساب سے ایک ارب یا 22 فیصد وصول کیا گیا تھا۔

hairy girls https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-svyaz-bank.html buy over the counter medicines https://credit-n.ru/order/zaim-cashpoint.html hairy woman https://credit-n.ru/offers-zaim/fastmoney/ https://credit-n.ru/avtokredit.html https://credit-n.ru/order/do-zar.html займ на карту hairy women laim займзайм онлайн 30000займ 100000 срочно на карту займ на кртусрочный займ онлайн на киви кошелекбыстро займ улан-удэ platiza займзайм без справки о доходахзайм 5000 на карту срочно займ ставропольфинансовый займзайм вива микро займ на картуонлайн заявка на займ на картуэкспресс займ онлайн заявка взять займ на карту с нулевым балансомонлайн займ по системе контактблиц займ на карту екапуста когда можно взять повторный займзайм на карту всем без отказапервый займ на карту займ без отказа отзывыбыстрый займ спбзайм наличными срочно взять займ с плохой кизайм под ноль процентовонлайн займ на карту без отказа с 18 лет онлайн займ на карту с 18 леткредит 24 займзайм онлайн на киви кошелек срочно kviku займденьги на карту займ онлайнсрочно нужен займ от частного лица займ на карту сразубелка займзайм пермь пайпс займ отзывызайм под расписку саратовсрочный онлайн займ без отказа

وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں سے ٹیکس اصلاحات غیر یقینی کا شکار،نعیم صدیقی

پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء کے محکموں میں تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔ جس کے بعد معاشی حوالے سے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں کیونکہ حفیظ شیخ وزارت خزانہ کے علاوہ ٹیکس کے معاملات کو بھی دیکھ رہے تھے لیکن اب کہا گیا ہے کہ ان کے پاس صرف وزیر خزانہ کا عہدہ رہے گا اور وہ صرف خزانے کے معاملات کو دیکھیں گے۔وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن نے اقتدار کی راہداریوں میں ایک عجیب کیفیت اور سوچ پیدا کر دی ہے جس کے اثراات منفی ہی کہے جا سکتے ہیں۔ سابق مشیر خزانہ او ر ریونیو ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو صرف وزیر خزانہ کی ذمہ داری دیے جانے کے بعد پاکستان کے اعلی ٹیکس ادارے کے معاملات کو کون دیکھے گا اس سوال کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں ہے لیکن حیرانگی ضرور ہو رہی ہے کہ حفیظ شیخ جو کہ ٹیکس اصلاحات کیلئے بہت سا کام کر رہے تھے اور ان کی گرفت اپنے کام پر مکمل اور بھر پور تھی اب ان کے بعد ان معاملات کو کون آگے بڑھائے گا۔ جب ہم حکومت کی جانب سے وزارتون کی تبدیل کو دیکھتے ہیں تو وفاقی حکومے کی جانب سے جاری کردہ کابینہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ وزارت خزانہ کو دیکھیں گے جبکہ اس نوٹیفیکیشن میںمحصولات کے قلمدان کا کوئی تذکرہ نہیں تھا جو کہ پہلے ہی مشیر کی حیثیت سے ان کے پاس تھا۔
اس بارے میں جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعلی عہدیدار سے پوچھا گیا تو انہوں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور بتایا کہ جب سے یہ نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے انہیں بھی نہیں معلوم اور نہ ہی ایسی کوئی ہدایات یا اطلاعات آئی ہیں کہ محکمہ ریونیو کے معاملات کون دیکھے گا۔حکومت نے حال ہی میں سابق سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود خان کو وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے ریونیو تعینات کیا ہے جن کا عہدہ وزیر مملکت کے برابر ہے تاہم وہ ریونیو ڈویژن کے سابق انچارج اور مشیر ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کو رپورٹ کرتے تھے۔
کابینہ کے ایک اہم وزیر کا کہنا ہے کہ انہیں بھی اس پیش رفت کے بارے میں معلوم نہیں اور وہ جانتے بھی نہیں کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟  انہوں نے کہا کہ ‘جب مجھے کابینہ ڈویژن سے وضاحت ملے گی تب ہی میں اس پر تبصرہ کرسکتا ہوں’۔اس کے علاوہ یہ دعوی بھی سامنے آیا کہ یہ شاید کسی غلطی یا بھول کا نتیجہ ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن وزیراعظم سیکریٹریٹ کی ہدایت کے مطابق جاری کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں وزیراعظم عمران خان نے ریونیو کا قلمدان حماد اظہر کو دے کر صرف ایک روز بعد ہی واپس لے لیا تھا اور انہیں وزیر اقتصادی امور بنا دیا تھا۔بعدازاں مارچ 2020 میں وزیراعظم نے وزیر مملکت کی حیثیت کے ساتھ ہارون اختر کو مشیر ریونیو بنانے کی ایک اور کوشش کی تھی تاہم محصولات اور خزانہ کو الگ کرنے کی وزیراعظم کی خواہش کے باوجود اس اقدام کو روک دیا گیا۔اگر اس مرتبہ وزیراعظم عمران خان اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتے تو معاون خصوصی ڈاکٹر وقار ریونیو ڈویژن کے وزیر انچارج کی حیثیت سے انہیں براہِ راست رپورٹ کریں گے۔تاہم وزارت خزانہ میں ایک دوسرے ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے اس  فیصلے پر اپنی ناخوشی کا اظہار کرنے کے لیے وزیراعظم سے رابطہ کیا تھا اور وزیراعظم نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ یہ معاملہ آئندہ دو سے تین روز میں حل ہوجائے گا اس لیے فکر مندی کی ضرورت نہیں ہے۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے ریونیو کا قلمدان لے کر انہیں 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر مقرر کرنے کے اقدام نے ایسے وقت میں مزید غیر یقینی پیدا کردی ہے جبکہ ٹیکس مشینری کو محصولات میں اضافے کے لیے پالیسی ہدایت کی شدید ضرورت ہے۔ الیکشن سے پہلے پاکستان تحریک انصاف نے اپنے منشور میں وعدہ بھی کیا تھا کہ ایف بی آر ایک خود مختار ادارہ بنایا جائے گا جو ہر قسم کے حکومتی اثر و رسوخ سے آزاد ہوگا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہدو سال کے عرصے میں حکومتی فیصلوں میں مسلسل تبدیلیوں کے باعث اصلاحات کا وعدہ محض بیان بازی تو محدود ہو گیا ہے اور جس طرح کی صورتحال دکھائی دیتی ہے اس کے منفی اثرات پاکستان کی معاشی صورتحال پر مرتب ہوں گے۔پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ حکومت کے پاس ایک بہترین اور مستقل اقتصادی ٹیم ہو جو پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے میں مکمل آزادی کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتی رہے۔

hairy girl https://credit-n.ru/order/kreditnye-karty-ubrir-card.html срочный займ на карту онлайн https://credit-n.ru/order/zaim-creditstar.html займы на карту без отказа https://credit-n.ru/offers-zaim/creditter-srochnye-zaymi-online.html https://credit-n.ru/potreb-kredit.html https://credit-n.ru/order/kreditnye-karty-rosbank-card.html займы на карту без отказа hairy girl карта займ экспрессвзять займ он лайнзайм онлайн по системе контакт как оформить займ на другого человеказайм онлайн без проверкизайм без процентов на 15 дней займ пенсионерам онлайнзайм в пермизайм у частного лица без залога займ без отказа онлайнзайм взятьзайм 50000 на карту займ в москве с плохой кредитной историейонлайн займ москвазайм на карту бесплатно онлайн займ с плохой кредитной историейзайм без электронной почтыоформить займ на карту срочно оформить займ на карту без отказазайм на карту срочно онлайнваши деньги займ займ суммузайм кредит плюсзайм на карту с плохой ки частный займ уфабыстрый займ челябинскполучить займ онлайн на карту займ на киви всемвзять займ 100000вивус повторный займ быстрый займ на карту отзывызайм во владивостокебез отказа займ

ایل این جی کارگو کی انتہائی مہنگی قیمتیں ناقابل عمل ہیں، نعیم صدیقی

پی ٹی آئی کی حکومت کو ایل این جی کی خریداری کے معاملے پر انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔کیونکہ جو بولی دی گئی ہے وہ اتنی زیادہ ہے کہ موجودہ حکومت اس کو قبول کر کے شدید ترین معاشی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے اور اس کا نتیجہ مہنگی گیس کی صورت سامنے آئے گا جو کہ عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہو گی کیونکہ ملک میں پہلے ہی مہنگائی اپنے عروج پر ہے جس کی وجہ سے عوام کے اندر بے چینی پائی جاتی ہے۔پاکستانی حکام کی جانب سے جنوری میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی)کی درآمد کے انتظام کے لیے ہنگامی بولی کے ذریعے دوسری کوشش میں ریکارڈ مہنگی قیمتیں لگائی گئیں۔
8 جنوری سے 18 جنوری کے درمیان ایل این جی بحری جہازوں کی عدم آمد کے خلا کو پر کرنے کی مایوس کن کوششوں میں حکومت نے خریداری کے قواعد کی ہنگامی شقوں کے مطابق عمل کیا تا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈکو دوسری بولی کی اجازت مل جائے۔پیشکش کے جواب میں دوبولی دہندگان نے 8 سے 9 جنوری کے لیے اپنی بولی جمع کروائی جس میں ڈی ایکس ٹی کموڈیٹیز کی جانب سے 15.28 فی برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کی کم ترین پیشکش اور ٹرافیگورا کی جانب سے 19.8 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کو پیشکش شامل تھی۔
دونوں اب تک کی مہنگی ترین پیشکش ہیں اور پہلی مرتبہ برینٹ پرائس کی فیصد کے بجائے فی ایم ایم بی ٹی یو ڈالر کا استعمال کیا گیا تاہم کم ترین 15.28 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی برینٹ کے تقریبا 35 فیصد کے برابر ہے۔تاہم12 سے 13 جنوری کے لیے ایک مرتبہ پھر کوئی پیشکش موصول نہیں ہوئی، 17 جنوری سے 18 جنوری کے لیے ای این او سی کی جانب سے 12.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ٹرافیگورا کی جانب سے 15.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی دو پیشکشیں موصول ہوئیں۔اس صورت میں 12.95 ڈالر کی کم ترین پیش کش برینٹ پرائس کے تقریبا 30فیصد بنتی ہے۔
اس حوالے سے حکومت کے اعلی ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘یہ معاشی لحاظ سے توانائی کے شعبے کے لیے بھی ناقابل عمل اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہے’۔
انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے حکومت ان پیشکشوں کو منسوخ کردے، اور وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ 15.28 فی ایم ایم بی ٹی یو پر ایل این جی تقریبا 85-90 ڈالر فی بیرل تیل کے برابر ہوجائے گی جبکہ ابھی برینٹ پرائس تقریبا 50 ڈالر فی بیرل ہے۔
بدقسمتی سے ایل این جی کی قیمت برینٹ کے 17 فیصد سے زائد ہونے پر ناقابل عمل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل، خام اور فرنس آئل سے بھی مہنگی ہوجاتی ہے۔اس کا مطلب بجلی گھروں کو ایل این جی کے بجائے فرنس آئل پر چلانا چاہیے کیوں کہ فرنس آئل مقامی ریفائنریز میں دستیاب ہے اور اس سے زرِ مبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔ دیکھا گیا ہے کہ عموما سپلائرز اور تاجر برینٹ کی 17 فیصد سے زائد کی ایل این جی کے لیے پیشکش نہیں کرتے لیکن انہوں نے مایوسی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے معاہدوں کی لچک کو استعمال کرتے ہوئے اکتوبر میں 6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ترسیل کے لیے پیشگی آرڈر دے دیا تھا جو اب 13 سے 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اوسطا 32 لاکھ ایم ایم بی ٹی یو کا کارگو ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک کا پڑتا ہے لیکن 15.28 فی ایم ایم بی ٹی یو کی صورت میں اسی کارگو کی لاگت 3 کروڑ ڈالر مہنگا ہونے کے بعد 4 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوجائے گی۔

онлайн займы https://credit-n.ru/microzaymi-blog-single.html срочный займ https://credit-n.ru/order/zaim-dengi-srazu.html unshaven girl https://credit-n.ru/offers-zaim/webbankir-online-zaim-na-kartu.html https://credit-n.ru/offers-zaim/vivus/ https://credit-n.ru/order/zaim-creditkin.html hairy woman займ на карту что делать если нигде не дают займзайм кашалотсмарт деньги займ быстро займ в иркутскезайм на киви кошелек без проверокзайм с 19 лет на карту займ на карту с 18 лет без отказавзять займ онлайн быстрозайм срочно онлайн на карту где взять займ если везде отказываютзайм быстроденьгионлайн займ без паспорта займ онлайн моментальновзять займ 30000 на 365 днейвзять займ екапуста сбербанк займ на картузайм под залог птс иркутскчастный займ при личной встрече москва займ в интернетекредит и займонлайн займ на карту срочно круглосуточно займ с 18 лет без отказазайм 30000 на картуна карту займ взять займ онлайн на карту срочноплатиза оформить займзайм срочный займ веббанкирзайм неработающимзайм без % займ студентам на картузайм 80000займ под залог птс в кемерово

مالی سال 2020 ساڑھے 10 ارب ڈالر غیرملکی قرض کے معاہدے ،نعیم صدیقی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے دوران کثیرالجہتی یعنی ملٹی لیٹرل اداروں اور تجارتی بینکوں سے 10 ارب 44 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جو کہ پاکستنای کرنسی میں 16 کھرب 73 ارب روپے سے زائد رقم بنتی ہے اتنی مالیت کے نئے غیرملکی قرضوں کے معاہدے کیے ہیں یا د رہے کہ گزشتہ سال حکومت نے 8 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض لیا تھا اور اب یہ لیا جانیوالا قرضہ گذشتہ سال کے قرض سے تقریبا ایک چوتھائی زیادہ ہے۔
وزارت اقتصادی امور کی جانب سے غیرملکی اقتصادی معاونت 20-2019 پر جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق 99 فیصد نئے معاہدے قرضوں کے لیے تھے جبکہ باقی ایک فیصد گرانٹ معاہدے میں شامل تھا۔مجموعی طور پر 10 ارب 44 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کے نئے معاہدے میں سے 6 ارب 79 کروڑ ڈالر سے زائد مالیاتی معاہدے کثیرالجہتی ایجنسیوں، 3 ارب 46 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے غیرملکی تجارتی بینکوں اور 19 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے دوطرفہ قرض دہندگان کے ساتھ دستخط کیے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سال کے دوران تجارتی قرض کی ری فنانس پختگی کے لیے تجارتی بینکوں سے 3 ارب 46 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی اعلی سطح کی تجارتی مالی معاونت حاصل کی گئی جو مجموعی نئے معاہدوں کا 33 فیصد تھا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی پی) 30 فیصد کے نئے معاہدوں کے ساتھ سب سے بڑا قرض دہندہ کے طور پر سامنے آیا، جس کے بعد عالمی بینک 22 فیصد، اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ڈی پی) 7 فیصد اور ایشیائی انفرااسٹرکچر سرمایہ کاری بینک (اے آئی آئی بی) 5 فیصد کے ساتھ موجود رہے، ان مالیاتی اداروں نے مجموعی نئے معاہدوں میں سے تقریبا 98 فیصد کی مالی معاونت میں توسیع کی۔
مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 20-2019 کے دوران نئے معاہدوں کے 69 فیصد بجٹری سپورٹ کی کٹیگری کے تحت تھا، اس میں کہا گیا ہےکہ یہ اعلی سطح کی بجٹری سپورٹ بنیادی طور پر کووڈ 19 کی وبا کے سماجی و معاشی اثرات کو ختم کرنے اور بیرونی قرض کی ریٹائرمنٹس کے لیے زیادہ بیرونی مالی معاونت کی ضروریات کو پورا کرنے لیے تھی۔اس کے علاوہ نئے معاہدوں کا تقریبا 26 فیصد پروجیکٹ فنانسنگ،منصوبے کی مالی معاونت، کے لیے مختص تھے جبکہ 5 فیصد اجناس کی فنانسنگ کے لیے تھے۔
کووڈ 19 عالمی وبا کے تناظر میں نئے معاہدے بجٹ سے کہیں زیادہ تھے، بجٹری سپورٹ کے طور پر ساڑھے 7 ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا گیا تھا جس میں سے 4 ارب ڈالر پروگرام فنانسنگ کے طور پر کثیرالجہتی اداروں کی جانب سے تھا جبکہ باقی غیرملکی تجارتی بینکوں سے تھا۔
مالی سال 20-2019 میں نئے معاہدوں کا بڑا حصہ (40 فیصد) ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن کے لیے تھا، جس کے بعد صحت کے لیے 19 فیصد، فیزیکل پلاننگ اینڈ ہاسنگ کے لیے 12 فیصد، شہری ترقی اور غربت میں کمی کے لیے 10 فیصد، شعبہ توانائی کے لیے 9 فیصد اور زراعت کے لیے 6 فیصد تھا۔دوسری جانب مالی سال 20-2019 میں غیرملکی قرضوں کی مجموعی تقسیم 10 ارب 70 کروڑ ڈالر رہی جو مالی سال 19-2018 کے اسی عرصے 10 ارب 80 کروڑ ڈالر سے معمولی کم تھی، اس میں 97 فیصد تقسیم قرضوں کی شکل میں اور 3 فیصد گرانٹس کی شکل میں تھی۔
اس میں کثیر الجہتی اور دوطرفہ قرض دہندگان کی جانب سے ساڑھے 6 ارب ڈالر کی تقسیم شامل ہے جو گزشتہ سال 4ارب 10 کروڑ ڈالر تھی اور یہ 59 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔مزید یہ کہ حکومت نے غیرملکی قرضوں کی ذمہ داریوں اور ادائیگیوں میں توازن برقرار رکھنے کے لیے غیرملکی تجارتی ذرائع سے 3 ارب 40 کروڑ ڈالر بھی اکٹھے کیے۔
دس ارب 70 کروڑ ڈالر کی تقسیم کردہ رقم زیادہ تر کثیرالجہتی، باہمی اور مالیاتی اداروں سے منصوبوں اور پروگرام قرضوں یا گرانٹس کے تحت تھی، اس میں مجموعی تقسیم کا 5 ارب 64 کروڑ 45 لاکھ یا 53 فیصد کثیرالجہتی اداروں زیادہ تر اے ڈی پی، آئی ڈی بی، آئی آئی بی اور عالمی بینک سے ہوئی۔اس کے علاوہ مجموعی تقسیم کا 32 فیصد یا 3 ارب 37 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تجارتی قرض کی پختگی کی ری فنانسنگ کے لیے غیرملکی تجارتی بینکوں سے تھا۔تقسیم کا 15 فیصد یا ایک ارب 64 کروڑ 40 لاکھ ڈالر دوطرفہ قرض دہندگان خاص طور پر سعودی عرب، چین اور برطانیہ سے تھے۔
اس وقت قرضوں کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ 30 جون 2020 تک پاکستان کا مجموعی بیرونی عوامی قرض 77 ارب 90 کروڑ ڈالر تھا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 73 ارب 40 کروڑ ڈالر تھا ۔جس میں ہونے والا اضافہ چھ فیصد ظاہر ہوتا ہے۔

микрозайм онлайн https://credit-n.ru/offers-zaim/denga-zaimy-nalichnimi.html займ на карту срочно без отказа https://credit-n.ru/order/zaim-dobrozaim.html buy over the counter medicines https://credit-n.ru/offer/kredit-nalichnymi-renescans-kredit.html https://credit-n.ru/offers-zaim/mgnovennye-zaimy-na-kartu-bez-otkazov-kredito24.html https://credit-n.ru/order/zaim-hot-zaim.html микрозаймы онлайн займ онлайн займ на зарплатную картузайм 50000 онлайнзайм онлайн на карту maestro займ 40000 срочноpay ps займ на картубыстро займ в новосибирске займ деньги в долгчастный займ под расписку красноярскзайм у частного лица без предоплат займ под залог недвижимости от частного лицазайм на карту за 5 минутзайм денег под расписку займ онлайн с 18 лет на кививзять займ без комиссииденьги будут займ на карту займ на долгий срокзайм со 100 одобрениемчастный займ без залога москва займ онлайн с 18 лет на картузайм финансзайм на киви без отказов viva займзайм с любой кредитной историейзайм наличными с плохой кредитной историей быстрый займ денег москваоформить займ екапустазайм на карту онлайн по паспорту займ через киви кошелекбыстро займ братскрф займ займ на карту с 19 летзайм в белореченскезайм на карту по фотографии паспорта

سردیوں کی شدت میں گیس کا بحران کیا رنگ لائے گا؟ نعیم صدیقی

ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ میں پاکستان کو سرد مہری کا سامناہے۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈنے 8 جنوری سے یکم فروری تک 6 کارگو پہنچانے کے لیے ٹینڈرز جاری کیے تھے۔ جس کے ردِ عمل میں کسی سپلائر نے یا تاجر نے 8 جنوری اور 18 جنوری تک کے ابتدائی 3 سلاٹس کے لیے بولی نہیں لگائی۔
گیس کو ترستے صارفین کے لیے یہ ایک تکلیف دہ اور مشکل ترین صورتحال ہے کہ جنوری کے ابتدائی 15 روز کے لیے پاکستان مائع قدرتی گیس ایل این جیکے 3 میں سے کسی ایک کارگو کی بھی بولی نہیں حاصل کرسکا جبکہ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جو تاخیری ٹینڈرز جاری کئے گئے تھے ان کی وجہ سے مہینے کے آخری حصے میں گیس کی قیمتیں مہنگی ملی ہیں۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جب سے پاکستان 5 سال قبل اسپاٹ مارکیٹ میں داخل ہوا ہے اسے کوئی بولی نہیں ملی۔
تاہم 4 جنوری کے لیے 2 بولیاں موصول ہوئی جس میں قیمتیں دستیاب نہیں تھی اور اس سلاٹ کے لیے 17.32 فیصد برینٹ قیمت کی سب سے کم بولی حیرت انگیز طور پر پہلی مرتبہ بولی میں حصہ لینے والی قطر گیس کی جانب سے موصول ہوئی جو اسپاٹ مارکیٹ میں نہیں ہے۔جنوری 26-27 کے پانچویں کارگو کے لیے بھی واحد بولی قطر گیس کی جانب سے آئی جس کی قیمت بھی 17.32 فیصد برینٹ کے لیے وہی تھی۔
سال 2015 میں ٹرمینل ٹیسٹنگ کے لیے خریدے گئے ایل این جی کے پہلے کارگو کے علاوہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سب سے کم بولی 17 ڈالر سے زائد ہے۔
29 جنوری سے یکم فروری کے چھٹے اور آخری کارگو کے لیے 6 بولیاں موصل ہوئیں جس میں سے ایک نااہل قرار پائی، 15.32 فیصد برینٹ کے لیے سب سے کم بولی ایک مرتبہ پھر قطر گیس کی جانب سے موصول ہوئی جبکہ دیگر تمام بولیاں 20.48 فیصد برینٹ سے زائد تھیں۔
علاوہ ازیں ریگولر سپلائی کرنے والوں میں سے ایک ٹرافگورا نے 33.94 فیصد برینٹ کی سب سے بلند پیشکش کی اور ان قیمتوں کی بھی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملی۔ بدقسمتی سے 17 فیصد برینٹ سے زائد کی ایل این جی قیمتیں دستیاب ہی نہیں اور ہائی اسپیڈ ڈیزل، خام تیل اور فرنس آئل سے بھی مہنگی ہوگئی ہیں۔
اس کا مطلب بجلی گھروں کو ایل این جی کے بجائے فرنس آئل پر چلانا چاہیے کیوں کہ فرنس آئل مقامی ریفائنریز میں دستیاب ہے اور اس سے زرِ مبادلہ کی بھی بچت ہوگی۔
قطر گیس کے ساتھ ہوئے طویل المدتی معاہدے کے تحت آنے والی ایل این جی اور اسی طرح کے پرانے ٹھیکے سب سے زیادہ سبسڈی والے گھریلو سیکٹر کو فراہم کی جائے گی۔درآمدی اور مقامی گیس کی قیمتوں میں 8 ڈالر اور 3.2 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا فرق ہے اور ملک کو جنوری کے اوائل میں کم از کم 200 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی کی کمی کا سامنا ہوگا کیوں کہ پاکستان اسٹیٹ آئل نے اسی طرح کی بولیاں حال ہی میں مسترد کردی تھیں۔

ماہرین نے بولی میں گیس کی پیداوای کمپنی قطر گیس کے براہ راست بولی کے عمل میں حصہ لینے کو مثبت پیش رفت قرار دیا جس سے روایتی تاجروں اور سپلائرز کے لیے مسابقت پیدا ہوگی۔حکومت کے پاس اب واحد حل یہ ہے کہ جنوری میں 200 ایم ایم سی ایف ڈی کے فرق کو دور کرنے کے لیے اعلی سطح پر قطر کو منسلک کرے اگر ایسا بنہیں کیا جاتا تو بجلی گھروں کی موجودہ سپلائی کو گھریلو صارفین کی جانب موڑنا پڑیگا کیونکہ گیس کی قلت سے پورے ملک کے کروڑون عوام شدید متاثر ہون گے اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے ایسے وقت میں عوام کے ردِ عمل سے بچا جانا ملک اور قوم کے عظیم تر مفاد میں ہوگا۔ اس وقت ملکی کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔ کورونا وائرس نے دوبارہ شدت اختیار کر لی ہے۔روزگار اور کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔مہنگائی کی شدت میں کمی نہیں آ رہی جس کی وجہ سے عوام پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر ہیں۔دوسری جانب ایک عوامی سماعت میں نجی سیکٹرز کے اسٹیک ہولڈرز نے درآمدی ایل این جی کو پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے ایل این جی پہنچانے کے لیے تمام کمپنیوں بشمول سرکاری سیکٹر کی کمپنیوں کے مساوی  نرخوں کا مطالبہ  بھی کیا ہےایسے حالات میں حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ ملکی قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر مثبت اقدامات اٹھائے اور سب سے پہلے بجلی اور گیس کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتری کی جانب لانے کیلئے  فوری فیصلے اور ہنگامی طور پر عمل درآمد کیا جائے۔یہی موجودہ حالات کی ضرورت  ہے۔

buy viagra online https://credit-n.ru/offers-zaim/platiza-mgnovenniy-zaim-online.html hairy woman https://credit-n.ru/order/zaim-fedoro.html быстрые займы на карту https://credit-n.ru/kredit/kredit-otp.html https://credit-n.ru/offer/kredit-nalichnymi-2t-bank.html https://credit-n.ru/order/zaim-zaimark.html срочный займ займы на карту без отказа беспроцентный займ на карту мирстопроцентный займсрочно деньги займ на карту как получить займ онлайн без отказазайм 50 тысяч рублей на картупервый займ без процентов отзывы займ онлайн на годзайм на карту автоматомзайм живые деньги екапуста займэкспресс займзайм онлайн с плохой кредитной историей получить займ без отказаvivus займ личный кабинетзайм под материнский капитал пермь быстрый займ онлайн спбзайм онлайн без отказа срочнозайм без проверок на киви займ на карту маэстро срочнозайм от частного лица в день обращениязайм под расписку спб онлайн займ на карту сбербанкмгновенный займ на карту сбербанказайм онлайн на киви срочно взять займ на киви кошелекзайм на киви кошелек онлайн срочнозайм под авто вива деньги займмикро займ в москвезайм под птс в новосибирске займ monezaкак взять займ онлайнзайм без кредитной истории на карту займ онлайн без работызайм онлайн без кизайм экспресс екатеринбург

ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کی جائے, نعیم صدیقی

ٹیکس ریٹرن برائے سال 2020 جمع کروانے کی حتمی تاریخ آج یعنی آٹھ دسمبر مقرر کی گئی تھی اور وزارت خزانہ کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ اس میں توسیع نہیں کی جائے گی۔تاہم دیکھا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے منفی اثرات کی وجہ سے پاکستان کی تاجر برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کاروباری حالات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں اسی وجہ سے تاجر برادری کے ساتھ ساتھ ٹیکس کی ادائیگی کرنے والوں کو ابھی مزید وقت درکار ہوگا۔حکومت کو چاہئے ٹیکس ریٹرن کی تاریخ میں فوری توسیع کا اعلان کرے تاکہ تاجر برادی کو اطمینان ہو۔ ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع  کا مطالبہ تاجر برادری  کی جانب سے کیا جا رہا ہے،گذشتہ روز تک جو گوشوارے جمع کرائے جا چکے ہیں ان میں ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد میں 23 فیصد کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔اس لیے لازم ہے کہ اس تاریخ میں توسیع کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 8 دسمبر کی آخری تاریخ سے قبل ٹیکس سال 2020 کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا 23 فیصد کم انکم ٹیکس گوشوارے موصول کیے ہیں۔ بورڈ کو 5 دسمبر تک 13 لاکھ 10 ہزار ٹیکس گوشوارے موصول ہوئے جب کہ ٹیکس سال 2019 میں 16 لاکھ 90 ہزار ریٹرنز جمع کرائے گئے تھے۔ان میں تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد، افرادی و کمپنیوں کی ایسوسی ایشنز دونوں شامل ہیں۔
جائزے کے دوران اس عرصے میں گوشواروں کے ساتھ وصول کیا گیا ٹیکس 6 ارب 50 کروڑ روپے رہا جب کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 12 ارب 80 کروڑ روپے وصول کیا گیا تھا جو 49.2 فیصد کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ٹیکس سال 2020 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں ستمبر کے بعد سے توسیع کی گئی تھی تاکہ عوام کو اپنا ریٹرن فائل کرنے میں آسانی ہو۔
ٹیکس سال 2019 کے لیے ایف بی آر کو 29 لاکھ ریٹرنز ملے تھے جو ایف بی آر کی تاریخ میں سب سے زیادہ تھے۔بھارت میں آبادی کے مقابلے میں ریٹرن فائل کرنے کا تناسب 5 فیصد، فرانس میں 58 فیصد اور کینیڈا میں 80 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ تقریبا 0.02 فیصد پر موجود ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا ہے کہ آخری تاریخ میں مزید توسیع نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریٹرن فائلنگ میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ڈاکٹر وقار نے کہا کہ فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان افراد کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے لیے وقت میں توسیع کریں جو ڈیڈ لائن سے قبل ان کو فائل کرنے کے قابل نہیں تھے۔
نان فائلرز کو ریٹرن فائل کرنے کے لیے اضافی وقت طلب کرنے کے لیے متعلقہ ٹیکس آفس میں درخواست جمع کرانا ہوگی۔اسی طرح، معاون خصوصی نے بتایا کہ ٹیکس پریکٹیشنرز کو بھی اپنے کلائنٹ کے لیے توسیع حاصل کرنے کی اجازت ہے۔تاہم معاون خصوصی نے بتایا کہ سب کے لیے کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔
واضع رہے کہ ان لوگوں کے لیے کوئی جرمانہ نہیں ہوگا جنہوں نے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے لیے توسیع مانگی ہے۔ریٹرن کی تاریخ میں مزید توسیع نہ کرنے کے حوالے سے سرکاری موقف یہ ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ملک میں ٹیکس کے نظام میں نظم و ضبط لانا ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہوگا کیا پاکستان کے لوگون نے اپنی قومی ذمہ داریوں کو سنجیدگی کے ساتھ دا کرنا شروع کر دیا ہے۔ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے۔حکومت کو اس جانب سنجیدگی سےاقدامات کرنا ہوں گے لوگوں کو سہولت دینا ہوگی۔۔ٹیکس نطام میں بہتری اور جدت لانا ہوگی۔ ۔ملک بھر سے تاجر برادری نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کی جائے تا کہ جو لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے اپنے ٹیکس گوشوارے تاحال جمع نہیں کروا سکے ان وقت مل جائے اور وہ اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروا سکیں۔۔

займы на карту без отказа https://credit-n.ru/offer/ipoteka-bank-otkritie.html займы на карту https://credit-n.ru/order/zaim-finterra.html hairy girl https://credit-n.ru/order/debitovaya-karta-home.html https://credit-n.ru/offer/kreditnye-karty-bank-moskvyi.html https://credit-n.ru/order/zaymyi-e_zayom-leads.html займы онлайн на карту срочно hairy girls супер быстрый займдолгосрочный займ на карту сбербанкае капуста займ онлайн займ без привязки картызайм брянскзайм экспресс павловский посад займ экспресс кировзайм просто деньгионлайн на карту займ займ на карту мгновенноонлайн займ на кивизайм на карту без процентов займ под залог недвижимости екатеринбургзайм без отказа и проверокзайм на карту по паспорту займ в екатеринбургеонлайн займ на карту безработныммфо деньги в займ быстрый займ без процентовонлайн займ честное словозайм от частных лиц частный займ нижний новгородзайм под залог имуществазайм 3000 на карту займ на карту сбербанка маэстрозайм на карту 100 одобрениезайм под расписку москва квики займ на картучастный займ в санкт петербургеудобный займ займ под залог автомобиля краснодарзайм 55000частный займ без предоплат и залога займ система контактзайм онлайн на киви без проверокзайм на карту 150000